ایک طرف وہ شخص جس نے آغاز جوانی میں... مشرقی پاکستان کے دفاع میں حصّہ لیا... مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کے بعد 'بنگلہ دیش نا منظور تحریک' کی قیادت کی... مشرف جیسے ڈکٹیٹر سا ٹکرایا اور کئی جیل میں گزار دیے... شدید ترین تشدد برداشت کیا مگر آئین کی بالادستی کے لئے ڈٹا رہا... وہ شخص جس نے اکیلے پاکستان پر قبضہ کی خواہشمند اسٹیبلشمنٹ اور اس کے ہرکاروں کو تنہا شکست سے دو چار کر دیا... جب اپنی پارٹی پالیسی سے اختلاف کیا تو ببانگ دھل استفعی دے کر دوبارہ عوام میں جا کھڑا ہوا...
...آج اس کا مقابلہ ایک نسلی مجرم... بے ضمیر... لوٹے سے ہے... ایسا شخص جس کا باپ بھی اور جو خود بھی علاقے کے بدمعاش ہیں... جو ظالم جاگیر دار ہیں... جنہوں نے سالہا سال سے اپنے علاقے کے لوگوں کو غلام بنایا ہوا ہے... اس لوٹے کے ساتھ 'سٹیٹس کو' کے سارے ستوں کھڑے ہیں اور وہ اکیلا ان سب سے نبرد آزما ہے...
یہ معرکہ فیصلہ کر دے گا کہ قوم کا ضمیر زندہ و بیدار ہے یا پھر آج بھی ظلم کا... مجرموں اور جھوٹ کے بیوپاریوں کا غلام ہے...











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔