Friday, October 17, 2014

کرنے کا کام

0 comments

مجھے حیرت ہوتی ہے جب میں اپنے رفقا سے بسا اوقات اس قسم کی بات سنتا ہوں کہ ’’ہمارے لیے کرنے کا کام کیا ہے؟‘‘

میں پوچھتا ہوں کہ کیا آپ اپنی تمام کمزوریوں کو دور کر چکے ہیں اور اپنے نفس کو کامل طریقے پر اللّٰہ کا بندہ بنانے میں کامیاب ہوچکے ہیں؟ کیا اُن تمام حقوق کی ادائیگی سے بھی آپ فارغ ہوچکے ہیں جو اللّٰہ اور اس کے دین کی طرف سے آپ کے دماغ پر، آپ کے دل پر، آپ کے اعضا و جوارح پر، آپ کی ذہنی و جسمانی قوتوں پر اور آپ کے مملوکہ اموال پر عائد ہوتے ہیں؟

اور کیا آپ کے گرد و پیش کوئی انسان بھی خدا سے غافل یاگمراہ یا دینِ حق سے ناواقف یا اخلاقی پستیوں میں گرا ہوا نہیں رہا ہے جس کی اصلاح کا فرض آپ پر عائد ہوتاہو؟

اگر ایسا نہیں ہے تو آپ کے اندر یہ تخیّل آ کہاں سے گیا کہ آپ کے لیے کرنے کا کوئی کام نہیں رہا ہے اور اب آپ کو کچھ اور کام بتایا جائے جس میں آپ مشغول ہوں۔

یہ سارے کام تو اَن ہوئے پڑے ہیں جو آپ سے ہر وقت کا شدید انہماک چاہتے ہیں۔ اور اگر آپ ان کو اس طرح انجام دینا چاہیں جیسا کہ ان کا حق ہے تو آپ کو ایک لمحہ کے لیے بھی فرصت نہیں مل سکتی۔

[سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، ترجمان القرآن جلد 23۔ عدد 605 ذوالقعدہ، ذوالحجہ 1362ہجری، نومبر دسمبر 1943ئ، صفحہ 108]

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔