پہلے منظر میں ہیلی کاپٹر نیچے آکر رک جاتا ہے ایک دبنگ
شخصیت باہر آتی ہے تو دونوں جانب قطاردرقطار کھڑے لوگوں سےخیر مقدمی سلام
لیتاہےاور آگے جانکلتاہے۔ سامنے موجود آفسران سے کچھ سننے کے بعد کسی کو
شاباس تو کسی کو ہدایات جاری کرتا ہے۔
چلتے چلتے اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ کو منظقی انجام
تک پہنچا کر دم لینگے۔
دوسرے منظر میں دیدہ زیب ملبوسات میں ملبوس وزیروں کی فوج ظفر موج اپنے وزیر اعلی کی معیت میں
جامعہ میں داخل ہوجاتے ہیں۔ واقعے کو افسوسناک قرار دے کر زخمیوں کو ہرقسم کی طبی
امداد فراہم کرنےکی ہدایات جاری کیئے جاتے ہیں۔ساتھ میں شہداء کی بلندی درجات اور
دہشتگردوں کو شکست دینےکے عزم کا اعادہ بھی کیا جاتاہے۔ کیمرے میں منظر عکس بند
ہوجاتاہے،خبر بن کرچھپ بھی جاتاہے اور قوم کےغمخوار حکمران واپس اپنے محلات میں
پہنچ جاتے ہیں۔
تیسرےمنظر میں ہسپتال کے اندر مجروحین کی بیمار پرسی کرنے والے شہ دماغ زخمی
سے زیادہ اپنی ذات پر توجہ مرکوز کرتے ہیں کہ تصویر اچھی بنے کیونکہ میڈیا ہی تو
سب کچھ ہے۔کوئی بہت زیادہ انسان دوست ہو،تو عیادت کے بعد ہسپتال میں میڈیا سے
گفتگو بھی کرلیتا ہے کہ دہشتگرد ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتے۔
چوتھے منظر میں اخباروں اور ٹی چینلز میں آنے والے کچھ اس
طرح کے بیانات ہیں۔مثلا دہشتگروں کونہیں چھوڑا جایئگا، حالیہ واقعہ
انسانیت پر حملہ ہے،قلم و کتاب پر حملہ کرنےوالے انسان کہلانے کےقابل نہیں، اس طرح
کی بزدلانہ کاروائیوں سے ہمارے حوصلے پست
نہیں ہونگے، قلم تلوار سے زیادہ طاقتور
ہے، دہشتگرد بوکھلاہٹ میں معصوموں کو نشانہ بنارہے ہیں، بروقت کاروائی سے دہشتگرد
اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے ( حالانکہ وہ مکمل یکسوئی کیساتھ دہشت پھیلا کر
ہمارے دعووں کا ہر بار مذاق اڑادیتے ہیں)،اس واقعہ نے قوم کو پھر متحد کردیا(لیکن
فورا ہی دہشتگرد کون؟؟اور ذمہ دار کون کی بحث پر قوم متحدہونے کی بجائے منتشر
ہوجاتی ہے)،متاثرین کی ہر ممکن مدد کی جائےگی،دہشتگردوں کے سہولت کاروں کا سراغ
لگالیا گیا ہے قریبی ملک کی سرزمین استعمال کی گئی اعلی سطح پر معاملہ اٹھانے کا
فیصلہ، ملک بھر میں سوگ کا اعلان قومی پرچم سرنگوں رہے گا، شہداء کی یاد میں شمعیں
روشن کی گئیں، پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں
میں متاثرین کیلئے دعا کی گئی ، اقلیتی برادری
نے بھی واقعہ کی مناسبت سے دعائیہ تقریب کا اہتمام کرکے ایک منٹ کی خاموشی
اختیار کرلی ،دوسرے،تیسرے اور پتہ نہیں کتنے دن بعد بھی سانحہ کو بھلا یا نہیں گیا
اور لوگ اب بھی اپنےپیاروں کی یاد میں تڑپتے ہیں،نیشنل ایکشن پلان مکمل طور پر
ناکام ہوچکا ہے، واقعہ کے پیچھے ازلی دشمن بھارت کا ہاتھ ہے،بھارتی وزیر اعظم نے
فون کرکے واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا اور دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کیلئے
اپنے تعاون کا اظہار بھی کیا، افغانستان کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی مفرور
قیادت کو پاکستان کے خلاف کاروائی سے روکے، افغان صدر نے وزیر اعظم سے فون پربات کرتے ہوئے
افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کرادی، پاکستان
بچانے کیلئے پختونخواہ کو قبرستان بنا یا گیا ہے، یہ کیسے دہشتگرد ہیں جن کو صرف
پختونخواہ کا راستہ معلوم ہے، پختو نوں کو ان کی حب الوطنی کی سزا دی جارہی ہے،سب
جانتے ہیں واقعہ کے پیچھے کونسی قوت ہے بس کسی میں نام لینے کی جراءت نہیں، آپریشن
ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے بہت جلد دہشتگردوں کا قلع قمع کیا جایگا، ہماری بہادر
افواج قربانیاں دے رہے ہیں، جامعات میں کیا
فوجی سبق پڑھ رہے تھے؟،وفاق ہمارے ایف سی کی پلاٹونز واپس کرے تاکہ صوبے
میں امن وامان یقینی بنایاجاسکے، حملوں کے حوالے سے ہفتہ پہلے وفاق نے صوبہ کو بتایا
تھا لیکن اقدامات نہیں کئے گئے، یہ وقت
آپس کےجھگڑوں کا نہیں اتحاد واتفاق کا ہے، معصوموں کے مقدس لہو نے قوم کو بیدار
کردیا،عالمی برادری نے واقعے کو انسانیت سوز قرار دے دیا۔ یہ اوراس قبیل کے ان گنت
بیانات ہر سانحے کے بعد کانوں میں گونجتے
ہیں اور آنکھوں سے دکھائی دیتے ہیں۔ سوال لیکن عام سا ہے ان بیانات سے کسی یتیم کو
والد کی شفقت دوبارہ مل سکتی ہے؟ کسی بیوہ کو شوہر کا سایہ میسر آسکتا ہے؟اورکچھ
نہیں تو کم از کم یہ یقین دہانی ہوسکتی ہے کہ اس طرح اوروں کیساتھ نہیں ہوگا؟؟ اگر
جواب نہیں میں ہے تو پھر خود فیصلہ کرلیں کہ مذکورہ بالا قسم کی بیانات زخم پر
مرہم ہے یا نمک پاشی۔ عجب
یہ رسم ہے چارہ گروں کی بستی میں
لگا کے زخم نمک سے مساج کرتے ہیں۔
پانچواں منظر کچھ ایسا ہے
جہاں ہر کوئی سراپا سوال ہے۔ ذمہ دار کون ہے ؟علاج کیا ہے؟ اسباب کیا
ہیں؟سدباب کیسی ہوگا؟قومی سلامتی کے ادارے ذمہ دار ہیں؟حکومت وقت کی نااہلی ہے؟
ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے؟ اپنوں کی کوتاہی یا غیروں کی چالاکی ہے؟ اب کوئی کس طرح
یونیورسٹی جایئگا؟ کسی میں حوصلہ باقی ہے؟ قربانی کب تک دینی پڑی گی؟میڈیا کا رویہ
دانشمندانہ ہے؟ حل کسی کی پاس نہیں بس سب باتیں ہی باتیں ہیں؟ اب بچا کیا ہے
؟زندگی کا کوئی شعبہ ہے جو دہشت ذدہ نہ ہو؟ مایوس ہونا ہی تو ہے شادیانے تو نہیں
بجا سکتے۔ اور اسی منظر میں چشم بینا سے دیکھا جائے تو بحثوں، مباحثوں،
تقریروں،تجزیوں،تبصروں، نوحوں،مرثیوں، جلسوں،جلوسوں،مظاہروں، تعزیتی اجتماعوں اور
دعاوں کا سیلاب بھی جو ہر واقعہ کے بعد امڈتا ہے اور کچھ دنوں بعد چائے کی پیالے
میں طوفان کی مانند ختم ہوجاتا ہے۔ کیوں اس لیئے کہ یہ سب کچھ بناوٹی ہوتی ہیں۔
چھٹا منظر جہاں شہید کی روح چیخ چیخ کر سوال کرتی ہے آخر میرا گناہ کیا تھا؟ جہاں زخموں کا ہر درد پوچھتا ہے آخر کس جرم کی پاداش میں؟جہاں یتیم
بچہ سر شام ماں سے پوچھتا ہے امی ابو کب آیئگا؟ اور ماں کی زبان سے الفاظ نہیں
بلکہ آنکھوں سے آنسو نکل جاتے ہیں۔جہاں ہر روز صبح ماں انتظار کرتی ہے کہ بیٹا آکے
کہے گا امی اللہ حافظ میں یونیورسٹی چلا گیا۔ جہاں بہن روز دوپہر کو منتظر رہتی ہے
کہ چھٹی ہوگئی اب بھائی آئےگا تو ہم کھانے کھایئنگے۔لیکن نہ دعا لینے بیٹا آجاتا
ہے اور نہ کھانا کھانے بھائی ،کیوں اسلیے کہ وہ تو ابدی سفر پر نکل چکے ہیں یہ نہ
جانتے ہوئے بھی کہ آخر ہمارا قصور کیا تھا؟ اس منظر میں متاثرہ خاندان کےایک ایک فردکو تلاش ہے بے حسوں
کی معاشرے میں احساس کی ،گوشت پوست کے بنے جسموں میں انسان کی جہاں مجھے
بھی آپکو بھی اور ہر صاحب احساس کو تلاش
ہے منزل کی اور منزل کی نشان کی افسوس لیکن سفر دشوار ہے،راہ ناہموارہے اور رہبراپنا ناواقف کار ہے۔ ایسے میں فقظ تعین منزل اور جہد مسلسل ہی سے حصول منزل ممکن
ہے۔وگرنہ خاکم بدہن جامعہ چارسدہ طرز کے اور سانحات بھی رونما ہوسکتے ہیں۔ 

آخری منظر جو سب سے اہم ہے یہ کہ اب کیا کرنا ہوگا؟؟لیکن اس
سے بھی اہم یہ کہ کیا واقعی کچھ کرنا چاہیے یا یوں ہی ہر واقعہ کے بعد مگر مچھ کے
آنسو بہا کے دل کو ہلکا کرتے رہینگے اور سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا۔ اگر کچھ کرنا
ہے،تو یکسوئی اور کامل یکسوئی شرط اول ہے، اچھے اور برے کی تمیز ختم کرنی ہوگی،کجا
سانپوں میں بھی اچھے اور برے ہوتے ہیں؟ فوری اور سستے انصاف کی فراہمی امن کیلئے
جز لاینفک ہے،بنیادی انسانی ضروریات کی دستیابی دہشتگردی کم کرنے میں ممد ومعاون
ہوسکتی ہے۔علاوہ ازیں ملک کے اندر 60 فیصد نوجوانوں کو روزگار یا تعمیری
مصروفیات فراہم کی جایئں۔ تاکہ مایوس ہوکر
دہشتگرد بننے پر مجبور نہ ہوجائے، سب سے اہم یہ کہ ملک بھر کیلئے یکساں
پالیسی ہو تاکہ چھوٹے صوبوں میں رہنے
والوں کو شک نہ ہو کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہمارے صوبے کو دہشتگردوں کےحوالے
کیئے گئے ہیں۔یہ بھی لازم ہےکہ اوروں کے
معاملات میں دخل اندازی سے مکمل اجتناب کرکے اپنے ملک کو پرامن بنایا جائے۔ اور
ملک کے ہر شعبہء میں استحصال اور ظلم کو ختم کیا جائے ،کیونکہ حضرت علی کرم اللہ
کا قول ہےکہ نظام کفر پر چل سکتا ہے ظلم پر نہیں۔ تو سب کو سوچنا ہوگا کیا ہمارے نظام
مملکت میں ظلم کا دوردورہ نہیں؟؟تو پھر رونا کیوں؟










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔