اگرچہ پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے پر میڈیا میں
اتنی بحث نہیں ہوتی ، پاکستان اور پاکستانی عربوں سے زیادہ اسرائیل سے نفرت کرتے
ہے . لیکن ہمارے پاکستان میں ایک مخصوص حلقہ جو ہمیشہ مغرب نواز ،خود کو لبرل اور
سیکولر ثابت کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ کرتا ہی رہتا ہے ،اس دفعہ ان کا نشانہ اسلامک
یونیورسٹی بنی ، بین الاقوامی ثقافت کا لبادہ اوڑھ کر اسرایئل کا سٹال بھی لگا دیا
گیا ، اس کا ثقافت سے کوئی لینا دینا نہیں تھا ، ماسٹر مائنڈ کو بھی پتا تھا کہ یہ
سٹال لگتے ہی ہنگامہ ہو گا ،اس سٹال کے لگانے کے
پیچھے ایک بنیادی مقصد تھا ، اس ٹوپک کو پاکستان کے میڈیا پر ڈسکسس کرنا ، اس پر
اب ٹاک شو ہو گے ، آرٹیکل لکھے جائے گے ، حقیقت تو یہ ہے کہ ثقافت اور سٹوڈنٹ کے
کندھے پر بندوق رکھ کر اسرائیل کے ٹوپک پر قیاس کرنے کا موقعہ چاہیے تھا ، اور وہ
مل گیا ہے ، اب یہ طبقہ اسرائیل کے اتنے گن گائے گے ، آپ سوچ بھی نہیں سکتے ،
بدنام کون ہو گا ، ؟ صرف اور صرف اسلامی یونیورسٹی یا پھر وہ سٹوڈنٹ ، ہمارا
جذباتی طبقہ گالیاں کس کو دے گا ؟ کفر کے فتویٰ کس پر لگائے گا ؟ جی ہاں ، اسلامی
یونیورسٹی اور ان سٹوڈنٹ پر ، اس کو کہتے ہے ماسٹر مائنڈ پلان ،،،،، اب وہ سب
متحرک ہو جائے گے جو اسرائیل کو تسلیم کروانا چاہتے ہیں .اب ایک لابی اس ٹوپک کو
اتنا ڈسکس کرے گی اور آپ کے ذہنوں میں اسرایئل اس طرح ٹھوسا جائے گا جس طرح
فاویکول . پھر یہ گانا بجے گا ، ہم نے اسرایئل تسلیم کروا لیا فاویکول سے فاویکول
سے، پاکستان کے پاسپورٹ پر اسرائیل مٹا دیا ربر ڈول سے ،،،اور دوسرا گانا بجے گا
اسلامی یونیورسٹی بدنام ہوئی اسرائیل تیرے لئے. اور ہماری عوام صرف لعنتیں اور
نعرے لگاتی رہے گی ،
خیر اسلامی یونیورسٹی انتظامیہ نے جامعہ کے سینئر پروفیسر ڈاکٹر
محمد طاہر منصوری کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے، لیکن اس کا
نتیچہ کچھ بھی نہیں نکلے گا ، کیوں پاکستان میں ایسی کئی کمیٹیاں قائم کی گئی جن
کا آج تک کچھ حتمی نتیچہ نہیں آیا ، کیا مجھے اس پر مثال دینے کی ضرورت ہے ؟ کیوں
کہ ہمارے ہاں کمیٹیاں کھائی جاتی ہے ،قائم نہیں کی جاتی ،
بقلم مولوی روکڑا










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔