پیپلز پارٹی کے خاصے حد تک کامیاب پاور شو کے بعد، اسلام آباد میں
بیٹھے دو کتوں کی یہ حالت ہو گئی ہے، نہ ٹھیک سے بھاگا جا رہا ہے، نہ کھڑے ہی ہو
پارہے ہیں، یعنی اردو میں اسکے لیئے صحیح اصطلاح، نہ جائے رفتن، نہ پائے ماندن کے
مصداق، قادری کے بارے میں تو پکی خبر ہے کہ محرم کے آ غاز کو جواز بنا کر دھرنا
ختم کرنے کے چکر میں ہے، کیونکہ اب واقعی میڈیا کی توجہ پیپلز پارٹی کے جلسے کے
بعد سے کچھ کم پڑ گئی ہے، اور عوام، جو دھرنوں میں ہے، وہ بھی، اور جو گھر میں
بیٹھ کر سوشل میڈیا پہ دھرنے میں ہونے کا تاثر دے رہی ہے، وہ بھی اب اکتاہٹ کا
شکار ہے، کیونکہ انقلاب نہ ہوا، قبض ہو گیا، ہو کے ہی نہیں چکتا، قادری اور عمران
کے بارے میں کچھ سیاسی راہنما وں نے بجا فرمایا تھا کہ اگر میڈیا انھیں ہیرو نہ
بنائے تو یہ اپنی دانست میں زیرو، اپنی اپنی پجیرو میں، سیدھا بنی گالہ اور دوسرے
صاحب ٹکٹ کٹا کے، پُھر کینیڈا ہو جائیں گے، قادری نے تو کئی دنوں سے گانا بھی شروع
کر دیا ہے کہ:
تیری ڈی چوک سے ہو کے کینیڈا چلا ۔۔۔
میں بہت دور، بہت دور، بہت دوووووووور چلا۔۔
تیری ڈی چوک سے۔۔۔۔۔
میں بہت دور، بہت دور، بہت دوووووووور چلا۔۔
تیری ڈی چوک سے۔۔۔۔۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ دوسرا کتا، کینیڈا والے کتے کا گانا کب سمجھ
پاتا ہے، گزشتہ تجربوں سے ثابت ہوا ہے کہ بنی گالہ والا کتا تھوڑا سا ڈھیٹ، اور
ذیا دہ سا گدھا واقع ہوا ہے، بھی حالات کو دیکھ کے سمجھے، لیکن نہیں، منہ پورا
کالا جب تک نہیں ہوگا، تب تک بیٹھے رہیں گے، اور بیان دیں گے کہ ہاشمی کے سیاسی
کیرئر ختم ہونے پہ افسوس ہے، ہاشمی کو چھوڑ، یہ سوچ کہ تیرا کیا ہوگا سوکھیا !؟!











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔