Monday, October 13, 2014

انگریزی سکول سے پڑھے لکھے فیس بک کے لبرل

0 comments

انگریزی سکول سے پڑھے لکھے فیس بک کے لبرل پاکستانی جب مغرب کی آئے دن ، مغرب تو دور پڑوس ملک کی سائنسی ترقی دیکھتے ہے تو اپنی ناکامیوں اور نہ اہلی کا سارا ملبہ کسی گاؤں کے مدرسے کے طالب علم پر ڈال کر خود کو مظلوم ، بے بس اور لاچار ثابت کرنے میں لگ جاتے ہیں ، حقیقت تو یہ اپنی ساری زندگی میں یہ انگریزی اسکول تو جاتے ہے لیکن وہاں پڑھنے کے بجائے مغرب کو کاپی کرنے میں مگن ہوتے ہیں ، برانڈڈ اشیا ، کول ڈوڈ لوک ، بیگی جینس ، کٹی پارٹیز ، اور ٹہرے منہ بنا کر انگلش بولنے کے سوا ان کو آتا ہی کیا ؟ اسلام کے بارے میں کیا بات کرو ، انکو تو اس خطہ کی ہسٹری تک نہیں پتا ہوتی ،ہسٹری تو چھوڑوں ملک میں کیا ہو رہا ہوتا اس کا بھی علم نہیں ہوتا ، مدرسے کا طالب علم کم از کم پوری ایمانداری کے ساتھ قرآن کے تیس پارے تو حفظ کر ہی لیتا ہے ، اور اپنی غربت کو کوسنے کے بجائے اپنے ابا کے ساتھ کھیتوں میں کام کرتا ہے ،لیکن یہ نام نہاد ماڈرن ایک بلب تک گھر کا تبدیل نہیں کر سکتے ، اور بات کرتے سائنس کی ہے .٢٢ کروڑ کی عوام میں سے اگر فرض کرے ایک کروڑ بچہ مدرسے میں تعلیم حاصل کرتا ہے تو ایک کروڑ گورنمنٹ سکولوں میں تو کم از کم [پچاس لاکھ بچے تو پاکستان کے اچھے انگریزی اسکولوں میں تو پڑھتے ہو گے ، لیکن کیا وجہ ہے کے گورنمنٹ سکولوں کے پڑھے لکھے بچے زیادہ قابل اور محنتی ہیں ، اور یہ ممی ڈیڈی اسکول کے بچے ایک بگڑی ہوئی اولاد سے زیادہ کچھ نہیں ،،ان ممی ممی ڈیڈی سکولوں سے کوئی اگر اپنا نام بناتا تو وہ ایک ایسے مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھتا ہو جہاں چلو سب بچے ایسے اسکول میں نہیں پڑھا سکتے ایک بچہ جو زیادہ زہین ہوتا ہے اس پر پر محنت کر ایسے اسکول میں داخل کروا دیا جاتا ، ستم تو یہ اس مڈل کلاس بچے کو اپنے باپ کی دولت دھونس دے دے کر اس کو ہمیشہ احساس دلواتے رہتے تم ایک مڈل کلاس سے ہو ،،،،، ہمارا ایلیٹ کلاس طبقہ نے ہمیشہ یہ ڈفرنس مینٹن رکھا ہے ،تاکہ غریب ، غریب ہی رہے ، اور مڈل کلاس مڈل کلاس ہی ، اور ایلیٹ طبقہ کی حکمرانی قائم و دائم رہے ،

بقلم مولوی روکڑا

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔