
اے آر وائی پر پابندی کا فیصلہ نہایت دانشمندانہ ہے کم مدت میں اے آر وائی نے جس طرح صحافت کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی تھی اس کی کسی بھی طرح تحسین نہیں کی جاسکتی۔مبشر لقمان نے اپنی ذاتی رائے کو قوم پر تھوپنے کی کوشش کی اور اس کو صحافت کا نام دیا جس طرح مبشر لقمان نے کھل کر اپنے پروگرام میں جاوید ہاشمی کی ہار پر مٹھائی بانٹ لی اس سے صاف اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ ایک کارندہ تھا نہ کہ صحافی۔اس میں باقی میڈیا گروپس کے لئے ایک اہم سبق پوشیدہ ہے اگر وہ جان سکیں تو۔











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔