Tuesday, October 14, 2014

کیا آلو پر اللہ کے نام کی تلاش کرنے والے صرف مسلمانوں میں پائے جاتے ہیں؟

0 comments
کیا آلو پر اللہ کے نام کی تلاش کرنے والے صرف مسلمانوں میں پائے جاتے ہیں؟ کتنی بار ایسا ہوا کہ مغرب کے مسیحی حضرات کو بادلوں میں، پہاڑوں میں فروٹوں میں جیسس کا نام اور شکل نظر آئی۔؟ اتنا ہی نہیں, مغربی ممالک میں کتنی ہی بار مختلف گروہوں نے قیامت کی تاریخ کا اعلان کیا بلکہ جمع ہوکر مسیح کے اترنے کا انتظار بھی کرتے رہے۔ صدر بش کو بھی عراق اور افغانستان پر حملہ کرنے کی ترغیب کے لئے عجیب و غریب آوازیں بھی سنائی دیتی رہی۔ اس سب کے باوجود مغرب سائنسی اور علمی ترقی کرتا رہا۔ اس کی وجہ کیا ہے۔؟

حقیقت یہ ہے کہ ہر معاشرے میں بے وقوف اور سادہ لوح انسان پائے جاتے ہیں۔ آپ کوشش کر کے بھی اس طرح کے لوگوں کو معاشرے سے ختم نہیں کرسکتے، اسی طرح مسلمانوں میں بھی بہت سارے ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں پھلوں، سبزیوں، بادلوں اور پہاڑوں پر خدا کا نام نظر آجاتا ہے۔ لیکن اس بات کا کوئی تعلق مسلمانوں کی سائنسی ترقی نہ ہونے سے نہیں ہے۔
خود مغرب کی سائنسی کامیابی کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اب وہاں ایسے لوگ پائے نہیں جاتے بلکہ ان کی کامیابی کی وجہ یہ ہے جو دوسرے قسم کے لوگ ہیں انہوں نے اپنا کام امانت داری ور دلجمعی کے ساتھ کیا۔ جیسے عبدالقدیر خان نے اپنے اوپر جو ذمہ داری لی وہ کرکے دکھائی باجود اس کے کہ پاکستانی معاشرے میں آلو پر اللہ کا نام ڈھونڈنے والے تب بھی پائے جاتے تھے اور اب بھی پائے جاتے ہیں۔ اگر وہ اسی کا رونا لے کر بیٹھ جاتے تو ایٹمی سائنسدان کے بجائے پرویز ہودبھائی کہلاتے۔

دوسری بات سائنسی اور علمی ترقی کا تعلق یونیورسٹی کے علمی معیارات اور سیاست دانوں کی اس بارے میں دلچسپی سے متعلق ہے۔ فی زمانہ یہ دونوں میدان دینی حلقوں کے پاس نہیں بلکہ ان حلقوں کے پاس ہیں جنہیں مولوی نہیں سمجھا جاتا۔ یا ایک اعتبار سے انہیں سیکولر یا دنیاداری کامیدان سمجھا جاتا ہے۔
اس طرح کے فقروں سے یہ تأثر ملتا ہے کہ مسلمان ممالک میں سائنس دان جب بھی ترقی کرتے ہیں تو کوئی اعلان کرتا ہے کہ آلو پر اللہ کا نام دریافت ہوگیا ہے تو سب مسلمان چاہے وہ یونی ورسٹی کے پروفیسر ہوں یا لیباریٹیری میں پائے جانے والے سائنسدان، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کرآلو دیکھنے کے لئے آجاتے ہیں جس کی وجہ سے سائنسی ترقی نہیں ہوپاتی۔ یہ کتنا احمقانہ تاثر اسکے لئے کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر مسلمان ممالک سائنس میں ترقی نہیں کرسکے تو اسکی وجہ یہ نہیں ہے کہ کچھ سادہ لوح مسلمان آلو پر اللہ کا نام تلاش کرتے ہیں بلکہ اصل وجہ ہے کہ مسلم ممالک میں جن میدانوں کو عام طور پر دنیاداری سمجھا جاتا ہے اس کو چلانے والوں کی ترجیحات کچھ اور تھیں۔
کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ یہ علمی اور سائنسی اداروں کوچلانے والے نکمے تھا یا بدنیت جس کی وجہ سے مسلمان سائنس میں ترقی نہیں کرسکے؟؟؟

آلو تو صرف ایک بہانہ ہے نالائق سیکولروں کی ناکامی کو چھپانے کا۔ اچھی خاصی سرکاری اور بیرونی فنڈنگ ہوکر بھی مسلمان کیوں پیچھے ہیں؟ اس کی وجہ آپ کو آلو سے آگے بڑھ کر کہیں اور ڈھونڈنی پڑھے گی۔جب پرویز ہودبھائی جیسے سائنسدان قوم کو سائنس پڑھانے کے بجائے مذہب پڑھائیں گے تو اور کیا نتیجہ نکلے گا؟ صرف قوم کا رونا رو کر اور مولویوں کو دوچار گالیاں دے کر اصل ذمہ داری دوسروں پر نہیں ڈالی جاسکتی.

عبدالسلام خلیفہ
بتغیر قلیل

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔