ہمیں زرداری یا نوازشریف نہیں کہتے کہ ہم کم تولیں، ملاوٹ کریں، جھوٹ بولیں، ہر ایک کو کاٹ کھانے کو دوڑیں، بداخلاقی سے پیش آئیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ ہمیں شاید کسی نے بھی نہیں کہا ہوگا لیکن کسی نے ایسا کرنے سے روکا بھی نہیں ہوگا۔ اگر روکنے کی کوشش کی ہوگی تو اس کے قول و فعل میں تضاد ہوگا جس سے بات کا اثر ختم ہو گیا۔
مثال کے طور پر کئی دفعہ ایسا ہوتا ھے کہ کوئی ملنے آیا اور والد نے بچے کو کہا کہ جاؤ کہہ دو میں گھر پر نہیں ہوں۔ یہ بات تو چھوٹی سی ھے لیکن اس والد نے اپنے بچے کو کئی غلط سبق سکھا دیئے۔ ایک تو حھوٹ بولنا سکھایا، دوسرا دھوکہ دینا اور تیسرا گھر آئے مہمان کا اکرام نہ کرنا۔ یہی چھوٹی چھوٹی باتیں آگے چل کر معاشرتی برائیوں کا سبب بنتی ہیں اور ہم ان سیاسستدانوں کو زمے دار ٹھہرانا شروع کردیتے ہیں جنہیں ہم نے خود ہی ووٹ دے کر منتخب کیا ہوتا ھے۔
یہ صرف اور صرف منافقت اور ڈھٹائی کے زمرے میں آتا ھے۔










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔