Friday, November 14, 2014

نوجوانوں کی ایک صحت مند مثبت سرگرمی

0 comments
 سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں کے طلباء اور طالبات کو صحت مند تخلیقی سرگرمیاں فراہم کرنے کے علاوہ عام نوجوانوں کو بھی مثبت سرگرمیوں میں مصروف کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ نوجوان ہمارے ملک اور معاشرے کی واضح اکثریت ہیں۔
عام نوجوانوں کی ایک صحت مند مثبت سرگرمی شجر کاری بھی ہو سکتی ہے۔
اس شعبہ میں ہم سنگا پور کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جہاں ہر بچے کی پیدائش پر اس کے نام کا ایک درخت لگایا جاتا ہے۔ اس درخت کی پرورش حفاظت اس بچے کے ذمے ہوتی ہے۔ تصور پایا جاتا ہے کہ اگر خدانخواستہ بچہ وفات پا جائے تو وہ اس کے نام سے اگائے یا لگائے گئے درخت میں زندہ ہو گا۔ اس طریقے سے سنگا پور نے اپنے ملک کو سرسبز اور شاداب بنا لیا ہے۔
قدیم مصر کی تہذیب سے پتہ چلتا ہے کہ جب کسی لمحہ میں بیٹی پیدا ہوتی تھی تو اس کے نام کے سات درخت لگائے جاتے تھے۔ بیٹی کے ساتھ وہ سات درخت بھی جوان ہوتے تھے اور بیٹی کی شادی پر وہ درخت اسے بطور جہیز کاٹ کر دیئے جاتے تھے کہ اپنے استعمال میں لا سکے۔ اس طریقے سے وادی نیل کے صحراؤں کو سرسبز و شاداب کیا گیا تھا۔

پاکستان کے نوجوانوں کو شجر کاری کے ذریعے موسمی انقلاب برپا کرنے پر آسانی سے مصروف کیا جا سکتا ہے

ان پر آدھی رات میں بمباری کرو

0 comments
ان پر آدھی رات میں بمباری کرو کہ یہ نکل کر اپنے گھروں سے بھاگیں ۔۔۔
، ان کو اپنے آبائی علاقے چھوڑنے کے لئے چند گھنٹے کا نوٹس دو اور جب یہ تین تین دن پیدل چل کر کسی محفوظ جگہ پہنچیں تو آٹھ گھنٹے لمبی قطاروں میں کھڑے کر کے ان کی تفتیش کرو 
۔۔کبھی ان کو مارنے کے لیئے اور کبھی ان کی امداد کے نام پر پیٹ، جیب اور اکاونٹ بھر بھر کے ڈالر کھاو ۔۔۔ اور انہیں راشن کے لئے گھنٹوں لمبی قطاروں میں لگا کر رسوا کرو ۔۔
زرا سی بے ضابطگی پر انہیں ڈنڈوں سے پیٹو ۔۔ اور اگر کبھی ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے اور یہ ردِ عمل کی جرات کریں تو ان کے پتھروں کے جواب میں ان پر گولیاں چلاو 
اور انہیں سینکڑوں کی تعداد میں گرفتار کرو ۔۔۔۔۔ کیونکہ یہ وہ نہیں جن کو چھڑانے کے لئے کوئی خان صاب بذاتِ خود تھانے پر ہلہ بول دے گا ۔۔۔۔
یہ ہے آئی ڈی پیز کے لئے ہماری پالیسی ۔۔۔ ؟
بشکریہ عائیشہ غازی



Thursday, November 13, 2014

کتابوں کا ذوق و شوق زوال پذیر کیوں؟

0 comments

حرفوں کے رسیا کیا ہوئے
کتابوں کا ذوق و شوق زوال پذیر کیوں؟

محمد ارشد سلیم
برنس روڈ (کراچی )پر تقریباً ہر عمر اور رنگ و نسل کے لوگوں کا ہجوم تھا۔۔ چھوٹے بڑے اور امیر غریب اپنی اپنی استطاعت کے مطابق انواع و اقسام کے مشروبات‘مختلف کھانوں اور طرح طرح کے کباب سے فیضیاب ہو رہے تھے۔ فیض،اقبال،غالب اور میر برنس روڈ سے ذرا آگے ریگل چوک کے فٹ پاتھوں پہ پکارتے پھر رہے تھے:
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
کباب کے یہ اسیر کتاب سے کوسوں دور تھے۔۔۔”بانگ درا“ کوئی نہیں سن پا رہا تھا۔۔۔”ضرب کلیم“ کا کسی پہ اثر نہیں ہو رہا تھا۔۔۔ اور”نسخہ ہائے وفا“ سے عہد وفا باندھنے کا بھی ان میں کوئی آرزو مندنہ تھا۔ہر اتوار صبح سے شام تک ریگل اور فریئر ہال کے فٹ پاتھوں اور اسٹالز پر فلسفہ،تاریخ عالم، سیاسیات ، سماجیات ، نفسیات اورمذاہب عالم پر موجودہ اور عہد رفتہ کی مقبول ترین کتابیں صدائیاں دیتی ہیں :
آواز دے کہاں ہے۔۔۔؟

ہومر،ورجل ،کالی داس، رحمان بابا، سچل سرمست، وارث شاہ، شیکسپیئر ،گوئٹے، ٹالسٹائی، چیخوف ،گورکی، موپاساں،سارتر ،کرشن چندر ، سعادت حسن منٹو اور ہزارہا کہانی کار،شاعر، دانشور اور فلسفی تو گویا اقبال بانو کے سنگ غزل سراہیں:
دل توڑنے والے دیکھ کے چل
ہم بھی تو پڑے ہی راہوں میں
فٹ پاتھوں اور اسٹالز کی زینت بننے والی پرانی خستہ وبوسیدہ اور ردی کی صورت میں فروخت شدہ کتابیں ہوں یا نئی اور دیدہ زیب کتابیں۔۔ہماری ان سے دوری بڑھتی جا رہی ہے، حالانکہ تاریخ شاہد ہے کہ وحشی ادوار کو نکال کر دنیا پر ہمیشہ کتابوں نے حکمرانی کی ہے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم وحشی دور میں جی رہے ہیں۔۔؟ یا صرف پاکستانی اور تیسری دنیا کے چند دیگر ممالک کا معاشرہ دور وحشت میں قدم رکھ چکا ہے۔۔؟

عالمی شہر ت یافتہ امریکی ادیب مارک ٹوئن نے شاید ہمارے لئے کہا ہے کہ ”جو شخص اچھی کتابوں کا مطالعہ نہیں کرتا وہ ایسے شخص سے بدتر ہے جو پڑھنا نہیں جانتا“چھوٹی بڑی عوامی لائبریریاں کیوںاجڑی اجڑی نظر آتی ہیں؟اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی لائبریریوں میں ویرانی کے سائے کیوں گہرے ہوتے جا رہے ہیں؟
معاشرے کا علم دوست طبقہ، حساس طبع افراد، ادب کا ذوق رکھنے والے قارئین، قلم کار اور دانش ور کتاب کلچر کے عدم وجود کا رونا رورہے ہیں، جبکہ پورے سماج کی کتاب سے کنارہ کشی اور نئی نسل کی کتاب سے دوری کی شکایت بہت عام ہو چکی ہے ، اگر حقیقتاً ایسا ہی ہے تو پھر یہ جاننا از حد ضروری ہے کہ کتابوں کا ذوق و شوق زوال پذیر کیوں ہے؟
ممتاز نقاد وشاعر پروفیسر سحر انصاری ،کتابوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو اس کا ایک سبب گردانتے ہوئے ناشرین کو بھی اس کا ذمہ دار ٹھراتے ہیں، انہوں نے موضوع پر مزید روشنی ڈالٹے ہوئے کہا:”مہنگی کتابوں نے قارئین کی تعداد گھٹا دی ہے، ادیب کو بھی اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا‘ادیب غریب تر اور ناشر امیر تر ہوتا جا رہا ہے۔ کتابوں کے ذوق میں کمی کے اور بھی بہت سارے اسباب ہیں، مثال کے طور پر ہمارا تعلیمی نظام اور اساتذہ،گھریلو اور خاندانی ماحول‘جس میں کتاب کو سب سے کم اہمیت دی جاتی ہے، لوگ ہزار کا برگر اور پانچ ہزار کا جوگر خرید لیتے ہیں مگر کتاب نہیں خریدتے، کیفے کلچر کا خاتمہ بھی اس کا ایک اہم سبب ہے

پاکستان کی ادبی تاریخ میں بلاشبہ ٹی ہا
سز اور کیفے کلچر کے کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا ، جس نے نہ صرف ادیبوں کے درمیان باہمی روابط اور نئے ادیبوں کی تربیت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ، بلکہ کتاب دوست اور ادب ذوق قارئین کی تعداد میں بھی اضافہ کیا تھا۔معروف ترقی پسنددانشور راحت سعید نے اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
کتاب کلچر جو پہلے نظر آتا تھا وہ اب نہیں رہا مگر بہت زیادہ مایوس کن صورتحال بھی نہیں ہے، کتابوں کا ذوق و شوق لوگوں میں اب بھی ہے لیکن ہوا یہ ہے کہ تفریح اوقر معلومات کے دوسرے میڈیم بھی آگے ہیں‘ المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کتب بینی کا ذوق و شوق اسکول کی سطح پر پروان نہیں چڑھایا جاتا، اگر ہم اپنے گھروں میں کتب بینی کا شوق، بچوں میں پروان چڑھاتے تو شاید پھر ایسی صورتحال نہ ہوتی۔ لوگوں کو کتاب اور ادب کی طرف راغب کرنے کےلئے ہمارے ہاں ایسا ادب تخیلق ہونا چاہئے جو عوام کی خواہشوں اورا میدوں کا مرکز بھی ہو اور مظہر بھی

اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو ادیبوں نے خود بھی وقتاً فوقتاً اپنے قائرین سے رشتہ توڑا ہے، کبھی ادب برائے ادب کے نام پر تو کبھی مخالفت برائے مخالفت کی ترنگ میں انداز و بیان اور اسلوب کے نت نئے تجربات کی صورت میں۔

ملک کے معروف پبلشر آصف حسن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا:”کتاب کلچر کا زوال دراصل خیالات و نظریات کا زوال ہے اور کتاب کلچر تو ہم خود ہی ختم کر رہے ہیں، اخبارات اور میگزین میں کتابوں پر تبصرہ کےلئے مخصوص تھوڑی سی جگہ بھی اشتہار ملنے کی صورت میں غائب کر دی جاتی ہے، ٹیلی وژن چینلز پر دنیا جہاں کے موضوعات پر بحث و مباحثے ہوتے ہیںِ، سیاستدانوں کے جھوٹے سچے بیانات زور و شور سے دہرائے جاتے ہیں لیکن کتابوں پر بحث و مباحثہ تو دور کی بات دو جملے بھی بولے نہیں جاتے“۔انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں بتایا : ”کتابوں کا مہنگا ہونا لائبریریوں کی کمی کا رونا ،روناکتاب نہ پڑھنے کے بہانے ہیں، ذاتی طور پر کتابوں کا ذوق و شوق ہی مجھے اس پیشے کی طرف لے کر آیا ہے ، ہمارے ادارے نے ڈسکا
نٹ لینا سکھایا خود بھی ڈسکانٹ دیتے ہیں اور د کانداروں کو بھی ہماری تاکید ہوتی ہے کہ ہماری کتابیں حتی الوسع رعائتی قیمت پر دی جائیں“۔

کتابوں کی قیمتوں،چھپائی کے معیار اور نئے قلم کاروں کی حوصلہ افزائی نہ کرنے کے حوالے سے پبلشرز بھی شکایات اور تنقید کی زدمیں ہیں، پبلشر کاغذ کی خریداری سے لے کر کتاب کی چھپائی کے تمام مراحل تک ہر جگہ خوشی سے پیسے دیتے ہیں لیکن جو خون دل دے کر الفاظ و خیالات کی نئی دنیائیں تخلیق کرتے ہیں انہی کو معمولی سی رقم دینے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔

بنیادی طور پر ہمارا معاشرہ علم دشمن معاشرہ ہے۔۔!“ اردو یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے ڈاکٹر توصیف احمد خان اپنے تاثرات و حساسات بیان کر رہے تھے:”اس علم دشمنی کے نتیجے میں لکھنے پڑھنے کا رحجان کم ہو رہا ہے ، غربت بھی کتاب دوستی کے راستے میںرکاوٹ ہے، کتابیں مہنگی ہیں، ایک وجہ ہماری نئی نسل کا برگر ایجوکیشن کی طرف جانا ہے، اساتذہ بھی اپنی ذمہ داریاں صحیح طور پر ادا نہیں کر تے ہیں، ایک اور بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں تحفے تحائف دینے کا رحجان نہایت کم ہے اگرچہ مذہب میں اس کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے اور پھر خاص طور پر تحفے میں کتاب دینے کا رحجان تو بالکل ہی نہیں ہے“۔

اردو یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے طالب علم عاصم عزیز بنیادی طور پر گلگت سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے اس حوالے سے بتایا:”مجھے گلگت میں یہاں کی نسبت کتابوں کا شوق زیادہ تھا اور پڑھنے کا موقع بھی کچھ زیادہ ہی ملتا تھا مگر ’گردش وقت سے حالات بدل جاتے ہیں‘ کے مصداق اب وقت کی کمی آڑے رہتی ہے اسلئے کورس کی کتابوں میں سے بھی اکثر پڑھ نہیں پاتا، جس کی وجہ سے نوٹس کا سہارا لیتا ہوں اور یا پھر انٹرنیٹ پر مطلوبہ موضوعات Serchکر لیتا ہوں“۔طالب علموں کی تن آسانی، شارٹ کٹ کی تلاش اور صرف امتحان میں کامیابی کے نقطہ نظر سے ”پڑھنا“ عاصم عزیز جیسے ہزاروں طلباءو طالبات کا وطیرہ اور طریقہ ہے جو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلہ محض ڈگری کے حصول اور بالخصوص یونیورسٹی کی ”آزاد فضا
ں“ سے لطف اندوز ہونے کےلئے لیتے ہیں۔

طلباءوطالبات بڑی تعداد میں لائبریری آتے ہیں مگر صرف بیٹھنے اور گھنٹوں بحث و مباحثے کے لئے ، پڑھنے والے تو اب رہے نہیں“ اردو یونیورسٹی ‘عبدالحق کیمپس کے لائبریرین مظہر قیوم خاصے رنجیدہ دکھائی دے رہے تھے ، انہوں نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا:”دوسری بات یہ کہ ہماری لائبریری میں نئی اور تازہ شائع ہونیوالی کتابیں با لکل نہیں ہیں،جن کتابوں کی ضرورت ہوتی ہے و ہی کتابیں ہمارے ہاں دستیاب نہیں ہوتی، طالب علم نوٹس پر انحصار کرتے ہیں اور گذشتہ چند برسوں سے انٹرنیٹ پر ہی زیادہ انحصار کرنے لگے ہیں“اچھی کتابوں کا مطالعہ دل کو زندہ اور دماغ کو بیدار و بے داغ رکھتا ہے، تعلیمی اور معاشرتی نصاب سے کتابوں کا مطالعہ خارج ہوجائے تو دل مردہ ہو جاتا ہے اور دماغ لسانیت ، فرقہ واریت ، تشدد اور عدم برداشت جیسے ہزاروں داغ دھبوں کا مسکن بن جاتا ہے۔

جامعہ کراچی کے شعبہ مطالعہ پاکستان میں تحقیق سے وابستہ صائمہ حیات نے بتایا:”جو لوگ کتابوں کے رسیا ہوتے ہیں ان کا ذوق و شوق کبھی زوال پذیر نہیں ہوتا،اگر ایسا ہوتا تو اب تک کتابیں پڑھنے اور چھپنے کا سلسلہ بند ہو چکا ہوتا۔ جہاں تک کتابوں کے ذوق اور کتاب کلچر کے پروان چڑھنے کی بات ہے تو پاکستان جیسے ملک میں کتاب کلچر کیا پروان چڑھے گا ،جہاں گذشتہ تین عشروں سے کلاشنکوف کلچر پروان چڑھتا آرہا ہے۔ہمارے ہاں ڈرائینگ رومز اورگھروں کی سجاوٹ کےلئے بہت ساری چیزوں کا سہارا لیا جاتا ہے مگر کتابوں کےلئے کوئی جگہ ہی نہیں ہے۔ہم لوگ کھانے پینے کی طرف زیادہ مائل ہیں، کھانے پینے کے مقامات اور کیفے بے شمار ہیں مگر کتاب کیفے کا کوئی وجود نہیں“۔

منفرد طرز احساس کے ترقی پسند شاعرو مضمون نگار توقیر چغتائی کا خیال ہے:”کتابوں کا ذوق و شوق یقیناً زوال پذیر ہے، اصل میں کتب بینی کے شعور اور ادراک کی دو جگہیں ہوتی ہیں، گھر اور اسکول یاکوئی بھی تعلیمی ادارہ۔ چونکہ کچھ عرصے سے گھریلو نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ہر شخص تنہا اور اکیلا ہے ا س لیے بچوں کی تربیت مناسب خطوط پر نہیں ہو رہی اور اسکولوں میں بھی وہ روایتی سلسلے ناپید ہو چکے ہیں۔ بحث و مباحثے اور بزم ادب کا انعقاد اور دیگر سرگرمیاں مفقود ہو چکی ہیں ، لائبریری کا تصور اچھے اچھے اسکولوں میں بھی نہیں ہے اور اگر لائبریری ہے تو کتب بینی کی ترغیب نہیں دی جاتی“گھٹا ٹوپ تاریکی اور اندھیرا نوید سحر کی علامت ہوتا ہے، سماج کےلئے درد دل رکھنے والے کبھی کبھی مایوس اور نا امید ہو جاتے ہیں مگر صدا ے غیب بھی تو وہی سنتے ہیں:

سحر قریب ہے دل سے کہو نہ گھبرائے۔۔۔!

اگر عام لوگوں اور عام کتابوں سے ہٹ کر ادب کی بات کی جائے تو پھر معاملہ ذرا الگ ہے“ ایڈورٹائزنگ و ٹیلی وژن پروڈکشن کے ماہر اور بچوں کے معروف ادیب سلیم مغل اپنے خیالات کے اظہار کے وقت خاصے پرامید نظر آرہے تھے: ” ادیب اور ادب ذوق کے حامل ہر حال میں ہر قسم کی اچھی کتابیں پڑھتے ہیں، مجموعی طور پر بات کریں تو کتابوں کے ذوق میں زوال پذیری، علم کے ذرائع میں اضافہ کی وجہ سے ہے، اس کے علاوہ خواندگی کی شرح میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا ،شاہکار کتابوں کے سستے ایڈیشن بھی اب دستیاب نہیں ہوتے۔ کتابوں کی پیشکش اچھی نہیں ہوتی،یہ بھی لوگوں کو راغب نہ کرنے کی ایک یقینی وجہ ہے، ایک اور بنیادی سبب علم کا Classifiedہونا بھی ہے“۔

بات کتابوں کے مطالعہ کی ہو ، شعر و ادب کے ذوق کی ہو ، سماجی علوم اور فلسفہ پر دسترس رکھنے کی ہو، شعبہ فنون میں نت نئی اختراعات اور سائنس کے میدان میں ایجادات کی ہو، ہر شعبے میں اور ہر ڈگر پر ایٹم بم رکھنے والے پاکستان کا معاشرہ زوال پذیر ہے۔

جہاں تک کتاب کلچر کے عدم وجود یا کتابوں کے ذوق و شوق کے زوال پذیر ہونے کا تعلق ہے اس نے پورے سماجی ڈھانچہ کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے، تنگ نظری، تشدد اور مذہبی اور فرقہ وارانہ انتہا پسندی کے ساتھ ساتھ بے تحاشا منفی جذبات اور رویئے فروغ پا چکے ہیں، ذہن تنگ اور تاریک ہو چکے ہیں اور تخلیقی نشو و نما کے دروازے بند ہوچکے ہیں‘۔ ایسے حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ کلرکوں کی فوج اور بیوروکریٹس کی اشرافیہ پیدا کرنے والے نام نہاد نظام تعلیم کی جگہ نئے خطوط پر ایک ایسا تعلیمی نظام وضع کیا جائے جو لکیر کے فقیر پیدا کرنے کے بجائے تخلیقی اور تحقیقی ذہن پیدا کرے ۔

٭غربت کے خاتمے کےلئے منصفانہ معاشی نظام کورواج دینا بھی وقت کی آواز اور حالات کا تقاضا ہے۔

٭ تمام پبلک پارکس اور دیگر عوامی مقامات پر حکومتی سرپرستی میں کتاب گھر قائم کئے جائیں۔

٭اس کے علاوہ اگر حکومت تمام تعلیمی اداروں، پبلک لائبریریوں اور چھوٹے بڑے شہر کی کسی ایک جامع مسجد میںنئی طبع ہونے والی ایسی کتابوں کی فراہمی کو یقینی بنائے جو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں اور جو ملکی و عالمی ادب اور سیاسی و سماجی اور سائنسی موضوعات پر مبنی ہو تو یقین مانئے کہ پھر کتاب کلچر کے راج و رواج اور کتابوں کے ذوق و شوق کو پروان چڑھنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگے گی۔

عمران خان کے نام کینیڈا سے ایک خط :

0 comments

مائی ڈئیر کزن!
میں یہاں کینیڈا میں خیریت سے ہوں اور تمہاری خیریت بھی اس سے نیک مطلوب ہے جس کی جھوٹی قسمیں میں کھاتا رہتا ہوں....
دیگر احوال یہ کہ یہاں کینیڈا کا موسم بہت پیارا ہے....
وہاں اسلام آباد میں تو میرا رنگ کالا ہو چلا تھا...
ایک تو گرمی..اوپر سے اس قدر بدبو...
وہ تو شکر ہے میں نے کنٹینر میں بہت ہی مہنگا "ایئر فریشنر" رکھا ہوا تھا...
مجھے حیرت ہے کہ پاکستانی قوم اتنی گرمی اور بدبو میں کیسے جیتی ہے...
اور سناؤ.....
کچھ معاملہ آگے بڑھا ...
یا وہیں رکا ہوا ہے...
میں اب بھی تمہیں مشورہ دوں گا کہ تم بھی میری طرح کوئی ڈیل کرکے یہاں آجاؤ...
یا پھر لندن چلے جاؤ....
ابھی دو پیسے مل جائیں گے..بعد میں اس سے بھی رہ جاؤ گے....
اس وقت "انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ " اور "لوکل اسٹیبلشمنٹ" دونوں نواز کو ہٹانے کے موڈ میں نہیں لگ رہیں...
بھلا عوام کی طاقت سے بھی کبھی کوئی حکومت گئی ہے؟
یہ پاکستان ہے میری جان!
پاکستان....کوئی یورپی ملک نہیں...
اور ہاں اس چوہدری شجاعت اور پرویز الہی سے کہنا کے مجھے معاف کریں ....
وہ دونوں کئی دن سے میرا فون بھی نہیں اٹھا رہے...
ان سے کہنا ایسی بھی کیا ناراضگی...
ہر شخص کو حق ہے اپنے فائدے کے سوچنے کا...
مجھے فائدہ نظر آیا..میں نکل گیا...
اب میں نے ان سے ...یا تم سے....نکاح تھوڑی کیا تھا...
چوہدری صاحب نے بھی مشرف کے کہنے پر نواز شریف کے ساتھ یہی کیا تھا نا؟
یہ دنیا ہے پیارے...یہاں یہی ہوتا ہے....
رہی بات اس جاہل... جنگلی عوام کی...
تو وہ یوں ہی اپنی جہالت اور بد اعتقادی مرتی رہے گی...
لوگوں سے پوچھنا کیا اور ٹشو پیپر (tissue paper) بھیجوں؟
میں نے ناک صاف کرکے ...سنبھال کے رکھے ہیں ...
تبرکا" تقسیم کرنے کے لئے....
شیخ رشید کو سلام کہنا...
میں اس کے منہ نہیں لگتا...
منہ پھٹ آدمی ہے.
بس یہی کہنا تھا...
فقط تمہارا منہ بولا کزن
طاہر قادری

ایڈیسن 'رضی اللہ عنہ' اور پاکستانی صحافت کا ابو جہل

0 comments


حضرت مولانا علامہ مفتی اعظم جناب حسن نثار مدظلہ عالی نے بجلی کے موجد تھامس ایڈیسن کو 'رضی اللہ عنہ' قرار دے ڈالا اور فتوی جاری کیا کہ چونکہ ہمیں بتی جلاتے وقت ایڈیسن کا خیال نہیں آتا اور ہم اس کو خراج عقیدت پیش نیہں کرتے اس لیے قدرت نے ہم پر تھوک دیا، دھتکار دیا اور یہی وجہ ہے کہ ہم میں ایڈیسن پیدا ہی نہیں ہوتے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ "حضرت" کو ایڈیسن کا تو بہت خیال آیا لیکن میں نے موصوف کو کبھی اس بات پر بھاشن دیتے نہیں دیکھا کہ جب کبھی ہمیں اپنے مسلماں ہونے کا خیال آئے تو کیا کبھی ہمارا خیال اس ہستی(ص) کی طرف بھی گیا جس کی بدولت ہم سب آج مسلماں ہیں؟ اس ہستی کو بھی چھوڑیے، کیا کبھی آنکھوں، کانوں، ہاتھ، پاؤں، ناک، منہ اور دانتوں جیسی نعمتوں کا استعمال کرتے ہیں تو کیا ایک لمحے کے لیے بھی اس مالک کا خیال ہمیں آتا ہے جس کی دی گئی ان ساری نعمتوں کو ہم for granted سمجھ کر استعمال کرتے ہیں؟؟ جب کبھی ہمیں اللہ اور آقا کریم (ص) کا خیال نیہں آتا تو ایڈیسن کا خیال نہ آنے پر ماتھے پہ اتنے بل کیوں؟؟ اہڈیسن ہم میں اس لیے پیدا نیہں ہوتا کیونکہ ہم نے قرآن کو سمجھنا چھوڑ دیا ہے جو ہمیں غور کرنے' فکر کرنے، تحقیق کرنے، جستجو کرنے اور کائنات کو تسخیر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ بتی جلاتے وقت ہمیں ایڈیسن کا خیال نیہں آتا۔ قرآن نے صحابہ کرام کی منتخب جماعت کو "رضی اللہ عنھم" کا سرٹیفکیٹ دیا ہے۔ صحابہ کے بعد بھی اس امت میں جلیل القدر ہستیاں گزری ہیں جن میں بڑے بڑے آئمہ، مجدد، مجتہد،مفسر،محدث،مجاہد،عالم اور صوفی بزرگ گزرے ہیں کہ جن کی دعوت پر خطوں کے خطے مسلمان ہوئے لیکن کسی کی جرات نیہں ہوئی کہ ان ہستیوں کے ناموں کے ساتھ 'رضی اللہ عنہ' لکھے یا بولے' ہمیشہ ان سب کو 'رحمہ اللہ' ہی لکھا اور بولا گیا کیونکہ اللہ کی رضا کا واضح اعلان صرف صحابہ کی جماعت کے لیے ہے۔ لیکں کیا کیجئے کہ جب ایڈیسن ' رضی اللہ عنہ' لگنے لگے تو پھر اقبال جیسے عظیم شاعر اور فلسفی بھی "لوکل" قسم کے شاعر اور مشاہیر نظر آنے لگتے ہیں جن کو ہم نے خواہ مخوا سر پہ چڑھا رکھا ہے۔ ایک بات سمجھ لینی چاہیے کہ اگر اقبال نہ ہوتا تو پھر قائد اعظم بھئ نہ ہوتے کہ وہ تو ناامید ہو کر لندں جا کر باقی کی زندگی وہیں گزارنے کا فیصلہ کر چکے تھے لیکن اقبال کے اصرار پر واپس چلے آئے اور اگر قائداعظم نہ ہوتے تو شاید یہ پاکستان بھی نہ ہوتا جس کی وجہ سے عزت، شہرت اور دولت سب کچھ پانے کے بعد بھی زبانیں اس کے خلاف زہر اگلتی ہیں۔ حسن نثار بنیادی طور پر مایوسی کا نام ہے اور آج یہ بات کھل کر سمجھ میں آئی ہے کہ مایوسی کو کفر کیوں کہا گیا ہے کیونکہ مایوسی مین انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مفلوج ہو جاتی ہیں اور پھر وہ حسن نثار کی طرح ہذہان بکنے لگتا ہے۔ اللہ مایوسی سے ہر ایک کو اپنی پناہ میں رکھے۔
ٓٓٓٓٓٓٓٓٓ--------------------------------------------------------------------
از قلم محمد ہارون الرشید

Tuesday, November 11, 2014

امریکہ میں اب ہر 50 واں شخص مسلمان ہورہا ہے

0 comments
میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکہ اور یورپ میں ہر سال لاکھوں لوگ مسلمان ہونے لگے، امریکہ میں اب ہر 50 واں شخص مسلمان ہورہا ہے_ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد امریکیوں اور یورپین کیلئے شدید پریشانی کا سبب بن گئی هے۔ اٹلی کے معروف میگزین "دی جرنل" نے انکشاف کیا ہے کہ 200 سال بعد تمام یورپ مسلمانوں کے زیر نگیں ہوگا۔ امریکہ اور یورپ میں نوجوانوں کی 29 فیصد تعداد ذهنی اور دلی سکون کیلئے اسلام کی جانب مائل هوچکی هے۔ یورپ میں اسلام اور مسلمانوں کی بڑھنے کی اصل وجه وهاں کے حکومتی اداروں اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے هیں جس کی بناء پر نوجوان اسلام کی جانب مائل هوئے هیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً پچاس ہزاربرطانوی هر سال مسلمان هورهے هیں_ 2001ءسے لےکر اب تک مسلمان هونے والوں کی تعداد 20 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہاں سراج صاحب کا اشارہ کون سی عالمی برادری کی طرف ہے؟؟؟

0 comments
امیر جماعت اسلامی محترم سراج الحق کی جانب سے کورٹ ردھا کشن میں زندہ جلائے جانے والے جوڑے کے لواحقین سے اظہار ہمدردی قابل تحسین عمل ہے۔ یقینا ظلم کی مذمت اور مظلوم کی حمایت ہر صورت میں ہونی چاہیے۔ اس میں رنگ، نسل، مذہب یا کسی اور طرح کی قدغن رکھنا انسانیت سے فروتر عمل ہے۔
جماعت اسلامی کے آفیشل پیج پر آنے والی رپورٹ کے مطابق سراج الحق صاحب نے اس موقعہ پر واقعہ کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف دو انسانوں نہیں بلکہ پوری انسانیت ، تہذیب اور اقدار کا قتل ہے جس سے پاکستان کی عالمی برادری میں بدنامی ہوئی۔
میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہاں سراج صاحب کا اشارہ کون سی عالمی برادری کی طرف ہے؟؟؟ وہ عالمی برادری جس کی نظر میں اسرائیل لاکھوں فلسطینیوں کا قتل کرنے کے باوجود نیک نام ہے؟؟ ہندوستان لاکھوں کشمیریوں، امریکہ افغانیوں اور عراقیوں کے قتل عام کے باوجود نیک نامی اور انسانیت کی معراج پر ہے؟؟ وہی عالمی برادری جسکے کانوں پر شرق و غرب میں بہتے خون مسلم کے باوجود جون تک نہیں رینگتی۔ لیکن دنیا کے کسی کونے میں کسی چرچ کی دیوار کو نقصان پہنچ جائے یا کسی غیر مسلم کو خراش آجائے تو تڑپ اٹھتی ہے؟؟
اگر امیر جماعت کا شارہ اسی عالمی برادری کی طرف ہے تو نہایت غلط بات ہے۔ جناب والا اس عالمی برادری میں پاکستان کو نیک نام کرنے کا ٹھیکہ تو جناب سید پرویز مشرف نے اٹھایا تھا۔ وہ وطن عزیز کی نظریاتی شناخت کو بدلنے کے باوجود اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ یہاں نیک نامی کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم اسلام کی تعلیمات کو ہی ترک کر کے اسے ایک نمائشی مذہب بنا دیں۔ جیسا کہ عیسائیوں نے خود کو بنا کر اپنے لئے نیک نامی خرید لی ہے۔
یہ بات تو پورے یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ سراج الحق صاحب کی فرمانے کا یہ مفہوم ہرگز نہیں ہو سکتا۔ لیکن کہنے کا مطلب یہ ہے کہ دینی تحریکوں کے قائدین کو الفاظ کے استعمال میں بہت محتاط ہونا چاہیے۔ دوسرے کسی واقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے اُس کے تمام پہلوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ پاکستان میں توہین مذہب کے قانون کے مجرموں کو جس انداز سے ماضی میں بچایا گیا ہے۔ وہ بھی ایسے کسی واقعے کی غیر معقول ہی سہی لیکن ایک وجہ ضرور ہو سکتی ہے۔ دوسرا یہ بات ابھی تک تحقیق طلب ہے کہ کیا واقعی توہین قران کا واقعہ ہوا تھا یا نہیں؟ ظلم کی مذمت کی آڑ میں مجرم کو بے گناہ بنا کر پیش کرنے اور توہین مذہب کے قانون کو ہدف تنقید بانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔
آخری گزارش یہ کہ ہم ظلم کی مذمت کسی نام نہاد عالمی برادری میں نیک نامی کے حصول کی خاطر نہیں کر رہے۔ بلکہ اس لئے کر رہے ہیں کہ یہ ہمارے آقا کی سنت ہے۔ آپ نے دور جہالیت میں عبدللہ بن جدعان کے گھر میں منعقد ہونے والے ظالم کی مخالفت اور مظلوم کی حمایت کے مشہور معاہدے حلف الفضول میں شرکت فرمائی تھی۔ اور زمانۂ رسالت میں اس کا تذکرہ کرتے ہوئے فخریہ فرمایا تھا کہ اس معاہدے کے بدلے مجھے سرخ رنگ کے اونٹ بھی دیے جاتے تو میں نہ لیتا اور اگر اب بھی ایسے کسی معاہدے کے لئے بلایا جائے تو میں اسے قبول کروں گا۔


بشکریہ مہتاب عزیز 

طالبان امریکہ نے بنائے، طالبان آئی ایس آئی نے بنائے، طالبان "ہم" نے بنائے،

0 comments
ایسے جملے مختلف لوگوں سے آپ نے کافی سنے ہونگے!
طالبان امریکہ نے بنائے، طالبان آئی ایس آئی نے بنائے، طالبان "ہم" نے بنائے، جہاد کشمیر پاکستان کی فوج اور حکومت کرا رہے ہیں، وغیرہ وغیرہ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر تو میرا خیال ہے جہادِ فلسطین بھی پاکستان اور امریکہ مل کر ہی لڑ رہے ہونگے، حماس کا تو بس نام ہے شاید؟ ہیں جی؟
کافی عرصہ آپ نے بھی ان جملوں کو سنا ہوگا، ٹاک شوز میں کَف اڑاتے تجزیہ نگاروں کو جملے پھینکتے دیکھا ہوگا، کہتے ہیں طالبان ہم نے بنائے اور آج ہم ہی بھگت رہے ہیں، ارے نادانوں تم طالبان کیا بناؤ گے، آج تک اپنا ملک نہ بنا سکے، امریکہ کی ایک فون کال پر ملک اس کو دینے والے، انڈیا کی ہاں میں ہاں ملانے والے ۔۔۔ یہ بنایئں گے طالبان۔۔۔ یہ چلا رہے ہیں جہادِ کشمیر۔۔۔۔
طالبان افغان ہیں، اپنی زمین کا دفاع کررہے ہیں، کسی کو اس کا کریڈٹ لینے کی ضرورت نہیں
کشمیری اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، جس دن ادھر سے لڑکا اور فنڈ جانا بند بھی ہوگیا، تب بھی وہ لڑتے رہیں گے۔۔ فضول کا کریڈٹ لینے کی اس کی بھی ضرورت نہیں
شاید جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ ہوسکتا ہے مصر اور ترکی میں بھی اس نسل کے لوگ جہادِ فلسطین پر خود کریڈٹ لینے کی کوشش کرتے ہوں۔
کریڈٹ لینا ہے تو پورا لو! جہاد کشمیر میں ساتھ دینا ہے تو کل ہی حکومتِ پاکستان کو انڈیا سے اعلان جنگ کردینا چاہئے
اگر نہیں کرسکتا۔۔تو پھر اس طرح کے دعوے نہیں کرنے چاہئے!
بشکریہ ۔۔ ابن سید


کوئی ایسی پوسٹ شیر نہ کریں جس میں کسی تصویر کے ساتھ نبوت کا دعویٰ لکھا ہو

0 comments


ہماری عوام جہالت کے اس اعلی مقام پر فائز ہے جس کا کوئی ثانی نہیں ، پتا نہیں کس نے انکو مشورہ دیا کہ فیس بک استعمال کیا کرو ، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہمارے مسلمان بھائی بہت سے محاذوں پر کام کر رہے ہیں . سیکولر سے لے کر ملحدوں تک ہر محاذ پر ان اسلام کے دشمنوں کو شکست ہو رہی ھے، اب ان ملحدوں نے زنانہ فیس بک اکاؤنٹ بنا کر ہمارے کچھ بھائیوں کی تصویروں پر نبوت کے دعوے لکھ کر فیس بک پر اپلوڈ کر دیۓ ہیں ، ہماری ٹھرکی عوام اور اسلام کے نام نہاد ٹھیکیدار جو سارا سارا دن سنی لیون اور بالی ووڈ کے ہر پیج پر پائے جاتے ، اچانک ان ٹھرکیوں کی "اسلامی غیرت " جاگ جاتی ہے اسلام کے محافظ بن کر ایسی پوسٹ پر گالیاں دینے کے بعد اسی کو شئر بھی کرتے پھر رھے ھیں ، کسی کو اتنی شرم نہیں آئی کہ آیا تصدیق ہی کر لے آیا یہ بات سچ بھی ہے کے نہیں ،زنانیوں کا فیس بک اکاؤنٹ ہونا چاہیے بے شک پروین کے پیچھے پرویز ہی کیوں نہ ہو ان کو کوئی سروکار نہیں ، لڑکی کے اکاؤنٹ سے کچھ بھی اپلوڈ کر دو یہ عوام ھمددرد بن کر لائک اور شئر بھی کرے گی ،ایسے خبیث النفسوں کو فیس بک استعمال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں. ان کی اس طرح بنا تصدیق کئے پوسٹ شئر کرنے کی وجہ سے ملحد ان پر ہنس رہے اور مذاق اڑا رہے ھیں اور اسلام کے ان "ہمدردوں" کی وجہ سے اسلام کا بھی مذاق بن رہا ہے ،اور ساتھ ساتھ جس مسلمان کے بارے میں جھوٹی پوسٹ بنائی گئی اس مسلمان کی جان کو بھی خطرے میں ڈال دیا جاتا ھے
اگر کسی غیرت مند کو عبد السلام فیصل اور حافظ بابر کے نام سے کوئی ایسی پوسٹ نظر آئے اس کو فوراً فیس بک کو رپورٹ کرے اور اپنی اپنی وال سے ڈیلیٹ کرے ، جو شئر کر رہا ہے اس کو بھی سمجھائے کہ ایسا کچھ نہیں، کسی نے کوئی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا یہ ہمارے دو بھائی بڑے عرصے پاکستان کے دیسی ملحد، سیکولر، قادیانی وغیرہ کے دانت کھٹے کر رہے اور ان کے ہر وہ اعتراض جو اسلام پر اٹھائے ان کا دانت شکن جواب دے رہے ہیں ،، کوئی فاسق و فاجر جب تم لوگوں کے پاس ایسی خبریں لائے تو ان خبروں کی تصدیق کرتے ہوۓ موت پڑتی ہے کیا ؟
بقلم مولوی روکڑا

Monday, November 10, 2014

کبھی بھی مایوس نہ ہوں

0 comments
ایک آدمی نے ایک بڑی کمپنی میں نوکری کے لیے اپلائی کیا ۔ مالک نے اس سے انٹرویو کیا ،اسکے بعد اسے کہا کہ تمہیں میں ملازمت دے رہا ہوں ۔ مجھے اپنا ای میل ایڈریس دو تاکہ باقی کی فارمیلٹی ۔کب کام پر آنا ہے وغیرہ وغیرہ اس میں بھیج دوں۔
"آدمی نے کہا سر میرے پاس نہ کمپيوٹر ہے اور نہ ہی میرا کوئی ای میل ایڈریس ہے "
ــ
میں معذرت خواہ ہوں یہ نوکری پھر آپکو نہیں مل سکتی ہے ۔ مالک نے جواب دیا..
وہ آدمی خاموشی سے اٹھا اور وہاں سے نکل آیا..مگر اب وہ سوچ رہا تھا کہ کیا کرے کیونکہ اب اسکے پاس بس 10 ڈالر تھے ۔ اسکے پاس کوئی چارہ نہ بچا تو مارکیٹ گیا اور دس ڈالر سے ٹماٹر خریدے اور گھر،گھر جا کر بیچنے لگا تین گھنٹوں میں اسنے 60 ڈالر کمالیے ۔ تو اسکو لگا کہ میں اس طرح گذارا کرسکتا ہوں ۔ وہ ٹماٹر بیچتا رہا اور اسکو منافع ہوتا رہا ۔ دوکان بنائی، پھر مارکیٹ بناڈالی کوئی پانچ سال کے بعد اسکی مارکیٹ اس علاقے میں سب سے بڑی مارکیٹ بن گی ۔۔
ایک دن اس نے اپنی فیملی کےلیےلائف انشورنس خریدنے کا سوچا ۔ انشورنس ایجنٹ سے سب طے ہوا آخر میں اس نے کہا، جناب مجھے اپنا ای میل دیں باقی کی تفصیل میں میل کر دوں گا آدمی نے کہا میرا ای میل نہیں ہے ایجنٹ نے حیران ہوکر کہا ۔۔ سر آپ اتنے کامیاب آدمی ہیں سوچیں اگر ای میل ایڈریس بھی ہوتا تو کتنے کامیاب ہوتے اور کہاں کے کہاں پہنچے ہوتے ؟
آدمی نے رک کر ذرا پیچھے مڑ کر سوچا اور کہا ہاں معلوم ہے ۔۔ "ایک آفس بوائے ہوتا."
ياد رکھيے۔ کبھی بھی مایوس نہ ہوں اگر كبهى ایک دروازہ کسی کے لیے نہیں کھلتا تو اسكى جگہ اللّٰہ تعالٰی کئی اور دوسرے دروازے کھول ديتا هے ، بس انسان اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہوئے محنت کرے تو يقيناً كاميابى ضرور ملتى هے.

بچوں کا خصوصی خیال رکھیئے

0 comments
ڈاکٹر یوسف علی صاحب کی دوسالہ بچی تو اللہ کے کرم سے واپس مل گئی لیکن چار پانچ دن بہت سوں کو جس کرب سے گذرنا پڑا اس میں والدین کے لۓ سبق ہے- اس عمر کے بچوں کو مسلسل نظر میں رکھیں- بعض اوقات معمولی بے احتیاطی بڑے حادثے کا باعث بنتی ہے- ایک والدہ کپڑے دھو رہی تھی اور اس کے پیچھے بچہ پانی کی بالٹی میں الٹا گرگیا تھا جس کا ماں تو تب پتہ چلا جب بہت دیر ہوچکی تھی—اکثر بچے بجلی کے سوئچ بورڈ کے ساتھ کھیلتے ہیں جس سے بچےحادثات کا شکار ہوجاتے ہیں- میرے ایک کلرک کا بچہ عین عید کے دن سیڑیوں سے پھسل کر سر کے بل گرگیااور وہیں فوت ہوگیا- اسی طرح ایک چھوٹا بچہ دوڑتے ہوۓ سڑک پار کررہا تھ کہ ایک تیز رفتار گاڑی کی زد میں آکر چل بسا- ایسے بہت سے واقعات ہم سنتے اور دیکھتےہیں لیکن پھر بھی وہی عدم احتیاط—غم کوئی بھی ہو برا ہوتاہے لیکن اولاد کا غم والدین کو جیتے جی مار دیتا ہے- اس لۓ والدین اپنے پھول جیسے بچوں کا خصوص خیال رکھیں-

بشکریہ کرم الٰہی

قانون کی دھجیاں اڑانے پر ہمیں شاباش دو

0 comments
"آج معاشرے میں جس طرح کھلے عام قانون کی دھجیاں اُڑائی جا رہی ہیں اس پر ہمیں مورد الزام ٹھرانے اور تنقید کے بجائے ہماری تحسین کی جانی چاہیے، کیوں کہ بحرحال یہاں جو قانون کی ٹوٹی پھوٹی عملداری باقی ہے یہ ہماری ہی قربانیوں اور محنتوں کا ثمر ہے۔" 
اگر یہ موقف کسی پولیس والے کا ہو، صرف پولیس والا ہی کیوں؟ ایک استاد بھی اگر یہ کہے کے تعلیمی معیار کے تنزُل کا دوش ہمیں مت دو، یا ملک کا سربراہ ہی امور مملکت کی ناگفتہ بہ صوتحال کی یہ توجیح پیش کرے، غرض کسی بھی پیشے سے منسلک فرد کا ایساجواز ہرگز تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ ہر صورت اسے ایک بودی دلیل، ایک عذر لُنگ سے زیادہ کچھ نہیں سمجھا جاسکتا۔ 
نہایت افسوس کا مقام ہے کہ ہمارا مذہبی طبقہ معاشرے میں دینی اقدار اور شعار کے حوالے سے پائی جانے والی عمومی بے اعتنائی اور تنزُل سے خود کو بری الزمہ قرار دینے کے لئے یہی دلیل دیتا ہے۔ ظاہر ہے یہ صرٖف دل کو بہلانے کا ایک خوبصورت خیال تو ہو سکتا ہے لیکن معاشرے میں اس کی شنوائی اور قبولیت ناممکن ہے۔ 
کیا اس میں کسی کو شک ہے کہ ہمارا مذہبی طبقہ معاشرے سے مکمل طور پر کٹا ہوا اور تنہائی کا شکار ہے؟ جن کو معاشرے کے قائد کا کردار ادا کرنا تھا وہ آج نیرنگئی دوراں اور حالات کے ناموافق ہونے پر شکوہ کنعاں ہیں۔ اپنی اس حالت پر وہ خود معاشرے کو مورود الزام ٹھراتے ہیں۔
آج سے کچھ اس حقیقت کا جائزہ لینے کا ارادہ ہے کہ اس صورتحال کا کتنا ذمہ دار معاشرہ ہے؟ مذہبی طبقہ پر اس کی کتنی ذمہ داری عاید ہوتی ہے؟ اصل خرابی ہے کہاں؟ اصلاح احوال کی کیا تدبیرات ممکن ہو سکتی ہیں؟
مجھے معلوم ہے کہ یہ ایک بہت نازک اور حساس موضوع ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ انگریزوں کی برصغیر آمد کے بعد یہاں کے مسلمانوں میں ہونے والی مسٹر اور ملاّ کی تقسیم کو ختم کرنے کے لئے اس طرح کی بحث اب وقت کی ضرورت بن چکی ہے۔ میں "خوگر حمد کے گلے سے مشابہ" اپنے خیالات اور مشاہدات پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔ احباب سے گزارش ہو گی کہ اس میں میری رہنمائی فرمائیں اور غلطیوں کی کھل کر نشاندہی کریں۔
قانون کی دھجیاں اڑانے پر ہمیں شاباش دو

 بشکریہ مہتاب عزیز
 

Thursday, November 6, 2014

آ بیل مجھے مار

0 comments

نجیب ایوبی 
-------------------------------------
najeeb.aei@gmail.com 
اگر کوئی آپ سے پوچھے کہ بل فائٹنگ کے حوالے سے آپ کے ذہن میں کس ملک کا نام آ تا ہے تو یقیناً آپ کا جواب ہوگا اسپین - اور یہ جواب درست ہوگا 
بل فائٹنگ کی تاریخ اگرچہ دو سے تین صدیوں پرانی ہے اور اس کی ابتدا قدیم یونان کے سالانہ مقابلوں سے شروع ہوتی ہے . مگر باقاعدہ طور پر ١٩٢٢ میں اسپین میں اسے عوامی مقبولیت حاصل ہوچکی تھی جب اسے سالانہ فیسٹیول کے طور پر متعارف کروایا گیا . جب سے لیکر آج تک اسپین میں سات یوم کی تعطیلات ہوتی ہیں .
دنیا بھر سے سیاحوں کی کثیر تعداد اس میلے کو دیکھنے خاص طور پر اسپین کا رخ کرتی ہے ، اس فیسٹیول میں سڑکوں پر بیک وقت کئی مسٹنڈے بیل چھوڑ دئیے جاتے ہیں ، اور شوقین مزاج ان کے آگے دوڑ رہے ہوتے ہیں . سب کی کوشش ہوتی ہے کہ بیل ان کے پیچھے لگ جاتے . اس وارفتگی اور محبّت میں اب تک کئی شائق اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں . لیکن اس کے باوجود عوام کے جوش و جذبے میں ذرّہ برابر فرق نہیں آیا . یہ میلہ ہر سال پہلے سے بڑھ کر جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے ... 
دنیا بھر کا میڈیا اس کو کور کرنے اسپین کا رخ کرتا ہے . سیاحت کے حوالے سے اسپین کی آمدن کا بہت بڑا انحصار سات روزہ بل فیسٹول پر ہے .
پاکستان کا مشھور میلہ مویشیاں کو اس بل فیسٹیول کی ایک بھونڈی شکل سے تعبیر کیا جاسکتا ہے . لاہور کے فورٹریس اسٹڈیم میں یہ میلہ سجایا جاتا ہے .
جہاں صا حبان ڈور ڈنگر اپنے اپنے جانور لے کر جاتے ہیں ، اور پھر ان کے کرتب سے لطف اندوز ہوتے ہیں . بانسری کی مدھر آواز پر گھوڑا جھومتا ہے ، دھول کی تھاپ پر رقص کرتا اور اپنی شاہانہ چال چل کر دکھاتا ہے ، یہ منظر دیدنی ہوتا ہے . پھر تالیوں کی نہ ختم ہونے والی آوازیں اور پھر فا تح بیل اور گھوڑ ے کو انعام و اکرام سے نوازا جاتا ہے - 
پاکستان میں گزشتہ کئی دہایوں سے ایک اور " بل فیسٹول " جاری ہے ، مگر ھمارا میڈیا کیوں کہ متعصب میڈیا ہے ، اس کو اس طرح پروموٹ نہیں کر رہا جو اس کا حق ہے - 
مزے کی بات یہ کہ اس فیسٹیول کے ایام مخصوص بھی نہیں ہیں ، یہ سال کے بارہ مہینے چل رہا ہے ، دنیا کے کسی اور خطے میں اس سے طویل ہو تو بتاؤ ؟
اس کو کسی خاص اسٹیڈیم کی حاجت بھی نہیں ، یہ ہر گلی اور محلے کی سطح پر چل رہا ہے - ہر شہر میں جاری ہے ، اشرا فیہ کے لیے اسلام آباد میں ، مڈل کلاسیوں کے لیے ان کی اپنی بستیوں میں اور کمی کامی کلاس کے لیے 
ہوٹل میں لگے چائنا ٹی وی سکرین پر ! 
ھمارے " بل فیسٹول " میں ایسی کیا خرابی ہے کہ اس کو بین الاقوامی پذیرائی حاصل نہیں ہورہی ؟
کیا ہمارے پاس کم تعداد میں بل دوڑ رہے ہیں ؟ یا ان کی دہشت اور خونخوا رگی اسپین کے " بل " سے کسی طور کم ہے ؟
یا یہ کہ عوام کی بڑی تعداد اس میلے میں شرکت نہیں کرتی ؟ 
یقیناً کسی بھی حوالے سے ھمارے بل فیسٹیول میں کوئی کمی نہیں ہے . میں شرط لگانے کو تیار ہوں .
مگر مسلہ یہ ہے کہ مجھے آپ کی حمایت حاصل نہیں ہے .
آج اگر آپ تمام حضرات میرا ساتھ دینے پر رضامند ہو جایئں تو میں آپ کو گارنٹی دیتا ہوں کہ پاکستان کو چند مہینوں میں اس کا جائز حق یعنی " بل فائٹنگ میلے ' کا چمپئین بنوادوں گا -
ذرا دیکھیں تو آپ کے پیچھے کون کون سے بل دوڑ رہے ہیں ؟ 
ایٹم بم کے خالق کا بل ! وہ ایٹم بم جس نے قوم کی حفاظت کرنی تھی ، اس بم کو اپنی حفاظت کے لالے پڑ چکیں ہیں
.معیشت کے استحکام کا بل ! معیشت تو خیر سے کیا مستحکم ہوتی تنزلی کا سفر سپیڈو میٹر توڑتا ہوا نیچے کی جانب آرہا ہے.
بجلی میں خود کفالت کا بل ! سردیوں میں بھی لوڈ شیڈنگ اپنا چمتکار دکھا رہی ہے .
غر بت سے نجات کا بل ! سب دیکھ رہے ہیں کہ بل ھما رے اوپر سواری کر رہا ہے .
سٹیٹس کو سے نجات کا بل ! ذاتی طیاروں میں بیٹھ کر ہمارے آگے پیچھے دوڑ لگا رہا ہے .
تبدیلی اور انقلاب کا بل !
روٹی کپڑا اور مکان کا بل !
زبان ، نسل اور صوبے کا بل !
وزیرستان ، آئ ، ڈی ،پیز کا بل !
طالبان اور دائیش کا بل ! 
اسپین اور اٹلی کے بل فائٹنگ میلوں کے گن گانے والوں ، اپنی آنکھیں کھولو .
اپنی اوقات پہچانو ، تم عظیم ہو بہت عظیم ! 
احساس کمتری سے نکل کر اپنی اصل شکل دیکھو 
تم میں کوئی کمزوری نہیں ہے . دوسری اقوام جاہل ڈور ڈنگر اپنے پیچھے دوڑاتی ہیں ، تم پڑ ھے لکھے ، ولایت سے سدھاے ہویے ڈنگر اپنے پیچھے لگا ئے ہوئے ہو ،شرمانے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ، صرف اور صرف اپنے آپ کو منوانے کی ضرورت ہے . 
بتاؤ --- میرا ساتھ دو گے ؟


Wednesday, November 5, 2014

قرآن کی بے حرمتی کے الزام میں لوگوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیوں کیا؟؟؟

0 comments
پنجاب کے ضلع قصور کے نواحی گاؤں کورٹ رادھا کشن میں مشتعل افراد کی جانب سے عیسائی جوڑے کو قرآن کی بے حرمتی کے الزام میں ہلاک کر دینے کا واقعہ نہایت قابل افسوس ہے۔ اس واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے اُتنی کم ہے۔ کسی بھی ملزم کو الزام ثابت ہوئے بغیر سزا دینا ایسا عمل ہے جس کی اجازت نہ اسلام دیتا ہے اور نہ ہی انسانی اخلاقیات میں اس کی کوئی گنجائش ہے۔
لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر ایسی نوبت آتی کیوں ہے؟؟
ان لوگوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیوں کیا؟؟؟
اگر ماضی کے واقعات پر نظر ڈالیں تو معملہ بہت واضع ہو جاتا ہے۔ کچھ ہی عرصہ قبل اسلام آباد کے دیہی علاقے "میرا جعفر" میں ایک عیسائی خاتون رمشا مسیح پر توہین قران کا الزام میں ایف آئی آر درج ہوئی تھی۔ علاقے کے درجنوں لوگ اس بات کے گواہ تھے کہ اُس نے قرانی اوراق کو آگ لگائی۔ رمشا مسیح کیس میں پاکستانی میڈیا، سرکاری اداروں اور این جی اوز نے جس طرح قانون کو تماشہ بنایا تھا عبرت انگیز تھا۔
پولیس اور خفیہ اداروں نے واقعے کے عینی شاھدین کو ڈرا دھمکا کر خاموش کرایا۔ مبینہ طور پر کیس کے مدعی امام مسجدخالد جدون کو پہلے اغواہ کر کے اُس پر کیس واپس لینے کے لئے دباؤ ڈالا گیا۔ بعد میں "میرا جعفر کی مسجد امینیہ" کے موذن اور واقعے کے گواہ حافظ زبیر کے اہل خانہ کو "غیرقانونی حراست" میں لے کر اُسے مدعی مقدمہ کے خلاف بیان دینے پر مجبور کیا گیا، جس نے مجبور ہو کر مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیا کہ مدعی مقدمہ و امام مسجد خالد جدون نے رمشا مسیحی کے خلاف کیس بنانے کے لئے عام اوراق کی راکھ میں از خود قرآنی اوراق شامل کئے تھے۔
حافظ زبیر کے اس بیان پر خالد جدون کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے اُسے فوری طور پر گرفتار کرکے کے جیل منتقل کر دیا گیا۔ اسی بیان کو بنیاد بنا کر مقامی عدالت کے جج محمد اعظم خان نے ملزمہ رمشا مسیحی کی ضمانت پانچ پانچ لاکھ کے دو مچلکوں کے عوض منظور کر لی۔ جیل سے رمشا مسیح کو بذریعہ ہیلی کپٹر نامعلوم مقام پر لےجایا گیا۔ گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق وہ نامعلوم مقام امریکی سفارت خانہ تھا۔ جہاں سے بعد ازاں وہ ضمانت پر ہونے کے باوجود پورے سرکاری پروٹوکول کے ساتھ کنیڈا روانہ ہو گئی۔
رمشا مسیح کے ملک سے روانہ ہونے کے فوری بعد اس کے خلاف دائر مقدمے کے مدعی امام مسجد خالد جدون کے خلاف گواہی دینے والے افراد اپنے بیان سے منحرف ہوگئے۔ یوں ایک طرف خالد جدون کو باعزت بری کر دیا گیا، اور دوسری طرف رمشا مسیح کے خلاف درج مقدمہ بھی "عدم ثبوت" کی بنا پر خارج کر دیا گیا۔ یہ دونوں کام بیک وقت کیسے سرانجام پائے یہ تو کوئی قانونی ماہر ہی بتا سکتا ہے۔ لیکن اہل خبر جانتے ہیں کہ اس سارے کیس کے دوران تفتیشی افسر سب انسپکٹر منیر حیسن جعفری غیر ملکی سفارت خانوں اور این جی اوز کے اہلکاروں کے اشاروں پر چلتا رہا تھا۔
میڈیا نے اس سارے کیس کی رپورٹنگ جس بھونڈے اور جانبدارانہ انداز سے کی وہ ایک الگ کہانی ہے۔ رمشا مسیح کی اصل تصویر کی جگہ 2005ء زلزلے سے متاثر ہونے والی ایک بچی کو رمشا بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔ این جی اوز کے نمائیندوں کے بیانات کو مقامی لوگوں کا موقف بنا کر پیش کیا گیا۔ ہر خبر میں رمشا کو مظلوم اور مدعی مقدمہ کو ایک ولن بنا کر پیش کیا گیا۔ رمشا کے بیرون ملک روانگی کے بعد اس کیس کی رپورٹنگ کا مکمل بلیک اوٹ کر دیا گیا۔
یہ صرف ایک کیس کی داستان ہے۔ ایسے درجنوں کیس بطور مثال پیش کیے جاسکتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب پولیس، عدلیہ، خفیہ ادارے اور میڈیا توہین رسالت اور توہین مذہب کے مقدمات میں اتنا گھنونا کردار ادا کرتے ہوئے ملزمان کے ساتھ ایک پارٹی بن جائیں گے، تو عوام اُن پر کس طرح انصاف کے حصول کی خاطر اعتماد کر سکتے ہیں؟؟
این جی اوز اور حکومتی اداروں کے اہلکاروں نے اپنی دانست میں ایک رمشا مسیح کو قانون کی گرفت سے تو بچالیا، لیکن اُن افراد کی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیا ہے، جن پر کبھی بھی توہین مذہب کا الزام لگے گا۔
مذہب ہمیشہ سے ایک حقیقی پیروکار کے لئے جذباتی معملہ ہوتا ہے۔ اگر حکومت چاہتی ہے کہ مستقبل میں کورٹ رادھا کشن جیسے واقعات کی روک تھام ہو تو اُسے فوری طور پر رمشا مسیح اور اس جیسے دیگر مقدمات میں قانون کو مذاق بنانے والے حکومتی اور غیر حکومتی اہکاروں کے خلاف کاروائی کرنا ہوگی۔ ورنہ لوگ قانون کو پاؤں کی ٹھوکر سے اڑا کر موقعہ پر ہی سزا دینے میں خود کو حق بجانب سمجھتے رہیں گے۔

بشکریہ     مہتاب عزیز 

Tuesday, November 4, 2014

اسلام, جمہوریت، قانون سازی اور تبدیلی کا راستہ

0 comments
ہمارے ایک محترم دوست نے معروف لکھاری اوریا مقبول جان کی اخباری مضمون کی روشنی میں اسلام اور جمہوریت کے حوالے سے ایک پوسٹ شئیر کیا ہے جس سے تین اھم سوال جنم لیتے ہیں-
(1)- مسلمانوں کی ریاست میں انسانوں کو آئین سازی اور قانون سازی کا کتنا اختیار ہے؟ (2)- ملکی نظام کو بدلنے کےلی
ۓ مسلمان کیا طریقہ اختیار کرینگے؟
(3)- کیا جمہوریت اور اسلام باہم متضاد اور متصادم نظام ہیں؟
اس حوالے سے میری طالب علمانہ گذارشات یہ ہیں-
(الف)- مسلمانوں کی ریاست میں قران و سنت کو اصل الاصول کی حیثیت حاصل ہے- جن امور میں قرآن و سنت کے احکام واضح اور محکم ہیں ان میں کسی انسان کو تحریف، تحلیل، اضافے اور کمی کا اختیار نہیں- اس کے علاوہ ایسے دیگر معاملات ہیں جن میں قرآن و سنت سے استنباط کی بنیاد پر قانون وضع کرنے کی ضرورت ہوتی ہے- یہ کام مقننہ اسلامی قانون کے ماہرین کی اکثریتی راۓ کی روشنی میں کرسکتی ہے- تیسرے درجے میں وہ بے شمار امور ہیں جن کو عرف اور عقل عام پر چھوڑا گیا ہے ان پر قانون سازی کا اختیارعوام الناس کو حاصل ہے جو اکثریت اور مشاورت کے اصول پراس اختیارکا استعمال کرسکتی ہے بشرطیکہ ایسی کوئی قانون سازی قرآن و سنت سے متصادم نہ ہو-رہا یہ سوال کہ کوئی قانون شریعت سے متصادم ہے یا نہیں ، اس کا فیصلہ شرعی قانون کے ماہرین کی مدد سےمجازریاستی ادارے( مثلا" ہمارے ملک میں سپریم کورٹ، اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت وغیرہ) کرنے کے مجاز ہونگے—ہمارے آئین میں اس بات کی گارنٹی موجود ہے کہ مقننہ ایسی کوئی قانون سازی کرہی نہیں سکتی جو شریعت کے احکام سے خلاف ہوں اوراگربالفرض محال کر بھی ڈالے تو سپریم کورٹ کو پورا اختیار ہے کہ اسے کالعدم قرار دے—دوسری بات یہ کہ پاکستان کی آبادی ٪ 90 سے زیادہ مسلمان ہے- یہاں مذہبی جماعتوں سمیت علماء ربانین، مصلحین ، مبلغین، داعیان، فقہاء سمیت ایک کثیر تعداد ایسےاہل حق لوگوں کی موجود ہے اور رہے گی انشاء اللہ جو اسلام مخالف قانون سازی کرنے دینگے ہی نہیں—اب تو میڈیا اور عدلیہ کے فعال کردارکے ہوتے ہوۓ غیر اسلامی قانون سازی کی جسارت بھی مشکل ہے
(ب)- اگلا سوال یہ ہے کہ اگرآئین اور قانون تو بظاہربڑی حد تک ٹھیک ہوں لیکن یا تو ان پر عملدرآمد ٹھیک طرح سے نہ ہورہا ہو یا حکومت فساق و فجار لوگوں کے ہاتھوں میں ہو تو پھرتبدیلی کہ طریقہ کیا ہوگا؟- غور کیجیۓ تو رسول اللہ نے کفار، مشرکین اور دیگر غیر مسلموں کے معاشرے میں بھی جو طریقہ اختیار کیا وہ دعوت اور اصلاح معاشرہ کا تھا- دعوت عام کے ذریعے آپ نے لوگوں کو اپنا ہمنوا بنایا- اسی طرح مدینہ جاکرآپ نے جبر یا عسکری مہم جوئی کے ذریعے نہیں بلکہ تمام فریقوں کی مرضی پر مبنی ایک معاہدہ عمرانی کے ذریعے ریاست کی بنیاد رکھی اور انقلابی تبدیلی لے آۓ– جب غیر مسلموں کے باب میں یہ معاملہ ہے تو مسلمانوں کی آبادی میں تو بدرجہ اولی اسی دعوت اور اصلاح احوال کا راستہ مستحسن ہے- کیونکہ اگر طاقت، چور دروازوں، عسکری مہم جوئی یا سازش کی نتیجے میں کوئی تبدیلی لائی بھی جاۓ تو وہ نہ قابل قبول ہوگی اور نہ دیر پا - اسلام جس طرح کی تبدیلی نظام کا تصور پیش کرتا ہے وہ نفاذ سےزیادہ نفوذ کا متقاضی ہوتا ہے- سیاسی تبدیلی سے پہلے معاشرتی تبدیلی لانی ہوتی ہےاور معاشرتی تبدیلی کے لیۓپہلے من کی دنیا بدلنی پڑتی ہے –حکمرانوں جب تک اسلام سے براءت کا اعلان نہیں کرتےیا کفر بواح کا ارتکاب نہیں کرتے، عوام کے پاس تبدیلی کا واحد راستہ پر امن جدوجہد ہے جس میں وعظ نصیحت سے لیکر حکومت کےغلط طرز عمل کے خلاف راۓ عامہ کی ہمواری، پر امن احتجاج اور بالآخر اقتدار سے علیحدگی کی کوشش بھی شامل ہے، جہاں اور جب بھی اسلامی قانون کی خلاف ورزی ہورہی ہوگی وہاں اور اسی وقت اس کے خلاف پرامن جدججہد کے ذریعے اصلاح اور تبدیلی کی کوشش کے لیۓ سب مکلف ہیں—کفر بواح اور ارتداد کی صورت میں بھی مسلمانوں کا رد عمل حکمت اور استطاعت پر مبنی ہوگی--- جب تک مسلمانوں کی غالب اکثریت آپ کے پاس نہ ہو اور آپ شارٹ کٹ اختیار کرینگے اس کا نتیجہ کیا ہوگا اس کے لیۓ ہمیں اسلامی تاریخ میں موجود بے شمار مثالوں کی طرف رجوع کرنا چاہیۓ-
(پ)- محدود معنوں میں جمہوریت حکومت چلانےکا ایک نظام ہے لیکن وسیع تر معنوں میں یہ ایک طرزفکر ہے جس میں برداشت پرمبنی اختلاف اور اتفاق راۓ، اکثریتی راۓ کا احترام، عدلیہ کی آزادی، ہر شخص کے لیۓ قانونی اور سماجی مساوات وغیرہ جیسے پہلو اہم ہیں- جمہوری اصول کے تحت حکومت عوام کی مرضی سے بنتی، چلتی ہے یا ختم ہوتی ہے، ہرقانونی طورپر اہل شخص کا ایک ووٹ ہوتا ہے جس کا وزن کسی بھی دوسرے اہل ووٹر کے برابر ہوتا ہے---ہمارے ہاں کچھ ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام میں توہرشخص کی راۓ ایک جیسی نہیں ہوتی-ایک عالم اور جاہل کا ووٹ کیسے کسی معاملے میں ایک ہی وزن رکھ سکتے ہیں؟ پھر یہ کہ جمہوریت میں تو اقتدار اعلی انسانوں کو حاصل ہے جبکہ اسلام اللہ کو حاکم اعلی قرار دیتا ہے، لہذا اسلام اور جمہوریت میں بعد المشرقین ہے- تیسری بات یہ کہ جمہوریت ایک مغربی تصور ہے جبکہ اسلام تو خلافت کا تصور پیش کرتا ہے، اس لیۓ ہمیں اس دھوکے اور غلامانہ نقالی سے جان چھڑاکر اسلامی خلافت قائم کرنا چاہیۓ-
-----جمہوریت کے بارے میں ہمارے یہ سوالات کچھ تونیک نیتی پر مبنی ہیں اورکچھ محض بغض معاویہ یا لاعلمی پر- ----اس میں شک نہیں کہ جمہوریت کی جڑیں یونان کی سٹی سٹیٹس سے نکلیں اور یورپ میں احیاء العلوم کے بعد کے صدیوں میں باقاعدہ طورپر جدید شکل اختیارکرکے آہستہ آہستہ نوآبادیاتی نظام کے ساتھ مفتوحہ علاقوں تک پھیلتی گئی- لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جمہویت کی اصل روح اور اھم عناصر یعنی مشاورت ، بحث وتمحیص کے بعد اکثیرتی راۓ پر مبنی فیصلہ سازی اور عدلیہ کی آزادی وغیرہ کو اسلام نے پوری یکسوئی اور تسلسل کے ساتھ اختیار کیے رکھا- رسول اللہ ص بیک وقت رسول بھی تھےاور حکمران بھی لہذا اگر مشاورت نہ کرتے توبھی صحابہ آپ کی بھرپور اطاعت کرتے لیکن مختلف موقعوں پرجہاں اللہ کا براہ راہ کوئی حکم ابھی نہیں آیا ہوتا تو آپ ص مشورہ فرماتے اور اکثریتی راۓ پر فیصلہ صادر فرماتے جیسے کہ بدری قیدیوں سے سلوک اور احد کے معاملے میں شہر کے باہر جاکر جنگ کرنے کا معاملہ تھا---صحابہ کرام نے بھی اس روایت کو جاری رکھا-جب کسی موقع پر اللہ کا حکم ہوتا تو پھر کسی فرد یااکثریت کی راۓ کی کوئی قیمت نہیں ہوتی تھی جیسے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر دیکھنے میں آیا
عرف اسلامی شریعت میں ایک اہم ماخذ کے طورپر مانا جاتا ہے- اسلام کو ان معروف چیزوں کو لینے پر کوئی اعتراض نہیں جن کا اسلامی تعلیمات سے تصادم نہیں اسی لی
ۓ ابتدا سے لیکر اب تک مسلمانوں نے ایسی معروف چیزوں کو اختیار کیا، خاص کر ایسی چیزیں جن سے روزمرہ زندگی کے معاملات کو چلانے میں سہولت پیدا ہوتی ہے، جہاں انہوں نے اس حوالے سے غیر ضروری جمود اورکوتاہ نظری کا مظاہرہ کیا اس کی انہیں قیمت چکانی پڑی—عثمانی ترکوں کا پرنٹنگ پریس اوریورپ میں صنعتی انقلاب سے بے اعتنائی بطور ثبوت کافی ہیں
یہ بات قابل توجہ ہے کہ شورئی اصول کے التزام کےبعد اسلام ہمیں کسی ایک خاص طرز حکومت کو اختیارکرنے کا پابند نہیں کرتا- یہ کام اسلام عرف پر چھوڑ دیتا ہے کہ آپ پالیمانی نظام بنائیں یا صدارتی، وفاقی طرز حکومت اختیار کرتے ہیں یا یونیٹری، آپ کا پارلیمان ایک ایوان پر مشتمل ہے یا دو پر، آپ صوبوں کو زیادہ خود مختار بناتے ہیں یا مرکزکو، آپ متناسب نمائندگی کا طریقہ اپناتے ہیں یا عام انتخاب کا، آپ سربراہ حکومت کے عہدے کو کیا نام دیتے ہیں (مثلا" وزیر، ناظم، سلطان، امیر، خلیفہ، صدر وغیرہ)، عمال کو تعینات اور برخاست کیسے کرتے ہیں، ان کے مشاہرے اور احتساب کا کیسا نطام ترتیب دیتے ہیں، آپ ٹریفک اور ٹاون پلیننگ کا سسٹم کیسے چلانا چاہتے ہیں ، آپ حج کے لی
ۓ گھوڑے پر سفر کرتے ہیں یا جہاز سے، آپ حرم کے مطاف کو کیسے لوگوں کے لیۓ پر سہولت بنانا چاتے ہیں، آپ مسجد میں ائیرکنڈیشنر لگائیں کہ صرف پنکھے، آپ شلوار قمیص پہنیں کہ پاجامہ، یہ اور اس طرح کےبے شمار موضوعات ایسے ہیں جن کے لیۓ اسلام نے کوئی لگی لپٹی تفصیلات نہیں دیں بلکہ انہیں عرف اور عقل عام پر چھوڑا ہے
اسلام میں خلافت کے تصور کوبھی سمجھنے کی ضرورت ہے- یہ کوئی خاص طرز حکومت نہیں جس کا قرآن و سنت ہمیں پابند کرتے ہیں- اسلامی تصور خلافت اپنے اصلی معنوں میں یہ ہے کہ انسان اللہ کا نائب اور خلیفہ ہے جس نے زمین پر اللہ کے تشریعی نظام کو قائم کرنے اور قائم رکھنے کی جہد مسلسل کرنا ہے- خلافت کا لفظ سیاسی اقتدار کے لی
ۓ بھی آیا ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اس سے مراد کوئی خاص قسم کا نظام حکومت ہے جسے "خلافت" سے موسوم کیا گیا ہے- بالکل اسی طرح کا ایک اور لفظ " سلطان " بھی قرآن استعمال کرتا ہے جس کا مطلب قوت اور اقتدار ہے لیکن اس سے یہ استنباط نہیں کیا جاسکتا کہ گویا اسلام" سلطنت" نامی کوئی نظام تجویز کرتا ہے-
پاکستان میں جو دستوری اور جمہوری نظام رائج ہے وہ بھی معروف ہی کے زمرے میں ہے لیکن اس میں اور خالصتا" مغربی جمہوریت میں بنیادی فرق ہے- مغربی جمہوریت کے برخلاف پاکستان کا آئین اقتداراعلی، اللہ کے لۓ خاص تسلیم کرتا ہے—یہ بھی گارنٹی دیتا ہے کہ کوئی انسانی قانون ایسا نہیں بنیایا جاۓ گا جو قرآن و سنت سے متصادم ہو—اس غرض کے لیۓ اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت اور بالخصوص سپریم کورٹ کواہم فرائض اور اختیارات بھی تفویض کیۓ گیۓ ہیں—اس کے بعد یہ کہنا کہ مغربی جمہوریت اور پاکستان میں رائیج جمہوری نظام میں کوئی فرق نہیں، سراسر غلط ہے—اس نظام میں یقینا" اصلاح اور بہتری کی ضرورت ہے جس طرح کسی بھی اور نظام میں ہوا کرتا ہے، انسانوں کی طرف سے چلایا جانے والا کوئی بھی نظام پرفیکٹ نہیں ہوسکتا، اس میں لا محالہ غلطیاں اور کمزوریاں ہونگی اور انہیں دور کرنے کی کوششیں بھی ضروری ہیں لیکن کسی نظام کے عملی نفاذ میں موجود چند خامیوں کی وجہ سےیکسر نظام کو ہی مسترد کرنا غلط ہے- اسی طرح کی عملی میدان میں غلطیاں مقتدر صحابہ کرام کے زمانے میں بھی ہوئیں اور بعض کے نتیجے میں تو خود مسلمان باہم لڑپڑے اور کٹ مرے جس کا نقصان صرف مسلمانوں کی یکجہتی اور وحدت کو ہوا–آپ بھلے کتنا بھی چاہیں، اسلامی نظام قائم کریں اس میں بھی کمزوریاں اور خرابیاں رہینگی – اس حوالے سے ہمیں خیالی دنیا کی بجا ئے حقیقت کی دینا میں رہنے کی عادت ڈالنی چاہیۓ- نظام کے عملی نفاذ میں موجود خرابیوں کا علاج پورے نظام کی بوریا بستر گول کرنے میں نہیں بلکہ نطام کے اندر رہتے ہوۓ اس کی اصلاح میں ہے
اب رہی بات ون مین ون ووٹ کی- اس سلسلے میں گزارش یہ ہے کہ مسلمانوں کے ملک (مثلآ پاکستان) میں یہ اصول ان امور کے لیۓنہیں ہے جن کا تعلق خالصتا" قرآن و سنت کی تفہیم و تشریح کے حوالے سے ہو- اس طرح کے اجتہادی کام کے لۓ صرف اور صرف اہل علم ہی اہل ہیں عام آدمی نہیں--- لیکن وہ امور جن کا دنیاوی معاملات سے تعلق ہے اور جن پر قانون سازی کے اثرات عام و خاص شہریوں پر ہونگے ان میں ہر شخص کو برابر حق حاصل ہے کہ وہ ووٹ دیں اور اس کا ووٹ وزن میں کسی عالم کے ووٹ سے کم نہ ہو- آج کل کی دنیا میں عمال کے انتخاب کے لۓ سب سے آسان اور قابل قبول طریقہ ووٹنگ ہے –ان اللہ یامرکم ان توادالامانت الا اھلہا میں قرآن نے عمال کے انتخاب کے سلسلے میں خطاب صرف اہل علم کونہیں بلکہ تمام اہل اسلام کو کیا ہے- لہذا کوئی وجہ نہیں کہ حمکرانوں کے انتخاب کے لۓ ون مین ون ووٹ کا اصول اختیارنہ کیا جاۓ- اگر ون مین ون ووٹ کی اھمیت نہیں تو خلفاء راشدین قطعا" مسجد نبوی میں عام بعیت کی ضرورت محسوس نہ کرتے- اس وقت ون مین ون ووٹ کے ذریعے سے اکثریتی راۓ کے حصول کا یہی طریقہ تھا- فی زمانہ ووٹنگ ہے اور اسی کواختیار کرنے میں کوئی شرعی ممانعت نہیں—(دکھ کی بات یہ ہے کہ مولوی صوفی محمد جیسے لوگ اور طالبان، داعش اور بوکو حرام بہر حال ووٹنگ اور جمہوریت کو حرام سمجھتے ہیں لیکن غیر مقاتل اہل اسلام کا خون بہانا حلال سمجھتے ہیں)--اگر کوئی اس کے برخلاف یہ سمجھتا ہے کہ اسلام کا تجویز کردہ کوئی مخصوص نظام حکومت ہے تو وہ وضاحت کردے کہ موجودہ زمانے میں اس کے مختلف پہلووں کی (مثلآ شوری ، طرز انتخاب، معیار عمال، انتظامی ڈھانچہ وغیرہ) عملی شکل کیا ہوگی؟ ہماری نظر میں تو پاکستان کا موجودہ نظام بڑی حد تک قانونی اور آئینی اعتبار سے اسلام سے ہم آہنگ ہے البتہ اس میں مزید بہتری کی گنجائش ہے اور اسے پرامن سیاسی اور جمہوری جدوجہد سے درست کرنے کی کوششیں جاری رہنی چاہیئے—اسی لیۓ مولانا مودودی رح نے اسی راستے کا انتخاب کیا تھا---اسی لیۓ شیخ حسن الہضیبی نے سید قطب کے سخت گیر موقف کے برعکس پرامن جدوجہد کو ترجیح دی تھی—اسی لۓ ترکی میں طیب اردگان کی جماعت نے نجم الدین اربکان سے راستہ الگ کرکے سیکولرسٹوں کو جمہوری میدان میں شکست فاش دی---اسی لۓ تیونس میں النہضہ نے جمہوریت کے ذریعے اقتدارحاصل کیا---اس کے برعکس جب بھی غیر جمہوری یا پرتشدد راستوں کا انتخاب کیا گیا، بدنامی اور ناکامی کے سوا کچھ نہیں ملا---اسلام پسندوں کا مستقبل اسی میں ہے کہ جلد بازی، رجعت پسندی اور تنگ نظری کی بجاۓ عقل و شعور ، صبر، حکمت و دانائی ، دعوت اور تبلیغ اور پرامن جمہوری جدودجہد کا راستہ اختیار کرے- یہی معروف طریقہ ہے، یہی اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہے ، یہی معروضی حالات کا تقاضا ہے، اور اسی میں کامیابی کے واضح امکانات ہیں-
(کرم الہی)
بشکریہ