Monday, December 29, 2014

میڈیا ہمیں کیا بتانا چاہتا ہے اور کیوں بتانا چاہتا ہے؟

0 comments
آخریہ BBC میڈیا ہمیں کیا بتانا چاہتا ہے اور کیوں بتانا چاہتا ہے؟ آخر --ہمیں باقی دنیا کے تمام ممالک کو چھوڑکر صرف اور صرف ترکی کے متعلق ہی کیوں بتانا چاہتے ہیں؟اور آپ غور کیجیۓ کہ ہر خبر کا عنوان صرف اور صرف تیسرے درجے کے سنسنی زدہ اشتہار کیوں ہوتے ہیں۔
یہ لوک جانتے ہیں کہ ترکی اور پاکستان کے عوام آپس میں بے لوث محبت کرتے ہیں؛ ترکی والےتو جانتے ہیں مگرہم بھی جان کر جییں۔
Have a look at their third class headings in their Website
ترکی میں وائٹ ہاؤس سے شاندار صدارتی محل
ترکی کے ’بدتمیز‘ نوجوان کی رہائی
'ترکی کردوں کو خطرہ سمجھتا ہے
ترکی کےصدر کے حکم پر سگریٹ نوش کو جرمانہ
سلام ورلڈ، ترکی میں اسلامی فیس بک
ترکی کی تیز رفتار ٹرینیں ’خشک‘ ہو گئیں-
تحسین چنگوانی بلوچ

گھر میں آگ لگی ہے اور چلے دوسروں کے گھر چراغ جلانے . بی بی سی اردو

0 comments
..
آج کل بی بی سی پاکستان میں کافی متحرک ہے. اگر آپ بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر جائيں تو بہت سی سٹوریاں پڑھنے کو ملتی ہیں، زیادہ تر سوفٹ انداز میں لیکن منفی، کچھ دن پہلے ایک خبر پڑھی کہ پاکستان کے سرکاری دفاتر خواتین کیلیے’غیرمحفوظ ہیں، اعدادوشمار جو بتائے گئے کہ چار برسوں میں جنسی ہراس کے تین ہزار سے زیادہ کیس مختلف اداروں کی اندرونی انکوائری کمیٹیوں کے پاس جا چکے ہیں۔ جن اداروں کی فہرست نشر کی گئی ان اداروں میں سرکاری دفاتر، یونیورسٹیاں، کثیرالقومی ادارے، اور ہسپتال شامل ہیں۔ خیر اچھے برے لوگ پوری دنیا میں پائے جاتے ہیں، میں اس رپورٹ کو ردبھی نہیں کر رہا، ہو سکتا ہے ایسا ہوا ہو، یا ہوتا ہو گا، پاکستان کی آبادی کی 22 کروڑ کے لگ بھگ ہے. اور پاکستان کے سرکاری دفاتر میں ویسے اضافی ملازم بھی ملازمت کر رہے ہوتے ہیں، لیکن بی بی سی جس طرح اس کو مین اسٹریم میڈیا کی سٹوری بنا کر پیش کرتا ہے. اس پر تعجب کی بات ہے، اس سٹوری کا ٹارگٹنگ پائنٹ تھا " خواتین ’غیرمحفوظ" یعنی پاکستان میں خواتین کسی بھی لحاظ سے غیر محفوظ ہیں.
بہرحال انگلینڈ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا بائیسواں ملک ہے جبکہ پاکستان چٹھا ، تھوڑے اعدادوشمار میں انگلینڈ کے بتا دیتا ہوں، انگلینڈ اور ویلز میں تقریبا ہر سال اوسط 85،000 خواتین عصمت دری کا شکار ہوتی ہیں. ہر سال 400،000 سے زائد خواتین کو جنسی طور پرہراساں کیا جاتا ہے، ہر سال اوسط ہر پانچ عورتوں میں سے ایک کو 16 سال کی عمرسے جنسی تشدد سہنے کا تجربہ ہوتا ہے ، جہاں کم عمری میں بچے جنسی سرگرمیوں میں پیش پیش ، اور ناجائز بچے پیدا کر کے عالمی ریکارڈ بنا رہے ہے ، گھر میں آگ لگی ہے اور چلے دوسروں کے گھر چراغ جلانے، بی بی سی اور انگلینڈ کے وزیراعظم کو پاکستان کی ہی فکر کیوں لاحق ہے؟ کوئی دستاویزی فلم انگلینڈ کی عورتوں پر بھی تو بنائے ، ان کو بھی تو مظلوم پیش کرو . اور تو اورانگلینڈ کے جامعہ مدرسہ کیمبرج یونیورسٹی میں 70 کے قریب انڈرگریجویٹ سٹوڈنٹس پر جنسی طور پر حملے کیے گئے ، 2000سے زیادہ سٹوڈنٹ نے یونیورسٹی کی خواتین گروپ اور یونیورسٹی کے اخبار، Varsity، کے سروے جواب میں جنسی طور پر ہراساں ہونے کی اپنی داستان سنائی . کسی کو جنسی طور پر جسم کو چھونے کا سامنا کرنا پڑا تو کسی کو unwelcome ٹچ کا ،کسی کو پنچنگ کا تو کسی کو جسمانی تشدد کا ، سروے میں جواب دہندگان دو تہائی خواتین اور ایک تہائی لڑکے تھے. یونیورسٹی میں جنسی استحصال اپنے عروج پر ہے ... ہر نئے آنے والے سٹوڈنٹ کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے ، سمجھ لو ویلکم ٹیسٹ یا انٹری ٹیسٹ ہے.
میں یہ نہیں که رہا پاکستان میں رہنے والا ہر مرد دودھ کا دھلا ہے ، میں یہ بھی نہیں که رہا پاکستان میں عورتوں کو جنسی استحصال کا سامنا نہیں ہے ، لیکن جسطرح میڈیا پاکستان کو ٹوسٹنگ انداز میں پیش کر رہا ہے، اور سوفٹ انداز میں پاکستان اور اسلام کو ٹارگٹ کر رہا ہے اور مین اسٹریم میڈیا میں یہ تاثر دینے میں کوشاں ہے کہ پاکستان کی عورتیں لاچار، بیچاری ، بے بس ، زنجیروں میں جکڑی ہوئی، سپریشن کا شکار وغیرہ یہ سراسر بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندا ہے. اور اگر پاکستان کے ریموٹ ایریا میں جب کسی جنسی استحصال کا واقع وقوع پذیر ہوتا ہے.تو پھر یہی نام نہاد ماڈرن گھر میں لگی آگ کا تو ذکر تو نہیں کرتے لیکن پاکستان میں سرورے شروع کر دیتے ہیں. ذرائع ابلاغ کی ہیرا پھیری سے جو امیج پاکستان اور اسلام کا ڈیمیج کرنے کوشش کی جا رہی ہے بحیثت پاکستانی اور مسلمان ہونے کے ناطے اپنی آنکھیں کھلی رکھیں ، اور مغربی میڈیا اور پاکستان کے میڈیا کی ہر بات اور ہر سروے پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ کرنا چھوڑ دیں ، ان کا مقصد ہی قوم کا مورال تباہ کرنا ہے ، اور جس قوم کا مورال تباہ ہو جاتا وہ غلام بن جاتی ہے ، اب تک پاکستان کو غلام اسلئے نہیں بنایا جا سکا کیوں کہ قوم کا مورال آج بھی گرا نہیں ، اتنے تناؤ کے باوجود عوام اپنی زندگی اپنے طریقہ سے جی رہی ہے ، الله ہمارے پاکستان کو زندہ آباد رکھے ،آمین !

مرزائیوں کا مظلومیت فارمولہ ( Victim-hood Formula)

0 comments
جب بھی کوئی مولوی میڈیا کے پلیٹ فارم پر مرزائیوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کرتا ہے تو مرزائی اپنا Victim-hood Formula اپناتے ہووے اپنے ہی کسی عام مرزائی کو مروا کر واویلہ کرنا شروع کر دیتے ہے ،کچھ ایسا ہی ہوا جب ایک دو دن پہلے ایک قادیانی کو کسی نے قتل کر دیا جس کو ایک ٹی وی پروگرام کے مولوی سے منسوب کر کے شور مچایا جا رہا ہے . ابھی تک کوئی انویسٹیگیشن رپورٹ آئی نہیں اور مرزائیوں نے طے شدہ امر سے کمر کس لی ، ہزاروں کی تعداد میں ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے پاکستان لیکن جب کوئی مرزائی مرتا ہے تو صرف مرزائی عقیدے سے ہی منسوب کیوں کیا جاتا ہے ؟
کتنی عجیب بات ہے مرزائی ٹولے کے مربی پاکستان میں دندناتے پھرتے ہیں، پاکستان بزنس کرنے والے مرزائی ، بیوروکریٹ، پاکستانی اداروں میں اعلی عہدوں پر فائز کسی بھی مرزائی کو کوئی خطرہ نہیں، لیکن اگر خطرہ ہے تو ایک عام قادیانی کو ؟ مرزائی ٹولہ پہلے بھی Victim Hood جیسے فارمولے اپنا چکی ہے، اپنے ہی لوگوں کو مروا کر دنیا کے سامنے مظلوم ظاہر کر کے مغربی ملکوں میں "سیاسی پناہ" کی دکانداری کو خوب چلائے ہوۓ ہیں. اور اس سیاسی پناہ کے بزنس سے مرزائی ٹولہ ٹھیک ٹھاک مادی مفادات حاصل کرتا ہے. اس طرح نہ صرف پاکستان کو بدنام کرتے ہیں بلکہ پورے اہل اسلام کو بھی ، مرزائی وطن کے غدار تو ھیں ہی... لیکن اسلام کے بھی غدار ہیں..جس طرح سور کے گوشت پر حلال لکھ دینے سے سور حلال نہیں ہو جاتا اسی طرح مرزائیت پر اسلام کا لیبل لگا دینے سے مرزائیت اسلام نہیں ہو جاتی۔
بقلم مولوی روکڑا

Wednesday, December 10, 2014

مایوس پختون اور بلوچ نوجوان

0 comments

اپنے تیئے بہتیرا کوشش کیا ۔کہ اس کو مطمئن کرسکوں۔ مگر کیسے کرتا جو وہ کسی اور کو نہ سنتا نہ مانتا۔ وہ اپنے دھن میں مست وہی کچھ بولتا جارہا تھا۔ جو اس کے ذہین میں آرہا تھا۔ میرے سینے پر پاکستان کا بیج دیکھ کے تو وہ اور سیخ پا ہوگیا۔ جلد ہی مجھے خفیہ والوں کا اہلکار سمجھ کر وہ گفت و شنید کیا۔ کہ اسے سنتے میں حیران بھی ہورہاتھا اور پریشان بھی۔اس کا نام نجیب اللہ ہے اور ملاکنڈ ایجنسی کا رہایشی،اسلام آباد کے معروف سرکاری جامعہ سے بایئوٹیکنالوجی میں ایم ایس سی کیا ہوا ہے اور آجکل اپنے علاقے کے ایک پرایئوٹ سکول میں چند ہزار کے عوض معلمی کے فرایض سرانجام دے رہا ہے۔ نجیب اللہ نے بغیر لیت ولعل دہشتگردی کے خلاف برسرپیکار فوج کو برابھلا کہنا شروع کیا۔ بھرپور نفرت اور غصے کے حالت میں کہا۔’ یہ پینجابی لوگ اور فوج صرف پختون کو ختم کرنے آیا ہے۔ ہمارے پختون کو سب سے زیادہ نقصان پنجاب اور فوج نے پہنچایا۔‘ اس کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کیلے عرض کیا کہ دیکھو بھائی پاکستان ہم سب کا ہے صرف پنجاب کا نہیں اگر کچھ اونچ نیچ ہے تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ خدانخواستہ پنجاب یا فوج پختون دشمن ہے۔ نجیب اللہ جو طالبان کا بھی شدید مخالف تھا۔ حالیہ آپریشن میں فوج کے ظلم پر مبنی واقعے پر واقعہ بیان کرتا رہا۔ اور کچھ لمحوں بعد مجھے محسوس ہوا۔ کہ شاید موصوف کیساتھ زہنی طور پر کچھ المیہ ضرور ہوا ہے۔ تفتیش کیلے پوچھا۔ تو ناموزوں قہقہہ لگاتے ہویے۔ کہا۔’ کیا آپ یہاں نہیں رہتے۔روز آتے جاتے آپ فوج کے ناکوں پر کھڑے بندوق برداروں کو نہیں دیکھتے جو ہمیں ایسے گھورتے ہیں جیسے ہم پاکستانی نہیں۔ کیا یہئ عذاب کم ہے کہ روزانہ آپکو یہ احساس دلایا جایے کہ یہ ملک صرف فوج کا ہے‘۔عرض کیا جناب یہ فوج تو ہمارے حفاظت کیلے ہے۔ اس دفعہ وہ سیدھے ہوکے مزید غصے میں بولے ۔’ اچھا اگر فوج کا کام حفاظت کرنا ہے تو فضل اللہ دوران کرفیو سوات سے افغانستان کیسے پہنچا،عافیہ کو امریکہ کیوں لے گئی اور ہمارے حجروں،بازاروں،مسجد
وں اور سکولوں میں دھماکوں کے باوجود یہ اسلام آباد میں جاری دھرنوں میں پٹٓاخہ پٹا۔ نہ پنجاب میں کچھ ہوا۔‘ اور بالاخر مغرب کی اذان شروع ہوگئی تو میں نجیب اللہ سے رخصت لیکر مسجد کے طرف جانکلا۔مگر اس سوچ کیساتھ کے ہمارے پڑھے لکھے نوجواں بھی اب اگر اس طرح مایوس ہوگئے تو اس نظام کا کیا ہوگا۔ ۔ ۔ ۔ اور اس تصور سے مجھے ڈرآنے لگا۔کہ ماہ تو دسمبر کا ہے۔ اس صاحب سے ملیئے یہ صوبہ بلوچستان کے اچکزئی قبیلے کا چشم وچراغ ہے۔ سرکاری نوکر ہے اور آجکل جامعہ پشاور میں پشتو ادب میں پی ایچ ڈی کا طالب علم ہے۔ جامعہ کے پشتو اکیڈمی کے قریب ہی ملا۔اور اس دن بھی میرے سینے ہر سبز ہلالی پرچم والا بیج لگا ہوا تھا۔ کیونکہ یہ میرا شوق بھی ہے اور جنون بھی۔کہ پاکستان سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔ بلوچستان کے اس نوجوان نے جس شد ومد سے پاکستان اور فوج کے خلاف اپنے خیالات کا اظہار کیا تو عرض کیا کہ جناب اگر پاکستان اتنا برا ملک ہے۔تو پھر اس ملک میں نوکری کرکے آپ جو رزق کما رہے ہیں وہ؟؟؟؟؟ تو بلا خوف وخطر کہنے لگا۔ کہ میں بھی منافقت کررہا ہوں۔ کہ رزق سے مجبوری ہے۔ مگر میں اسلیے بھی کررہا ہوں۔کہ پاکستان ہمارے زمین پر قابض ہےیہ پنجابیوں کا وطن ہے۔ یہ فوج پاکستان کا نہیں بلکہ پنجاب ہے اور اس کو ہمارے وطن سے نکلنا چایئے۔ اچکزئی قبیلے کے اس تعلیم یافتہ نوجوان کے باتیں سن کے میرا تو سرچکرا گیا۔ اور کیوں نہ ہوتا۔کہ اس قسم کے خیالات صرف نجیب اللہ اور اس اچکزئی نوجوان کے نہیں بلکہ جہاں جہاں فوج نے آپریشن کیا ہے وہاں وہ کو سیکنڑوں رونگٹے کھڑے کرنے والے داستانیں ملینگے۔اس سے برعکس کے ان میں صداقت کتنی ہے۔ مگر ان داستانوں کے نتیجے میں سوچ جنم لے چکا ہے۔ وہ اب بلوچستان سے خیبرپختونخوا تک جگہ جگہ پھیلتا ہوا نظر آرہاہے۔ ان کے دیگر وجوہات میں سول حکومت کی مسلسل عدم دلچسپی بھی کار فرماہے۔ کیونکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں فوجی آپریشن شروع ہے۔مگر نہ تو ابھی تک دہشتگردی ختم ہوسکی اور نہ وہاں کے لوگوں اپنے حقوق مل سکے۔ لہذا معمولی سے تحریک پر وہ لوگ اپنے حقوق بزور لینے کیلئے اسلحہ اٹھاتے ہیں۔ بعینہ وہ حکمت عملی ملاکنڈ ڈویژن میں بھی کارفرماہے۔ کیونکہ بقول حکومت اگر سوات میں امن آچکا ہے۔ تو فوجی جوانوں کو واپس بیرکوں میں ہونا چایئے۔ کیونکہ ناکوں پر موجودگی سمیت روز روز لمحہ بہ لمحہ تلاشی نے عوام کو ذہنی طور پر بد ظن کیا ہے جو ملک کے سلامتی کیلئے اچھا شگون نہیں۔ لہذا بنیادی حقوق کی دستیابی سمیت خاصکر نوجواں طبقے کیلئے باعزت روزگار کے مواقع پیدا کیاجائے۔ تاکہ پھر کوئی سر پھیرا بنگالیوں کہ طرح یہ نعرہ نہ لگایے۔کہ کراچی کے سڑوکوں سے پٹ سن کے خوشبو آرہی ہے۔ دسبر میں سقوط ڈھاکہ نے یادیں تازہ کی تو آج کے پاکستانی میں بڑھتی ہوئی نوجوان مایوسی جو مرکز گریز اور علاقائیت کی طرف بڑھتی جارہئ ہے کا سدباب انتہائی لازمی ہے۔

Saturday, December 6, 2014

کراچی کو بھیڑیوں کے حوالے کرنے کے نتائج

0 comments
کراچی شہر کی بلدیہ کے مئیر عبدالستار افغانی ( جماعت اسلامی ) نے جب وفاقی حکومت سے موٹر وہیکل ٹکس میں سے کراچی کا حصّہ طلب کیا ، وفاقی حکومت کے پیٹ میں شدید مروڑ اٹھا -- ان کی منتخب بلدیہ جو پورے پاکستان کی سب سے بڑی بلدیہ تھی ، ایک آرڈ یننس کے ذریعے ختم کردی گیی .

پھر مارشل لا کی حکومت میں نواز شریف اور غوث علی شاہ کی مدد سے مہاجر کارڈ کے ذریعے اسلامی سوچ رکھنے والے شہر کو لبرل شناخت دینے کے لئے مہاجر قومی موومنٹ کے غبا رے میں ہوا بھری گیی . 
آہستہ آہستہ کراچی ، حیدرآباد ، میر پور خاص اور سکھر میں خونریزی ، فساد اور غنڈہ گردی کا جن چھوڑا گیا - اس " جن " نے مہاجر علاقوں میں اپنی علیحدہ نجی حکومت قائم کرلی -
فاشسزم ، دہشت گردی کا عفریت پورے شہر پر راج کرنے لگا - تعلیم ، صحت ، بلدیہ ، ترقیاتی کام ، پلا ننگ اور ڈوولپمینٹ کے محکمے تباہ و برباد کردئیے گئے 
تیس سالوں میں کوئی نیا کالج اس شہر میں نہیں کھولا گیا، سرکاری ا سکولوں میں کوئی ایک اسکول کا اضافہ نہیں ہوا - سرکاری امداد وزیر تعلیم کی دسترس میں رہی . شہر کی لائبریریز کو منی پلکس سینما گھروں میں تبدیل کردیا گیا - شا پنگ سنٹرز میں بدل دیا گیا - 
اس درمیاں جماعت اسلامی نے نعمت الله خان کو کسی نہ کسی طرح دوبارہ منتخب کروایا -- ترقیاتی کاموں ، پل ، شاہراہوں ، پارکس ، خواتین پارکس ، اتوار بازار ( بچت بازار ) ، رعا ئیی نرخ پر اشیا سودا سلف ، اور امور پر فوری توجہ دی گیی ، 
پھر پرویز مشرف کے دور میں جماعت اسلامی دوبارہ زیر عتاب آگیی ، جعلی بیلٹ باکس بھروائے گیے ، فوج اور انتظامیہ نے کھلی دھاندلی کا مظاہرہ کیا 
لسانی بنیادوں پر شہر کو تقسیم کیا گیا ، پٹھان ، مہاجر ، سندھی ، یہاں تک کہ بلوچ لسانیت پر بھی علاقے تقسیم کردے گیے 

اسلحے کر ٹرکوں اور سیکٹر آفسز میں کوئی دوری نہ رہی - پورٹ ٹرسٹ کی مرکزی بلڈنگ کو دو مرتبہ نذر آتش کیا گیا -- ظاہر ہے اس کی وجہہ صرف یہ تھی کہ بدعنوانی کا کوئی ثبوت موجود نہ رہے .
بولٹن مارکیٹ ، پلاسٹک مارکیٹ کی آتشزدگی ،سانحہ شیر شاہ ، سانحہ بلدیہ ٹاؤن ، اور اسی نوعیت کے بیشمار واقیعات نے شہر کو مفلوج کر کے رکھ دیا .
بھتہ گیری ، پلا ٹ مافیہ ، لینڈ گریبرز ، چائنا کٹنگ ، اور بہت کچھ اس شہر کی پہچان بن گیا -
چائلڈ آرمی - بچوں کی عسکری طرز کی چھوٹی چھوٹی ٹولیاں بنائی گئیں -- اس قسم کا کام افریقی ممالک میں تیس سالوں سے جاری ہے . یہی کام کراچی میں سیکٹر آ فسوں میں شروع کیا گیا --- جو اب ایک تناور درخت بن چکا ہے- مذھبی شخصیات ، علمائے کرام ، تاجر ، ڈاکٹر کوئی بھی ان کے حملوں سے محفوظ نہیں رہا -- 
دہشت گردوں کے کچھ گروپ پکڑے بھی گئے جن کا کہنا ہے کہ ان وارداتوں میں ہمارا ہاتھ ہے ، پے رول پر رھا ہوتے رہے ، پھر غیر ممالک فرار بھی کروادے گئے ... 
میرا شہر جو کبھی محبتوں کا امین شہر تھا ، غریب پرور شہر تھا -- آج خود " غریب " اور مفلسی کی تصویر بن گیا ہے .
زبوں حال روشنیوں کے شہر کو کون سنبھالا دے گا ؟
کرچی کرچی ،کراچی کی ہر گلی میں جا بجا شہدا کے کتبے ، کھمبے ، مزار ، اور یادگاریں دکھائی دیتی ہیں 
اسلم لمبو ، رفیق ٹی ٹی ، بابو ٹینشن ، مادھوری ، طارق استرا ، جیرا عرف بلیڈ .......... اور نہ جانے کتنے بیگناہ صرف رنگ برنگے جھنڈوں اور کھمبوں سے پہچانے جاتے ہیں 
ان کا خون کس کی گردن پر ہے ؟
ہزاروں وہ جو اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے پر مار دیے گئے ؟؟ ان کی گنتی کون کرے گا ؟
لے دے کے جماعت اسلامی رہ گئی ہے ، وہ پہلے بھی موجود تھی ، اب بھی موجود ہے .
اس جماعت نے ہر وقت اپنا موقف دوٹوک رکھا ، شہا دتیں بھی دیں ، قربانیوں کی تاریخ بھی رقم کی . حقیقی نمائندہ ہونے کا ثبوت بارہا فراہم کیا -- آج بھی اگر منصفانہ اتتخاب ہوں اور" پولنگ کے بعد بیلٹ باکس " کا تحفظ یقینی بنایا جائے تو یہ شہر ایک بار پھر " عروس البلاد " ہوسکتا 
ہے
( نجیب ایوبی )

Wednesday, December 3, 2014

پنجاب پولیس زندہ باد

0 comments
شاید یہ بھی کوئی امریکی سازش ہو، یا لگتا ہے عمران خان ہی نے پیسے دیئے ہو۔ اب ان نابیناوں کو آخر کس نے کہاتھا، کہ آپ بھی پاکستانی ہیں۔ یہاں بیناوں کو کیا خاک مل رہا ہے ۔ جو آپ بھی حق ماننے نکلے۔ چلو خیر ہے ۔ حق نہیں سہی لاٹھیاں تو کھا گئے۔ آہ کیا کہیے اس کو وزیراعظم اور وزیر اعلی پنجاب دونوں بیرون وطن۔ پیچھے رہیے ۔گلو بٹ جنہوں نے آج پھر تاریخ دھرائی،اور نابیناوں کی کردی پٹائی۔ بظاہر تو ایس لگتا ہے کہ تین دفعہ مرکز اور چھٹی مرتبہ پنجاب میں حکومت کرتے کرتے شریفین کی حکومت اب بادشاہت بنتی جارہی ہیں۔پنجاب پولیس نے نابیناوں پر تشدد کرکے پتہ نہیں کونسی جمہوریت اور حکومت کی خدمت کی ۔ شکر ہے یہ کام کس مذہبی تنطیم کے لوگوں نے نہیں کیا ورنہ اب تک اپنے پرائے سب برس پرتے کہ یہ کیسا اسلام ہے ۔ مگر اب کوئی نہیں پوچھتا یہ کیسی جمہوریت ہے ؟؟؟

ہمیں وعدہ کرتے ہوئے کبھی احساس نہیں ہوتا .............

0 comments
مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ 
انہیں داڑھی رکھنی ہو تو سیرت یاد آتی ہے‘ شلوار یا پاجامے کے پائنچے ٹخنوں سے اوپر کرنے ہوں تو سیرت یاد آتی ہے‘ ہاتھ سے کھانا کھانا ہو تو سیرت یاد آتی ہی
لیکن
انہیں جب کسی کو معاف کرنا ہو تو پھر یاد نہیں آتا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کتنے معاف کرنے والے تھے‘ انہیں پھر صرف یہ یاد آتا ہے کہ وہ کتنے طاقت ور اور دوسرا کتنا کمزور ہے۔ وہ کتنے غصہ ور اور دوسرا کتنا برفانی مزاج رکھتا ہے۔ وہ کتنے برتر اور دوسرا کتنا حقیر ہے
مسلمان جب تجارت کرتے ہیں تو انہیں یاد نہیں آتا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیسے تاجر تھے۔ انہیں اس وقت صرف یہ یاد رہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ مال کیسے کمایا جائے۔
مسلمان جب اپنی بیویوں سے معاملہ کرتے ہیں تو انہیں یاد نہیں رہتا کہ اس سلسلے میں سیرت کی مثالیں کیا بتاتی ہیں‘ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امہات المومنین سے کیسی محبت کرنے والے‘ ان کی دل جوئی کرنے والے اور ان کے گھریلو کاموں میں ان کا کیسا ہاتھ بٹانے والے تھے۔ مسلمانوں کو اپنی بیویوں کے حوالے سے کچھ یاد رہتا ہے تو بس یہ کہ عورتیں ان کی پاوں کی جوتی ہیں اور ان کا کام دن رات خدمت کرنے کے سوا کچھ نہیں
ہمیں کبھی یاد نہیں آتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے پڑوسی تھے۔
ہمیں وعدہ کرتے ہوئے کبھی احساس نہیں ہوتا کہ آپ کس حد تک ایفائے عہد کے پابند تھے۔
(انتخاب از شاہنواز فاروقی)

توہین اور جنید جمشید

0 comments
ایک مرتبہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سر میں درد ہو رہا تھا ۔ آپ نے فرمایا:’’ اے عائشہ! تم میرے سامنے مرتیں تو مَیں تم کو اپنے ہاتھ سے غسل دیتا اور اپنے ہاتھ سے تمہاری تجہیز و تکفین کرتا اور تمہارے لیے دعائے خیر کرتا۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ سُن کر بڑے ناز و انداز سے عرض کیا کہ :’’ یارسول اللہ ! آپ میری موت مناتے ہیں اگر ایسا ہو جائے تو آپ اسی حجرے میں نئی بیوی لا کر رکھیں ۔
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا یہ جواب سنا تو خوب تبسم فرمایا۔ (بخاری و مسلم شریف)
اس واقعے کو پڑہیں اور پھر جنید جمشید کا ڈرامہ دیکھیں یہ میاں بیوی کا ایک آپس کا انداز گفتگو ہے جس کو ایسے تحقیرانہ انداز میں بیان کرنا ۔۔ ہم جب کلاس یا درس لینے بھی جاتے ہیں تو احادیث بیان کرتے ہوئے اتنی احتیاط کرتے ہیں کہ ساتھ حدیث کا مفہوم کہتے ہیں کہ کہیں کوئی بات اپنی طرف سے نہ شامل ہوجائے ۔۔ کجا یہ کہ اس کا ڈارمہ کیا جائے اپنی طرف سے اس میں ڈرامہ کر کے دکھایا جائے اور یہ کہ وہ اٹینشن چاہتی تھی اس لیے سر پر پٹہ باندھ کے لیٹ جاتی تھی ۔۔۔ گویا مکر کرتی تھیں !!!! 
اور یہ کہ وہ سن کر ایسے اٹھ کے بیٹھیں اور سر سے کپڑا اٹھا کہ پھینکا اور یہ کہا ۔۔۔۔۔ اور پھر یہ کہنا کہ اس سے یہ ثابت ہوا کہ عورت نبی
کی صحبت میں بھی نہیں سدھر سکتی یا بدل سکتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انا للہ ۔۔۔ یہ کون ہیں ایسے الفاظ کہنے والے وہ جن کی پاکی ثابت کرنے کے لیے کسی انسان کی گواہی نہیں بلکہ اللہ ربی نے خود اٹھارہ آیات نازل کیں ۔۔۔۔۔ اب یہ بتائینگے کہ وہ نبی کی صحبت میں بھی نہیں بدلی ۔۔۔!!!
صرف یہ سوچا جائے کہ کیا کوئی اس طرح مجمع لگا کر کر یہ ایسے ہی انداز میں اپنی ماں کے لیے یہ سب کہہ سکتا ہے اور ایسے ہی قہقہے لگوا سکتا ہے ؟؟؟؟؟؟ 
اگر نہیں تو وہ امت کی ماں ہیں جن کا نام جبریل امین بھی ادب سے لیا کرتے تھے ۔۔ صرف اونچا باجامہ اور داڑھی رکھ لینے سے کوئی اس قابل نہیں ہوجاتا کہ وہ اہل بیت کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرے ۔۔۔۔۔!!
اگر ہمیں اس میں اپنی ماں کے لیے تو ہتک نظر اآتی ہے مگر امت کی ماں کے لیے تو یہ ہمارے ایمان کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے ۔۔!!
اس کہ باوجود جو لوگ اس کو فتنہ انگیز بنا رہے ہیں وہ بھی شدید غلط کر رہے ہیں. مگرہم سمجھتے ہیں جنید جمشید کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اور ان کی توبہ کو سامنے رکھتے ہوئے سزا ضرور ملنی چاہیے. تاکہ جو لوگ اس کو آڑ لے کر توہین رسالت ص و صحابہ و اہل بیت رض کے قانون کو ختم کرنا چاہتے ہیں ان کی مکروہ خواھشات کا خاتمہ بھی ہو جاۓ.


اندازبیاں اور

0 comments
مولانا طارق جمیل صاحب کے دعوت و تبلیغ میں ایک معروف نام ہے، ان کے بیان میں لوگوں کے لیۓ بے پناہ تاثرکا سامان ہوا کرتا ہے- لوگوں کو دین کی طرف بلانے کی ان کی کوششیں قابل ستائش ہیں- لیکن ان کے اندازمیں فرط و غلو کا عنصر غالب رہتا ہے- یہی رنگ ان سے متاثرجنید جمشید کے بیانات میں بھی نمایاں ہوتا ہے - 
ہمارے مبلغین اورواعظین بعض اوقات غلو اورفرط جذبات میں لغزش کرجاتے ہیں، یہ رویہ گناہ و گمراہی کا سبب بننے کے علاوہ تنازعات کو بھی جنم دیتا ہے- اس سلسلے میں گذارش یہی کی جاسکتی ہے کہ حساس موضوعات پر گفتگو میں علمی احتیاط ، انصاف اور توازن کا لحاظ رکھیں- مبالغہ آرائی کے اندازمیں یا بلا تحقیق بات کرنا علمی دیانت داری کے بھی خلاف ہے اور کئی حوالوں سے نقصان دہ فعل بھی ہے- اس سے حد درجہ اجتناب کی ضرورت ہے-
Karam Elahi 

Friday, November 14, 2014

نوجوانوں کی ایک صحت مند مثبت سرگرمی

0 comments
 سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں کے طلباء اور طالبات کو صحت مند تخلیقی سرگرمیاں فراہم کرنے کے علاوہ عام نوجوانوں کو بھی مثبت سرگرمیوں میں مصروف کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ نوجوان ہمارے ملک اور معاشرے کی واضح اکثریت ہیں۔
عام نوجوانوں کی ایک صحت مند مثبت سرگرمی شجر کاری بھی ہو سکتی ہے۔
اس شعبہ میں ہم سنگا پور کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جہاں ہر بچے کی پیدائش پر اس کے نام کا ایک درخت لگایا جاتا ہے۔ اس درخت کی پرورش حفاظت اس بچے کے ذمے ہوتی ہے۔ تصور پایا جاتا ہے کہ اگر خدانخواستہ بچہ وفات پا جائے تو وہ اس کے نام سے اگائے یا لگائے گئے درخت میں زندہ ہو گا۔ اس طریقے سے سنگا پور نے اپنے ملک کو سرسبز اور شاداب بنا لیا ہے۔
قدیم مصر کی تہذیب سے پتہ چلتا ہے کہ جب کسی لمحہ میں بیٹی پیدا ہوتی تھی تو اس کے نام کے سات درخت لگائے جاتے تھے۔ بیٹی کے ساتھ وہ سات درخت بھی جوان ہوتے تھے اور بیٹی کی شادی پر وہ درخت اسے بطور جہیز کاٹ کر دیئے جاتے تھے کہ اپنے استعمال میں لا سکے۔ اس طریقے سے وادی نیل کے صحراؤں کو سرسبز و شاداب کیا گیا تھا۔

پاکستان کے نوجوانوں کو شجر کاری کے ذریعے موسمی انقلاب برپا کرنے پر آسانی سے مصروف کیا جا سکتا ہے

ان پر آدھی رات میں بمباری کرو

0 comments
ان پر آدھی رات میں بمباری کرو کہ یہ نکل کر اپنے گھروں سے بھاگیں ۔۔۔
، ان کو اپنے آبائی علاقے چھوڑنے کے لئے چند گھنٹے کا نوٹس دو اور جب یہ تین تین دن پیدل چل کر کسی محفوظ جگہ پہنچیں تو آٹھ گھنٹے لمبی قطاروں میں کھڑے کر کے ان کی تفتیش کرو 
۔۔کبھی ان کو مارنے کے لیئے اور کبھی ان کی امداد کے نام پر پیٹ، جیب اور اکاونٹ بھر بھر کے ڈالر کھاو ۔۔۔ اور انہیں راشن کے لئے گھنٹوں لمبی قطاروں میں لگا کر رسوا کرو ۔۔
زرا سی بے ضابطگی پر انہیں ڈنڈوں سے پیٹو ۔۔ اور اگر کبھی ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے اور یہ ردِ عمل کی جرات کریں تو ان کے پتھروں کے جواب میں ان پر گولیاں چلاو 
اور انہیں سینکڑوں کی تعداد میں گرفتار کرو ۔۔۔۔۔ کیونکہ یہ وہ نہیں جن کو چھڑانے کے لئے کوئی خان صاب بذاتِ خود تھانے پر ہلہ بول دے گا ۔۔۔۔
یہ ہے آئی ڈی پیز کے لئے ہماری پالیسی ۔۔۔ ؟
بشکریہ عائیشہ غازی



Thursday, November 13, 2014

کتابوں کا ذوق و شوق زوال پذیر کیوں؟

0 comments

حرفوں کے رسیا کیا ہوئے
کتابوں کا ذوق و شوق زوال پذیر کیوں؟

محمد ارشد سلیم
برنس روڈ (کراچی )پر تقریباً ہر عمر اور رنگ و نسل کے لوگوں کا ہجوم تھا۔۔ چھوٹے بڑے اور امیر غریب اپنی اپنی استطاعت کے مطابق انواع و اقسام کے مشروبات‘مختلف کھانوں اور طرح طرح کے کباب سے فیضیاب ہو رہے تھے۔ فیض،اقبال،غالب اور میر برنس روڈ سے ذرا آگے ریگل چوک کے فٹ پاتھوں پہ پکارتے پھر رہے تھے:
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
کباب کے یہ اسیر کتاب سے کوسوں دور تھے۔۔۔”بانگ درا“ کوئی نہیں سن پا رہا تھا۔۔۔”ضرب کلیم“ کا کسی پہ اثر نہیں ہو رہا تھا۔۔۔ اور”نسخہ ہائے وفا“ سے عہد وفا باندھنے کا بھی ان میں کوئی آرزو مندنہ تھا۔ہر اتوار صبح سے شام تک ریگل اور فریئر ہال کے فٹ پاتھوں اور اسٹالز پر فلسفہ،تاریخ عالم، سیاسیات ، سماجیات ، نفسیات اورمذاہب عالم پر موجودہ اور عہد رفتہ کی مقبول ترین کتابیں صدائیاں دیتی ہیں :
آواز دے کہاں ہے۔۔۔؟

ہومر،ورجل ،کالی داس، رحمان بابا، سچل سرمست، وارث شاہ، شیکسپیئر ،گوئٹے، ٹالسٹائی، چیخوف ،گورکی، موپاساں،سارتر ،کرشن چندر ، سعادت حسن منٹو اور ہزارہا کہانی کار،شاعر، دانشور اور فلسفی تو گویا اقبال بانو کے سنگ غزل سراہیں:
دل توڑنے والے دیکھ کے چل
ہم بھی تو پڑے ہی راہوں میں
فٹ پاتھوں اور اسٹالز کی زینت بننے والی پرانی خستہ وبوسیدہ اور ردی کی صورت میں فروخت شدہ کتابیں ہوں یا نئی اور دیدہ زیب کتابیں۔۔ہماری ان سے دوری بڑھتی جا رہی ہے، حالانکہ تاریخ شاہد ہے کہ وحشی ادوار کو نکال کر دنیا پر ہمیشہ کتابوں نے حکمرانی کی ہے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم وحشی دور میں جی رہے ہیں۔۔؟ یا صرف پاکستانی اور تیسری دنیا کے چند دیگر ممالک کا معاشرہ دور وحشت میں قدم رکھ چکا ہے۔۔؟

عالمی شہر ت یافتہ امریکی ادیب مارک ٹوئن نے شاید ہمارے لئے کہا ہے کہ ”جو شخص اچھی کتابوں کا مطالعہ نہیں کرتا وہ ایسے شخص سے بدتر ہے جو پڑھنا نہیں جانتا“چھوٹی بڑی عوامی لائبریریاں کیوںاجڑی اجڑی نظر آتی ہیں؟اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی لائبریریوں میں ویرانی کے سائے کیوں گہرے ہوتے جا رہے ہیں؟
معاشرے کا علم دوست طبقہ، حساس طبع افراد، ادب کا ذوق رکھنے والے قارئین، قلم کار اور دانش ور کتاب کلچر کے عدم وجود کا رونا رورہے ہیں، جبکہ پورے سماج کی کتاب سے کنارہ کشی اور نئی نسل کی کتاب سے دوری کی شکایت بہت عام ہو چکی ہے ، اگر حقیقتاً ایسا ہی ہے تو پھر یہ جاننا از حد ضروری ہے کہ کتابوں کا ذوق و شوق زوال پذیر کیوں ہے؟
ممتاز نقاد وشاعر پروفیسر سحر انصاری ،کتابوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو اس کا ایک سبب گردانتے ہوئے ناشرین کو بھی اس کا ذمہ دار ٹھراتے ہیں، انہوں نے موضوع پر مزید روشنی ڈالٹے ہوئے کہا:”مہنگی کتابوں نے قارئین کی تعداد گھٹا دی ہے، ادیب کو بھی اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا‘ادیب غریب تر اور ناشر امیر تر ہوتا جا رہا ہے۔ کتابوں کے ذوق میں کمی کے اور بھی بہت سارے اسباب ہیں، مثال کے طور پر ہمارا تعلیمی نظام اور اساتذہ،گھریلو اور خاندانی ماحول‘جس میں کتاب کو سب سے کم اہمیت دی جاتی ہے، لوگ ہزار کا برگر اور پانچ ہزار کا جوگر خرید لیتے ہیں مگر کتاب نہیں خریدتے، کیفے کلچر کا خاتمہ بھی اس کا ایک اہم سبب ہے

پاکستان کی ادبی تاریخ میں بلاشبہ ٹی ہا
سز اور کیفے کلچر کے کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا ، جس نے نہ صرف ادیبوں کے درمیان باہمی روابط اور نئے ادیبوں کی تربیت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ، بلکہ کتاب دوست اور ادب ذوق قارئین کی تعداد میں بھی اضافہ کیا تھا۔معروف ترقی پسنددانشور راحت سعید نے اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
کتاب کلچر جو پہلے نظر آتا تھا وہ اب نہیں رہا مگر بہت زیادہ مایوس کن صورتحال بھی نہیں ہے، کتابوں کا ذوق و شوق لوگوں میں اب بھی ہے لیکن ہوا یہ ہے کہ تفریح اوقر معلومات کے دوسرے میڈیم بھی آگے ہیں‘ المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کتب بینی کا ذوق و شوق اسکول کی سطح پر پروان نہیں چڑھایا جاتا، اگر ہم اپنے گھروں میں کتب بینی کا شوق، بچوں میں پروان چڑھاتے تو شاید پھر ایسی صورتحال نہ ہوتی۔ لوگوں کو کتاب اور ادب کی طرف راغب کرنے کےلئے ہمارے ہاں ایسا ادب تخیلق ہونا چاہئے جو عوام کی خواہشوں اورا میدوں کا مرکز بھی ہو اور مظہر بھی

اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو ادیبوں نے خود بھی وقتاً فوقتاً اپنے قائرین سے رشتہ توڑا ہے، کبھی ادب برائے ادب کے نام پر تو کبھی مخالفت برائے مخالفت کی ترنگ میں انداز و بیان اور اسلوب کے نت نئے تجربات کی صورت میں۔

ملک کے معروف پبلشر آصف حسن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا:”کتاب کلچر کا زوال دراصل خیالات و نظریات کا زوال ہے اور کتاب کلچر تو ہم خود ہی ختم کر رہے ہیں، اخبارات اور میگزین میں کتابوں پر تبصرہ کےلئے مخصوص تھوڑی سی جگہ بھی اشتہار ملنے کی صورت میں غائب کر دی جاتی ہے، ٹیلی وژن چینلز پر دنیا جہاں کے موضوعات پر بحث و مباحثے ہوتے ہیںِ، سیاستدانوں کے جھوٹے سچے بیانات زور و شور سے دہرائے جاتے ہیں لیکن کتابوں پر بحث و مباحثہ تو دور کی بات دو جملے بھی بولے نہیں جاتے“۔انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں بتایا : ”کتابوں کا مہنگا ہونا لائبریریوں کی کمی کا رونا ،روناکتاب نہ پڑھنے کے بہانے ہیں، ذاتی طور پر کتابوں کا ذوق و شوق ہی مجھے اس پیشے کی طرف لے کر آیا ہے ، ہمارے ادارے نے ڈسکا
نٹ لینا سکھایا خود بھی ڈسکانٹ دیتے ہیں اور د کانداروں کو بھی ہماری تاکید ہوتی ہے کہ ہماری کتابیں حتی الوسع رعائتی قیمت پر دی جائیں“۔

کتابوں کی قیمتوں،چھپائی کے معیار اور نئے قلم کاروں کی حوصلہ افزائی نہ کرنے کے حوالے سے پبلشرز بھی شکایات اور تنقید کی زدمیں ہیں، پبلشر کاغذ کی خریداری سے لے کر کتاب کی چھپائی کے تمام مراحل تک ہر جگہ خوشی سے پیسے دیتے ہیں لیکن جو خون دل دے کر الفاظ و خیالات کی نئی دنیائیں تخلیق کرتے ہیں انہی کو معمولی سی رقم دینے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔

بنیادی طور پر ہمارا معاشرہ علم دشمن معاشرہ ہے۔۔!“ اردو یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے ڈاکٹر توصیف احمد خان اپنے تاثرات و حساسات بیان کر رہے تھے:”اس علم دشمنی کے نتیجے میں لکھنے پڑھنے کا رحجان کم ہو رہا ہے ، غربت بھی کتاب دوستی کے راستے میںرکاوٹ ہے، کتابیں مہنگی ہیں، ایک وجہ ہماری نئی نسل کا برگر ایجوکیشن کی طرف جانا ہے، اساتذہ بھی اپنی ذمہ داریاں صحیح طور پر ادا نہیں کر تے ہیں، ایک اور بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں تحفے تحائف دینے کا رحجان نہایت کم ہے اگرچہ مذہب میں اس کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے اور پھر خاص طور پر تحفے میں کتاب دینے کا رحجان تو بالکل ہی نہیں ہے“۔

اردو یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے طالب علم عاصم عزیز بنیادی طور پر گلگت سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے اس حوالے سے بتایا:”مجھے گلگت میں یہاں کی نسبت کتابوں کا شوق زیادہ تھا اور پڑھنے کا موقع بھی کچھ زیادہ ہی ملتا تھا مگر ’گردش وقت سے حالات بدل جاتے ہیں‘ کے مصداق اب وقت کی کمی آڑے رہتی ہے اسلئے کورس کی کتابوں میں سے بھی اکثر پڑھ نہیں پاتا، جس کی وجہ سے نوٹس کا سہارا لیتا ہوں اور یا پھر انٹرنیٹ پر مطلوبہ موضوعات Serchکر لیتا ہوں“۔طالب علموں کی تن آسانی، شارٹ کٹ کی تلاش اور صرف امتحان میں کامیابی کے نقطہ نظر سے ”پڑھنا“ عاصم عزیز جیسے ہزاروں طلباءو طالبات کا وطیرہ اور طریقہ ہے جو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلہ محض ڈگری کے حصول اور بالخصوص یونیورسٹی کی ”آزاد فضا
ں“ سے لطف اندوز ہونے کےلئے لیتے ہیں۔

طلباءوطالبات بڑی تعداد میں لائبریری آتے ہیں مگر صرف بیٹھنے اور گھنٹوں بحث و مباحثے کے لئے ، پڑھنے والے تو اب رہے نہیں“ اردو یونیورسٹی ‘عبدالحق کیمپس کے لائبریرین مظہر قیوم خاصے رنجیدہ دکھائی دے رہے تھے ، انہوں نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا:”دوسری بات یہ کہ ہماری لائبریری میں نئی اور تازہ شائع ہونیوالی کتابیں با لکل نہیں ہیں،جن کتابوں کی ضرورت ہوتی ہے و ہی کتابیں ہمارے ہاں دستیاب نہیں ہوتی، طالب علم نوٹس پر انحصار کرتے ہیں اور گذشتہ چند برسوں سے انٹرنیٹ پر ہی زیادہ انحصار کرنے لگے ہیں“اچھی کتابوں کا مطالعہ دل کو زندہ اور دماغ کو بیدار و بے داغ رکھتا ہے، تعلیمی اور معاشرتی نصاب سے کتابوں کا مطالعہ خارج ہوجائے تو دل مردہ ہو جاتا ہے اور دماغ لسانیت ، فرقہ واریت ، تشدد اور عدم برداشت جیسے ہزاروں داغ دھبوں کا مسکن بن جاتا ہے۔

جامعہ کراچی کے شعبہ مطالعہ پاکستان میں تحقیق سے وابستہ صائمہ حیات نے بتایا:”جو لوگ کتابوں کے رسیا ہوتے ہیں ان کا ذوق و شوق کبھی زوال پذیر نہیں ہوتا،اگر ایسا ہوتا تو اب تک کتابیں پڑھنے اور چھپنے کا سلسلہ بند ہو چکا ہوتا۔ جہاں تک کتابوں کے ذوق اور کتاب کلچر کے پروان چڑھنے کی بات ہے تو پاکستان جیسے ملک میں کتاب کلچر کیا پروان چڑھے گا ،جہاں گذشتہ تین عشروں سے کلاشنکوف کلچر پروان چڑھتا آرہا ہے۔ہمارے ہاں ڈرائینگ رومز اورگھروں کی سجاوٹ کےلئے بہت ساری چیزوں کا سہارا لیا جاتا ہے مگر کتابوں کےلئے کوئی جگہ ہی نہیں ہے۔ہم لوگ کھانے پینے کی طرف زیادہ مائل ہیں، کھانے پینے کے مقامات اور کیفے بے شمار ہیں مگر کتاب کیفے کا کوئی وجود نہیں“۔

منفرد طرز احساس کے ترقی پسند شاعرو مضمون نگار توقیر چغتائی کا خیال ہے:”کتابوں کا ذوق و شوق یقیناً زوال پذیر ہے، اصل میں کتب بینی کے شعور اور ادراک کی دو جگہیں ہوتی ہیں، گھر اور اسکول یاکوئی بھی تعلیمی ادارہ۔ چونکہ کچھ عرصے سے گھریلو نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ہر شخص تنہا اور اکیلا ہے ا س لیے بچوں کی تربیت مناسب خطوط پر نہیں ہو رہی اور اسکولوں میں بھی وہ روایتی سلسلے ناپید ہو چکے ہیں۔ بحث و مباحثے اور بزم ادب کا انعقاد اور دیگر سرگرمیاں مفقود ہو چکی ہیں ، لائبریری کا تصور اچھے اچھے اسکولوں میں بھی نہیں ہے اور اگر لائبریری ہے تو کتب بینی کی ترغیب نہیں دی جاتی“گھٹا ٹوپ تاریکی اور اندھیرا نوید سحر کی علامت ہوتا ہے، سماج کےلئے درد دل رکھنے والے کبھی کبھی مایوس اور نا امید ہو جاتے ہیں مگر صدا ے غیب بھی تو وہی سنتے ہیں:

سحر قریب ہے دل سے کہو نہ گھبرائے۔۔۔!

اگر عام لوگوں اور عام کتابوں سے ہٹ کر ادب کی بات کی جائے تو پھر معاملہ ذرا الگ ہے“ ایڈورٹائزنگ و ٹیلی وژن پروڈکشن کے ماہر اور بچوں کے معروف ادیب سلیم مغل اپنے خیالات کے اظہار کے وقت خاصے پرامید نظر آرہے تھے: ” ادیب اور ادب ذوق کے حامل ہر حال میں ہر قسم کی اچھی کتابیں پڑھتے ہیں، مجموعی طور پر بات کریں تو کتابوں کے ذوق میں زوال پذیری، علم کے ذرائع میں اضافہ کی وجہ سے ہے، اس کے علاوہ خواندگی کی شرح میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا ،شاہکار کتابوں کے سستے ایڈیشن بھی اب دستیاب نہیں ہوتے۔ کتابوں کی پیشکش اچھی نہیں ہوتی،یہ بھی لوگوں کو راغب نہ کرنے کی ایک یقینی وجہ ہے، ایک اور بنیادی سبب علم کا Classifiedہونا بھی ہے“۔

بات کتابوں کے مطالعہ کی ہو ، شعر و ادب کے ذوق کی ہو ، سماجی علوم اور فلسفہ پر دسترس رکھنے کی ہو، شعبہ فنون میں نت نئی اختراعات اور سائنس کے میدان میں ایجادات کی ہو، ہر شعبے میں اور ہر ڈگر پر ایٹم بم رکھنے والے پاکستان کا معاشرہ زوال پذیر ہے۔

جہاں تک کتاب کلچر کے عدم وجود یا کتابوں کے ذوق و شوق کے زوال پذیر ہونے کا تعلق ہے اس نے پورے سماجی ڈھانچہ کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے، تنگ نظری، تشدد اور مذہبی اور فرقہ وارانہ انتہا پسندی کے ساتھ ساتھ بے تحاشا منفی جذبات اور رویئے فروغ پا چکے ہیں، ذہن تنگ اور تاریک ہو چکے ہیں اور تخلیقی نشو و نما کے دروازے بند ہوچکے ہیں‘۔ ایسے حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ کلرکوں کی فوج اور بیوروکریٹس کی اشرافیہ پیدا کرنے والے نام نہاد نظام تعلیم کی جگہ نئے خطوط پر ایک ایسا تعلیمی نظام وضع کیا جائے جو لکیر کے فقیر پیدا کرنے کے بجائے تخلیقی اور تحقیقی ذہن پیدا کرے ۔

٭غربت کے خاتمے کےلئے منصفانہ معاشی نظام کورواج دینا بھی وقت کی آواز اور حالات کا تقاضا ہے۔

٭ تمام پبلک پارکس اور دیگر عوامی مقامات پر حکومتی سرپرستی میں کتاب گھر قائم کئے جائیں۔

٭اس کے علاوہ اگر حکومت تمام تعلیمی اداروں، پبلک لائبریریوں اور چھوٹے بڑے شہر کی کسی ایک جامع مسجد میںنئی طبع ہونے والی ایسی کتابوں کی فراہمی کو یقینی بنائے جو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں اور جو ملکی و عالمی ادب اور سیاسی و سماجی اور سائنسی موضوعات پر مبنی ہو تو یقین مانئے کہ پھر کتاب کلچر کے راج و رواج اور کتابوں کے ذوق و شوق کو پروان چڑھنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگے گی۔

عمران خان کے نام کینیڈا سے ایک خط :

0 comments

مائی ڈئیر کزن!
میں یہاں کینیڈا میں خیریت سے ہوں اور تمہاری خیریت بھی اس سے نیک مطلوب ہے جس کی جھوٹی قسمیں میں کھاتا رہتا ہوں....
دیگر احوال یہ کہ یہاں کینیڈا کا موسم بہت پیارا ہے....
وہاں اسلام آباد میں تو میرا رنگ کالا ہو چلا تھا...
ایک تو گرمی..اوپر سے اس قدر بدبو...
وہ تو شکر ہے میں نے کنٹینر میں بہت ہی مہنگا "ایئر فریشنر" رکھا ہوا تھا...
مجھے حیرت ہے کہ پاکستانی قوم اتنی گرمی اور بدبو میں کیسے جیتی ہے...
اور سناؤ.....
کچھ معاملہ آگے بڑھا ...
یا وہیں رکا ہوا ہے...
میں اب بھی تمہیں مشورہ دوں گا کہ تم بھی میری طرح کوئی ڈیل کرکے یہاں آجاؤ...
یا پھر لندن چلے جاؤ....
ابھی دو پیسے مل جائیں گے..بعد میں اس سے بھی رہ جاؤ گے....
اس وقت "انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ " اور "لوکل اسٹیبلشمنٹ" دونوں نواز کو ہٹانے کے موڈ میں نہیں لگ رہیں...
بھلا عوام کی طاقت سے بھی کبھی کوئی حکومت گئی ہے؟
یہ پاکستان ہے میری جان!
پاکستان....کوئی یورپی ملک نہیں...
اور ہاں اس چوہدری شجاعت اور پرویز الہی سے کہنا کے مجھے معاف کریں ....
وہ دونوں کئی دن سے میرا فون بھی نہیں اٹھا رہے...
ان سے کہنا ایسی بھی کیا ناراضگی...
ہر شخص کو حق ہے اپنے فائدے کے سوچنے کا...
مجھے فائدہ نظر آیا..میں نکل گیا...
اب میں نے ان سے ...یا تم سے....نکاح تھوڑی کیا تھا...
چوہدری صاحب نے بھی مشرف کے کہنے پر نواز شریف کے ساتھ یہی کیا تھا نا؟
یہ دنیا ہے پیارے...یہاں یہی ہوتا ہے....
رہی بات اس جاہل... جنگلی عوام کی...
تو وہ یوں ہی اپنی جہالت اور بد اعتقادی مرتی رہے گی...
لوگوں سے پوچھنا کیا اور ٹشو پیپر (tissue paper) بھیجوں؟
میں نے ناک صاف کرکے ...سنبھال کے رکھے ہیں ...
تبرکا" تقسیم کرنے کے لئے....
شیخ رشید کو سلام کہنا...
میں اس کے منہ نہیں لگتا...
منہ پھٹ آدمی ہے.
بس یہی کہنا تھا...
فقط تمہارا منہ بولا کزن
طاہر قادری

ایڈیسن 'رضی اللہ عنہ' اور پاکستانی صحافت کا ابو جہل

0 comments


حضرت مولانا علامہ مفتی اعظم جناب حسن نثار مدظلہ عالی نے بجلی کے موجد تھامس ایڈیسن کو 'رضی اللہ عنہ' قرار دے ڈالا اور فتوی جاری کیا کہ چونکہ ہمیں بتی جلاتے وقت ایڈیسن کا خیال نہیں آتا اور ہم اس کو خراج عقیدت پیش نیہں کرتے اس لیے قدرت نے ہم پر تھوک دیا، دھتکار دیا اور یہی وجہ ہے کہ ہم میں ایڈیسن پیدا ہی نہیں ہوتے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ "حضرت" کو ایڈیسن کا تو بہت خیال آیا لیکن میں نے موصوف کو کبھی اس بات پر بھاشن دیتے نہیں دیکھا کہ جب کبھی ہمیں اپنے مسلماں ہونے کا خیال آئے تو کیا کبھی ہمارا خیال اس ہستی(ص) کی طرف بھی گیا جس کی بدولت ہم سب آج مسلماں ہیں؟ اس ہستی کو بھی چھوڑیے، کیا کبھی آنکھوں، کانوں، ہاتھ، پاؤں، ناک، منہ اور دانتوں جیسی نعمتوں کا استعمال کرتے ہیں تو کیا ایک لمحے کے لیے بھی اس مالک کا خیال ہمیں آتا ہے جس کی دی گئی ان ساری نعمتوں کو ہم for granted سمجھ کر استعمال کرتے ہیں؟؟ جب کبھی ہمیں اللہ اور آقا کریم (ص) کا خیال نیہں آتا تو ایڈیسن کا خیال نہ آنے پر ماتھے پہ اتنے بل کیوں؟؟ اہڈیسن ہم میں اس لیے پیدا نیہں ہوتا کیونکہ ہم نے قرآن کو سمجھنا چھوڑ دیا ہے جو ہمیں غور کرنے' فکر کرنے، تحقیق کرنے، جستجو کرنے اور کائنات کو تسخیر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ بتی جلاتے وقت ہمیں ایڈیسن کا خیال نیہں آتا۔ قرآن نے صحابہ کرام کی منتخب جماعت کو "رضی اللہ عنھم" کا سرٹیفکیٹ دیا ہے۔ صحابہ کے بعد بھی اس امت میں جلیل القدر ہستیاں گزری ہیں جن میں بڑے بڑے آئمہ، مجدد، مجتہد،مفسر،محدث،مجاہد،عالم اور صوفی بزرگ گزرے ہیں کہ جن کی دعوت پر خطوں کے خطے مسلمان ہوئے لیکن کسی کی جرات نیہں ہوئی کہ ان ہستیوں کے ناموں کے ساتھ 'رضی اللہ عنہ' لکھے یا بولے' ہمیشہ ان سب کو 'رحمہ اللہ' ہی لکھا اور بولا گیا کیونکہ اللہ کی رضا کا واضح اعلان صرف صحابہ کی جماعت کے لیے ہے۔ لیکں کیا کیجئے کہ جب ایڈیسن ' رضی اللہ عنہ' لگنے لگے تو پھر اقبال جیسے عظیم شاعر اور فلسفی بھی "لوکل" قسم کے شاعر اور مشاہیر نظر آنے لگتے ہیں جن کو ہم نے خواہ مخوا سر پہ چڑھا رکھا ہے۔ ایک بات سمجھ لینی چاہیے کہ اگر اقبال نہ ہوتا تو پھر قائد اعظم بھئ نہ ہوتے کہ وہ تو ناامید ہو کر لندں جا کر باقی کی زندگی وہیں گزارنے کا فیصلہ کر چکے تھے لیکن اقبال کے اصرار پر واپس چلے آئے اور اگر قائداعظم نہ ہوتے تو شاید یہ پاکستان بھی نہ ہوتا جس کی وجہ سے عزت، شہرت اور دولت سب کچھ پانے کے بعد بھی زبانیں اس کے خلاف زہر اگلتی ہیں۔ حسن نثار بنیادی طور پر مایوسی کا نام ہے اور آج یہ بات کھل کر سمجھ میں آئی ہے کہ مایوسی کو کفر کیوں کہا گیا ہے کیونکہ مایوسی مین انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مفلوج ہو جاتی ہیں اور پھر وہ حسن نثار کی طرح ہذہان بکنے لگتا ہے۔ اللہ مایوسی سے ہر ایک کو اپنی پناہ میں رکھے۔
ٓٓٓٓٓٓٓٓٓ--------------------------------------------------------------------
از قلم محمد ہارون الرشید

Tuesday, November 11, 2014

امریکہ میں اب ہر 50 واں شخص مسلمان ہورہا ہے

0 comments
میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکہ اور یورپ میں ہر سال لاکھوں لوگ مسلمان ہونے لگے، امریکہ میں اب ہر 50 واں شخص مسلمان ہورہا ہے_ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد امریکیوں اور یورپین کیلئے شدید پریشانی کا سبب بن گئی هے۔ اٹلی کے معروف میگزین "دی جرنل" نے انکشاف کیا ہے کہ 200 سال بعد تمام یورپ مسلمانوں کے زیر نگیں ہوگا۔ امریکہ اور یورپ میں نوجوانوں کی 29 فیصد تعداد ذهنی اور دلی سکون کیلئے اسلام کی جانب مائل هوچکی هے۔ یورپ میں اسلام اور مسلمانوں کی بڑھنے کی اصل وجه وهاں کے حکومتی اداروں اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے هیں جس کی بناء پر نوجوان اسلام کی جانب مائل هوئے هیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً پچاس ہزاربرطانوی هر سال مسلمان هورهے هیں_ 2001ءسے لےکر اب تک مسلمان هونے والوں کی تعداد 20 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہاں سراج صاحب کا اشارہ کون سی عالمی برادری کی طرف ہے؟؟؟

0 comments
امیر جماعت اسلامی محترم سراج الحق کی جانب سے کورٹ ردھا کشن میں زندہ جلائے جانے والے جوڑے کے لواحقین سے اظہار ہمدردی قابل تحسین عمل ہے۔ یقینا ظلم کی مذمت اور مظلوم کی حمایت ہر صورت میں ہونی چاہیے۔ اس میں رنگ، نسل، مذہب یا کسی اور طرح کی قدغن رکھنا انسانیت سے فروتر عمل ہے۔
جماعت اسلامی کے آفیشل پیج پر آنے والی رپورٹ کے مطابق سراج الحق صاحب نے اس موقعہ پر واقعہ کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف دو انسانوں نہیں بلکہ پوری انسانیت ، تہذیب اور اقدار کا قتل ہے جس سے پاکستان کی عالمی برادری میں بدنامی ہوئی۔
میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہاں سراج صاحب کا اشارہ کون سی عالمی برادری کی طرف ہے؟؟؟ وہ عالمی برادری جس کی نظر میں اسرائیل لاکھوں فلسطینیوں کا قتل کرنے کے باوجود نیک نام ہے؟؟ ہندوستان لاکھوں کشمیریوں، امریکہ افغانیوں اور عراقیوں کے قتل عام کے باوجود نیک نامی اور انسانیت کی معراج پر ہے؟؟ وہی عالمی برادری جسکے کانوں پر شرق و غرب میں بہتے خون مسلم کے باوجود جون تک نہیں رینگتی۔ لیکن دنیا کے کسی کونے میں کسی چرچ کی دیوار کو نقصان پہنچ جائے یا کسی غیر مسلم کو خراش آجائے تو تڑپ اٹھتی ہے؟؟
اگر امیر جماعت کا شارہ اسی عالمی برادری کی طرف ہے تو نہایت غلط بات ہے۔ جناب والا اس عالمی برادری میں پاکستان کو نیک نام کرنے کا ٹھیکہ تو جناب سید پرویز مشرف نے اٹھایا تھا۔ وہ وطن عزیز کی نظریاتی شناخت کو بدلنے کے باوجود اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ یہاں نیک نامی کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم اسلام کی تعلیمات کو ہی ترک کر کے اسے ایک نمائشی مذہب بنا دیں۔ جیسا کہ عیسائیوں نے خود کو بنا کر اپنے لئے نیک نامی خرید لی ہے۔
یہ بات تو پورے یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ سراج الحق صاحب کی فرمانے کا یہ مفہوم ہرگز نہیں ہو سکتا۔ لیکن کہنے کا مطلب یہ ہے کہ دینی تحریکوں کے قائدین کو الفاظ کے استعمال میں بہت محتاط ہونا چاہیے۔ دوسرے کسی واقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے اُس کے تمام پہلوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ پاکستان میں توہین مذہب کے قانون کے مجرموں کو جس انداز سے ماضی میں بچایا گیا ہے۔ وہ بھی ایسے کسی واقعے کی غیر معقول ہی سہی لیکن ایک وجہ ضرور ہو سکتی ہے۔ دوسرا یہ بات ابھی تک تحقیق طلب ہے کہ کیا واقعی توہین قران کا واقعہ ہوا تھا یا نہیں؟ ظلم کی مذمت کی آڑ میں مجرم کو بے گناہ بنا کر پیش کرنے اور توہین مذہب کے قانون کو ہدف تنقید بانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔
آخری گزارش یہ کہ ہم ظلم کی مذمت کسی نام نہاد عالمی برادری میں نیک نامی کے حصول کی خاطر نہیں کر رہے۔ بلکہ اس لئے کر رہے ہیں کہ یہ ہمارے آقا کی سنت ہے۔ آپ نے دور جہالیت میں عبدللہ بن جدعان کے گھر میں منعقد ہونے والے ظالم کی مخالفت اور مظلوم کی حمایت کے مشہور معاہدے حلف الفضول میں شرکت فرمائی تھی۔ اور زمانۂ رسالت میں اس کا تذکرہ کرتے ہوئے فخریہ فرمایا تھا کہ اس معاہدے کے بدلے مجھے سرخ رنگ کے اونٹ بھی دیے جاتے تو میں نہ لیتا اور اگر اب بھی ایسے کسی معاہدے کے لئے بلایا جائے تو میں اسے قبول کروں گا۔


بشکریہ مہتاب عزیز 

طالبان امریکہ نے بنائے، طالبان آئی ایس آئی نے بنائے، طالبان "ہم" نے بنائے،

0 comments
ایسے جملے مختلف لوگوں سے آپ نے کافی سنے ہونگے!
طالبان امریکہ نے بنائے، طالبان آئی ایس آئی نے بنائے، طالبان "ہم" نے بنائے، جہاد کشمیر پاکستان کی فوج اور حکومت کرا رہے ہیں، وغیرہ وغیرہ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر تو میرا خیال ہے جہادِ فلسطین بھی پاکستان اور امریکہ مل کر ہی لڑ رہے ہونگے، حماس کا تو بس نام ہے شاید؟ ہیں جی؟
کافی عرصہ آپ نے بھی ان جملوں کو سنا ہوگا، ٹاک شوز میں کَف اڑاتے تجزیہ نگاروں کو جملے پھینکتے دیکھا ہوگا، کہتے ہیں طالبان ہم نے بنائے اور آج ہم ہی بھگت رہے ہیں، ارے نادانوں تم طالبان کیا بناؤ گے، آج تک اپنا ملک نہ بنا سکے، امریکہ کی ایک فون کال پر ملک اس کو دینے والے، انڈیا کی ہاں میں ہاں ملانے والے ۔۔۔ یہ بنایئں گے طالبان۔۔۔ یہ چلا رہے ہیں جہادِ کشمیر۔۔۔۔
طالبان افغان ہیں، اپنی زمین کا دفاع کررہے ہیں، کسی کو اس کا کریڈٹ لینے کی ضرورت نہیں
کشمیری اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، جس دن ادھر سے لڑکا اور فنڈ جانا بند بھی ہوگیا، تب بھی وہ لڑتے رہیں گے۔۔ فضول کا کریڈٹ لینے کی اس کی بھی ضرورت نہیں
شاید جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ ہوسکتا ہے مصر اور ترکی میں بھی اس نسل کے لوگ جہادِ فلسطین پر خود کریڈٹ لینے کی کوشش کرتے ہوں۔
کریڈٹ لینا ہے تو پورا لو! جہاد کشمیر میں ساتھ دینا ہے تو کل ہی حکومتِ پاکستان کو انڈیا سے اعلان جنگ کردینا چاہئے
اگر نہیں کرسکتا۔۔تو پھر اس طرح کے دعوے نہیں کرنے چاہئے!
بشکریہ ۔۔ ابن سید


کوئی ایسی پوسٹ شیر نہ کریں جس میں کسی تصویر کے ساتھ نبوت کا دعویٰ لکھا ہو

0 comments


ہماری عوام جہالت کے اس اعلی مقام پر فائز ہے جس کا کوئی ثانی نہیں ، پتا نہیں کس نے انکو مشورہ دیا کہ فیس بک استعمال کیا کرو ، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہمارے مسلمان بھائی بہت سے محاذوں پر کام کر رہے ہیں . سیکولر سے لے کر ملحدوں تک ہر محاذ پر ان اسلام کے دشمنوں کو شکست ہو رہی ھے، اب ان ملحدوں نے زنانہ فیس بک اکاؤنٹ بنا کر ہمارے کچھ بھائیوں کی تصویروں پر نبوت کے دعوے لکھ کر فیس بک پر اپلوڈ کر دیۓ ہیں ، ہماری ٹھرکی عوام اور اسلام کے نام نہاد ٹھیکیدار جو سارا سارا دن سنی لیون اور بالی ووڈ کے ہر پیج پر پائے جاتے ، اچانک ان ٹھرکیوں کی "اسلامی غیرت " جاگ جاتی ہے اسلام کے محافظ بن کر ایسی پوسٹ پر گالیاں دینے کے بعد اسی کو شئر بھی کرتے پھر رھے ھیں ، کسی کو اتنی شرم نہیں آئی کہ آیا تصدیق ہی کر لے آیا یہ بات سچ بھی ہے کے نہیں ،زنانیوں کا فیس بک اکاؤنٹ ہونا چاہیے بے شک پروین کے پیچھے پرویز ہی کیوں نہ ہو ان کو کوئی سروکار نہیں ، لڑکی کے اکاؤنٹ سے کچھ بھی اپلوڈ کر دو یہ عوام ھمددرد بن کر لائک اور شئر بھی کرے گی ،ایسے خبیث النفسوں کو فیس بک استعمال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں. ان کی اس طرح بنا تصدیق کئے پوسٹ شئر کرنے کی وجہ سے ملحد ان پر ہنس رہے اور مذاق اڑا رہے ھیں اور اسلام کے ان "ہمدردوں" کی وجہ سے اسلام کا بھی مذاق بن رہا ہے ،اور ساتھ ساتھ جس مسلمان کے بارے میں جھوٹی پوسٹ بنائی گئی اس مسلمان کی جان کو بھی خطرے میں ڈال دیا جاتا ھے
اگر کسی غیرت مند کو عبد السلام فیصل اور حافظ بابر کے نام سے کوئی ایسی پوسٹ نظر آئے اس کو فوراً فیس بک کو رپورٹ کرے اور اپنی اپنی وال سے ڈیلیٹ کرے ، جو شئر کر رہا ہے اس کو بھی سمجھائے کہ ایسا کچھ نہیں، کسی نے کوئی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا یہ ہمارے دو بھائی بڑے عرصے پاکستان کے دیسی ملحد، سیکولر، قادیانی وغیرہ کے دانت کھٹے کر رہے اور ان کے ہر وہ اعتراض جو اسلام پر اٹھائے ان کا دانت شکن جواب دے رہے ہیں ،، کوئی فاسق و فاجر جب تم لوگوں کے پاس ایسی خبریں لائے تو ان خبروں کی تصدیق کرتے ہوۓ موت پڑتی ہے کیا ؟
بقلم مولوی روکڑا

Monday, November 10, 2014

کبھی بھی مایوس نہ ہوں

0 comments
ایک آدمی نے ایک بڑی کمپنی میں نوکری کے لیے اپلائی کیا ۔ مالک نے اس سے انٹرویو کیا ،اسکے بعد اسے کہا کہ تمہیں میں ملازمت دے رہا ہوں ۔ مجھے اپنا ای میل ایڈریس دو تاکہ باقی کی فارمیلٹی ۔کب کام پر آنا ہے وغیرہ وغیرہ اس میں بھیج دوں۔
"آدمی نے کہا سر میرے پاس نہ کمپيوٹر ہے اور نہ ہی میرا کوئی ای میل ایڈریس ہے "
ــ
میں معذرت خواہ ہوں یہ نوکری پھر آپکو نہیں مل سکتی ہے ۔ مالک نے جواب دیا..
وہ آدمی خاموشی سے اٹھا اور وہاں سے نکل آیا..مگر اب وہ سوچ رہا تھا کہ کیا کرے کیونکہ اب اسکے پاس بس 10 ڈالر تھے ۔ اسکے پاس کوئی چارہ نہ بچا تو مارکیٹ گیا اور دس ڈالر سے ٹماٹر خریدے اور گھر،گھر جا کر بیچنے لگا تین گھنٹوں میں اسنے 60 ڈالر کمالیے ۔ تو اسکو لگا کہ میں اس طرح گذارا کرسکتا ہوں ۔ وہ ٹماٹر بیچتا رہا اور اسکو منافع ہوتا رہا ۔ دوکان بنائی، پھر مارکیٹ بناڈالی کوئی پانچ سال کے بعد اسکی مارکیٹ اس علاقے میں سب سے بڑی مارکیٹ بن گی ۔۔
ایک دن اس نے اپنی فیملی کےلیےلائف انشورنس خریدنے کا سوچا ۔ انشورنس ایجنٹ سے سب طے ہوا آخر میں اس نے کہا، جناب مجھے اپنا ای میل دیں باقی کی تفصیل میں میل کر دوں گا آدمی نے کہا میرا ای میل نہیں ہے ایجنٹ نے حیران ہوکر کہا ۔۔ سر آپ اتنے کامیاب آدمی ہیں سوچیں اگر ای میل ایڈریس بھی ہوتا تو کتنے کامیاب ہوتے اور کہاں کے کہاں پہنچے ہوتے ؟
آدمی نے رک کر ذرا پیچھے مڑ کر سوچا اور کہا ہاں معلوم ہے ۔۔ "ایک آفس بوائے ہوتا."
ياد رکھيے۔ کبھی بھی مایوس نہ ہوں اگر كبهى ایک دروازہ کسی کے لیے نہیں کھلتا تو اسكى جگہ اللّٰہ تعالٰی کئی اور دوسرے دروازے کھول ديتا هے ، بس انسان اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہوئے محنت کرے تو يقيناً كاميابى ضرور ملتى هے.

بچوں کا خصوصی خیال رکھیئے

0 comments
ڈاکٹر یوسف علی صاحب کی دوسالہ بچی تو اللہ کے کرم سے واپس مل گئی لیکن چار پانچ دن بہت سوں کو جس کرب سے گذرنا پڑا اس میں والدین کے لۓ سبق ہے- اس عمر کے بچوں کو مسلسل نظر میں رکھیں- بعض اوقات معمولی بے احتیاطی بڑے حادثے کا باعث بنتی ہے- ایک والدہ کپڑے دھو رہی تھی اور اس کے پیچھے بچہ پانی کی بالٹی میں الٹا گرگیا تھا جس کا ماں تو تب پتہ چلا جب بہت دیر ہوچکی تھی—اکثر بچے بجلی کے سوئچ بورڈ کے ساتھ کھیلتے ہیں جس سے بچےحادثات کا شکار ہوجاتے ہیں- میرے ایک کلرک کا بچہ عین عید کے دن سیڑیوں سے پھسل کر سر کے بل گرگیااور وہیں فوت ہوگیا- اسی طرح ایک چھوٹا بچہ دوڑتے ہوۓ سڑک پار کررہا تھ کہ ایک تیز رفتار گاڑی کی زد میں آکر چل بسا- ایسے بہت سے واقعات ہم سنتے اور دیکھتےہیں لیکن پھر بھی وہی عدم احتیاط—غم کوئی بھی ہو برا ہوتاہے لیکن اولاد کا غم والدین کو جیتے جی مار دیتا ہے- اس لۓ والدین اپنے پھول جیسے بچوں کا خصوص خیال رکھیں-

بشکریہ کرم الٰہی