Tuesday, October 14, 2014

ہائے رے بے رحم سیاست

0 comments

یہ کچھ عرصہ پرانی بات ہے جب دھرنے میں شرکت کے لئے پی ٹی آئی کا قافلہ 
لاہور سے اسلام آباد جا رہا تھا کہ قافلہ گجرانولہ پہنچا جہاں پر نون لیگی بٹوں نے ان پر حملہ کر دیا اس دوران قافلے میں موجود ہر ایک کے رونگٹے کھڑے ہوگے لیڈران چھپنے کی جگہ ٹھونڈنے میں مشغول ہوگئے اور کچھ چھپ بھی گئے۔ پارٹی کا ڈکٹیٹر خود کنٹینر سے نکل کر بلٹ پروف لینڈ کروزر میں سوار ہوگیا تو اسی دوران ایک مرد مجاہد اٹھا اور اس نے گرج دار آواز میں ان غنڈوں کو للکارا "آو مارو مجھے مارو"۔ اس گرج دار آواز میں اتنی طاقت تھی کہ ان بدمعاشوں کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ اور راستے سے ہٹ گئے۔ بس اتنی سی دیر تھی کہ باغی باغی کا نعرہ بلند ہوا اور اس کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیا گیا۔
مخصوص پارٹی کا ہر کوئی جیالا اس سپوت پر فخر کر رہا تھا جوش میں اس مرد جواں کو باغی باغی کا خطاب دے رہا تھا۔ لیکن عین اسی وقت مخالف پارٹی کے
پارٹی پرست اسی ہاشمی کو داغی کا خطاب دے رہے تھے۔

پھر کچھ دن بعد پانسا پلٹتا ہے جاوید ہاشمی کو پارٹی کا ایک ڈکٹیٹر اپنے ایک حکم سے بے عزت کرکے نکال دیتا ہے۔ جسے کوئی پوچھنے والا نیں جسے کوئی روکنے والا نہیں کوئی احتیجاج کرنے والا نہیں بس حکم آتا ہے اور اس سپوت کو پارٹی بدر کر دیا جاتا ہے۔
خطاب بدلنے باغی سے داغی اور داغی سے باغی بننے میں صرف اس حکم کی دیر ہوتی ہے کہ پاکستان کے تمام پارٹی پرست اور شخصیت پرست لوگوں نے اس کے لئے معیار بدل ڈالے کل تک جس کے نزدیک باغی تھا اس کے لئے داغی بن گیا اور جس کے نزدیک داغی تھا اس کے لئے باغی بن گیا۔

بس ایک نقطے نے محرم سے مجرم بنا دیا

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔