Sunday, October 19, 2014

کہ گیدڑ اتنا بول رہے ہیں اور تو چپ ہے

0 comments
تب گوتم بدھ نے زبان کھولی کہ ایک گھنے بن میں ایک شیر رہتا تھا ۔رت بسنت کی ،رات پورنماشی کی ،شیر اپنے بالک کے سنگ جنگل میں منگل مناتا تھا ،ایک بار ایسا دھاڑا کہ جنگل سارا گونج گیا ،
اس کی دھاڑ کو سن کر گیدڑوں نے بھی جھر جھری لی ۔گلا پھاڑ کے چیخ و پکار کرنے لگے ۔دیر تک وہ چیخ و پکار کرتے رہے ۔سارے بن کو سر پر اٹھالیا ،پر شیر چپ رہا
۔اس کے بالک نے کہا کہ ہے میرے پتا تو اتنا جیالا جنگل کا راجہ ،پر اچنبھے کی بات کہ گیدڑ اتنا بول رہے ہیں اور تو چپ ہے
شیر بولا کہ میرے پتر ،ایک بات اپنے پتا کی انٹی میں باندھ رکھ کہ جب گیدڑ بولتے ہیں تو شیر چپ ہو جاتے ہیں
(انتظار حسین کے ناول بستی سے ایک پیرا)
بشکریہ --- اپنی زبان اردو

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔