پبلک جاگ گئی ہے
پبلک خان کی آواز پر لبیک کہ رہی ہے
میں بھی آج خان کی آوز پر لبیک کہتا ہوں
۔
۔
۔
۔
۔
۔
ہیرا اسلام آباد والے کی بات نہیں کر رہا جناب میں اپنے پڑوسی مسٹر خان کی بات کر رہا ہوں۔پوری گلی ناچ گانے سے نہیں چوری کے ڈر سے جاگ گئی ہے ۔
تفصیلات کچہ یوں ہے کہ گلی کا ہر ہر بچہ خد کو ابنے ابن قاسم سمجہ کر اپنی ماں بھنوں کے زیور کی حفاظت کے لیۓ گلوکوز پلائی دیوار بن گیا ہے۔سب نے اپنی اپنی کشتیاں جلا دی ہیں اور سیٹیاں خرید لی ہیں جبکہ یہ کام بھی ہمارے والد محترم کی مہربانی سے ہی عمل میں آیا ہے۔گلی فل ٹو روشن ہے جیسے شادی کے پہلے دن دلہا کا چہرا اور گھر میں لوگوں کے منہ پر ایسا سنناٹا ہے جیسا شادی کے بعد پہلی دفع بیوی کے پیٹنے پر ہوتا ہے۔گلی کے بڑے سے بڑے کنجوس نے بھی گھر کے باھر لائیٹ لگوا دی ہے یہ نیک فریضہ میں بھی ابھی ابھی انجام دے کر آیا ہوں۔عالم یہ ہے رات میں سیٹیوں کا شور سونے نہیں دےتا اور جب غلظی سے کمرے سے باھر سر نکالو تو
چار ڈنڈے بنا دیکہے پر کہے مارنے کو دوڑتے ہیں۔ایسے عالم میں جب فیس بک کہولو تو اف اللہ سینسر کی پابندی کی وجہ سے آپ کو وہ سب بتا نہیں سکتا کیا کیا لوگ میسیج کر رہے ہو تے ہیں باس آپ اتنا سمجہ لیں کے فل ٹوووونٹ ٹووونٹ۔دوسری طرف نیلو فر نے سر پر درد کر رکہا ہے وہ نہیں ہمارے گلی کی چہٹی گڑیا نیلو فر پتہ نہیں اس کے باپ کے دل میں کیا آیا اور اس نے اسے گنجہ کر دیا بس تب سے منہ کہا کہ کہلا ہے بس کہانے کے ٹائیم پر بند ہوتا ہے یا جب ٹووی پر سی آئی ڈی آ رہا ہو لیکن سی آئی ڈی بھی وبال جان بن گیا ہے گلی کا ہر ہر لڑکا خد کو انسپکٹر دیا سمجہ کر ہر آنے جانے والے کے منہ کا دروازہ توڑنے کہ درپے ہے۔اور گہر والے رات بھر جگانے کے درپے یہ اللہ یہ جو عزاب پہلے تہے کم تہے کہ اب تونے یہ سیڑہی والے چور بھی بھیج دۓ
اللہ بچاۓ مجہ بچے پر اتنے ظلم










