Monday, December 29, 2014

میڈیا ہمیں کیا بتانا چاہتا ہے اور کیوں بتانا چاہتا ہے؟

0 comments
آخریہ BBC میڈیا ہمیں کیا بتانا چاہتا ہے اور کیوں بتانا چاہتا ہے؟ آخر --ہمیں باقی دنیا کے تمام ممالک کو چھوڑکر صرف اور صرف ترکی کے متعلق ہی کیوں بتانا چاہتے ہیں؟اور آپ غور کیجیۓ کہ ہر خبر کا عنوان صرف اور صرف تیسرے درجے کے سنسنی زدہ اشتہار کیوں ہوتے ہیں۔
یہ لوک جانتے ہیں کہ ترکی اور پاکستان کے عوام آپس میں بے لوث محبت کرتے ہیں؛ ترکی والےتو جانتے ہیں مگرہم بھی جان کر جییں۔
Have a look at their third class headings in their Website
ترکی میں وائٹ ہاؤس سے شاندار صدارتی محل
ترکی کے ’بدتمیز‘ نوجوان کی رہائی
'ترکی کردوں کو خطرہ سمجھتا ہے
ترکی کےصدر کے حکم پر سگریٹ نوش کو جرمانہ
سلام ورلڈ، ترکی میں اسلامی فیس بک
ترکی کی تیز رفتار ٹرینیں ’خشک‘ ہو گئیں-
تحسین چنگوانی بلوچ

گھر میں آگ لگی ہے اور چلے دوسروں کے گھر چراغ جلانے . بی بی سی اردو

0 comments
..
آج کل بی بی سی پاکستان میں کافی متحرک ہے. اگر آپ بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر جائيں تو بہت سی سٹوریاں پڑھنے کو ملتی ہیں، زیادہ تر سوفٹ انداز میں لیکن منفی، کچھ دن پہلے ایک خبر پڑھی کہ پاکستان کے سرکاری دفاتر خواتین کیلیے’غیرمحفوظ ہیں، اعدادوشمار جو بتائے گئے کہ چار برسوں میں جنسی ہراس کے تین ہزار سے زیادہ کیس مختلف اداروں کی اندرونی انکوائری کمیٹیوں کے پاس جا چکے ہیں۔ جن اداروں کی فہرست نشر کی گئی ان اداروں میں سرکاری دفاتر، یونیورسٹیاں، کثیرالقومی ادارے، اور ہسپتال شامل ہیں۔ خیر اچھے برے لوگ پوری دنیا میں پائے جاتے ہیں، میں اس رپورٹ کو ردبھی نہیں کر رہا، ہو سکتا ہے ایسا ہوا ہو، یا ہوتا ہو گا، پاکستان کی آبادی کی 22 کروڑ کے لگ بھگ ہے. اور پاکستان کے سرکاری دفاتر میں ویسے اضافی ملازم بھی ملازمت کر رہے ہوتے ہیں، لیکن بی بی سی جس طرح اس کو مین اسٹریم میڈیا کی سٹوری بنا کر پیش کرتا ہے. اس پر تعجب کی بات ہے، اس سٹوری کا ٹارگٹنگ پائنٹ تھا " خواتین ’غیرمحفوظ" یعنی پاکستان میں خواتین کسی بھی لحاظ سے غیر محفوظ ہیں.
بہرحال انگلینڈ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا بائیسواں ملک ہے جبکہ پاکستان چٹھا ، تھوڑے اعدادوشمار میں انگلینڈ کے بتا دیتا ہوں، انگلینڈ اور ویلز میں تقریبا ہر سال اوسط 85،000 خواتین عصمت دری کا شکار ہوتی ہیں. ہر سال 400،000 سے زائد خواتین کو جنسی طور پرہراساں کیا جاتا ہے، ہر سال اوسط ہر پانچ عورتوں میں سے ایک کو 16 سال کی عمرسے جنسی تشدد سہنے کا تجربہ ہوتا ہے ، جہاں کم عمری میں بچے جنسی سرگرمیوں میں پیش پیش ، اور ناجائز بچے پیدا کر کے عالمی ریکارڈ بنا رہے ہے ، گھر میں آگ لگی ہے اور چلے دوسروں کے گھر چراغ جلانے، بی بی سی اور انگلینڈ کے وزیراعظم کو پاکستان کی ہی فکر کیوں لاحق ہے؟ کوئی دستاویزی فلم انگلینڈ کی عورتوں پر بھی تو بنائے ، ان کو بھی تو مظلوم پیش کرو . اور تو اورانگلینڈ کے جامعہ مدرسہ کیمبرج یونیورسٹی میں 70 کے قریب انڈرگریجویٹ سٹوڈنٹس پر جنسی طور پر حملے کیے گئے ، 2000سے زیادہ سٹوڈنٹ نے یونیورسٹی کی خواتین گروپ اور یونیورسٹی کے اخبار، Varsity، کے سروے جواب میں جنسی طور پر ہراساں ہونے کی اپنی داستان سنائی . کسی کو جنسی طور پر جسم کو چھونے کا سامنا کرنا پڑا تو کسی کو unwelcome ٹچ کا ،کسی کو پنچنگ کا تو کسی کو جسمانی تشدد کا ، سروے میں جواب دہندگان دو تہائی خواتین اور ایک تہائی لڑکے تھے. یونیورسٹی میں جنسی استحصال اپنے عروج پر ہے ... ہر نئے آنے والے سٹوڈنٹ کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے ، سمجھ لو ویلکم ٹیسٹ یا انٹری ٹیسٹ ہے.
میں یہ نہیں که رہا پاکستان میں رہنے والا ہر مرد دودھ کا دھلا ہے ، میں یہ بھی نہیں که رہا پاکستان میں عورتوں کو جنسی استحصال کا سامنا نہیں ہے ، لیکن جسطرح میڈیا پاکستان کو ٹوسٹنگ انداز میں پیش کر رہا ہے، اور سوفٹ انداز میں پاکستان اور اسلام کو ٹارگٹ کر رہا ہے اور مین اسٹریم میڈیا میں یہ تاثر دینے میں کوشاں ہے کہ پاکستان کی عورتیں لاچار، بیچاری ، بے بس ، زنجیروں میں جکڑی ہوئی، سپریشن کا شکار وغیرہ یہ سراسر بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندا ہے. اور اگر پاکستان کے ریموٹ ایریا میں جب کسی جنسی استحصال کا واقع وقوع پذیر ہوتا ہے.تو پھر یہی نام نہاد ماڈرن گھر میں لگی آگ کا تو ذکر تو نہیں کرتے لیکن پاکستان میں سرورے شروع کر دیتے ہیں. ذرائع ابلاغ کی ہیرا پھیری سے جو امیج پاکستان اور اسلام کا ڈیمیج کرنے کوشش کی جا رہی ہے بحیثت پاکستانی اور مسلمان ہونے کے ناطے اپنی آنکھیں کھلی رکھیں ، اور مغربی میڈیا اور پاکستان کے میڈیا کی ہر بات اور ہر سروے پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ کرنا چھوڑ دیں ، ان کا مقصد ہی قوم کا مورال تباہ کرنا ہے ، اور جس قوم کا مورال تباہ ہو جاتا وہ غلام بن جاتی ہے ، اب تک پاکستان کو غلام اسلئے نہیں بنایا جا سکا کیوں کہ قوم کا مورال آج بھی گرا نہیں ، اتنے تناؤ کے باوجود عوام اپنی زندگی اپنے طریقہ سے جی رہی ہے ، الله ہمارے پاکستان کو زندہ آباد رکھے ،آمین !

مرزائیوں کا مظلومیت فارمولہ ( Victim-hood Formula)

0 comments
جب بھی کوئی مولوی میڈیا کے پلیٹ فارم پر مرزائیوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کرتا ہے تو مرزائی اپنا Victim-hood Formula اپناتے ہووے اپنے ہی کسی عام مرزائی کو مروا کر واویلہ کرنا شروع کر دیتے ہے ،کچھ ایسا ہی ہوا جب ایک دو دن پہلے ایک قادیانی کو کسی نے قتل کر دیا جس کو ایک ٹی وی پروگرام کے مولوی سے منسوب کر کے شور مچایا جا رہا ہے . ابھی تک کوئی انویسٹیگیشن رپورٹ آئی نہیں اور مرزائیوں نے طے شدہ امر سے کمر کس لی ، ہزاروں کی تعداد میں ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے پاکستان لیکن جب کوئی مرزائی مرتا ہے تو صرف مرزائی عقیدے سے ہی منسوب کیوں کیا جاتا ہے ؟
کتنی عجیب بات ہے مرزائی ٹولے کے مربی پاکستان میں دندناتے پھرتے ہیں، پاکستان بزنس کرنے والے مرزائی ، بیوروکریٹ، پاکستانی اداروں میں اعلی عہدوں پر فائز کسی بھی مرزائی کو کوئی خطرہ نہیں، لیکن اگر خطرہ ہے تو ایک عام قادیانی کو ؟ مرزائی ٹولہ پہلے بھی Victim Hood جیسے فارمولے اپنا چکی ہے، اپنے ہی لوگوں کو مروا کر دنیا کے سامنے مظلوم ظاہر کر کے مغربی ملکوں میں "سیاسی پناہ" کی دکانداری کو خوب چلائے ہوۓ ہیں. اور اس سیاسی پناہ کے بزنس سے مرزائی ٹولہ ٹھیک ٹھاک مادی مفادات حاصل کرتا ہے. اس طرح نہ صرف پاکستان کو بدنام کرتے ہیں بلکہ پورے اہل اسلام کو بھی ، مرزائی وطن کے غدار تو ھیں ہی... لیکن اسلام کے بھی غدار ہیں..جس طرح سور کے گوشت پر حلال لکھ دینے سے سور حلال نہیں ہو جاتا اسی طرح مرزائیت پر اسلام کا لیبل لگا دینے سے مرزائیت اسلام نہیں ہو جاتی۔
بقلم مولوی روکڑا

Wednesday, December 10, 2014

مایوس پختون اور بلوچ نوجوان

0 comments

اپنے تیئے بہتیرا کوشش کیا ۔کہ اس کو مطمئن کرسکوں۔ مگر کیسے کرتا جو وہ کسی اور کو نہ سنتا نہ مانتا۔ وہ اپنے دھن میں مست وہی کچھ بولتا جارہا تھا۔ جو اس کے ذہین میں آرہا تھا۔ میرے سینے پر پاکستان کا بیج دیکھ کے تو وہ اور سیخ پا ہوگیا۔ جلد ہی مجھے خفیہ والوں کا اہلکار سمجھ کر وہ گفت و شنید کیا۔ کہ اسے سنتے میں حیران بھی ہورہاتھا اور پریشان بھی۔اس کا نام نجیب اللہ ہے اور ملاکنڈ ایجنسی کا رہایشی،اسلام آباد کے معروف سرکاری جامعہ سے بایئوٹیکنالوجی میں ایم ایس سی کیا ہوا ہے اور آجکل اپنے علاقے کے ایک پرایئوٹ سکول میں چند ہزار کے عوض معلمی کے فرایض سرانجام دے رہا ہے۔ نجیب اللہ نے بغیر لیت ولعل دہشتگردی کے خلاف برسرپیکار فوج کو برابھلا کہنا شروع کیا۔ بھرپور نفرت اور غصے کے حالت میں کہا۔’ یہ پینجابی لوگ اور فوج صرف پختون کو ختم کرنے آیا ہے۔ ہمارے پختون کو سب سے زیادہ نقصان پنجاب اور فوج نے پہنچایا۔‘ اس کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کیلے عرض کیا کہ دیکھو بھائی پاکستان ہم سب کا ہے صرف پنجاب کا نہیں اگر کچھ اونچ نیچ ہے تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ خدانخواستہ پنجاب یا فوج پختون دشمن ہے۔ نجیب اللہ جو طالبان کا بھی شدید مخالف تھا۔ حالیہ آپریشن میں فوج کے ظلم پر مبنی واقعے پر واقعہ بیان کرتا رہا۔ اور کچھ لمحوں بعد مجھے محسوس ہوا۔ کہ شاید موصوف کیساتھ زہنی طور پر کچھ المیہ ضرور ہوا ہے۔ تفتیش کیلے پوچھا۔ تو ناموزوں قہقہہ لگاتے ہویے۔ کہا۔’ کیا آپ یہاں نہیں رہتے۔روز آتے جاتے آپ فوج کے ناکوں پر کھڑے بندوق برداروں کو نہیں دیکھتے جو ہمیں ایسے گھورتے ہیں جیسے ہم پاکستانی نہیں۔ کیا یہئ عذاب کم ہے کہ روزانہ آپکو یہ احساس دلایا جایے کہ یہ ملک صرف فوج کا ہے‘۔عرض کیا جناب یہ فوج تو ہمارے حفاظت کیلے ہے۔ اس دفعہ وہ سیدھے ہوکے مزید غصے میں بولے ۔’ اچھا اگر فوج کا کام حفاظت کرنا ہے تو فضل اللہ دوران کرفیو سوات سے افغانستان کیسے پہنچا،عافیہ کو امریکہ کیوں لے گئی اور ہمارے حجروں،بازاروں،مسجد
وں اور سکولوں میں دھماکوں کے باوجود یہ اسلام آباد میں جاری دھرنوں میں پٹٓاخہ پٹا۔ نہ پنجاب میں کچھ ہوا۔‘ اور بالاخر مغرب کی اذان شروع ہوگئی تو میں نجیب اللہ سے رخصت لیکر مسجد کے طرف جانکلا۔مگر اس سوچ کیساتھ کے ہمارے پڑھے لکھے نوجواں بھی اب اگر اس طرح مایوس ہوگئے تو اس نظام کا کیا ہوگا۔ ۔ ۔ ۔ اور اس تصور سے مجھے ڈرآنے لگا۔کہ ماہ تو دسمبر کا ہے۔ اس صاحب سے ملیئے یہ صوبہ بلوچستان کے اچکزئی قبیلے کا چشم وچراغ ہے۔ سرکاری نوکر ہے اور آجکل جامعہ پشاور میں پشتو ادب میں پی ایچ ڈی کا طالب علم ہے۔ جامعہ کے پشتو اکیڈمی کے قریب ہی ملا۔اور اس دن بھی میرے سینے ہر سبز ہلالی پرچم والا بیج لگا ہوا تھا۔ کیونکہ یہ میرا شوق بھی ہے اور جنون بھی۔کہ پاکستان سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔ بلوچستان کے اس نوجوان نے جس شد ومد سے پاکستان اور فوج کے خلاف اپنے خیالات کا اظہار کیا تو عرض کیا کہ جناب اگر پاکستان اتنا برا ملک ہے۔تو پھر اس ملک میں نوکری کرکے آپ جو رزق کما رہے ہیں وہ؟؟؟؟؟ تو بلا خوف وخطر کہنے لگا۔ کہ میں بھی منافقت کررہا ہوں۔ کہ رزق سے مجبوری ہے۔ مگر میں اسلیے بھی کررہا ہوں۔کہ پاکستان ہمارے زمین پر قابض ہےیہ پنجابیوں کا وطن ہے۔ یہ فوج پاکستان کا نہیں بلکہ پنجاب ہے اور اس کو ہمارے وطن سے نکلنا چایئے۔ اچکزئی قبیلے کے اس تعلیم یافتہ نوجوان کے باتیں سن کے میرا تو سرچکرا گیا۔ اور کیوں نہ ہوتا۔کہ اس قسم کے خیالات صرف نجیب اللہ اور اس اچکزئی نوجوان کے نہیں بلکہ جہاں جہاں فوج نے آپریشن کیا ہے وہاں وہ کو سیکنڑوں رونگٹے کھڑے کرنے والے داستانیں ملینگے۔اس سے برعکس کے ان میں صداقت کتنی ہے۔ مگر ان داستانوں کے نتیجے میں سوچ جنم لے چکا ہے۔ وہ اب بلوچستان سے خیبرپختونخوا تک جگہ جگہ پھیلتا ہوا نظر آرہاہے۔ ان کے دیگر وجوہات میں سول حکومت کی مسلسل عدم دلچسپی بھی کار فرماہے۔ کیونکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں فوجی آپریشن شروع ہے۔مگر نہ تو ابھی تک دہشتگردی ختم ہوسکی اور نہ وہاں کے لوگوں اپنے حقوق مل سکے۔ لہذا معمولی سے تحریک پر وہ لوگ اپنے حقوق بزور لینے کیلئے اسلحہ اٹھاتے ہیں۔ بعینہ وہ حکمت عملی ملاکنڈ ڈویژن میں بھی کارفرماہے۔ کیونکہ بقول حکومت اگر سوات میں امن آچکا ہے۔ تو فوجی جوانوں کو واپس بیرکوں میں ہونا چایئے۔ کیونکہ ناکوں پر موجودگی سمیت روز روز لمحہ بہ لمحہ تلاشی نے عوام کو ذہنی طور پر بد ظن کیا ہے جو ملک کے سلامتی کیلئے اچھا شگون نہیں۔ لہذا بنیادی حقوق کی دستیابی سمیت خاصکر نوجواں طبقے کیلئے باعزت روزگار کے مواقع پیدا کیاجائے۔ تاکہ پھر کوئی سر پھیرا بنگالیوں کہ طرح یہ نعرہ نہ لگایے۔کہ کراچی کے سڑوکوں سے پٹ سن کے خوشبو آرہی ہے۔ دسبر میں سقوط ڈھاکہ نے یادیں تازہ کی تو آج کے پاکستانی میں بڑھتی ہوئی نوجوان مایوسی جو مرکز گریز اور علاقائیت کی طرف بڑھتی جارہئ ہے کا سدباب انتہائی لازمی ہے۔

Saturday, December 6, 2014

کراچی کو بھیڑیوں کے حوالے کرنے کے نتائج

0 comments
کراچی شہر کی بلدیہ کے مئیر عبدالستار افغانی ( جماعت اسلامی ) نے جب وفاقی حکومت سے موٹر وہیکل ٹکس میں سے کراچی کا حصّہ طلب کیا ، وفاقی حکومت کے پیٹ میں شدید مروڑ اٹھا -- ان کی منتخب بلدیہ جو پورے پاکستان کی سب سے بڑی بلدیہ تھی ، ایک آرڈ یننس کے ذریعے ختم کردی گیی .

پھر مارشل لا کی حکومت میں نواز شریف اور غوث علی شاہ کی مدد سے مہاجر کارڈ کے ذریعے اسلامی سوچ رکھنے والے شہر کو لبرل شناخت دینے کے لئے مہاجر قومی موومنٹ کے غبا رے میں ہوا بھری گیی . 
آہستہ آہستہ کراچی ، حیدرآباد ، میر پور خاص اور سکھر میں خونریزی ، فساد اور غنڈہ گردی کا جن چھوڑا گیا - اس " جن " نے مہاجر علاقوں میں اپنی علیحدہ نجی حکومت قائم کرلی -
فاشسزم ، دہشت گردی کا عفریت پورے شہر پر راج کرنے لگا - تعلیم ، صحت ، بلدیہ ، ترقیاتی کام ، پلا ننگ اور ڈوولپمینٹ کے محکمے تباہ و برباد کردئیے گئے 
تیس سالوں میں کوئی نیا کالج اس شہر میں نہیں کھولا گیا، سرکاری ا سکولوں میں کوئی ایک اسکول کا اضافہ نہیں ہوا - سرکاری امداد وزیر تعلیم کی دسترس میں رہی . شہر کی لائبریریز کو منی پلکس سینما گھروں میں تبدیل کردیا گیا - شا پنگ سنٹرز میں بدل دیا گیا - 
اس درمیاں جماعت اسلامی نے نعمت الله خان کو کسی نہ کسی طرح دوبارہ منتخب کروایا -- ترقیاتی کاموں ، پل ، شاہراہوں ، پارکس ، خواتین پارکس ، اتوار بازار ( بچت بازار ) ، رعا ئیی نرخ پر اشیا سودا سلف ، اور امور پر فوری توجہ دی گیی ، 
پھر پرویز مشرف کے دور میں جماعت اسلامی دوبارہ زیر عتاب آگیی ، جعلی بیلٹ باکس بھروائے گیے ، فوج اور انتظامیہ نے کھلی دھاندلی کا مظاہرہ کیا 
لسانی بنیادوں پر شہر کو تقسیم کیا گیا ، پٹھان ، مہاجر ، سندھی ، یہاں تک کہ بلوچ لسانیت پر بھی علاقے تقسیم کردے گیے 

اسلحے کر ٹرکوں اور سیکٹر آفسز میں کوئی دوری نہ رہی - پورٹ ٹرسٹ کی مرکزی بلڈنگ کو دو مرتبہ نذر آتش کیا گیا -- ظاہر ہے اس کی وجہہ صرف یہ تھی کہ بدعنوانی کا کوئی ثبوت موجود نہ رہے .
بولٹن مارکیٹ ، پلاسٹک مارکیٹ کی آتشزدگی ،سانحہ شیر شاہ ، سانحہ بلدیہ ٹاؤن ، اور اسی نوعیت کے بیشمار واقیعات نے شہر کو مفلوج کر کے رکھ دیا .
بھتہ گیری ، پلا ٹ مافیہ ، لینڈ گریبرز ، چائنا کٹنگ ، اور بہت کچھ اس شہر کی پہچان بن گیا -
چائلڈ آرمی - بچوں کی عسکری طرز کی چھوٹی چھوٹی ٹولیاں بنائی گئیں -- اس قسم کا کام افریقی ممالک میں تیس سالوں سے جاری ہے . یہی کام کراچی میں سیکٹر آ فسوں میں شروع کیا گیا --- جو اب ایک تناور درخت بن چکا ہے- مذھبی شخصیات ، علمائے کرام ، تاجر ، ڈاکٹر کوئی بھی ان کے حملوں سے محفوظ نہیں رہا -- 
دہشت گردوں کے کچھ گروپ پکڑے بھی گئے جن کا کہنا ہے کہ ان وارداتوں میں ہمارا ہاتھ ہے ، پے رول پر رھا ہوتے رہے ، پھر غیر ممالک فرار بھی کروادے گئے ... 
میرا شہر جو کبھی محبتوں کا امین شہر تھا ، غریب پرور شہر تھا -- آج خود " غریب " اور مفلسی کی تصویر بن گیا ہے .
زبوں حال روشنیوں کے شہر کو کون سنبھالا دے گا ؟
کرچی کرچی ،کراچی کی ہر گلی میں جا بجا شہدا کے کتبے ، کھمبے ، مزار ، اور یادگاریں دکھائی دیتی ہیں 
اسلم لمبو ، رفیق ٹی ٹی ، بابو ٹینشن ، مادھوری ، طارق استرا ، جیرا عرف بلیڈ .......... اور نہ جانے کتنے بیگناہ صرف رنگ برنگے جھنڈوں اور کھمبوں سے پہچانے جاتے ہیں 
ان کا خون کس کی گردن پر ہے ؟
ہزاروں وہ جو اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے پر مار دیے گئے ؟؟ ان کی گنتی کون کرے گا ؟
لے دے کے جماعت اسلامی رہ گئی ہے ، وہ پہلے بھی موجود تھی ، اب بھی موجود ہے .
اس جماعت نے ہر وقت اپنا موقف دوٹوک رکھا ، شہا دتیں بھی دیں ، قربانیوں کی تاریخ بھی رقم کی . حقیقی نمائندہ ہونے کا ثبوت بارہا فراہم کیا -- آج بھی اگر منصفانہ اتتخاب ہوں اور" پولنگ کے بعد بیلٹ باکس " کا تحفظ یقینی بنایا جائے تو یہ شہر ایک بار پھر " عروس البلاد " ہوسکتا 
ہے
( نجیب ایوبی )

Wednesday, December 3, 2014

پنجاب پولیس زندہ باد

0 comments
شاید یہ بھی کوئی امریکی سازش ہو، یا لگتا ہے عمران خان ہی نے پیسے دیئے ہو۔ اب ان نابیناوں کو آخر کس نے کہاتھا، کہ آپ بھی پاکستانی ہیں۔ یہاں بیناوں کو کیا خاک مل رہا ہے ۔ جو آپ بھی حق ماننے نکلے۔ چلو خیر ہے ۔ حق نہیں سہی لاٹھیاں تو کھا گئے۔ آہ کیا کہیے اس کو وزیراعظم اور وزیر اعلی پنجاب دونوں بیرون وطن۔ پیچھے رہیے ۔گلو بٹ جنہوں نے آج پھر تاریخ دھرائی،اور نابیناوں کی کردی پٹائی۔ بظاہر تو ایس لگتا ہے کہ تین دفعہ مرکز اور چھٹی مرتبہ پنجاب میں حکومت کرتے کرتے شریفین کی حکومت اب بادشاہت بنتی جارہی ہیں۔پنجاب پولیس نے نابیناوں پر تشدد کرکے پتہ نہیں کونسی جمہوریت اور حکومت کی خدمت کی ۔ شکر ہے یہ کام کس مذہبی تنطیم کے لوگوں نے نہیں کیا ورنہ اب تک اپنے پرائے سب برس پرتے کہ یہ کیسا اسلام ہے ۔ مگر اب کوئی نہیں پوچھتا یہ کیسی جمہوریت ہے ؟؟؟

ہمیں وعدہ کرتے ہوئے کبھی احساس نہیں ہوتا .............

0 comments
مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ 
انہیں داڑھی رکھنی ہو تو سیرت یاد آتی ہے‘ شلوار یا پاجامے کے پائنچے ٹخنوں سے اوپر کرنے ہوں تو سیرت یاد آتی ہے‘ ہاتھ سے کھانا کھانا ہو تو سیرت یاد آتی ہی
لیکن
انہیں جب کسی کو معاف کرنا ہو تو پھر یاد نہیں آتا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کتنے معاف کرنے والے تھے‘ انہیں پھر صرف یہ یاد آتا ہے کہ وہ کتنے طاقت ور اور دوسرا کتنا کمزور ہے۔ وہ کتنے غصہ ور اور دوسرا کتنا برفانی مزاج رکھتا ہے۔ وہ کتنے برتر اور دوسرا کتنا حقیر ہے
مسلمان جب تجارت کرتے ہیں تو انہیں یاد نہیں آتا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیسے تاجر تھے۔ انہیں اس وقت صرف یہ یاد رہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ مال کیسے کمایا جائے۔
مسلمان جب اپنی بیویوں سے معاملہ کرتے ہیں تو انہیں یاد نہیں رہتا کہ اس سلسلے میں سیرت کی مثالیں کیا بتاتی ہیں‘ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امہات المومنین سے کیسی محبت کرنے والے‘ ان کی دل جوئی کرنے والے اور ان کے گھریلو کاموں میں ان کا کیسا ہاتھ بٹانے والے تھے۔ مسلمانوں کو اپنی بیویوں کے حوالے سے کچھ یاد رہتا ہے تو بس یہ کہ عورتیں ان کی پاوں کی جوتی ہیں اور ان کا کام دن رات خدمت کرنے کے سوا کچھ نہیں
ہمیں کبھی یاد نہیں آتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے پڑوسی تھے۔
ہمیں وعدہ کرتے ہوئے کبھی احساس نہیں ہوتا کہ آپ کس حد تک ایفائے عہد کے پابند تھے۔
(انتخاب از شاہنواز فاروقی)

توہین اور جنید جمشید

0 comments
ایک مرتبہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سر میں درد ہو رہا تھا ۔ آپ نے فرمایا:’’ اے عائشہ! تم میرے سامنے مرتیں تو مَیں تم کو اپنے ہاتھ سے غسل دیتا اور اپنے ہاتھ سے تمہاری تجہیز و تکفین کرتا اور تمہارے لیے دعائے خیر کرتا۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ سُن کر بڑے ناز و انداز سے عرض کیا کہ :’’ یارسول اللہ ! آپ میری موت مناتے ہیں اگر ایسا ہو جائے تو آپ اسی حجرے میں نئی بیوی لا کر رکھیں ۔
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا یہ جواب سنا تو خوب تبسم فرمایا۔ (بخاری و مسلم شریف)
اس واقعے کو پڑہیں اور پھر جنید جمشید کا ڈرامہ دیکھیں یہ میاں بیوی کا ایک آپس کا انداز گفتگو ہے جس کو ایسے تحقیرانہ انداز میں بیان کرنا ۔۔ ہم جب کلاس یا درس لینے بھی جاتے ہیں تو احادیث بیان کرتے ہوئے اتنی احتیاط کرتے ہیں کہ ساتھ حدیث کا مفہوم کہتے ہیں کہ کہیں کوئی بات اپنی طرف سے نہ شامل ہوجائے ۔۔ کجا یہ کہ اس کا ڈارمہ کیا جائے اپنی طرف سے اس میں ڈرامہ کر کے دکھایا جائے اور یہ کہ وہ اٹینشن چاہتی تھی اس لیے سر پر پٹہ باندھ کے لیٹ جاتی تھی ۔۔۔ گویا مکر کرتی تھیں !!!! 
اور یہ کہ وہ سن کر ایسے اٹھ کے بیٹھیں اور سر سے کپڑا اٹھا کہ پھینکا اور یہ کہا ۔۔۔۔۔ اور پھر یہ کہنا کہ اس سے یہ ثابت ہوا کہ عورت نبی
کی صحبت میں بھی نہیں سدھر سکتی یا بدل سکتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انا للہ ۔۔۔ یہ کون ہیں ایسے الفاظ کہنے والے وہ جن کی پاکی ثابت کرنے کے لیے کسی انسان کی گواہی نہیں بلکہ اللہ ربی نے خود اٹھارہ آیات نازل کیں ۔۔۔۔۔ اب یہ بتائینگے کہ وہ نبی کی صحبت میں بھی نہیں بدلی ۔۔۔!!!
صرف یہ سوچا جائے کہ کیا کوئی اس طرح مجمع لگا کر کر یہ ایسے ہی انداز میں اپنی ماں کے لیے یہ سب کہہ سکتا ہے اور ایسے ہی قہقہے لگوا سکتا ہے ؟؟؟؟؟؟ 
اگر نہیں تو وہ امت کی ماں ہیں جن کا نام جبریل امین بھی ادب سے لیا کرتے تھے ۔۔ صرف اونچا باجامہ اور داڑھی رکھ لینے سے کوئی اس قابل نہیں ہوجاتا کہ وہ اہل بیت کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرے ۔۔۔۔۔!!
اگر ہمیں اس میں اپنی ماں کے لیے تو ہتک نظر اآتی ہے مگر امت کی ماں کے لیے تو یہ ہمارے ایمان کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے ۔۔!!
اس کہ باوجود جو لوگ اس کو فتنہ انگیز بنا رہے ہیں وہ بھی شدید غلط کر رہے ہیں. مگرہم سمجھتے ہیں جنید جمشید کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اور ان کی توبہ کو سامنے رکھتے ہوئے سزا ضرور ملنی چاہیے. تاکہ جو لوگ اس کو آڑ لے کر توہین رسالت ص و صحابہ و اہل بیت رض کے قانون کو ختم کرنا چاہتے ہیں ان کی مکروہ خواھشات کا خاتمہ بھی ہو جاۓ.


اندازبیاں اور

0 comments
مولانا طارق جمیل صاحب کے دعوت و تبلیغ میں ایک معروف نام ہے، ان کے بیان میں لوگوں کے لیۓ بے پناہ تاثرکا سامان ہوا کرتا ہے- لوگوں کو دین کی طرف بلانے کی ان کی کوششیں قابل ستائش ہیں- لیکن ان کے اندازمیں فرط و غلو کا عنصر غالب رہتا ہے- یہی رنگ ان سے متاثرجنید جمشید کے بیانات میں بھی نمایاں ہوتا ہے - 
ہمارے مبلغین اورواعظین بعض اوقات غلو اورفرط جذبات میں لغزش کرجاتے ہیں، یہ رویہ گناہ و گمراہی کا سبب بننے کے علاوہ تنازعات کو بھی جنم دیتا ہے- اس سلسلے میں گذارش یہی کی جاسکتی ہے کہ حساس موضوعات پر گفتگو میں علمی احتیاط ، انصاف اور توازن کا لحاظ رکھیں- مبالغہ آرائی کے اندازمیں یا بلا تحقیق بات کرنا علمی دیانت داری کے بھی خلاف ہے اور کئی حوالوں سے نقصان دہ فعل بھی ہے- اس سے حد درجہ اجتناب کی ضرورت ہے-
Karam Elahi