اسلامی جمہوریت اور خلافت میں کوئی فرق نہیں پوری تحریر پڑھنے کے بعد ہی اپنی رائے دیجئے گا۔
یاد رہے یہاں بات صرف اسلامی نقطہ نظر سے جمہوریت پر کی جائے گی ناکہ مغربی نقطہ نظر والی جمہوریت پر۔
دونوں (خلافت اور جمہوریت) ایک دوسرے سے ملتے جلتے طرزِ حکومت ہیں اور دونوں میں کوئی زیادہ فرق نہیں۔ اگر کہیں فرق ہے تو دونوں کے ناموں میں، دونوں کے حامیوں کی ایک دوسرے کی مخالفت میں اور اپنی اپنی عینک لگا کر دونوں نظاموں کو دیکھنے والوں کی سوچ میں۔ کئی مسلمان اور اسی طرح کئی مغرب کے دلدادہ بھی ان ملتے جلتے نظاموں کو اپنے اپنے نام دیتے ہیں اور ایک دوسرے کیمخالفت میں دوسرے کے نظام کی بھی شدید مخالفت کرتے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق خلافت ایک جمہوری طریقہ ہے۔
سب سے پہلے یہ بات میں ذہن میں رکھیں کہ عام طور پر جمہوریت کی تین اقسام (بلاواسطہ، نمائندگانی اور آئینی جمہوریت) ہیں۔ فی الحال ان اقسام کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا، کیونکہ یہاں اس کی ضرورت نہیں۔ جمہوریت کے تحت اس وقت دنیا میں کئی قسم کے طرزِ حکومت چلرہے ہیں۔ جس کی سب سے بڑی مثال صدارتی اور پارلیمانی نظام وغیرہ ہیں۔
تھوڑا سا غور کیجئے کہ جمہوریت میں صدر یا وزیراعظم یا دونوں ہوتے ہیں۔ جنہیں پارلیمنٹ یا قومی اسمبلی کے نمائندگان منتخب کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح خلافت میں خلیفہ ہوتا ہے، جس کو مجلس شوریٰ منتخب کرتی ہے۔ غور کریں! یہاں تک فرق صرف اپنے اپنے رکھے ہوئے ناموں کا ہے۔ کوئی اسے قومی اسمبلی کہتا ہے تو کوئی مجلس شوری کہتا ہے جبکہ صدر، وزیراعظم یا خلیفہ کو چند ”بڑے لوگوں“ کا ایک گروہ ہی منتخب کرتا ہے۔
یہاں سے ایک قدم آگے چلیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قومی اسمبلی یا مجلس شوری کن لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے؟ جمہوریت والے کہتے ہیں قومی اسمبلی کےنمائندے عوام منتخب کرتے ہیں جبکہ خلافت والے کہتے ہیں کہ مجلس شوری پرہیزگار، اچھے، ایماندار، معزز اور صاحب رائے وغیرہ لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہاں قومی اسمبلی والا کھاتا تو صاف ہوا کہ انہیں عوام منتخب کرتے ہیں، مگر مجلس شوری والے معتبر اور صاحب رائے لوگوں کےمعاملے پر شاید کچھ لوگ غور نہیں کرتے کہ یہ ”معتبر“ کی وضاحت کون کرے گا اور یہ کیسے منتخب ہوں گے۔ خیال رہے یہاں معتبر ایسے بندے کو کہا جا رہا ہے جس میںمجلس شوری کا رکن ہونے والی خصوصیات ہوں یعنی اچھا اور معزز بندہ۔ خیر معتبر ہونا کوئی ”راکٹ سائنس“ نہیں کہ جیسےتیسے کہیں سے حاصل کر لی اور اپنے نام کے ساتھ لکھ دیا جی کہ میں معتبر/اچھا بندہ ہوں۔ تھوڑا سا غور کریں کہ کوئی اپنے اچھے کاموں کے بعد اچھا تب ہی بنتا ہے جب لوگ اس کی اچھائی کی گواہی دیں۔ لوگ جس کی اچھائی کا اعتراف کرتے ہیں وہی معتبر ہوتا ہے اور جس کی رائے عام لوگ مانیں وہی صاحب رائے ہوتا ہے۔ اب ایسا تو نہیں ہو سکتا ہے کہ لوگ گواہی دیں کہ زید برا انسان ہے مگر زید خود کہے کہ میں اچھا ہوں تو اسے معتبر مان لیا جائے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ عوام جس کو اپنا معتبر بنائے وہی معتبر ہو گا۔ یوں ایک طرف قومی اسمبلی عوام منتخب کرتے ہیں تو دوسری طرف مجلس شوری بھی عوام ہی منتخب کرتے ہیں۔ بس پرانے زمانے میں زبانی زبانی کسی کی معتبری کا اعتراف کیا جاتا تھا یا کسی کی اچھائی کے بارے میں عوام میں ایک رائے قائم ہو جاتی تھی اور وہ بندہ معتبر قرار پاتا تھا جبکہ آج حالات ایسے ہیں کہ عوام میں کسی کی اچھائی کی صرف مشہوری سے کام نہیں چلے گا بلکہ اس کے لئے تحریری رائے درکارہے۔ لہٰذا پرانا طریقہ کارآمد نہیں رہا تو تحریری ووٹ کے ذریعے کسی کی اچھائی/معتبری کی گواہی لی جاتی ہے۔ یہ تو عوام پر ہے کہ وہ چور ڈاکو کو معتبر بناتی ہے یااچھے لوگوں کو۔ آسان الفاظ میں یہ کہ کوئی خود سے معتبر نہیں ہوتا بلکہ لوگوں کی رائے (ووٹ) سے ہی کوئی معتبر بنتا ہے۔ جو بھی ہو لیکن عوام کی رائے سے ہی سب کچھ ہو گا۔ لوگوں کی رائے سے منتخب ہونے والے کو معتبر کہو یا عوام کا نمائندہ، معتبر لوگوں کی مجلس شوری بناؤ یا نمائندوں کی قومی اسمبلی، مجلس شوری خلیفہ منتخب کرے یا قومی اسمبلی وزیر اعظم، بات ایک ہی ہے بس ہر کسی نے اپنا اپنا نام دے رکھا ہے۔
کئی لوگ خلافت کا مطلب صرف یہ لیتے ہیں کہ پوری امت مسلمہ کا ایک خلیفہ ہونا چاہئے۔ جی بالکل ہونا چاہئے۔ مغرب والےیورپی یونین بنا سکتے ہیں تو مسلمان متحد ہو کر خلافت کیوں نہیں بنا سکتے۔ مگر ٹھہرو! پہلے یہ بات تو سمجھ لو کہ خلیفہ جمہوری طریقے سے ہی بنے گا۔ پہلے جمہوریت کے ذریعے ہر ہر مسلمان ملکمیں معتبر لوگ چن کر ان معتبر لوگوں کی مجلس شوری بنے گی، پھر ہر ملک کی معتبر لوگوں کی مجلس شوری اپنے ملک کا خلیفہ چنے گی، پھر تمام ممالک کے خلفاء کی ایک مجلس شوری ہو گی اور یہ خلفاء کی مجلس شوری ایک ”خلیفہ اعظم“ چنے گی۔
خدا کے بندو! میری رائے یہ ہے کہ پہلے نظام کو سمجھیں پھر خلافت کے حق میں اور جمہوریت کی مخالفت میں بولیں۔ اسی طرح مغرب کے دلدادہ جو بغیر سوچے سمجھے جمہوریت جمہوریت کرتے ہوئے خلافت کی مخالفت کرتے ہیں، پہلے وہ خلافت کو تو سمجھیں۔ میرے خیال میں خلافت اور جمہوریت ایک ہی تصویر کے دو رُخ ہیں۔
کہتے ہیں کہ خلافت میں اسلامی قانون رائج ہوتا ہے اور خلیفہ اللہ کو جواب دہ ہوتا ہے۔ جبکہ جمہوریت میں عوام کی اکثریت کیمرضی کا قانون رائج ہوتا ہے اور صدر یا وزیراعظم عوام کو جوابدہ ہوتا ہے۔ میں یہ بات تو تفصیل سے کر چکا ہوں کہ خلافت اور جمہوریت ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔ اب اس قانون کی بات یوں سمجھیں کہ جب عوام مسلمان ہو گی تو ظاہر ہے کہ وہ اسلامی قانون رائج کرنے کے حق میں ہو گیتو ایسے بندے کو منتخب کرے گی جو اسلامی قانون رائج کرے گا، بالکل اسی طرح اگر عوام اسلامی قانون کے حق میں نہیں ہوگی تو اسلامی قانون رائج نہیں ہو گا بلکہ جو عوام کہے گی وہی قانون ہو گا۔ رہی بات اللہ یا عوام کو جوابدہ کی تو ایک اچھا مسلمان ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتا ہے کہ وہ عوام کے ساتھ ساتھ اللہ کو بھی جوابدہ ہے۔ اب کئی لوگوں کو عوام کو جوابدہہونے پر اعتراض ہو گا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ والا وہ واقعہ یاد کریں جس میں ایک بندے نے خلیفہ وقت سے فقط اککپڑے کے ٹکڑے کا جواب مانگ لیا تھا۔ آسان الفاظ میں یہ کہ طریقہ جمہوری ہی ہو گا۔ اب ملک مسلمانوں کا ہوا تو خودبخود اسلامی قانون رائج ہو جائے گا اور اگر غیرمسلموں کا ہے تو وہ اپنی مرضی کا قانون رائج کر لیں گے۔ اگر حکمران (خلیفہ یا صدر وغیرہ) مسلمان ہو گا تو وہ اللہ کو جوابدہ ہو گا اور اگر حکمران غیر مسلم ہوا تواس کی مرضی۔
اسلام کے اولین دور (خلافت راشدہ) کے مسلمان کسی کو تاحیات خلیفہ بنانے پر راضی تھے تو انہوں نے تاحیات بنا لیا۔ آج کے مسلمان اگر تاحیات کی بجائے خاص عرصے کے لئے بنانا چاہتے ہیں تو میرے خیال میں اس میں کوئی حرج والی بات نہیں اور جہاں تک مجھے معلوم ہے اسلام میں اس چیز کی کوئی پابندی نہیں۔ میری معلومات کے مطابق اسلام نے خلافت (طرزِحکومت) کے معاملے میں ”جرنل“ اصول واضح کیے ہیں اور باقی مسلمانوں پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ حالات کے مطابق اصول بنا لیں کہ آیا خلیفہ تاحیات ہو گا یا خاص عرصے کے لئے،آیا رائے (ووٹ) زبانی لینا ہے یا تحریری صورت میں، آیا اٹھارہ سال والا رائے دے سکتا ہے یا بیس اکیس سال والا، آیا ہر کوئی ووٹ دے سکتا ہے یا صرف پڑھے لکھے لوگ، آیا ایک ان پڑھ اور پڑھے لکھے کی رائے برابر ہے یا پھر کچھ ”پوائنٹس“ کا فرق ہے وغیرہ وغیرہ۔ بہرحال عوام کی رائے تو لینی ہی پڑے گی، ورنہ خلافت بادشاہت بن جائے گی۔
دوستو! جہاں تک مجھے معلوم ہے اس کے مطابق مسلمانوں کا نظام خلافت سیدھا سیدھا جمہوری ہے اور اسلام میں بادشاہت یا”ڈکٹیٹر“ کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ علیحدہ بحث ہے کہ موجودہ جمہوریت کی کونسی قسم، خلافت کے قریب ترین ہیں، یا موجودہ جمہوریت کی نوک پلک سنوارنے کی ضرورت ہے۔ لیکن میری معلومات کے مطابق خلافت جمہوری طریقہ ہی ہے۔ جس میں عوام اچھے اور ایماندار لوگوں کو منتخب کر کے مجلس شوری بناتی ہے، پھر مجلس شوری خلیفہ منتخب کرتی ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ بدعنوانی عروج پر ہے اور عوام اس سےتنگ ہیں تو اس نظامِ جمہوریت کی مخالفت کرتے ہیں جبکہ سوچنے والی بات تو یہ ہےکہ بدعنوان حکمران منتخب کون کرتا ہے؟ کیا وہ عوام سے منتخب ہو کر نہیں جاتے؟ دوستو! گو کہ خلافت بھی ایک جمہوری طریقہ ہے لیکن ہم اسے علیحدہ علیحدہ بھی کر لیں تب بھی جب تک عوام ٹھیک نہیں ہو گی، کچھ بھی نہیں بدلے گا کیونکہ جیسی عوام ویسے حکمران۔ مزید ایک جمہوری طریقے کو خلافت کہو یا کوئی اور نظام کہو، معتبر لوگوں کے گروہ کو مجلس شوری کہو یا قومی اسمبلی، حاکم وقت کو خلیفہ کہو یا صدر کہو، ان ناموں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، تبدیلی تو تب آئے گی جب عوام کسی ”بندے کے پتر“ کو منتخب کرے گی۔
نوٹ:- اس تحریر میں یہ بحث نہیں کہ خلیفہ یا صدر وغیرہ کا کردار کیسا ہونا چاہئے یا اسے کیسے کام کرنا چاہئے، یہ بھی بحث نہیں کہ خلافت یا جمہوریت اچھی ہے یا بری بلکہ بحث اس چیز کی ہے کہ خلیفہ یا صدر وغیرہ بنانے کا طریقہ کیا ہوتا ہے یعنی آیا وہ جمہوری طریقے سے منتخب ہوتا ہے یا کسی دوسرے طریقے سے؟










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔