Saturday, October 18, 2014

اپنی ہستی کا اقرار اور خالق کا انکار

0 comments


الله تعالی کی اس عجیب و غریب صنعت میں اس قدر حیرت انگیز نظم و نسق اور بے عیب تسلسل کو دیکھ کر انسانی عقل کمال حیرت و استعجاب میں کھو جاتی ہے اور فہم و قیاس عاجز اور دنگ رہ جاتے ہیں کس قدر مکمل اور محکم انتظام ہے ، کتنا قوی اور زبردست اہتمام ہے . زمین پر قدموں کے نشانات سے کسی چلنے والے کا پتا دیتا تو کیا یہ زمین و آسمان اپنے خالق اور صانح حق سبحان کا پتہ نہیں دیتے. تو کیا تو الله کو اس طرح بھی نہیں پیچاں پاتا . حالی مرحوم نے کیا خوب کہا ہے 
دہری نے کیا دہر سے تعبیر تجھے ، انکار کسی سے بن نہ آیا تیرا

ملحد، دہر یعنی نیچریوں کو کارخانہ کائنات چلانے کے لئے ایک علت العلل اور فعال قل طاقت کے ماننے کے سوا چارہ نہیں، لیکن یہ کسی طرح بھی قرین قیاس نہیں کہ مکوں کائنات اور خالق موجودات ایک بے جان مادہ ، بے حس نیچر اور بے ادارک و با شعورہیولے ہو . ایسے منظم ، باقاعدہ اور علم و حکمت پر مبنی کارخانہ قدرت والی ذات کو حیات ، قدرت ، ارادہ ،علم، سمع ،بصر اور کلام وغیرہ صفات ذاتی سے متصف ہونا لازمی اور ضروری ہے. بے جان ہیولی ، بے حس ایتھر اور بے شعور مادے کا یہ کام ہر گز نہیں ہو سکتا کہ وہ دنیا بنائے اور چلائے .

دہریوں اور نیچریوں کو ایک الگ بے وقوفوں کی بستی بسانی چاہیے ، اور کسی بے حس ،بے جاں بیوقوف و بے شعور دہریہ آدمی کو اس آبادی کا مختار ، کارکن منتظم مقرر کر کے دیکھ لے ،پتا چل جائے گا کہ کیا ارتقا پاؤ گے ، فیس بک پر ان دھریوں کی مثال ایسے جیسے کسی پاگل خانے میں کچھ پاگل اکھٹے ہو کر ایک دوسرے کو اپنے پاگل ہونے کی کہانی سنا رہے ہو. یا خود کو عاقل سمجھنے والے کسی پاگل خانے میں جا کر بے شعوری کا تھوڑا سا نظارہ کر لے اور دیکھ لے کہ کیا بے شعوری گل کھلا رہی ہیں ،، اگر وہاں صاحب عقل اور ذی شعور انسان نگرانی اور حفاظت کرنے والا نہ ہو دیکھو پھر پاگل خانے میں کیا طوفان بدتمیزی پربا ہوتا ہے ، تو پھر کیا یہ دنیا بنا کس نگران کی چل رہی ؟ اتنی منظم اور حکمت کے ساتھ ،،،

حضرت امام عظم نے ایک دفعہ کسی دہری کے ساتھ مناظرہ میں پوچھا ، فرض کرو کہ ایک بڑی جھیل ہو اور اس میں ایک کشتی چھوڑ دی جائے ، بغیر کس چلانے والے کہ کیا وہ کشتی خود بخود ایک مقررہ وقت پر ایک مخصوص مقام پر آیا کرے گی ، تو اس دہری نے جواب دیا یہ تو ہر گز ممکن نہیں ، تو آپ نے فرمایا کہ فضاۓ آسمانی کی اس بڑی وسیح نیلگو جھیل میں سورج اور چاند کیوں کر بغیر چلانے والے کے ابتدا سے اب تک روز مرہ وقت مقرر پر ایک متعین مقام سے نکل کر ایک خاص مستقر اور مخصوص مقام پر غروب ہوتے ہیں . ؟

وہ دن کے اندر رات کو اور رات کے اندر دن کو پروتا ہوا لے آتا ہے چاند اور سورج کو اُس نے مسخر کر رکھا ہے یہ سب کچھ ایک وقت مقرر تک چلے جا رہا ہے وہی اللہ (جس کے یہ سارے کام ہیں) تمہارا رب ہے بادشاہی اسی کی ہے اُسے چھوڑ کر جن دوسروں کو تم پکارتے ہو وہ ایک پرکاہ کے مالک بھی نہیں ہیں

سخت سے سخت ملحد بے دین بھی اگر اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ کر اور کس وقت انصاف کی عینک چڑھا کر اپنے ضمیر کی طرف جھانکے اور غور فکر کرے کہ جب میں ایک بولتا چالتا ، دیکھتا بھالتا اور سوچتا سمجھتا مخلوق موجود ہوں تو ایک واجب الوجود خالق کل ہستی کیوں موجود نہیں ، تعجب ہے کہ زرہ بے مقدار کو اپنی ہستی کا تو اقرار ہے لیکن اس آفتاب المتاب کی نفی اور انکار ہے.

قرآن میں ہے وہ تمھارے نفسوں کے اندر ہے لیکن تم اسے نہیں دیکھتے اور حدیث میں ہے جس شخص نے اپنے نفس کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا .

یہ بے دین ، بے حس ملحد اپنے الحاد کی تائید میں دلیل پیش کرتے ہے کہ جب الله تعالیٰ کا نہ تو ہمیں کوئی وجود نظر آتا ہے نہ اس کی ذات کی کنہ اور حقیقت سمجھ آتی ہے اور نہ اسکی صریح صفت اور نہ اعلانیہ فعل اور نہ ٹھوس عمل دنیا میں نظر آتا ہے تو ہم کیونکر جانیں اور یقین کریں کہ وہ ذات موجود ہے ، تو کیا کسی چیز کا چیز کا سمجھ میں نہ آنا اور معلوم اور محوس نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہو سکتی کہ وہ سرے سے موجود ہی نہیں. اگر نیوٹن نے ایپل کو گرتے نہ دیکھا ہوتا تو کیا گریوٹی تھی ہی نہیں ؟ کیا عمل کا رد عمل سرے سے موجود ہی نہیں تھا .کیا رگڑ کا قانون سرے سے موجود ہی نہیں تھا ؟ زندگی اور موت کا کیسے انکار کرو گے ؟ عقل سلیم نے موجودات کا سلسہ محسوسات اور معلومات تک محدود نہیں رکھا . بلکہ جو کچھ بنی نوع انسان کو اپنی عملی اور ذہنی کدو کاوش کی بدولت آج تک معلوم اور محسوس ہوا ہے وہ نا معلوم غیبی کائنات کا ایک نا چیز ذرے سے بھی کم ہے

ذہن میں جو گھر گیا لا انتہا کیوں کر ہوا 
جو سمجھ میں آ گیا پھر وہ خدا کیوں کر ہوا

بقلم مولوی روکڑا

 

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔