Friday, October 17, 2014

انقلاب یا اصلاح

0 comments

’’عموماً جہاں خرابیاں حد سے بڑھ جاتی ہیں وہاں لوگ صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے کھو بیٹھتے ہیں اور بگڑے ہوئے حالات سے جو تکلیف ان کو پہنچتی ہے وہ انہیں اتنی مہلت ہی نہیں دیتی کہ ٹھنڈے دل سے غور و فکر کرکے اصلاح کی کوشش کریں۔

اسی لیے ایسے حالات میں عام طور پر اصلاحی تحریکات کے بجائے انقلابی تحریکات کا زور ہوتا ہے۔ قدامت پسند اور انقلاب پسند جماعتوں میں سخت کشمکش برپا ہوتی ہے جس سے غضب و انتقام کی آگ کو زیادہ ایندھن مل جاتا ہے۔

دونوں فریق ضد اور ہٹ دھرمی کی انتہائی سرحدوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ دونوں حق و صداقت کا گلا کاٹتے ہیں۔ ایک طرف سے حق کے بجائے باطل کی مدافعت میں انتہائی قوت صرف کی جاتی ہے۔

دوسری طرف حق و باطل کا امتیاز کیے بغیر سب پر اندھا دھند حملے کیے جاتے ہیں۔ آخرکار جب انقلاب پسندوں کو فتح نصیب ہوتی ہے تو وہ ہر اُس چیز کو تباہ کردیتے ہیں جو قدامت پسندوں کے پاس تھی، خواہ وہ حق ہو یا باطل، صحیح ہو یا غلط۔ انقلاب ایک سیلاب کی طرح بڑھتا ہے اور بلا امتیاز اچھے برے سب کو غارت کرتا چلا جاتا ہے۔

پھر کافی تخریب کے بعد جب عقل اپنے ٹھکانے پر آتی ہے تو تعمیر کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ مگر انقلابی ذہنیت اس میں بھی نرالے انداز ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالتی ہے۔

ہر اُس چیز کو چھوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے جو قدامت پسندوں کے پاس تھی۔ خواہ کوئی چیز بجائے خود صحیح ہو‘ لیکن انقلاب کی نگاہ میں کسی چیز کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی عیب نہیں کہ وہ قدیم نظام کی طرف منسوب ہو۔

اس طرح کافی مدت تک نئے انقلابی اصولوں پر زندگی کی عمارت قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اور جب نئے نئے تجربوں اور ناکامیوں سے انقلابی دماغ تھک جاتا ہے، تب کہیں جاکر وہ اس اعتدال کے نقشے پر آتا ہے جو ابتدا ہی سے اصلاح پسند کے پیش نظر تھا‘‘۔

[’’ملت کی تعمیر نو کا صحیح طریقہ‘‘، از مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ]

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔