آج کل کچھ لوگ اس بارے میں بڑے کنفیوز ہیں کہتے ہیں جیسے عوام ہوتے ہیں ویسے حکمران لیکن حقیقت اس سے بلکل برعکس ہے آئیے آپ کو بتاتے ہیں کس طرح
حجاج بن یوسف کےزمانےمیں لوگ صبح کوبیدارھوتےاورایک دوسرےسےملاقات ھوتی تو یہ پوچھتے۔۔؛گزشتہ رات کون کون قتل کیاگیا۔۔۔؟کس کس کو کوڑے لگے۔۔۔؟
ولیدبن عبدالملک مال،جائیداد اورعمارتوں کاشوقین تھا۔اس کےزمانےمیں لوگ صبح ایک دوسرےسےمکانات کی تعمیر،نہروں کی کھدائی اور درختوں کی افزائش کےبارےمیں پوچھتے تھے۔۔۔۔۔
سلیمان بن عبدالملک کھانے،پینے اورگانے بجانے کاشوقین تھا۔اس کےدور میں لوگ اچھے کھانے،رقص وسرود اور ناچنےوالیوں کاپوچھتےتھے۔۔۔۔
جب حضرت عمربن عبدالعزیز(رحمہ اللہ)کادور آیاتو لوگوں کےدرمیان گفتگوکچھ اس قسم کی ھوتی تھی،،تم نےقرآن کتنا یادکیا،ھر رات کتنا ورد کرتےھو،رات کوکتنےنوافل پڑھے۔۔۔
اس بات کی تصدیق کہ عوام اپنےحکمرانوں کےنقش قدم پر ھوتےھیں
نبی اکرم ﷺ کی ایک روایت سے ھے،آپ ﷺ
نےفرمایا(الناس علی دین ملوکھم)
اگرحکمران بسنت،میراتھن ریس،ویلنٹائن ڈےاوراپریل فول کومنائیں گے یا جلسوں جلوسوں میں موسیقی پر لڑکیاں نچوایں گے تورعایابھی گمراہ ھوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔لہذابےدین حکمرانوں سےاقتدار،صالح اوردیندارلوگوں کوسونپےکی جدوجہدصرف سیاست نہیں بلکہ تقاضائےدین ھے










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔