Friday, October 31, 2014

تبدیلی آ نہیں رہی آ چکی ہے

0 comments

پبلک جاگ گئی ہے
پبلک خان کی آواز پر لبیک کہ رہی ہے
میں بھی آج خان کی آوز پر لبیک کہتا ہوں 
۔
۔
۔
۔
۔
۔
ہیرا اسلام آباد والے کی بات نہیں کر رہا جناب میں اپنے پڑوسی مسٹر خان کی بات کر رہا ہوں۔پوری گلی ناچ گانے سے نہیں چوری کے ڈر سے جاگ گئی ہے ۔
تفصیلات کچہ یوں ہے کہ گلی کا ہر ہر بچہ خد کو ابنے ابن قاسم سمجہ کر اپنی ماں بھنوں کے زیور کی حفاظت کے لی
ۓ گلوکوز پلائی دیوار بن گیا ہے۔سب نے اپنی اپنی کشتیاں جلا دی ہیں اور سیٹیاں خرید لی ہیں جبکہ یہ کام بھی ہمارے والد محترم کی مہربانی سے ہی عمل میں آیا ہے۔گلی فل ٹو روشن ہے جیسے شادی کے پہلے دن دلہا کا چہرا اور گھر میں لوگوں کے منہ پر ایسا سنناٹا ہے جیسا شادی کے بعد پہلی دفع بیوی کے پیٹنے پر ہوتا ہے۔گلی کے بڑے سے بڑے کنجوس نے بھی گھر کے باھر لائیٹ لگوا دی ہے یہ نیک فریضہ میں بھی ابھی ابھی انجام دے کر آیا ہوں۔عالم یہ ہے رات میں سیٹیوں کا شور سونے نہیں دےتا اور جب غلظی سے کمرے سے باھر سر نکالو تو 
چار ڈنڈے بنا دیکہے پر کہے مارنے کو دوڑتے ہیں۔ایسے عالم میں جب فیس بک کہولو تو اف اللہ سینسر کی پابندی کی وجہ سے آپ کو وہ سب بتا نہیں سکتا کیا کیا لوگ میسیج کر رہے ہو تے ہیں باس آپ اتنا سمجہ لیں کے فل ٹوووونٹ ٹووونٹ۔دوسری طرف نیلو فر نے سر پر درد کر رکہا ہے وہ نہیں ہمارے گلی کی چہٹی گڑیا نیلو فر پتہ نہیں اس کے باپ کے دل میں کیا آیا اور اس نے اسے گنجہ کر دیا بس تب سے منہ کہا کہ کہلا ہے بس کہانے کے ٹائیم پر بند ہوتا ہے یا جب ٹووی پر سی آئی ڈی آ رہا ہو لیکن سی آئی ڈی بھی وبال جان بن گیا ہے گلی کا ہر ہر لڑکا خد کو انسپکٹر دیا سمجہ کر ہر آنے جانے والے کے منہ کا دروازہ توڑنے کہ درپے ہے۔اور گہر والے رات بھر جگانے کے درپے یہ اللہ یہ جو عزاب پہلے تہے کم تہے کہ اب تونے یہ سیڑہی والے چور بھی بھیج د
ۓ
اللہ بچا
ۓ مجہ بچے پر اتنے ظلم

سوچیے، تو آپ کادل خود پکار اٹھے گا

0 comments
جماعت اسلامی کا ساتھ کیوں دیں؟
جماعت اسلامی کا نام آپ نے ضرور سنا ہوگا، لیکن جب بھی سنا ہوگا شاید یہ سوچ
کرگزر گئے ہوں گے: ایسی مذہبی اور سیاسی جماعتیں تو بہت سی ہیں کیاضروری ہے
کہ میں اس میں شامل ہونے اور کچھ کرنے کا سوچوں؟
آپ جماعت اسلامی کا ساتھ کیوں دیں؟
آئیے! بات یہاں سے شروع کریں کہ زندگی آپ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ زندگی ہے تو دنیا کی ہر نعمت سے آپ لطف اندوز ہو سکتے ہیں، اور آخرت کی ساری لازوال نعمتیں بھی کما سکتے ہیں۔ اگر زندگی ہی اصل نعمت ہے تو پھر زندہ رہنا ایک خوش گوار تجربہ اور لذت بخش کام ہونا چاہیے۔ لیکن............سوچیے، تو آپ کادل خود پکار اٹھے گا کہ آج زندگی پریشانیوں کے بوجھ تلے پسی جا رہی ہے اور زندہ رہنا ایک تلخ تجربہ اور تکلیف دہ کام بن گیاہے۔ پیٹ بھرنے کی فکر میں، اور جن کا بھرتا ہے ان کو اور بھرنے کی فکر میں تگ و دو کرتے صبح سے شام ہو جاتی ہے۔ پھر بھی ساری عمر ان ہی فکروں میں گزر جاتی ہے کہ دن دوگنی رات چوگنی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ خرچ نہیں پورا ہوتا، رہنے کے لیے صاف ستھرا مکان میسر نہیں، بچوں کو داخلے نہیں ملتے اور مل جائیں تو روزگار کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں، علاج کے لیے کمرتوڑ اخراجات اور ہسپتالوں کے چکر بس سے باہر ہیں۔
وطن عزیز کو دیکھیے تو ہر طرف ظلم اور فساد کا راج ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب انسانوں کو برابر بنایا ہے، لیکن چند لوگوں نے اپنے حق سے زیادہ زر، زمین اورطاقت حاصل کر لی ہے۔ اپنے جیسے انسانوں کی گردن پر سوار ہو کر ان پرغربت و جہالت مسلط کر رکھی ہے۔ اپنے ہم وطنوں کو کمزور بنا کر ان کے حقوق دبا لیے ہیں اور ان کو زندگی کی معمولی خوشیوں سے بھی محروم کر رکھا ہے۔ بددیانتی اور لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے اور جائز سے جائز کام بھی سفارش اور رشوت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ پولیس کے ہاتھوں عزت محفوظ نہیں، جیبیں خالی کر کے بھی عدالتوں میں انصاف نصیب نہیں ہوتا، تعلیم کا معیار پست ہے اور اخلاق کا اس سے بھی کہیں زیادہ گرا ہوا۔ گھر کے اندر ہوں یا باہر، دل و نگاہ کو پاک رکھنا محال ہے ۔ فوجیں دشمن کو فتح کرنے کے بجائے اپنی قوم کو ہی مارشل لا کے ذریعے بار بار فتح کرنے میں لگی ہوئی ہیں اور سرکاری افسر عوام کے خادم بننے کے بجائے ان کے آقا بن بیٹھے ہیں۔
امت کو دیکھیے، تو اگرچہ دنیا کا ہر پانچواں آدمی مسلمان ہے، مگر مسلمان کا دنیا میں وزن ہے نہ عزت۔ دنیا کی غالب قومیں دونوں ہاتھوں سے اس کو لوٹنے اور دبانے میں لگی ہوئی ہیں، مگر وہ بے بس تماشائی ہے یا خوشی خوشی ان کےدام میں پھنستا ہے۔
آپ اکثر سوچتے ہوں گے کہ مسائل کا یہ جنگل کیسے صاف ہوسکتا ہے اور زندگی اطمینان کا گہوارہ کس طرح بن سکتی ہے۔
جماعت اسلامی کا پیغام اور پروگرام اسی سوال کا جواب ہے۔
ہمارا پیغام
اگر مسلمان آج دنیا میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اور ان کے مصائب سب سے بڑھ کر ہیں تو وجہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ ہم نے وہ مشن فراموش کردیا ہے، جس کے لیے یہ امت بنی تھی۔ ہم اللہ اور اس کے رسولﷺ سے بے وفائی کر رہے ہیں۔ ہم نے اس دنیا کو ہی اپنا محبوب ومطلوب بنا لیا اور خدا کے دین کے لیے اپنےوقت اور مال کا کوئی حصہ صرف کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مسلمان قرآن پڑھتے اور رسولﷺ کی محبت کا دم بھرتے ہیں، لیکن ان کے احکام کی خلاف ورزی کرنے سےبالکل نہیں جھجکتے۔ جماعت اسلامی ہر مسلمان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ خدا کوخدا اور رسول کو رسول مان کر تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم زندگی کے کسی حصے میں ان کے خلاف چلو بلکہ تمہارا فرض ہے کہ پوری زندگی میں اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے جان و مال سے جہاد کرو۔ اور یہ کام اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک تم جمع ہو کر ایک جماعت نہ بن جائو۔
اس کارِ رسالت کے فرض کو ادا کرنے کے لیے جماعت اسلامی بنی ہے۔ یہ محض ایک سیاسی جماعت نہیں جس کی سرگرمیاں انتخابات تک محدود ہوں، نہ ایک مذہبی جماعت ہے جس کی دلچسپیاں صرف اعتقادی و فقہی اور روحانی مسائل ہی کے لیے مخصوص ہوں۔ بلکہ ہماری ساری جدوجہد کا مقصد صرف ایک ہی ہے کہ ہم اللہ کےمطیع اور فرمانبردار بن جائیں اور اس کی رضا اور قربت حاصل کریں۔ یہ رضا اور قربت ایک ایسے انقلاب کے لیے جدوجہد سے ہی حاصل ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں دلوں پر بھی اللہ کی حکومت قائم ہوجائے اور پوری زندگی پر بھی۔ یہ اعلان کہ زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ کی ملکیت ہے”اس ہمہ گیرانقلاب“ کی دعوت ہے۔
ہمارا پروگرام
جماعت اسلامی کا پروگرام یہی ہے کہ اپنے پیغام سے غافل لوگوں کو جگائے۔ جو ساتھ دیں ان کی تربیت کر کے ان کو منظم قوت بنادے، معاشرے میں صحیح اسلامی فکر، اسلامی سیرت اور سچے مسلمان کی سی عملی زندگی پیداکرنے کی کوشش کرے اور عوام کی قوت سے زندگی کے ہر شعبہ میں بالخصوص حکومت میں، خدا اور رسول کے باغیوں کے ہاتھوں سے قیادت اور فرماں روائی چھین کر اس کے مطیع اور فرماں بردار بندوں کے حوالے کر دے۔ جماعت اسلامی اپنی ساری قوت پاکستان کوایسی ایک فلاحی واسلامی ریاست بنانے میں لگا رہی ہے جو :
٭ خلافت راشدہ کانمونہ ہو
٭ ہر شہری کو اس کی بنیادی ضروریات (روٹی، کپڑا، مکان، علاج، تعلیم، انصاف) کی ضمانت دے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کرے۔
٭ جہاں تمام بنیادی انسانی حقوق محفوظ ہوں۔
٭ جہاں عوام انتخابات کے ذریعے اپنی مرضی سے جسے اقتدار میں لانا چاہیں لا سکیں اور جسے ہٹانا چاہیں ہٹا سکیں۔
آپ کادل کیا کہتا ہے؟
اگر جماعت اسلامی کا پیغام اور پروگرام آپ کو برحق لگتا ہے تو ہم آپ کودعوت دیتے ہیں کہ آپ اس جدوجہد میں ہمارے ساتھی بنیں اور جماعت اسلامی میں باقاعدہ شامل ہوں۔ جماعت اسلامی چند مخصوص لوگوں کا گروہ نہیں بلکہ عوام الناس کی جماعت ہے۔ وہ عوام الناس جو ظلم اور ناانصافی پرکڑھتے ہیں اوراسے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ظلم کاشکنجہ گھر بیٹھ کر کڑھنے یازبانی جمع خرچ سے نہیں ٹوٹ سکتا۔ یہ شکنجہ تبھی ٹوٹے گا جب آپ خود جدوجہد میں شامل ہوں گے۔ لہٰذا آپ خود اٹھ کراپنے وقت اور مال کا ایک معقول حصہ اللہ کے کام میں لگا دیں۔ جب آپ کی طرح سب لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے تو وہ دن دور نہیں جب ظلم اور بے انصافی کے اندھیرے چھٹ جائیں گے، عدل کا سورج طلوع ہوگا اور ہم سب پر صرف اللہ کی حکومت ہوگی۔
آپ کا ضمیر ،آپ کا ملک، آپ کی ملت، دکھی انسانیت ، سب آپ کو پکار رہے ہیں ۔ دنیا میں عزت و سربلندی اور آخرت میں جنت آپ کی منتظر ہے.

کاش کوئی مجھے یہ سمجھا سکے کہ جماعت اسلامی کے ساتھ مسئلہ کیا ہے۔

0 comments
جماعت اسلامی نے 1990ء میں نواز شریف کو اُس وقت آئی جے آئی لیڈر بنایا، جب وہ مسلم لیگ کی قیادت میں یہ سب سے کم تجربہ کار تھا، اور کوئی اسے گھاس نہیں ڈالنے کو تیار نہ تھا۔ امریکہ اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی خواہش تھی کہ پیپلز پارٹی اقتدار میں نہ آ سکے، کیوں کہ اُس وقت تک اسے بائیں بازو کی جماعت سمجھا جاتا تھا۔ اس لئے اسٹیبلشمنٹ نے آئی جے آئی کی تمام لیڈر شپ میں پیسے بانٹے، الیکشن فنڈ کے نام پر ملنے والی ان رقوم سے باقیوں نے اپنی جیبیں بھر لیں، جبکہ جماعت نے "پوری دیانتداری" پیسے الیکشن میں لگائے۔ نتیجہ یہ برامد ہوا کہ دیگر لوگ اُسی پیسے کے زور پر لیڈری کے دائمی حقدار بنے اور جماعت کے اجلے دامن پر ہمیشہ کے لئے ایک داغ آگیا۔
2002ء میں ایک بار پھر امریکہ اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو ضرورت پڑی کہ صوبہ سرحد میں اسلامی جماعتوں کی حکومت قائم کی جائے۔ تاکہ عوام کو یہ یقین دلایا جا سکے کہ سیاسی جدوجہد میں توانائیاں صرف کرنے سے ملک میں اسلامی نظام کا قیام ممکن ہے۔ شاھد اس طرح صوبے میں تیزی کے ساتھ فروغ پانے والی شدت پسندی کی لہر پر قابو پانا ممکن ہو سکے۔ یوں حکومت ایم ایم اے کو ملی تو جے یو آئی سے تعلق رکھنے والے علماء نے دنوں ہاتھوں سے جیبیں بھرنا شروع کر دیں۔ جماعت کی قیادت کے سامنے لوگ روتے رہے کہ دیکھیے صوبے میں کوئی جائز کام بھی اُس وقت تک نہیں ہوتا جب تک مدرسے میں جمع شدہ چندے کی رسید نہ دیکھا دی جائے۔ دستاویزی ثبوت پیش کیے گئے کہ حافظ حسین احمد اور لیاقت بلوچ کے ایل ایف او پر مذاکرات کے ساتھ ساتھ "مفتی ابرار صاحب" پرویز مشرف کے پرنسپل سکریڑی "طارق عزیز" سے مال پانی کی ڈیل فرما رہے ہیں۔ یہ ڈیل وردی والے ایشو پر بھی ہونے کی خبریں جماعت کی قیادت کو پہنچائی گئیں۔ لیکن جماعت کی قیادت بروقت فیصلہ کرنے میں ناکام رہی۔ اس پانچ سالہ دور میں علماء حضرات نے خوب سرکاری زمینیں الاٹ کروا لیں، بے شمار زمینوں پر غیر قانونی قبضے لیگل کروا لئے، اولادوں کے لئے عہدے اور نوکریں بھی حاصل کیں۔ لیکن جماعت کے حصے میں سوائے اس سوال کے کچھ نہ آیا، کہ جب ایک صوبے کی حکومت ملی تھی تو کیا کر کے دیکھایا؟؟
اب ایک بار پھر جماعت اسلامی تحریک انصاف کی حکومت میں شامل ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی نہایت ہی مایوس کُن ہے۔ ساتھ ہی پرویز خٹک کی اقربا پروری کی داستانیں ہر طرف سنائی دیتی ہیں۔ صؤبائی حکومت مغربی ایجنڈے کے مطابق نصاب میں وہ تبدیلیاں کر چکی ہے، جسکا اے این پی جیسے سیکولر تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ جماعت کی قیادت کے سامنے ایک بار پھر یہ کھلی حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ لندن پلان اصل میں کیا ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لئے یہاں کیا گیم کھیلی جا رہی ہے۔ تحریک انصاف پاکستان کے مذہبی تشخص کے خلاف کون سے گریٹر پلان کا ہر اوّل دستہ ہے۔ خود جماعت کی قیادت نے ڈراؤن حملوں کے خلاف مظاہروں سے لیکر نیٹو سپلائی والے دھرنے کے "انصافی" ڈراموں کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود جماعت اسلامی کی قیادت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔
اس پر طرفہ تماشہ کے عمران خان نے بھی جماعت کی قیادت کو نشانے پر لے رکھا ہے۔ لیکن جماعت کی مفاہمت کی پالیسی ہے کہ ختم ہونے میں نہیں آرہی۔
کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کی قیادت کا کرپشن سے پاک ہونا ہی کافی نہیں بلکہ اس کا وژنری ہونا اور حالات کے مطابق درست اور بروقت فیصلے کرنا بھی اُتنا ہی ضروری ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ جماعت اسلامی دو ٹوک فیصلہ کرے، آیا وہ ملک میں ناچ گانے اور کنجر خانے کے فروغ میں مشغول پارٹی کے ساتھ کہاں تک جا سکتی ہے؟؟
جماعت کے ہمدرد یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ جماعت اسلامی پاکستان کے مذہبی تشخص کو تبدیل کرنے کی عالمی سازش میں شریک پارٹی کے ساتھ شراکت اقتدار کو کیوں ختم کرنے سے گریزاں ہے؟؟
جماعت کا نصب العین رضا الہی کا حصول ہے یا اقتدار کا حصول؟؟؟؟


Mahtab Aziz

Thursday, October 30, 2014

اپنی وطن کی حفاظت نہ کریں بلکہ وطن دشمنوں کا ساتھ دیں

0 comments
بنگلہ دیش کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم ان کے لئے آواز بلند کریں یا نہ کریں لیکن تاریخ کو جس طرح مسخ کیا جارہا ہے پاکستانیوں کے ہاتھوں وہ قابل دید ہے۔ایک فضا بنائی جارہی ہے کہ کل کلاں اگر کوئی صوبہ یا علاقہ پاکستان سے جدا ہونے کی کوشش کریں تو کوئی راہ میں روڑے نہ اٹکائے اور اپنی وطن کی حفاظت نہ کریں بلکہ وطن دشمنوں کا ساتھ دیں۔ اخر جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا جرم کیا تھا؟؟ یہی کہ انھوں نے 1971 میں اپنے وطن پاکستان کی حمایت کی تھی تو کیا اپنی وطن کی حفاظت کرنا جرم ہے؟؟ اور یہاں پر لبرل جس طرح چسکے لگا کر خوشیوں منا رہے ہیں ان کی خدمت میں عرض ہے کہ بنگلہ دیش کے لوگ حقیقت کو جان گئے ہے کہ ان کے ساتھ کیا ہاتھ ہوگیا۔ غلام اعظم کی نماز جنازہ میں جس طرح خلق خدا آمڈ ائی اور شہر شہر قریہ قریہ غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی لاکھوں لوگوں نے اس نے ثابت کردیا کہ بنگلہ دیش کے عوام کے دل کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ کسی کو اس موضوع کی حقانیت کو جانچنا ہو تو براہ کرم بھارتی بنگال کے سب سے بڑے شہرکلکتہ سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر شرمیلا بوس ہندوستان کی تحریکِ آزادی کے راہنما سبھاش چندر بوس کی پوتی ہیں۔ شرمیلا بوس بھارتی صحافی اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے شعبہ سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کی سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ بھی ہیں۔ پچھلے دنوں ان کی کتاب Dead Recking the Morries of the 1971 Bangladesh War بنگلہ دیش سے شائع ہوئی جس نے بھارت اور بنگلہ دیش کے متعصب پاکستان دشمن اسکالرز کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیئے۔یہ ان لائن دستیاب ہے اس کے ساتھ بنگلہ دیش کی آزادی میں اہم کردار ادا کرنے والے مکتی باہنی کے پہلے کمانڈر کرنل شریف الحق دائم کی کتاب پاکستان سے بنگلہ دیش ۔ اَن کہی جدوجہد بھی پڑھنی چاہیئے۔جس میں اس نے عوامی لیگ کا پردہ چاک کیا ہے یہ بھی ان لائن دستیاب ہے۔اس کے ساتھ سابق وائس چانسلر ڈھاکہ یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر سجاد حسین کی کتاب شکست آرزو بھی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے اور اس موضوع کا حق ادا کردیا ہے۔ان میں سے ایک ہندو ہے اور دو مسلمان۔ مسلمان دونوں بنگالی ہے اور ان میں سے ایک نے بنگلہ دیش کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اور دوسرا یونیورسٹی کا وائس چانسلر۔۔۔ انھوں نے جس طرح لبرل کو بے نقاب کیا ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے اور پڑھنا کم از کم لبرل صاحبان کی بس کی بات نہیں۔پچھلے ہفتے شیخ مجیب کے دست راست مشتاق اخوندکر کی کتاب بھی ائی ہے جس نے مجیب کی دروغ گوئی کی واٹ لگا دی ہے ایک نظر وہ بھی دیکھ لیں تو افاقہ ہوگا

خیبر پختون خوا کی حکومت میں شامل جماعت اسلامی اور تحریک انصاف

0 comments
خیبر پختون خوا کی حکومت میں شامل جماعت اسلامی اور تحریک انصاف مبارک باد کے مستحق ہیں کہ ایک مخصوص سیکولر طبقہ کے تمام تر پریشر کے باوجود انہوں نے صوبہ کے درسگاہوں میں پڑھائے جانے والے نصاب میں اسلامی مضامین کو دوبارہ شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں تھا کہ راجہ رنجیت سنگھ، خوشحال خان خٹک، خان عبدالغفار خان وغیرہ کو نصاب میں شامل کیوں کیا گیا بلکہ جھگڑا اس بات پر تھا کہ اسکول کے نصاب سے حضرت محمد، خلفائے راشدینؓ، حضرت خدیجہؓ، حضرت فاطمہؓ، حضرت حسینؓ جیسی مقدس شخصیات سے متعلق ابواب کو کیوں حذف کیا گیا۔ لڑائی اس پر نہیں تھی کہ نصاب میں گوتم بدھ، نیلسن منڈیلا، مہاتماگاندھی، موزے تنگ، لینن، مارکس وغیرہ کا کیوں ذکر کیا گیابلکہ انتہائی قابل اعتراض اور قابل مذمت بات یہ تھی کہ معاشرتی علوم میں ’’خاص افراد کا تاریخ پر اثر‘‘ کے ایک مضمون کے ایک ہی پیراگراف میں اوپر دیے گئے تمام ناموں کے ساتھ حضرت محمد کا کیوں ذکر کیا گیا۔ نبی تو رحمتہ للعالمین ہیں، آپ نے تو دنیا کی تاریخ کو بدل ڈالا، آپ تو نبیوں کے بھی سردار ہیں۔ کسی گاندھی، کسی مینڈیلا، کسی موزے تنگ، کسی لینن، کسی مارکس کی کیا حیثیت۔ کیا کوئی مسلمان یہ قبول کر سکتا ہے کہ ایک مسلمان ملک میں بچوں کو ایک ہی مضمون کے ایک ہی پیرا گراف میںپہلے نبی کے بارے میں مختصراً بتایا جائے اور پھر دوسرے ہی جملہ میں لینن مارکس گاندھی وغیرہ کا ذکر کردیا جائے کہ انہوں نے بھی تاریخ پر اثر چھوڑا۔ تعلیمی نصاب میں یہ کچھ شامل کرنے والوں کے خلاف تو تادیبی کاروائی ہونی چاہیے تھی مگر یہاں ایسے قابل اعتراض مواد کو نکالنے والوں کو ہی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔پاکستان میں سیکولر تعلیم کے فروغ اور اسلامی تعلیم کا مخالف ایک گروہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف پر بہت برہم ہے کہ انہوں نے متنازع نصاب کو کیوں تبدیل کیا۔ شرم کی بات یہ ہے کہ وہ اُن تبدیلیوں کا ذکر نہیں کر رہے جس کا میں نے اوپر کالم میں تزکرہ کیا۔ وہ تو یہ سچ بھی بتانے سے گریزاں ہیں کہ گزشتہ سال نصاب میں کی جانے والی تبدیلیوں سے قبل جماعت پنجم کی معاشرتی علوم میں ’’مسلمانوں اور ہندووں کی تہذیب میں فرق‘‘، ’’آزاد مملکت کی ضرورت‘‘، ’’مسلمانوں کے خلاف انگریزوں اور ہندوئوں کا اتحاد‘‘، ’’پاکستان کا تصور اور علامہ اقبال‘‘،’’ قائد اعظم محمد علی جناح‘‘، ’’نظریہ پاکستان‘‘، ’’پاکستان کے خلاف بھارت کے بُرے ارادے‘‘ اور ’’1965 کی جنگ‘‘ کے مضامین کو پڑھایا جاتا تھا۔ان مضامیں کے نکالے جانے پر تو اس طبقہ کو کوئی اعتراض نہیں کیوں وہ نظریہ پاکستان کو مانتے ہیں اور نہ ہی پاکستان کے اسلامی آئین کو۔ یہ طبقہ تو اس پر بھی خاموش رہا کہ گزشتہ سال نصاب میں متنازع تبدیلیاں کرتے وقت کشمیر کو کچھ کتابوں سے پاکستان کے نقشہ پر سے ہی غائب کر دیا تھا۔پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ اسلام کی بات کرنے والے سائنس اور دوسرے مضامین کے خلاف ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اسلام تو دین کے ساتھ دنیاکے علم کے حصول پر زور دیتا ہے۔ مگر ان پروپیگنڈہ کرنے والوں کو اس مطالبہ پر اعتراض کیوں کہ سائنس کے مضامین میں مسلمان سائنسدانوں کے ساتھ ساتھ سائنس کے متعلق قرآنی تعلیمات کو دوبارہ شامل کیا جائے۔ یہ طبقہ بھلے ڈارون کی تھیوری پر اعتبار کرے کہ انسان پہلے بندر تھا مگر ہم اپنے بچوں کو سائنس میں یہ کیوں نہ پڑھائیں کہ اللہ نے انسان کو کیسے تخلیق کیا اور یہ کہ ہم حضرت آدم ؑکی اولاد ہیں۔ Big Bang کی تھیوری پڑھانے پر تو اعتراض نہیں مگر سائنس میں قرآنی حوالوں کو نصاب میں دوبارہ شامل کرنے پر اعتراض ہے جو ہمیں بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے چھ دنوں میں دنیا کو پیدا کیا اور سورج، چاند، ستاروں اور آسمانوں کا ایک نظام بنایا جس کے بارے میں انسانوں کو غور کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت دنیا بھر کے مسلمانوں کے طرح پاکستان میں بھی تعلیمی نصاب کو تبدیل کرنے کوششیں مشرف دور سے جاری ہیں۔ کبھی جہاد سے متعلق آیات کو نصاب سے نکال دیا جاتا ہے تو کبھی اسلام کی انتہائی محترم شخصیات اور مسلمانوں کے ہیروز اور رول ماڈلز کے متعلق ابواب کو حذف کر دیا جاتا ہے۔ اسلامی نظریہ پاکستان بھی سیکولر طاقتوں کے نشانہ پر ہے اور کوشش یہ ہے کہ پاکستان کو ایک سیکولر ملک اور یہاں کے رہنے والوں کو ایک سیکولر قوم بنا دیا جائے جس کےلیےا سکولوں اور کالجوں میں پڑھائے جانے والے نصاب میںسے اسلام کو نکالنا ضروری ہے۔ اس سازش کو خیبر پختون خوا کی حد تک جماعت اسلامی،پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک اور دوسرے عوامی حلقوں کی کوششوں سے تحریک انصاف کے تعاون سے ناکام بنا دیا گیا ہے اور صوبائی حکومت نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ گزشتہ سال حذف کیا گیا اسلامی ور نظریہ پاکستان سے متعلق مضامین اور ابواب کو نصاب میں دوبارہ شامل کیا جائے گا۔ اس پر جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی حکومت قابل شتائش ہے۔ اس فیصلہ کے بعد سیکولر طبقہ کی طرف سے تحریک انصاف پر بہت دباو ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اس فیصلہ کو واپس لیں جس کے لیے پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت اور پختون خوا حکومت کوثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔
انصار عباسی


آغا سراج درانی اور نیلوفر

0 comments
سندھ اسمبلی سپیکر جناب آغا سراج درانی صاحب فرماتے ہے کہ نیلوفر طوفان کراچی کو ہٹ نہیں کر سکے گا کیوں کہ کراچی کی حفاظت کے لئے حضرت عبداللہ شاہ غازی ﺭﺣﻤﺘﻪ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ کا مزار ہی کافی ہے ، جناب سپیکر کیا آپ بتا سکتے کب اور کہاں حضرت عبداللہ شاہ غازی ﺭﺣﻤﺘﻪ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ نے اس قسم کا دعویٰ کیا ، خیر انہوں نے تو اپنی نااہلی ، اور بے غیرتی میں اب اولیا کرام ، بزرگ دین کو بھی بدنام کرنا شروع کر دیا ،
جناب سپیکر آغا سراج درانی صاحب کیا آپ کو یاد ہے October 7, 2010 کو حضرت عبداللہ شاہ غازی ﺭﺣﻤﺘﻪ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ کے مزار پر جو دو خود کش حملے ہوۓ تھے . جس میں آٹھ افراد جاں بحق اور 60 سے زائد دھماکے کے نتیجے میں زخمی ہوۓ تھے . تب کیونکر حضرت عبداللہ شاہ غازی ﺭﺣﻤﺘﻪ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ نے اپنے مزار کی حفاظت نہ کی اور اتنے لوگوں کو مرنے دیا ؟ جناب سپیکر پھر آپ کی کیا ضرورت ہے اسمبلی میں یا پھر ان سیاست دانوں کی ، تھر میں کسی کا مزار بنوا دے ہو سکتا وہاں قحط ختم ہو جائے ، پھر یہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بنانے کی کیا ضرورت تھی ؟ جناب سپیکر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے ان اولیا کرام کو نہ مذاق بنائے جنہوں نے اپنی ساری زندگی اسلام کی سر پلندی کے لئے مختص کر دی ،

بقلم مولوی روکڑا

جمائما کا بوائے فرینڈ تبدیل ہو گیا۔

0 comments
جمائما خان پھر پکڑی گئیں

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ جمائما خان اپنے پرانے بوائے فرینڈ ہیو گرانٹ کے ساتھ پکڑی گئی ہیں لیکن اس بار خاص بات یہ ہے کہ دونوں کو تین سال بعد دوبارہ دیکھا گیا ہے۔
جب بھی ہیو گرانٹ ایسی کوئی بھی حرکت کرتے پکڑے جاتے ہیں تو ان کا چہرہ سرخ ہوجاتا ہے لیکن اس بار چہرہ سرخ ہونے کی وجہ ان کا پاکستانی سابق کرکٹر اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ خان کے ساتھ پکڑا جانا ہے۔
جب اس جوڑے کو لندن کے مہنگے ترین ریستوراں کے باہر فوٹوگرافرس نے دیکھا تو دونوں حیران و میڈیا سے خوف زدہ ہوگئے۔
خاص بات یہ تھی کہ گاڑی میں الکوحل سے بھرپور بیئر کی وہ قسم بھی موجود تھی جسے پینے کے بعد برطانیہ میں ڈرائیونگ کرنا ممنوع ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ بیئر کی یہ وہ قسم ہے جس کا کسی شخص کی گاڑی میں بھی پایا جانا حیران کن ہے۔
جب 34 سالہ جمائمہ خان کو احساس ہوا کہ ہیو گرانٹ سے چوری چھپے ملاقاتوں کا سلسلہ اب خفیہ نہیں رہا تو انہوں نے فوٹوگرافرز سے بچنے کیلئے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا۔
اس وقت کے بعد یہ جوڑا ریستوراں میں تھوڑی دیر تک بیٹھنے کے بعد چلا گیا۔
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ 47 سالہ اداکار ہیو گرانٹ کسی بھی لڑکی کے ساتھ پہلی بار پکڑے جانے کی وجہ سے حیران و پریشان نظر آئے۔ 

اس سے قبل 1995ء میں وہ ایک فاحشہ کے ساتھ اپنی گاڑی میں نازیبا حرکات کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔

Wednesday, October 29, 2014

وقت ہے آنکھیں کھولنے کا !! عمران کا ساتھ چھوڑنے کا

0 comments
درمیانی دو انگلیاں انگوٹھا رکھ کے بند کر کے رہ جانے والی چھنگلی اور شہادت کی انگلی سے بنا یا جانے والا یہ نشان، یہودی فری میسن اور الیموناٹی (شیطان کے پجاریوں کی خفیہ تنظیم) کا ہے، جس سے ساری دنیا واقف ہے، کئی نامور علما کرام اور اسلامی محققین نے اس پہ تحقیق کر کے اسے سابت کیا ہے، جیسے مولانا عاصم عمر نے اپنی تحقیقی ، برمودا تکون اور دجال ، میں بھی اس موضوع پہ تفصیل سے روشنی ڈالی ہے، شیطان کے مذہب میں سوائے بے حیائی ، عریانی اور فحاشی کے سوا کچھ نہیں اور اس میں وہ تمام بد کاریا شامل ہیں جنکو اپنا کر اس نے رب تعالی سے مہلت مانگی تھی کہ وہ مومنین کہ بہکائے گا، آج مذہب بیزار دراصل اپنی حوس کے پجاری جو ہر طرح کی بی غیرتی اور عریانی کو اپنا کر شیطان کو خوش کر کے اس کی عبادت کرتے ہیں، ایسے لوگ مغرب میں شیطان کے مذہب کے نام پہ جمع ہوتے جارہے ہیں، ان ہی لوگوں کا یہ خاص نشان ہے، جسے مسلمان بچہ بچہ جانتا ہے، لیکن دیکھئے خان صاحب نے وہ ہی نشان بنا کر لوگوں کو دکھایا جسے پورے میڈیا نے دیکھا اور آپ کو دکھایا، عمران خان کے گزشتہ ۲ مہینوں سے جاری اس جلسے میں ہم پہلے ہی کہتے آئے تھے کہ پتا چلنا چاہیے کہ پیسہ کہان سے آرہا ہے؟ کون ہے آخر اسکے پیچھے؟ آہستہ اہستہ یہ واضح ہوتا جا رہا ہے، عمران خان شیطان کا پجاری ہے اور الیموناٹی تنظیم کا ممبر ہے، اسی لیے اسکے ماتھے پہ ساری بی غیرتی کے باوجود کوئی شکن نہیں آتی، سنجیدہ طبقے مستقل عمران خان کے جلسے میں ہونے والی مخلوط محافل اور عورتوں مردوں کے آزادانہ اخطلاط پہ سوال اُٹھاتے آئے ہیں، لیکن آج عمران نے شیطان کا نشان بنا کر ساب واضح کر دیا کہ نئے پاکستان کے فلسفے کے پیچھے شیطان کا مذہب اور اس سے وابستہ تمام تر بی حیائی ہے جسے وہ پاکستان میں پھیلانا چا ہتا ہے!
اس تمام بحث کے بعد جب تحریک انصاف کو معاملے کی سنگیںی اور بھید کھل جانے کا احساس ہوا تو انہوں نے معذرت یا ندامت پیش کرنے کے بجائے اسکی صفا ئی پیش کرنے کی کوشش کی کہ عمران تو دراصل گونگے بہروں کی زبان میں اظہار محبت کرہا تھا، مگر ہم بات سمجھانے اور اس سازش کو کھولنے کیلئے سابق امریکی صدر کی دو تصا ویر اور امریکی گلوکار کی ایک تصویر بھی شایع کر رہے ہیں، یہ لوگ خود اپنے منہ سے شیطان کے مذہب کے پیروکار ہونے کی تصدیق کر چکے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا یہ بھی اظہار محبت کر رہے تھے جب انکی تصویر لی گئی ؟! اور اسی طرح شیطان کے لاکھوں پجاری یہ نشان بنا کے، کیا اظہار محبت کرتے ہیں؟ نہیں یہ نشان بنا کے اپنی شیطانی وابستگی کا اظہار کیا جاتا ہے ! جو عمران خان نے کیا ! وقت ہے آنکھیں کھولنے کا !! عمران کا ساتھ چھوڑنے کا !!



مثبت انداز فکر اور منفی انداز فکر

0 comments
مثبت انداز فکر: مسلئے کے حل کے متعلق غور کرتا ہے 
منفی انداز فکر: مسلئے کے متعلق غور کرتا ہے
مثبت انداز فکر: لامتناہی خیالات
منفی انداز فکر: لامتناہی بہانے
مثبت انداز فکر: دوسروں کی مدد
منفی انداز فکر: دوسروں کی طرف سے مدد
مثبت انداز فکر: ہر مسئلہ کے لئے کوئی نہ کوئی حل دیکھتا ہے
منفی انداز فکر: ہر حل میں کوئی نہ کوئی مسئلہ دیکھتا ہے
مثبت انداز فکر: حل مشکل لیکن ممکن
منفی انداز فکر : حل ممکن ہے لیکن مشکل
مثبت انداز فکر: کامیابی ایک احتساب ہے
منفی انداز فکر: کامیابی ایک وعدہ /ٖ ضمانت ہے
مثبت انداز فکر: خواب کو پورا کرنے کی ضرورت ہے
منفی انداز فکر: مایوسی سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ضرورت ہے
مثبت انداز فکر: دوسروں کے ساتھ ایسابرتاؤ جیسا برتاؤ دوسروں سے چاہتا ہے
منفی انداز فکر: دوسروں کو دھوکہ اس سے پہلے دوسرے دھوکہ دیں
مثبت انداز فکر: کام میں کامیابی دیکھتا ہے
منفی انداز فکر: کام میں درد / تکلیف دیکھتا ہے
مثبت انداز فکر : مستقبل میں امکانات دیکھتا ہے
منفی انداز فکر: مستقبل میں ناممکنات دیکھتا ہے
مثبت انداز فکر: بولنے سے پہلے سوچتا ہے
منفی انداز فکر: بولنے کے بعد سوچتا ہے
مثبت انداز فکر: نرم زبان کے ساتھ مضبوط بحث
منفی انداز فکر: مضبوط زبان کے ساتھ نرم بحث
مثبت انداز فکر: اقدار کو معمولی تکرار/جھگڑوں پر ترجیح دیتا
منفی انداز فکر: معمولی تکرار/جھگڑوں کو اقدار پر ترجیح دیتا
مثبت انداز فکر: واقعات کو تشکیل دیتا ہے
منفی انداز فکر: واقعات سے تشکیل پاتا ہے

اسرائیل کا ٹوپک

0 comments
اگرچہ پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے پر میڈیا میں اتنی بحث نہیں ہوتی ، پاکستان اور پاکستانی عربوں سے زیادہ اسرائیل سے نفرت کرتے ہے . لیکن ہمارے پاکستان میں ایک مخصوص حلقہ جو ہمیشہ مغرب نواز ،خود کو لبرل اور سیکولر ثابت کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ کرتا ہی رہتا ہے ،اس دفعہ ان کا نشانہ اسلامک یونیورسٹی بنی ، بین الاقوامی ثقافت کا لبادہ اوڑھ کر اسرایئل کا سٹال بھی لگا دیا گیا ، اس کا ثقافت سے کوئی لینا دینا نہیں تھا ، ماسٹر مائنڈ کو بھی پتا تھا کہ یہ سٹال لگتے ہی ہنگامہ ہو گا ،اس سٹال کے لگانے کے پیچھے ایک بنیادی مقصد تھا ، اس ٹوپک کو پاکستان کے میڈیا پر ڈسکسس کرنا ، اس پر اب ٹاک شو ہو گے ، آرٹیکل لکھے جائے گے ، حقیقت تو یہ ہے کہ ثقافت اور سٹوڈنٹ کے کندھے پر بندوق رکھ کر اسرائیل کے ٹوپک پر قیاس کرنے کا موقعہ چاہیے تھا ، اور وہ مل گیا ہے ، اب یہ طبقہ اسرائیل کے اتنے گن گائے گے ، آپ سوچ بھی نہیں سکتے ، بدنام کون ہو گا ، ؟ صرف اور صرف اسلامی یونیورسٹی یا پھر وہ سٹوڈنٹ ، ہمارا جذباتی طبقہ گالیاں کس کو دے گا ؟ کفر کے فتویٰ کس پر لگائے گا ؟ جی ہاں ، اسلامی یونیورسٹی اور ان سٹوڈنٹ پر ، اس کو کہتے ہے ماسٹر مائنڈ پلان ،،،،، اب وہ سب متحرک ہو جائے گے جو اسرائیل کو تسلیم کروانا چاہتے ہیں .اب ایک لابی اس ٹوپک کو اتنا ڈسکس کرے گی اور آپ کے ذہنوں میں اسرایئل اس طرح ٹھوسا جائے گا جس طرح فاویکول . پھر یہ گانا بجے گا ، ہم نے اسرایئل تسلیم کروا لیا فاویکول سے فاویکول سے، پاکستان کے پاسپورٹ پر اسرائیل مٹا دیا ربر ڈول سے ،،،اور دوسرا گانا بجے گا اسلامی یونیورسٹی بدنام ہوئی اسرائیل تیرے لئے. اور ہماری عوام صرف لعنتیں اور نعرے لگاتی رہے گی ،
خیر اسلامی یونیورسٹی انتظامیہ نے جامعہ کے سینئر پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر منصوری کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے، لیکن اس کا نتیچہ کچھ بھی نہیں نکلے گا ، کیوں پاکستان میں ایسی کئی کمیٹیاں قائم کی گئی جن کا آج تک کچھ حتمی نتیچہ نہیں آیا ، کیا مجھے اس پر مثال دینے کی ضرورت ہے ؟ کیوں کہ ہمارے ہاں کمیٹیاں کھائی جاتی ہے ،قائم نہیں کی جاتی ،
بقلم مولوی روکڑا

Monday, October 27, 2014

شریعت کے نفاذ کے مطالبے کے علاوہ، کوئی بھی اقدام یا مطالبہ آئین اور قانون سے ہرگز ہرگز متصادم نہیں ہے۔

0 comments

انقلاب اور آزادی مارچ کے حوالے سے پیش آنے والے واقعات کے نتیجے میں کم ازکم ایک بات تو کنفرم ہو گئی ہے۔ مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں شریعت کے نفاذ کے مطالبے کے علاوہ، کوئی بھی اقدام یا مطالبہ آئین اور قانون سے ہرگز ہرگز متصادم نہیں ہے۔
اس سے کوئی فرق نہیں پڑا، باوجود اس کہ یہ ہجوم ڈنڈے لہراتا ملک کے حساس ترین مقام ریڈ زون میں داخل ہو گیا۔ راستے کے ایک طرف کھڑے پولیس والوں پر ڈنڈے برسا کر انہیں زخمی کیا گیا۔ اس کی وجہ سے 99 فیصد سفارتکار اور سفارتخانوں کا عملہ ڈپلومیٹک ایونیو میں عملا محصورہو چکا ہے۔ اس ہجوم کے قبضے کی وجہ سے شاہرائے دستور پر واقعے ایوان وزیر اعظم، سپریم کورٹ، فیڈرل شریعیت کورٹ، کیبنٹ بلاگ، پارلیمنٹ ہاوس، ایوان صدر اور سول سیکریٹریٹ سمیت دیگر اداروں میں ہونے والا روزمرہ کا کام رُک گیا ہے اور حکومتی فعالیت معطل ہو کر رہ گئی ہے۔
اس ہجوم کا ایک سرغنہ کھلم کھلا اعلان کر رہا ہے کہ وہ وزیراعظم ہاؤس گُھس کر ملک کے منتخب وزیر اعظم کو گھسیٹ کر باہر نکال دے گا۔ دوسرا سرغنہ یہ حکم جاری کر رہا ہے کہ وزیراعظم کو اس کی تمام کابینہ سمیت گرفتار کیا جائے۔ تمام اسمبلیوں کو تحلیل کر دیا جائے۔ ایک طویل المدتی غیر آئینی حکومت قائم ہو۔
اس سب کے باوجود نہ تو کوئی سکیورٹی فورس حرکت میں آئی ہے۔ نہ ہی آزاد میڈیا اس تمام صورتحال میں کسی قسم کی کوئی غلطی یا برائی ڈھونڈ پایا ہے۔ اس قابض ہجوم پر نہ ہی لاٹھی چارچ ہوا ہے، نہ انسو گیس کا کوئی شیل فائر کیا گیا، نہ کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ گولی چلائے جانے کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ہاں اگر اس ہجوم نے اگر شریعیت کے نفاذ کا مطالبہ کیا ہوتا تو! ان کے ہاتھوں میں موجود ڈنڈوں سے ریاست کا وقار سخت مجروع ہو چکا ہوتا۔ ریڈ زون کی طرف قدم اٹھانا تو دور کی بات ہے آنکھ اٹھا کر دیکھنے سے پہلے ہی ریاست کے وجود کو شدید خطرہ لاحق ہو جاتا۔ ایوان وزیر اعظم، سپریم کورٹ، کیبنٹ بلاک، پارلیمنٹ ہاوس، ایوان صدر اور سول سیکریٹریٹ تو بہت دور کی بات ہے، اگر یہ کسی چھوٹی سی لائیبریری کے مین گیٹ کے سامنے بیٹھ جاتے تو ریاست کی رٹ پائمال ہو چکی ہوتی۔
کابینہ کی گرفتاری، اسمبلیوں کی تحلیل، غیر آئینی حکومت کے قیام کو تو ایک طرف رکھیے، اگر ان کی طرف سے قحبہ خانے اور مساج سنٹر بند کرنے کے مطالبات ہیآ جاتے تو، عالمی دنیا میں ہونے والی پاکستان کی جگ ہنسائی کے تصور سے ہی میڈیا پر ہسٹریا کے دورے پڑنا شروع ہو جاتے۔
اب تک ریاست مشینیری حرکت میں آچکی ہوتی۔ قانون اپنا راستہ بنانے میں مصروف ہوتا۔ سکیورٹی فوسسز کے بہادر اہلکار ریاستی رٹ کی بحالی کا کام مکمل کر کے وکٹری کے نشان بنا رہے ہوتے۔ شریعت کا نام لینے والوں کے جسموں کے ٹکڑے ان کے لواحقین اسلام آباد کے نالوں سے تلاش کر رہے ہوتے۔ فاسفورس بموں سے جلے ہوئے کئی کئی جسم بلا تمیزِ مرد و زن ایک تابوت میں ڈال کر جی الیون قبرستان کی نامعلوم قبروں میں اُتار دیے گئے ہوتے۔
مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہریو یاد رکھو، تم ہر جائز اور ناجائز مطالبہ کرسکتے ہو، ہر ناروا اقدام کرنے کے باوجود تمیں سلامتی حاصل رہے گی، جب تک تمارے لبوں پر اسلام اور شریعیت کا مطالبہ نہ آجائے۔ اگر کبھی ایسا ہوا تو پھر قانون اپنا راستہ ضرور بنائے گا۔
اگر پھر بھی کسی کے دماغ میں اسلام کے نٖفاذ کا کیڑا کلبلا رہا ہو تو اُس کے لئے عرض ہے کہ مصورِ پاکستان نے اس کا حل بہت پہلے بتا دیا تھا؎
ہو صداقت کے لئے جس دل میں مرنے کی تڑپ
اپہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے
پھونک ڈالے یہ زمین و آسمانِ مستعار
اور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرے



Thanks

Saturday, October 25, 2014

پروفیسر غلام اعظم اپنے آخری سفر کو روانہ

0 comments

آہ وہ عظیم انسان پروفیسر غلام اعظم اپنے آخری سفر کو روانہ جس کی زندگی ہمشہ حق کے لیے اور باطل کے خلاف گزری جس نے اس ملک کی خاطر اپنے آپ کو اذیت میں مبتلا کیا مگر آخری وقت تک اس پر فخر کیا ہم آج جس ملک سے محبت کے دعوے دار ہیں شائد اس ملک کی خاطر کچھ بھی برداشت نہ کر سکیں مگر عظیم لوگوں کی قربانی ہی سے آج ہم ہیں اللہ جنت میں اعلیٰ مقام دے آمین
مولانا سید ابوالاعلی مودودی علیہ الرحمہ کے رفیق خاص اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سابق امیر پروفیسر غلام اعظم کی نمازجنازہ ڈھاکہ کی تاریخی مسجد بیت المکرم کے سامنے ادا کی جا رہی ہے۔ ان کی نمازجنازہ ان کے صاحبزادے اور بنگلہ دیش آرمی کے سابق بریگیڈئیر جنرل عبداللہ اعظمی نے پڑھائی
انہوں نے اصول و نظریے کے ساتھ وفاداری کی لازوال اور قابل تقلید مثال قائم کی قید و بند کی بدترین آزمائش بھی ان کے پائے استقلال میں لغزش پیدا نہ کرسکیں۔سعد رفیق نے کہا کہ پروفیسر غلام اعظم نے 71کے بحران میں پاکستان کے اتحاد و یکجہتی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا اور اس کیلئے جان و مال کے کسی خطرے کی پرواہ نہ کی



جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سابق امیر پروفیسر غلام اعظم علیہ الرحمہ کا آخری دیدار

Thursday, October 23, 2014

نوبل ایوارڈ کے طلب گار

0 comments

قائداعظم محمدعلی جناح نے زندگی کے آخری ایام زیارت میں گزارے۔ ہم جیسے لوگ ان سے تعزیت بھی کرنے جاتے تو انہیں خوف آتا۔ تعزیت سے ہم واپس پلٹتے تووہ فاطمہ جناح سے کہتے کہ یہ میری طبعیت پوچھنے نہیں آئے بلکہ یہ جاننے آئے ہیں کہ میں کب مروں گا۔ علاج کی غرض سے قائد اعظم کراچی آتے ہیں تو ہم انہیں ایسی گاڑی میں بٹھادیتے ہیں جس کا انجربنجرہلا ہواہوتاہے۔وہ ایئرپورٹ سے نکل ہی پاتے ہیں کہ گاڑی خراب ہوجاتی ہے ۔قائد اعظم بروقت اسپتال نہیں پہنچ پاتے اور زندگی کی جنگ ایک سڑک پہ ہارجاتے ہیں۔ ہم وہ نمونے ہیں کہ جو اپنے گاڈ فادرکو تو اسپتال پہنچانہیں سکتے اور اٹھتے بیٹھتے اپنی حب الوطنی کے دوغلے اظہار کے لیئے قائد قائد کی رٹ لگانا شروع کردیتے ہیں۔ حلقہ ارباب ذوق کے وابستگان دنیاکو یہ بتاتے نہیں تھکتے کہ شکیب جلالی ایک عظیم شاعر تھا۔ ہم ایڑیوں کے بل کھڑے ہوکر اس کادیوان ’’روشنی اے روشنی‘‘لہرالہراکے کہتے ہیں کہ یہ دیکھو اس کے بغیر شاعری مکمل نہیں ہوسکتی۔ مگر جب زندگی میں اس نے اپنی صلاحیتوں کا صلہ مانگا تو ہم اسے رسوائیوں کے نکڑ پہ بٹھاکے اپنے اپنے کاموں کو چل دیئے۔ اس نے اپنی قیمت بتائی تو ہم نے اسے دھتکاردیا۔اور پھر وہ دن بھی آیا کہ اسی شکیب جلالی نے ریل کی پٹری پہ لیٹ کر زندگی کی اذیتوں سے خود کو آزاد کروالیا۔ ہمارے جبڑے نہیں دکھتے جب ہم دنیا کو بتاتے ہیں حبیب جالب ایک عظیم انقلابی شاعر تھا۔ زمانے کا درد اپنی آنکھوں میں سموکرہم نئی نسل کو آگاہی دے رہے ہوتے ہیں کہ جالب نے زندگی کے تیس برس سلاخوں کو دے دیئے تھے۔عوام کے لیئے جیئے اور عوام کے لیئے مرے تھے۔ ذولفقار علی بھٹو سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک کسی حاکم کا دربارنہیں گزراجس کے دربارمیں جالب کی پشت پہ کوڑے نہ برسائے گئے ہوں۔ سڑکوں پہ گھسیٹا گیا۔ گریبان ادھیڑاگیا۔ بال نوچے گئے۔ مگر ہم نے کیا دیا؟ جالب اور اس کے خاندان کوبے سروسامانی کے عالم میں موت کے پہلو میں بٹھاکے اپنی روایت نبھاڈالی۔ احمد فراز کو ہی دیکھ لیجیئے۔ رومانوی سلطنت کے وہ سفیررہے۔انہوںنے رومانوی طبع لوگوں کوبارش کی بوندوں سے لطف لینے کاڈھنگ دیا۔ کتابوں میں پھول رکھنے کا اسی نے دستور دیا۔ اردوزبان کو اپنے قلم کا مقروض کردیا۔ فیض احمد فیض اقبال اور جالب کی انقلابی ورثے کوتسلسل بخشا۔ جیلوں میں وہ گئے ۔ سات برس جلا وطنی کا درد جھیلتے رہے۔ لال مسجد کامعرکہ بپاہواتو دلی اور وائٹ ہاوس کوتڑیاں لگانے والوں نے زبان نکال کر آنکھوں پہ لپیٹ لی تھی جبکہ احمد فراز نے اپنے سارے تمغے اپنے سینے سے نوچ کر آمرکے منہ پہ دے مارے تھے۔ اسی لیئے ان کی زندگی آخری سانسیں بھی زیرعتاب ہی رہیں۔ ہم نے مگر کیا دیا۔؟ زمانے میں اس کا تماشا بنادیا۔ بیہودہ شاعریوں میں اس کا نام گھسیٹ ڈالا۔حالت یہ ہے اور شکوہ یہ کہ ایدھی صاحب کونوبل پرائز کیوں نہ ملا۔ 
اپنی کون کون سی عنایتوں کانوحہ پڑھاجائے۔ ذولفقار علی بھٹو کو ہم نے پھانسی کا پھندادیا۔ڈاکٹر عبدالقدیرخان کو ہم نے جیل کی سلاخیں اور بندشیں دیں۔ ڈاکٹر ثمرمبارک مندکو ہم نے گمنامیوں کا اسیربنانے کی کوشش کی۔صلاحیتوں کاہم قتل عام کرتے ہیں اور بیرونی ہاتھ ہماری صلاحیتوں کونکھارتاہے،تو ہم سازش ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ہم ڈاکٹر عطاوالرحمن کو صفرسے ضرب دے کردیوار سے لگادیتے ہیںاور چائناان کو سب سے بڑے قومی ایوارڈ سے نوازدیتاہے۔ جب ہم عدنان سمیع ، شان، فواد خان ،علی ظفر ، جواد بشیر، شکیل صدیقی ، روف لالہ، عرفان خان،نبیل شوکت علی اور امانت علی کوناکارہ پرزے قراردے چکتے ہیں تب ہندوستان انہیں کوڑے دان سے اٹھاکرہمیں بتاتاہے کہ ذرانم ہوتویہ مٹی بڑی زرخیزہے ساقی۔جو ہمارے ہاں لکس ایوارڈ نہیں جیتتے وہ پالش ہونے کے بعد آسکرایوارڈکے لیئے منتخب ہوجاتے ہیں۔وسیم اکرم،مشتاق احمد، ثقلین مشتاق، رمیز راجہ اور علیم ڈار جو دنیا میں اس وقت سینہ چوڑا کرکے گھومتے ہیں کیا انہیں یہ اعزاز یہ تمغے یہ پرائز ہم نے عطاکیئے ہیں؟ یہ ہوشیارہیں کہ خودکوپی سی بی کی چھینٹوں سے دور رکھاہواہے۔جب واپس اس طرف متوجہ ہوں گے تو ان کی عزت کا تماشا دیکھیئے گا۔ کوئی مجھے یہ نقطہ سمجھا دے کہ یہ جو اس ملک کے پچاس فیصد سے زیادہ شاعر ادیب کھلاڑی علما اسکالردانشوراساتذہ سائنسدان سیاست دان ڈاکٹر انجینئرفن کارصحافی اور تاجر خط غربت سے نیچے زندگی گزاررہے ہیں یہ کس کی کرم نوازیاں ہیں۔ ایم بی اے کیے ہوئے نوجوان جو ہوٹلوں میں ٹیبل صاف کررہے ہیں ان سے ان کا مستقبل کس نے چھینا ہے۔ ایک نوجوان بچی جو انگلینڈ سے بارایٹ لا کرکے آئی اسے اپنی زندگی کا پہلا کیس لڑنے سے پہلے کس نے قتل کیا ۔ اسکول سے گھرجانے والی بچیوں کو اغواکون کررہاہے ۔ کیا وہ درندہ صفت انسان قوام متحدہ کا ممبرتھاجس نے کراچی میںچوتھی کلاس کی ایک معصوم سی گڑیا کا ریپ کیاتھا۔ یہ جو تھرپاکرمیں بسنے والے بچے ایڑیاں رگڑرگڑکے مرگئے ان کاآب ودانہ کیایہودوہنودنے آکرچھیناتھا؟ پاکستان بھرکے تعلیمی اداروں کو گھوڑوں گدھوں اور بھینسوں کا اصطبل کس نے بنایا۔اسپتالوں کی یہ ابترحالتیں کن کی کرشمہ سازیوں کا نتیجہ ہیں۔ملک کو تباہی کے دہانے پہ لاکھڑاکرنے والے انہی ناہنجاروں کوہرالیکشن میں ووٹ کون دیتاہے۔ہم ہی دیتے ہیں یا پھرآسٹریلیاکی عوام آکرووسٹ کاسٹ کرکے چلے جاتے ہیں۔ غیرت کے نام پہ قتل کون کررہاہے۔ غریب پہ کتے کون چھوڑرہاہے۔ہاریوں اور کسانوں کامنہ کالا کرکے انہیں گلیوں میں رسوا کون کررہاہے۔ قتل کے پروانے کون بانٹ رہاہے۔کیا وہ ہم نہیں تھے جنہوں نے نشترپارک میں ایک جماعت کی پوری قیادت کو بم رکھ کراڑادیاتھا۔ وہ کون تھے جنہوں نے چہلم کے جلوس میں خون کی ہولی کھیلی تھی۔راجہ بازارپہ تیل چھڑکنے والے سرپھرے کیافرانس سے آئے تھے۔کیا اقوام متحدہ کے نمائندے یہاں آکررفاہی اداروں کے رضاکاروںکوخون میں تڑپاتے ہیں۔کیاوہ نوسربازعالمی اداروں کے افسران ہیں جو یہاں ایمبولینسوں سے مریضوں کو اتارکر کراس میں اسلحہ سپلائی کرتے ہیں۔ کیا وہ لوگ نیویارک سے تعلق رکھتے ہیں جو جناح اسپتال سول اسپتال اور مہران اسپتال میں گھس کرایمرجنسی وارڈمیں خون کی ہولی کھیلتے ہیں۔ کیا قائد اعظم کے مزارپہ شب درازیوں کے لیئے کمرے اور بینچ کرائے پہ مہیاکرنے والے ان لفنگوں کو اسرائیل نے مشن سونپ کربھیجا ہے؟۔ حالت یہ ہے اوررونارورہے ہیں نوبل پرائز کا؟ 
یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم کون ہیں۔ہم وہ ہیں جنہوں نے فروٹ کے ٹھیلے پہ کھڑے مولانا یوسف لدھیانوی جیسے عبقری عالم کو پیرانہ سالی میں گولیوں سے چھلنی کرڈالا۔ جنہوں نے حکیم محمدسعید جیسے نابغہ روزگارہستی پہ پورابرسٹ چلادیا۔جنہوں نے اپنے ہی استادمولانا حسن جان کے سینے میں خنجراتاردیا۔ جنہوں نے مولانا سرفرازنعیمی کے پیچھے جمعہ کی نماز پڑھ کرانہیںخود کش دھماکے میں اڑادیا۔ علامہ حسن ترابی جیسے مدبرسیاست دان اور راہنما سے جنہوں نے جینے کا حق ہی چھین لیا۔اب کیاان لوگوں کو تل ابیب میں تلاش کیا جائے جنہوں نے جاویداحمد غامدی جیسے اسکالرپہ عرصہ حیات تنگ کیاہواہے۔لاہورمیں المورد جیسے دانشکدے میں اگر آج سناٹابول رہاہے تو اس کا سبب ہم کس کو قراردیں۔ ہمارے ہاتھ اساتذہ کے خون میں رنگے ہوئے ہیں۔ ہم نے اپنے ہاتھوں سے معززججوں اور وکیلوں کے گلوں پہ چھریاں چلائی ہوئی ہیں۔ہم نے صحافیوں کوسڑکوں پہ گھسیٹاہے۔ ہم نے تاک تاک کرڈاکٹروں کونشانہ بنایاہے۔ ہم نے ادارے اور عبادت خانے ڈھائے ہیں۔ ہم نے احرام کی بیلٹوں میں منشیات اسمگل کی ہے۔ ہم نے صلاحیتوں کاقتل عام کیاہے۔ ہم نے تعلیم کا جنازہ نکالاہے اور پھر ہم کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ نے عبدالستارایدھی کو نوبل پرائز کیوں نہیں دیا۔؟
ایدھی صاحب نے ہمیں کیا دیا۔ اپنے والدین ،بچوں اور عزیزوں کی جن سڑی ہی لاشوں پہ ہم ابکائیاں لیتے ہیں انہی لاشوں کوایدھی صاحب نے ہاتھ لگایا۔ جن بچوں کو ہم ناجائزکہہ کر کوڑے کے ڈھیر میں پھینک آئےانہیں ایدھی صاحب نے زندگی کا امکان دے کر معاشرے کا کارآمدفردبنایا۔ ہماری ہی کوکھ سے جنم لینے والے جن بچوں کے بگڑے ہوئے ذہنی توازن کی ہم تاب نہ لاسکے انہیں ایدھی صاحب نے گلے لگاکران کے دکھ درداپنے سرلے لیئے۔ جن کی کوکھ سے ہم نے جنم لیا،جب ان کی کھانسیوں سے تنگ آکرہم نے انہیں گھروں سے دھکے دے کرباہرنکالا ، ان کی عزت نفس کو ایدھی صاحب نے اپنے ہاں امان دی۔ جن کا گھربارلٹ گیاانہیں ایدھی صاحب نے کندھادیا۔ ناکام حسرتوں کابوجھ اٹھائے اٹھائے پھرنے والوں کی آنکھوں سے دردچھلکا توایدھی صاحب نے ان کی اشکوئی کی۔ ایدھی صاحب نے خود اپنی ذات کو کیا دیا؟ وہی بڑی جیبوں والے دوسیاہ جوڑے ،ایک جناح کیپ اور گھسی ہوئی چپل؟ ۔بلاشبہ ایسے شخص کونوبل پرائزسے آگے کاکوئی ایوارڈملنا چاہیئے۔مگراس سے پہلے میراسوال ہے کہ ہم نے ایدھی صاحب کو کیا دیا؟ہم نے انہیںدو فتوے دیئے جن میں سے ایک میں قادیانیت کا تو دوسرے میں الحادکا پروانہ تھا۔ ہم نے ایدھی صاحب کوایک الزام دیا جس میں ہم نے انہیں مردہ فروش اور کفن چور ثابت کیا۔ہم نے ایدھی صاحب کو جلاوطنی دی ۔ہم نے ایدھی صاحب کوسزائیں دیں۔ہم نے انہیں دکھ دیئے اور درددیئے۔ عمرکے اس حصے میں ایدھی صاحب کوایک نیا اعزازہم نےدیا۔یعنی جس شخص نے ساری زندگی ہمارے درد کا درماں کیا،اسی کی دیوار پھلانگی اورخیرات لوٹ کرفرارہوگئے۔زندگی کے اس آخری اسٹیج پرشاید یہ آخری اعزازتھاجوہم ایدھی صاحب کو دے سکتے تھے،سو دے دیا۔ لیکن آیئے کہ ایک ماتم کریں اس نوبل پرائز کاجوانہیں نہیں ملا۔ افسوس اے ثناخوان تقدیس ملت! افسوس اے ثناخوانِ تقدیس ملت!
Farnood Alam

مشرف نے مجاہدین پکڑ پکڑ کر امریکہ کو بیچے

0 comments
جو آجکل مشرف کی انڈین میڈیا پر کی جانے والی تقریر کو اس کی محب وطن اور انڈین دشمنی سے جوڑ رہے ہیں ان کو پتہ ہونا چاہئے یہی وہ مشرف تھا جس نے کشمیری جہادی تنظیموں پر پابندی لگائی
یہی وہ مشرف تھا جس نے کشمیر میں باڑ لگوا دی
جو مجاہدین پاکستان سے وہاں لڑنے جایا کرتے تھے اب ان کا جانا اس باڑ کے لگنے کی وجہ سے تقریبا ناممکن ہوگیا ۔ 
اسی مشرف نے کشمیر میں لڑنے والی جہادی تنظیموں پر پاندیاں لگائیں اسی مشرف نے مجاہدین پکڑ پکڑ کر امریکہ کو بیچے
اسی مشرف نے امریکہ کو اڈے دیئے 
اسی مشرف نے نیٹو سپلائی دی
اسی مشرف نے ڈرون حملے کرنے کے لئے اپنی زمین دی 
اسی مشرف کے دور میں پہلا ڈرون حملہ پاکستان میں ہوا
اسی مشرف کی وجہ سے افغانستان میں طالبان کی حکومت ختم ہوئی 
اسی مشرف کی وجہ سے افغانستان کے لاکھوں لوگ شہید ہوئے۔ 
اسی مشرف کی وجہ سے ہزاروں افغانی بہنوں کی عصمت دری ہوئی
اسی مشرف کی وجہ سے میرے جیسے لوگوں میں فوج کی نفرت پیدا ہوئی
اسی مشرف کی وجہ سے فوج اور عوام آپس میں لڑ پڑی
اسی مشرف کی وجہ سے طالبان اور فوج آپس میں لڑ پڑے
اسی مشرف نے امریکہ کو مجاہدین بیچ کر ڈالر کمائے۔    
یار یہ
کیسی عجیب قوم ہے جو صرف ایک انٹرویو سے بھسل گئی ؟؟

فساد کے پیچھے"مولویوں" کا ہاتھ

0 comments
دنیا میں جہاں جہاں فساد مچا
سب کے پیچھے "مولویوں" کا ہی ہاتھ تھا۔
حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے نکالنے کیلیئے دل میں وسوسہ ڈالنے والا شیطان بھی پہلے مولوی ہی تھا۔
حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی قونچیں بھی مولویوں نے کاٹیں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر موجودگی میں بچھڑا بھی "مولوی سامری" نے ہی بنایا۔
اور تو اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی بھی مولویوں نے ہی چڑھایا۔
محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا وادئ شعب میں بائیکاٹ کس نے کیا تھا؟ مولویوں نے
صلح حدیبیہ کا معاہدہ توڑنے والے بھی مولوی تھے۔
ہلاکو خان، چنگیز خان دونوں مولوی تھے۔
تاتاری فتنہ تو سُنا ہی ہوگا آپ نے؟ وہ لوگ بھی بعد میں مولوی بنے۔
اوہو یاد آیا۔ دوسری جنگ عظیم میں مولوی ہٹلر نے کیا طوفان مچایا تھا۔ اُف
جاپان پر بم بھی مولویوں نے ہی گرایا۔
ہندوستان میں مولویوں نے ہی ہندؤوں کو ذات پات میں بانٹا ورنہ کتنا اتحاد تھا ان میں۔
فلسطین، عراق، چیچنیا، بوسنیا ، افغانستان میں خون کی ندیاں بہانے والے بھی مولوی۔
ڈرون اٹیک کرنے والے بھی مولوی۔
کیا کیا بتاؤں میں؟
بس سمجھ لیں!
یہ مولوی ہوتے ہی فسادی ہیں۔
شکر ہے یہودی اور عیسائیوں کو ہماری فکر ہے۔
ورنہ تو ہم کب کےان مولویوں کے ہاتھوں بھینٹ چڑھ چکے ہوتے!!!
تحریر:
قاضی محمد حارث

Wednesday, October 22, 2014

پاکستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ

0 comments
دیسی سیکولر اور لبرل مذہب اور مذہب پسندوں کو ترقی کا دشمن سمجھتے ہیں اور جگہ جگہ اس پر لکھتے اور تقریریں کرتے نظر آتے ہیں ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ خود ہیں۔ ۔کوئی ان سے پوچھے کہ یونیورسٹیز کالجز اور دوسرے سارے سائنسی ادارے مولوی نہیں بلکہ تمہارے حوالے کیے ہوئے ہیں، اگر پاکستان میں ان اداروں سے فائدہ نہیں ہورہا تو اسکا ذمہ دار مولوی کیسے ہے؟

دوسری طرف عملی میدان میں بھی انکا کردار یہ ہے کہ یہ پاکستان کے دفاعی منصوبوں کے سب سے بڑے نقاد اور غیروں کے اشارے پر ترقی کے چلتے منصوبے بھی رکوانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ پرسوں کی اخباری رپورٹ ہے کہ کینپ 2، 3 اور 4 نامی نیوکلیائی بجلی کے منصوبوں پر کام کو سندھ ہائی کورٹ نے ڈاکٹر پرویز ہود بھائی اور شرمین عبید چنائے کی درخواست پر روک دیا ہے۔
مجوزہ منصوبے کا ہر یونٹ 1100 میگا واٹ بجلی پیدا کریگا۔ درخواست گذاروں کا موقف ہے کہ "اے پی-1000" نیوکلر ری ایکٹر دنیا میں کہیں استعمال نہیں ہوا لہذا تجربے کرنے سے باز رہا جائے جبکہ حقیت یہ ہے کہ چین میں اس قسم کے چار ری ایکٹر تکمیل کے مراحل میں ہیں اور خود امریکہ کے "نیوکلر ریگولیٹری کمیشن" نے 2012ء میں اس قسم کے دو ری ایکٹرز کے تعمیر کی منظوری دی تھی اور آج کل چار ری ایکٹرز پر کام جاری ہے۔ ساتھ ہی بلغاریہ اور برطانیہ بھی "اے پی-1000" کے منصوبے پر کام کررہے ہیں۔
ہود بھائی تو کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ موصوف ملائیت دشمنی میں پی ایچ ڈی کرکے ڈاکٹر بنے، اٹھتے بیٹھے اپنی نا اہلی کی ذمہ داری مُلا پر ڈالتے اور ہر وقت اسلام پسندوں کو مطعون کرتے نظر آتے ہیں ۔ یہاں سوال یہ کیا جاسکتا ہے کہ کیا کینپ کے مجوزہ منصوبوں کا آغاز بھی کسی مُلّا نے کیا ہے جو ہود بھائی اسے روکنے کے لیے تاؤلے ہوئے جارہے؟ اور ایسڈ فیم آسکر ونر شرمین صاحبہ کو کون نہیں جانتا؟ حیرت یہ ہے کہ یہ محترمہ بھی اس مسئلے میں کود پڑی ہیں، امید ہے مستقبل میں ملالہ سمیت مغرب کے دوسرے سارے وظیفہ خوار بھی پاکستان کی اس ' ترقی' میں اپنا کردار ادا کرتے نظر آئیں گے۔۔
ہم بے بس بے کس ، اپنے خون سے نچوڑے ٹیکسوں سے انہیں پچھلے پینسٹھ چیاسٹھ سالوں سے پال رہے ہیں جو اپنی جگہ ایک المیہ ہے مگر اصل المیہ وہ ہے کہ ہود بھائی جیسے متواتر پڑھے لکھے پاکستانی ٹیلنٹ کو احساس کمتری کا سبق دے رہے ہیں ۔!!
یہ بات واضح ہے کہ ہود و شرمین وغیرہ نے عدالت کو اس معاملے میں اہل کراچی یا پاکستان کی محبت میں نہیں گھسیٹا۔ بلکہ پاکستان مخالف طاقتوں کی آشیر باد سے یہ مسئلہ الجھایا ہے۔ ہمارے یہ نام نہاد ترقی پسند اور 'عظیم سائنسدان' ایک سائنسی پروجیکٹ کو رکوانے کی کوششوں میں لگے ہوئے دوسری طرف ہمارا پڑوسی ملک مریخ تک جاپہنچا ہے ۔

Tuesday, October 21, 2014

ساری دنیا مجھے شیخ الاسلام کہتی ھے ، اور تم بد بخت !

0 comments
" انقلاب اس ملک کا مقدر بن چکا ہے ، کوئی مائی کا لعل اس کو نہیں روک سکتا ''
کسی ماں نے وہ بچہ نہیں جنا جو مجھے راستے سے ہٹا سکے .( میں راستے کا پتھر نہیں ، نحوست ہوں )
سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے خلاف کاٹی جاتے ، دونوں شریف مستعفی ہونے کا اعلان کریں -
جو دھرنے سے واپس جاتے اس کی سزا موت ہے 
میرا جینا مرنا دھرنے والوں کے ساتھ ھے 
------بہت ہوچکا ---- (اب کمی کمینوں کو بھی موقع ملنا چاہیے
لاکھوں کا جلسہ میں بھی کرسکتا ھوں ، مجھ میں کیا کمی ہے ؟
مقابلہ کر کے دیکھ لو ، عالم رویا میں مجھے لفاظی کے مقابلے میں بلامقابلہ اول انعام کا حقدار قرار دیا جاچکا ھے .
ساری دنیا مجھے شیخ الاسلام کہتی ھے ، اور تم بد بخت ! مجھے گھانس تک نہیں ڈال رہے؟ -- 
تم رسوا ہو گے------- ( جس طرح ،میں ہورہا ہوں

سرخوں نے پھر ایگریکلچر یونی ورسٹی پشاور کوخون سے نہلا دیا

0 comments
طالب علم  الطاف عالم کی لاش ہسپتال میں    

وہ تو علم کی تلاش میں نکلا تھا ... اسکا تو خیال تھا کہ جہاں علم ہوگا وہاں امن بھی ... اسکے آنکھوں میں تو روشن مستقبل کے سپنے تھے ... وہ جو اپنے بوڑھے والدین کی امیدوں کا مرکز ، جس نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد کئےبے سہاروں کا سہارا بننا تا۔ جس کے دل میں اس وطن کیلئے کچھ کرنے کے ارمان تھے ،، آج ایگریکلچر یونیورسٹی مین سرخ دہشتگردوں نے اس معصوم طالبعلم کے خون سے ہاتھ سرخ کرلئے... علم و امن کے دشمن پختون ایس ایف کی وبا کو ختم نہ کیا گیا تو جانے کب تک جامعات کا تقدس پامال ہوتا رہے گا، کتنے بے گناہوں کا خون بہے گا، کتنے گھر اجھڑتے رہینگے ؟؟؟










الطاف عالم  اپنے دستوں کے ہمراہ 











بچوں کی تعليم و تربيت ايک بنيادی فريضہ ہے

0 comments


جبکہ آج کااکثر مسلمان طبقہ اپنی اولاد کو اچھی باتوں کا حکم نہيں ديتا‘ اپنی اولاد اور بيوی کو خوش کرنے کے لئے دين وشريعت کی پرواہ نہيں کرتا‘ بلکہ الٹا ان کی ناجائز خواہشات کو پورا کرکے اللہ اور اس کے رسول کو ناراض کرديتا ہے-

آپ نے ہر انسان پر کسی نہ کسی درجہ ميں ايک ذمہ داری عائد کی ہے، اور فرمايا:

”‌کلکم راعٍ وکلکم مسئول عن رعيتہ

يعنی”‌ تم ميں سے ہرايک نگران ہے اور ہرايک سے اس کے ماتحتوں بارے ميں پوچھاجائے گا“-

آج معاشرہ ميں ہرطرف بے دينی کا سيلاب ہے‘ مسلمانوں کے بچوں کے عقائد بگڑ رہے ہيں‘ ان کے اعمال واخلاق تباہ ہورہے ہيں اور ہم مسلمان والدين ہيں کہ ہميں اس کی کوئی فکر اور پرواہ ہی نہيں۔

اولاد کے عقيدہ ، اعمال ، اخلاق اور تعليم وتربيت کی فکر بہت ضروری ہے ۔ عقائد کا تعلق ايمان سے ہے ، اعمال کا تعلق اسلام سے ہے جبکہ اخلاق کا تعلق دين سے ہے، قرآن کريم ميں ہے کہ انبياء کرام عليہم السلام نے بھی اپنی اپنی اولاد کی فکر کی

حضرت يعقوب عليہ السلام نے دينی فکر کرتے ہوئے اپنی اولاد سے سواليہ انداز ميں استفسار کيا کہ: 

”‌ ما تعبدون من بعدي“ -(البقرہ:133)
( ميرے بعد تم کس کي بندگي کروگے؟)

يہ اولاد کے ايمان کی فکر ہے- اسی طرح حضرت ابراہيم عليہ السلام اور حضرت يعقوب عليہ السلام نے اپنی اپنی اولاد کو وصيت کی:
”‌يٰبني ان اللہ اصطفي لکم الدين فلاتموتن الا وانتم مسلمون“- (البقرہ:132)

ترجمہ:”‌ميرے بيٹو اللہ تعاليٰ اس دين (اسلام) تمہارے لئے منتخب فرمايا ہے سو تم بجز اسلام کے اور کسی حالت پر جان مت دينا“-


حضرت اسماعيل عليہ السلام کااپنی اولاد کے متعلق يہ ارشاد:
”‌وکان يأمر اہلہ بالصلوٰة والزکوٰة“- (مريم:55)
ترجمہ:”‌اوراپنے متعلقين کو نماز اور زکوٰة کا حکم کرتے رہے تھے“- 

الله پاک آج کے مسلمان والدین کو بھی یہ توفیق عطا کرے کہ وہ اپنی اولاد کے عقيدہ ، اعمال ، اخلاق اور تعليم وتربيت کی فکر کریں - آمین