Monday, March 16, 2015

نایئن زیرو چھاپہ۔۔۔ ۔ ۔۔ کیا اب صفائی ہوگی

0 comments
گزشتہ سال کے اول ششماہی میں جبکہ مسلم لیگ کی            حکومت زرداری کے نقش قدم پر چل پڑی تھی اور شاید اب تک اسی راہ پر گامزن ہے۔ تو اپوزیشن کی بڑی پارٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے انتخابی دھاندلی کے مسلئے کو اٹھا کر سڑکوں پر آنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کیساتھ ساتھ لاہور کے سانحہ ماڈل ٹاون نے منہاج القرآن کے کارکنوں کو بھی طاہر القادری کے سربراہی میں دھرنا دینے پر مجبور کیا تھا۔ ملکی دارالحکومت میں دھرنے بازوں سے حکومت کی چوبیں ہل گیئں۔ تو جمہوریت بچانے کے نام پر محمود و آیاز ہی ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔ حکومتی نااھلی سے تنگ عوام بھی شاید امپایر کے انگلی اٹھنے کے منتظر تھے۔کہ گو نواز گو ایک ملکی مقبول نعرہ بن چکا تھا۔ لیکن اس دفعہ امپایر نے انگلی اٹھانے کے بجائے قصہ زمین برسرزمیں ہموار کرنے کے مترادف سکوت اختیار کی۔ اور ہیاں تک کہ آرمی پبلک سکول کا دلخراش سانحہ رونما ہوا۔ اس واقعہ سے امپایر نے فایدہ اٹھاتے ہویے۔ پوری ٹیم کو چھٹی کردیا۔ ایک طرف دھرنے ختم ہویے تو دوسری طرف حکومتی نے اکیسویں آیئنی ترمیم کے ذریعے نا چاہتئے ہوئے بھی اپنے گردن میں طوق باندھ ڈالی۔ اب بظاہر تو ملک میں اسمبلی موجود ہے۔ روزانہ لاکھوں خرچ کرنے والا اور گمنامی کی زندگی گزرنے والا صدر بھی ہے۔ وزیر اعظم اور وزرا بھی ۔یوں بآسانی آپ اس موجودہ نظام کو جمہوریت کہہ کر دل کو تسلی دے سکتے ہیں۔ حقیقت لیکن یہ ہے کہ موجودہ نظام جموریت نہیں بلکہ ایک نرم مارشلا ہے ہے جو آہستہ آہستہ سخت ہوتا جائےگا۔ اختیارات کے اسلام آباد سے پنڈی منتقلی کے بہت سارے وجوہات تھے۔جن میں سے حکومت کے بھارت کی طرف جھکاو، ملک کے اندر جاری بدترین بدامنی روکنے میں ناکامی اور حکومتی نااھلی سمیت شاید سانحۃ ماڈل ٹاون کا واقعہ بھی شامل ہے۔ آپریشن ضرب عضب کے کامیابی کے بعد اور خاصکر نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد شروع کرکے عسکری قوت نے اپنے بھرپور موجوگی کا احساس دلا دیا۔ نہ صرف اندرونی ملک بلکہ امریکہ ، چین برطانیہ اور افغانستان کے حالیہ دورہ جات سے بھی یہ بات واضح ہوگئی کہ عالمی طاقتیں بھی پاک فوج کو اصل قوت تسلیم کرتے ہیں۔
           جمہوری نظام کے اندر فوج کے اس غیر اعلانیہ مگر مظبوط نفوذ نے عوامی حلقوں میں اس بات کو ہوا دی ،کہ اگر آرمی چیف کے دباو پر سب کچھ ہوتا ہے ۔تو کیا یہ بہتر نہیں ہے۔کہ حکمرانوں کے کرپشن کو کنڑول کیا جایے۔ ہوسکتا ہے یہ بات پنڈی تک پینچ چکی ہو۔ اسلیئے آپریشن ضرب عضب کے ممکنہ تکمیل کے ہوتے ہی کراچی کو صاف کرنے کا آغاز کیا گیا۔ کہ وہاں سے بھتہ خوری ، ٹارگٹ کلنگ سمیت کرپشن کے ہولناک داستانیں وابستہ ہے۔  زرداری پارٹی کے وہاں پر حکومت نسخہ بے اثر ثابت ہوئی۔ اور ہونا ہی تھا۔کیونکہ خود سندھ حکومت اور زرداری کرپشن کے بے انتہاٗ  الزامات کے زد میں ہے۔  مرکزی حکومت نے بھی  دھرنوں سے بچنے کیلے مفاہمت کو مصلحت بناتے ہویے ہر ناجائز کو جائز کردیا اور قبول کردیا۔ ایسے میں ایم کیو ایم کو بھی سینہ سے لگا دیا گیا۔ جس کے نتیجے میں کراچی بدامنی میں مزید اضافہ ہوگیا۔ سانحہ بلدیہ میں سینکڑوں لوگوں  کوزندہ جلانے کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے ایم کیو ایم ذمہ دار ٹہرا دیا۔ لیکن پھر مصلحت کے تحت کچھ نہ ہوا۔ حکومت کے اس لکیر کی فقیر والی صورتحال کو دیکھتے ہوے عسکری ادارے نے کراچی میں بھی سرخ بتی روشن کر دی۔ اور تطہیر کا عمل شروع کیا۔ جس کا آغاز متحدہ کے مرکز ناین زیرو پر چھاپہ مار کر کردیا۔ وہاں سے سزا یافتہ مجرموں ،ٹارگٹ کلرز اور رینجرز کے مطابق غیر ملکی ممنوعہ اسلحے کی برآمدگی نے یہ دو باتوں کو واضح کیا۔ ایک یہ کہ کراچی بدامنی میں نامعلوم نہیں بلکہ معلوم افراد ہی ملوث ہیں ۔ جن کا تانا بانا ناین زیرو سے ملتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ ناین زیرو پر لگنے والا چھاپہ اختتام نہیں بلکہ تطہیر کا آغاز ہے ہوسکتا ہے۔ مقام اور حالات ناین زیرو والا نہ ہو۔ اس ملک کو ہر قسم دہشتگردی اور انتہا پسندی سمیت سیاسی نااھلی اور کرپشن سے پاک کرنے کیلئے تطہیر کا یہ عمل بلا تفریق جاری رہنا چاہئے۔ اگر کسی ایک خاص پارٹی یہ گروہ کے خلاف کاروائی ہوتی ہے۔ تو پھر اس کے صحت پر سوالات اٹھنگے۔
        سیاسی جماعتیں کیا کرے ؟ یہ سوال بھی جوب الطلب ہے ۔ یہی ممکن ہے کہ سیاسی جماعتی مکمل طور پر سیاسی ہی بن جائے ۔ہر قسم کے مسلحہ سرگرمیاں ترک کردیے اور کسی بھی غیر آیئنی معاملات میں ملوث لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کرے۔
       فوج کیا کرے جو کررہی  وہ درست ہے۔ ایک حقیقت مگر یہ ضرور ہے کہ فوج کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ حکومت کرنا سیاستدانوں کا کام ہے۔ البتہ سیاستدان کو کسی بھی ملک دشمن سرگرمی سے روکنا بھی فوج کا کام ہے۔ لہذا تطہیر مکلمل کرکے حکومت اھل لوگوں کو کرنے کا موقع دینا چایئے۔
         آخر میں سب سے اہم سوال یہ کہ عوام کیا کرے؟؟؟؟ جواب ہے فیصلہ۔ ایسا فیصلہ کہ ہمیں ماننا ہوگا۔کہ یہ ملک ہمارا ہے اور جب تک یہ ملک ہے ہم ہیں۔ لہذا کرپٹ لوگوں کو ووٹ نہیں دینا، انتہا پسند نہیں بننا۔ اور کسی بھی حال میں ملک دشمن کام نہیں کرنا چاہیے وہ دین کے نام پہ ہو یا دنیا کے خاطر