امریکہ نے فلسطین کی جانب سے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی رکنیت کے لیے درخواست دینے کے عمل کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عالمی عدالت کی رکنیت کے حصول کا فلسطینی اتھارٹی کافیصلہ ایک ’غیر تعمیری‘ فیصلہ ہے۔اس سے فلسطینی قوم کے مطالبات اور امنگوں کی ترجمانی ہو گی اور نہ ہی اس سے خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ عالمی عدالت کی رکنیت مل جانے کے بعد فلسطینی اسرائیلی فوجیوں کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات کے تحت مقدمے دائر کرانے کے اہل ہوں گے۔
دوسری جانب سرائیلی وزارت خارجہ نے تل ابیب میں متعین فرانسیسی سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کرکے پیرس کی جانب سے سلامتی کونسل میں فلسطینی قرارداد کی حمایت پر سخت احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔ سرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان ایمانویل نخشون نے کہا کہ تل ابیب میں متعین فرانسیسی سفیر مسٹر پیٹرک میزناف کو جمعہ کے روز دفتر طلب کیاہے تاکہ
اپں سے پوچھا جائے کہ آخر ان کے ملک نے سلامتی کونسل میں فلسطینی اتھارٹی کی پیش کردہ قرارداد کی کیوں کر حمایت کی ہے؟
خیال رہے کہ کل بدھ کے روز فلسطینی ریاست کے نظام الاوقات سے متعلق عرب ممالک کی جانب سے پیش کی گئی قراد پر رائے شماری ہوئی۔ امریکا نے یہ قرارداد اسرائیل کے حق میں ویٹو کر دی تھی تاہم فرانس اور آٹھ دوسرے رکن ممالک نے قرارداد کی حمایت کی تھی۔