Tuesday, October 21, 2014

بچوں کی تعليم و تربيت ايک بنيادی فريضہ ہے

0 comments


جبکہ آج کااکثر مسلمان طبقہ اپنی اولاد کو اچھی باتوں کا حکم نہيں ديتا‘ اپنی اولاد اور بيوی کو خوش کرنے کے لئے دين وشريعت کی پرواہ نہيں کرتا‘ بلکہ الٹا ان کی ناجائز خواہشات کو پورا کرکے اللہ اور اس کے رسول کو ناراض کرديتا ہے-

آپ نے ہر انسان پر کسی نہ کسی درجہ ميں ايک ذمہ داری عائد کی ہے، اور فرمايا:

”‌کلکم راعٍ وکلکم مسئول عن رعيتہ

يعنی”‌ تم ميں سے ہرايک نگران ہے اور ہرايک سے اس کے ماتحتوں بارے ميں پوچھاجائے گا“-

آج معاشرہ ميں ہرطرف بے دينی کا سيلاب ہے‘ مسلمانوں کے بچوں کے عقائد بگڑ رہے ہيں‘ ان کے اعمال واخلاق تباہ ہورہے ہيں اور ہم مسلمان والدين ہيں کہ ہميں اس کی کوئی فکر اور پرواہ ہی نہيں۔

اولاد کے عقيدہ ، اعمال ، اخلاق اور تعليم وتربيت کی فکر بہت ضروری ہے ۔ عقائد کا تعلق ايمان سے ہے ، اعمال کا تعلق اسلام سے ہے جبکہ اخلاق کا تعلق دين سے ہے، قرآن کريم ميں ہے کہ انبياء کرام عليہم السلام نے بھی اپنی اپنی اولاد کی فکر کی

حضرت يعقوب عليہ السلام نے دينی فکر کرتے ہوئے اپنی اولاد سے سواليہ انداز ميں استفسار کيا کہ: 

”‌ ما تعبدون من بعدي“ -(البقرہ:133)
( ميرے بعد تم کس کي بندگي کروگے؟)

يہ اولاد کے ايمان کی فکر ہے- اسی طرح حضرت ابراہيم عليہ السلام اور حضرت يعقوب عليہ السلام نے اپنی اپنی اولاد کو وصيت کی:
”‌يٰبني ان اللہ اصطفي لکم الدين فلاتموتن الا وانتم مسلمون“- (البقرہ:132)

ترجمہ:”‌ميرے بيٹو اللہ تعاليٰ اس دين (اسلام) تمہارے لئے منتخب فرمايا ہے سو تم بجز اسلام کے اور کسی حالت پر جان مت دينا“-


حضرت اسماعيل عليہ السلام کااپنی اولاد کے متعلق يہ ارشاد:
”‌وکان يأمر اہلہ بالصلوٰة والزکوٰة“- (مريم:55)
ترجمہ:”‌اوراپنے متعلقين کو نماز اور زکوٰة کا حکم کرتے رہے تھے“- 

الله پاک آج کے مسلمان والدین کو بھی یہ توفیق عطا کرے کہ وہ اپنی اولاد کے عقيدہ ، اعمال ، اخلاق اور تعليم وتربيت کی فکر کریں - آمین

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔