دنیا میں جہاں جہاں فساد مچا
سب کے پیچھے "مولویوں" کا ہی ہاتھ تھا۔
حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے نکالنے کیلیئے دل میں وسوسہ ڈالنے والا شیطان بھی پہلے مولوی ہی تھا۔
حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی قونچیں بھی مولویوں نے کاٹیں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر موجودگی میں بچھڑا بھی "مولوی سامری" نے ہی بنایا۔
اور تو اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی بھی مولویوں نے ہی چڑھایا۔
محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا وادئ شعب میں بائیکاٹ کس نے کیا تھا؟ مولویوں نے
صلح حدیبیہ کا معاہدہ توڑنے والے بھی مولوی تھے۔
ہلاکو خان، چنگیز خان دونوں مولوی تھے۔
تاتاری فتنہ تو سُنا ہی ہوگا آپ نے؟ وہ لوگ بھی بعد میں مولوی بنے۔
اوہو یاد آیا۔ دوسری جنگ عظیم میں مولوی ہٹلر نے کیا طوفان مچایا تھا۔ اُف
جاپان پر بم بھی مولویوں نے ہی گرایا۔
ہندوستان میں مولویوں نے ہی ہندؤوں کو ذات پات میں بانٹا ورنہ کتنا اتحاد تھا ان میں۔
فلسطین، عراق، چیچنیا، بوسنیا ، افغانستان میں خون کی ندیاں بہانے والے بھی مولوی۔
ڈرون اٹیک کرنے والے بھی مولوی۔
کیا کیا بتاؤں میں؟
بس سمجھ لیں!
یہ مولوی ہوتے ہی فسادی ہیں۔
شکر ہے یہودی اور عیسائیوں کو ہماری فکر ہے۔
ورنہ تو ہم کب کےان مولویوں کے ہاتھوں بھینٹ چڑھ چکے ہوتے!!!
تحریر:
قاضی محمد حارث
سب کے پیچھے "مولویوں" کا ہی ہاتھ تھا۔
حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے نکالنے کیلیئے دل میں وسوسہ ڈالنے والا شیطان بھی پہلے مولوی ہی تھا۔
حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی قونچیں بھی مولویوں نے کاٹیں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر موجودگی میں بچھڑا بھی "مولوی سامری" نے ہی بنایا۔
اور تو اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی بھی مولویوں نے ہی چڑھایا۔
محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا وادئ شعب میں بائیکاٹ کس نے کیا تھا؟ مولویوں نے
صلح حدیبیہ کا معاہدہ توڑنے والے بھی مولوی تھے۔
ہلاکو خان، چنگیز خان دونوں مولوی تھے۔
تاتاری فتنہ تو سُنا ہی ہوگا آپ نے؟ وہ لوگ بھی بعد میں مولوی بنے۔
اوہو یاد آیا۔ دوسری جنگ عظیم میں مولوی ہٹلر نے کیا طوفان مچایا تھا۔ اُف
جاپان پر بم بھی مولویوں نے ہی گرایا۔
ہندوستان میں مولویوں نے ہی ہندؤوں کو ذات پات میں بانٹا ورنہ کتنا اتحاد تھا ان میں۔
فلسطین، عراق، چیچنیا، بوسنیا ، افغانستان میں خون کی ندیاں بہانے والے بھی مولوی۔
ڈرون اٹیک کرنے والے بھی مولوی۔
کیا کیا بتاؤں میں؟
بس سمجھ لیں!
یہ مولوی ہوتے ہی فسادی ہیں۔
شکر ہے یہودی اور عیسائیوں کو ہماری فکر ہے۔
ورنہ تو ہم کب کےان مولویوں کے ہاتھوں بھینٹ چڑھ چکے ہوتے!!!
تحریر:
قاضی محمد حارث










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔