Saturday, October 18, 2014

محرومی ،،،،

0 comments

انسان جب احساست سے محروم ہو جاتا تو پھر وہ دوسروں کے سہارے جینے کی کوشش کرتا ہے ، یا پھر خود سے بےزار ہو جاتا ہے . اس وقت پاکستان کی عوام بھی پارٹی پرستی کا شکار ہے ، اپنے ہونے کا احساس ہو کر بھی نہیں ہے ، ایک جھنڈا اس پارٹی کا تو دوسرا جھنڈا دوسری پارٹی کا اٹھائے کبھی تبدیلی کے نعرے تو کبھی شیر آیا شیر آیا ، اوربے زار ہو کر بھٹو زندہ ہے جیسے نعرے بھی لگا دیتے ہیں ، آج کے جلسے دھرنے ایسے ہے جیسے کسی کا ولیمہ. کوئی بھی اندر گھس کر کھا پی کر سائیڈ مار جاتا ہے ، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کوئی تمھارے لئے تبدیلی لے آئے گا تو یہ بھی غلط فہمی ہے ، کوئی تمہارے لئے تبدیلی نہیں لا سکتا جب تک تم خود تبدیل ہونا نہ چاہو، کئی ایسے افراد ہے جو ایک پارٹی کے جلسے میں جاتے تو وہی افراد کسی اور کے کے جلسے میں بھی ، پارٹی پرستی کا بت بنا کر اس کی پوچا کرنا آج کا شیوا بن چکا ہے. کچھ غریبوں کی غربت کا خوب استعمال کیا جا رہا ہے ،تعداد بڑھانے کے لئے ان کی غربت کو خریدا جا رہا ہے. کبھی اس جلسے کے لئے تو کبھی اس کے جلسے کے لئے . ، لیکن اس وقت ملک اقتصادی تباہی کی طرف جا رہا ہے.ہم دن بدن ایسے محرومیوں کی طرف جا رہے جن کا ازالہ کرنا مشکل ہو جائے گا،
بقلم مولوی روکڑا


0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔