، پاکستان کو جی ایس پی پلس سٹٹس کیا ملا تھا کہ دشمن نے پانی چھوڑ کر سیلاب سے پاکستان کی کپاس کی فصل کو ہی تباہ کر دیا اور جو نوقصاں اس دفعہ ہوا ہے اس کا ازالہ کرنا تو اس سال تو ممکن نہیں لیکن اگر یہ حکمت عملی رہی تو اس جی ایس پی پلس کا کوئی فائدہ نہیں ، پاکستان کے گوورنر پنجاب محترم غلام سرور صاحب اور یوروپ میں پاکستان کے سفیر کی کوشش کی وجہ سے اگر یہ موقعہ ہمیں ملا ہے تو ہم کیونکر اپنی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بحال نہ کریں ؟ اس سال یورپ کا رجحان پاکستان کی ٹیکسٹائل پروڈکٹس میں بڑهوتری ہو رہی ہے ، لیکن انرجی کے فقدان ، کراچی کے نامعلوم افراد کی طرف سے بھتہ خوری کو کنٹرول نہ کیا گیا پھر پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو تالا لگ جائے ، اس وقت فيصل آباد ، لاہور کی انڈسٹری کا برا حال ہے ، اور نواز صاحب کی حکومت نے ابھی کوئی ایسا constructive پلان پیش نہیں کیا جس سے پاکستان کی ایکسپورٹ میں اضافہ ہو سکے ، پل بنانے اور سڑکوں کو کشادہ کرنے کے علاوہ اگر فرصت ہو تو جناب اس طرف بھی دھیان دے ،
اور عمران صاحب اگر آپ کے دھرنے اور جلسوں سے کوئی نتائج نہیں نکلنے تو انا کو ایک طرف رکھ کر پاکستان کی ترقی کے بارے میں مل بیٹھ جائے ، ہو سکتا آپ اپوزیشن میں ہو کر کوئی اچھا پلان پیش کر دے ،یہ سچ ہے کے دھاندلی ہوئی ہے لیکن پاکستان کی اقتصادی حالت اگر اچھا نہ ہوئی تو اس میں آپ بھی حصہ دار ہو گے ، کیوں پچھلے دو مہینے سے پاکستان کی اقتصادی حالت گرتی جا رہی ہے ،
بقلم مولوی روکڑا










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔