جماعت اسلامی کا ساتھ کیوں دیں؟
جماعت اسلامی کا نام آپ نے ضرور سنا ہوگا، لیکن جب بھی سنا ہوگا شاید یہ سوچ
کرگزر گئے ہوں گے: ایسی مذہبی اور سیاسی جماعتیں تو بہت سی ہیں کیاضروری ہے
کہ میں اس میں شامل ہونے اور کچھ کرنے کا سوچوں؟
آپ جماعت اسلامی کا ساتھ کیوں دیں؟
آئیے! بات یہاں سے شروع کریں کہ زندگی آپ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ زندگی ہے تو دنیا کی ہر نعمت سے آپ لطف اندوز ہو سکتے ہیں، اور آخرت کی ساری لازوال نعمتیں بھی کما سکتے ہیں۔ اگر زندگی ہی اصل نعمت ہے تو پھر زندہ رہنا ایک خوش گوار تجربہ اور لذت بخش کام ہونا چاہیے۔ لیکن............سوچیے، تو آپ کادل خود پکار اٹھے گا کہ آج زندگی پریشانیوں کے بوجھ تلے پسی جا رہی ہے اور زندہ رہنا ایک تلخ تجربہ اور تکلیف دہ کام بن گیاہے۔ پیٹ بھرنے کی فکر میں، اور جن کا بھرتا ہے ان کو اور بھرنے کی فکر میں تگ و دو کرتے صبح سے شام ہو جاتی ہے۔ پھر بھی ساری عمر ان ہی فکروں میں گزر جاتی ہے کہ دن دوگنی رات چوگنی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ خرچ نہیں پورا ہوتا، رہنے کے لیے صاف ستھرا مکان میسر نہیں، بچوں کو داخلے نہیں ملتے اور مل جائیں تو روزگار کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں، علاج کے لیے کمرتوڑ اخراجات اور ہسپتالوں کے چکر بس سے باہر ہیں۔
وطن عزیز کو دیکھیے تو ہر طرف ظلم اور فساد کا راج ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب انسانوں کو برابر بنایا ہے، لیکن چند لوگوں نے اپنے حق سے زیادہ زر، زمین اورطاقت حاصل کر لی ہے۔ اپنے جیسے انسانوں کی گردن پر سوار ہو کر ان پرغربت و جہالت مسلط کر رکھی ہے۔ اپنے ہم وطنوں کو کمزور بنا کر ان کے حقوق دبا لیے ہیں اور ان کو زندگی کی معمولی خوشیوں سے بھی محروم کر رکھا ہے۔ بددیانتی اور لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے اور جائز سے جائز کام بھی سفارش اور رشوت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ پولیس کے ہاتھوں عزت محفوظ نہیں، جیبیں خالی کر کے بھی عدالتوں میں انصاف نصیب نہیں ہوتا، تعلیم کا معیار پست ہے اور اخلاق کا اس سے بھی کہیں زیادہ گرا ہوا۔ گھر کے اندر ہوں یا باہر، دل و نگاہ کو پاک رکھنا محال ہے ۔ فوجیں دشمن کو فتح کرنے کے بجائے اپنی قوم کو ہی مارشل لا کے ذریعے بار بار فتح کرنے میں لگی ہوئی ہیں اور سرکاری افسر عوام کے خادم بننے کے بجائے ان کے آقا بن بیٹھے ہیں۔
امت کو دیکھیے، تو اگرچہ دنیا کا ہر پانچواں آدمی مسلمان ہے، مگر مسلمان کا دنیا میں وزن ہے نہ عزت۔ دنیا کی غالب قومیں دونوں ہاتھوں سے اس کو لوٹنے اور دبانے میں لگی ہوئی ہیں، مگر وہ بے بس تماشائی ہے یا خوشی خوشی ان کےدام میں پھنستا ہے۔
آپ اکثر سوچتے ہوں گے کہ مسائل کا یہ جنگل کیسے صاف ہوسکتا ہے اور زندگی اطمینان کا گہوارہ کس طرح بن سکتی ہے۔
جماعت اسلامی کا پیغام اور پروگرام اسی سوال کا جواب ہے۔
ہمارا پیغام
اگر مسلمان آج دنیا میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اور ان کے مصائب سب سے بڑھ کر ہیں تو وجہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ ہم نے وہ مشن فراموش کردیا ہے، جس کے لیے یہ امت بنی تھی۔ ہم اللہ اور اس کے رسولﷺ سے بے وفائی کر رہے ہیں۔ ہم نے اس دنیا کو ہی اپنا محبوب ومطلوب بنا لیا اور خدا کے دین کے لیے اپنےوقت اور مال کا کوئی حصہ صرف کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مسلمان قرآن پڑھتے اور رسولﷺ کی محبت کا دم بھرتے ہیں، لیکن ان کے احکام کی خلاف ورزی کرنے سےبالکل نہیں جھجکتے۔ جماعت اسلامی ہر مسلمان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ خدا کوخدا اور رسول کو رسول مان کر تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم زندگی کے کسی حصے میں ان کے خلاف چلو بلکہ تمہارا فرض ہے کہ پوری زندگی میں اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے جان و مال سے جہاد کرو۔ اور یہ کام اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک تم جمع ہو کر ایک جماعت نہ بن جائو۔
اس کارِ رسالت کے فرض کو ادا کرنے کے لیے جماعت اسلامی بنی ہے۔ یہ محض ایک سیاسی جماعت نہیں جس کی سرگرمیاں انتخابات تک محدود ہوں، نہ ایک مذہبی جماعت ہے جس کی دلچسپیاں صرف اعتقادی و فقہی اور روحانی مسائل ہی کے لیے مخصوص ہوں۔ بلکہ ہماری ساری جدوجہد کا مقصد صرف ایک ہی ہے کہ ہم اللہ کےمطیع اور فرمانبردار بن جائیں اور اس کی رضا اور قربت حاصل کریں۔ یہ رضا اور قربت ایک ایسے انقلاب کے لیے جدوجہد سے ہی حاصل ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں دلوں پر بھی اللہ کی حکومت قائم ہوجائے اور پوری زندگی پر بھی۔ یہ اعلان کہ زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ کی ملکیت ہے”اس ہمہ گیرانقلاب“ کی دعوت ہے۔
ہمارا پروگرام
جماعت اسلامی کا پروگرام یہی ہے کہ اپنے پیغام سے غافل لوگوں کو جگائے۔ جو ساتھ دیں ان کی تربیت کر کے ان کو منظم قوت بنادے، معاشرے میں صحیح اسلامی فکر، اسلامی سیرت اور سچے مسلمان کی سی عملی زندگی پیداکرنے کی کوشش کرے اور عوام کی قوت سے زندگی کے ہر شعبہ میں بالخصوص حکومت میں، خدا اور رسول کے باغیوں کے ہاتھوں سے قیادت اور فرماں روائی چھین کر اس کے مطیع اور فرماں بردار بندوں کے حوالے کر دے۔ جماعت اسلامی اپنی ساری قوت پاکستان کوایسی ایک فلاحی واسلامی ریاست بنانے میں لگا رہی ہے جو :
٭ خلافت راشدہ کانمونہ ہو
٭ ہر شہری کو اس کی بنیادی ضروریات (روٹی، کپڑا، مکان، علاج، تعلیم، انصاف) کی ضمانت دے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کرے۔
٭ جہاں تمام بنیادی انسانی حقوق محفوظ ہوں۔
٭ جہاں عوام انتخابات کے ذریعے اپنی مرضی سے جسے اقتدار میں لانا چاہیں لا سکیں اور جسے ہٹانا چاہیں ہٹا سکیں۔
آپ کادل کیا کہتا ہے؟
اگر جماعت اسلامی کا پیغام اور پروگرام آپ کو برحق لگتا ہے تو ہم آپ کودعوت دیتے ہیں کہ آپ اس جدوجہد میں ہمارے ساتھی بنیں اور جماعت اسلامی میں باقاعدہ شامل ہوں۔ جماعت اسلامی چند مخصوص لوگوں کا گروہ نہیں بلکہ عوام الناس کی جماعت ہے۔ وہ عوام الناس جو ظلم اور ناانصافی پرکڑھتے ہیں اوراسے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ظلم کاشکنجہ گھر بیٹھ کر کڑھنے یازبانی جمع خرچ سے نہیں ٹوٹ سکتا۔ یہ شکنجہ تبھی ٹوٹے گا جب آپ خود جدوجہد میں شامل ہوں گے۔ لہٰذا آپ خود اٹھ کراپنے وقت اور مال کا ایک معقول حصہ اللہ کے کام میں لگا دیں۔ جب آپ کی طرح سب لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے تو وہ دن دور نہیں جب ظلم اور بے انصافی کے اندھیرے چھٹ جائیں گے، عدل کا سورج طلوع ہوگا اور ہم سب پر صرف اللہ کی حکومت ہوگی۔
آپ کا ضمیر ،آپ کا ملک، آپ کی ملت، دکھی انسانیت ، سب آپ کو پکار رہے ہیں ۔ دنیا میں عزت و سربلندی اور آخرت میں جنت آپ کی منتظر ہے.
جماعت اسلامی کا نام آپ نے ضرور سنا ہوگا، لیکن جب بھی سنا ہوگا شاید یہ سوچ
کرگزر گئے ہوں گے: ایسی مذہبی اور سیاسی جماعتیں تو بہت سی ہیں کیاضروری ہے
کہ میں اس میں شامل ہونے اور کچھ کرنے کا سوچوں؟
آپ جماعت اسلامی کا ساتھ کیوں دیں؟
آئیے! بات یہاں سے شروع کریں کہ زندگی آپ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ زندگی ہے تو دنیا کی ہر نعمت سے آپ لطف اندوز ہو سکتے ہیں، اور آخرت کی ساری لازوال نعمتیں بھی کما سکتے ہیں۔ اگر زندگی ہی اصل نعمت ہے تو پھر زندہ رہنا ایک خوش گوار تجربہ اور لذت بخش کام ہونا چاہیے۔ لیکن............سوچیے، تو آپ کادل خود پکار اٹھے گا کہ آج زندگی پریشانیوں کے بوجھ تلے پسی جا رہی ہے اور زندہ رہنا ایک تلخ تجربہ اور تکلیف دہ کام بن گیاہے۔ پیٹ بھرنے کی فکر میں، اور جن کا بھرتا ہے ان کو اور بھرنے کی فکر میں تگ و دو کرتے صبح سے شام ہو جاتی ہے۔ پھر بھی ساری عمر ان ہی فکروں میں گزر جاتی ہے کہ دن دوگنی رات چوگنی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ خرچ نہیں پورا ہوتا، رہنے کے لیے صاف ستھرا مکان میسر نہیں، بچوں کو داخلے نہیں ملتے اور مل جائیں تو روزگار کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں، علاج کے لیے کمرتوڑ اخراجات اور ہسپتالوں کے چکر بس سے باہر ہیں۔
وطن عزیز کو دیکھیے تو ہر طرف ظلم اور فساد کا راج ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب انسانوں کو برابر بنایا ہے، لیکن چند لوگوں نے اپنے حق سے زیادہ زر، زمین اورطاقت حاصل کر لی ہے۔ اپنے جیسے انسانوں کی گردن پر سوار ہو کر ان پرغربت و جہالت مسلط کر رکھی ہے۔ اپنے ہم وطنوں کو کمزور بنا کر ان کے حقوق دبا لیے ہیں اور ان کو زندگی کی معمولی خوشیوں سے بھی محروم کر رکھا ہے۔ بددیانتی اور لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے اور جائز سے جائز کام بھی سفارش اور رشوت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ پولیس کے ہاتھوں عزت محفوظ نہیں، جیبیں خالی کر کے بھی عدالتوں میں انصاف نصیب نہیں ہوتا، تعلیم کا معیار پست ہے اور اخلاق کا اس سے بھی کہیں زیادہ گرا ہوا۔ گھر کے اندر ہوں یا باہر، دل و نگاہ کو پاک رکھنا محال ہے ۔ فوجیں دشمن کو فتح کرنے کے بجائے اپنی قوم کو ہی مارشل لا کے ذریعے بار بار فتح کرنے میں لگی ہوئی ہیں اور سرکاری افسر عوام کے خادم بننے کے بجائے ان کے آقا بن بیٹھے ہیں۔
امت کو دیکھیے، تو اگرچہ دنیا کا ہر پانچواں آدمی مسلمان ہے، مگر مسلمان کا دنیا میں وزن ہے نہ عزت۔ دنیا کی غالب قومیں دونوں ہاتھوں سے اس کو لوٹنے اور دبانے میں لگی ہوئی ہیں، مگر وہ بے بس تماشائی ہے یا خوشی خوشی ان کےدام میں پھنستا ہے۔
آپ اکثر سوچتے ہوں گے کہ مسائل کا یہ جنگل کیسے صاف ہوسکتا ہے اور زندگی اطمینان کا گہوارہ کس طرح بن سکتی ہے۔
جماعت اسلامی کا پیغام اور پروگرام اسی سوال کا جواب ہے۔
ہمارا پیغام
اگر مسلمان آج دنیا میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اور ان کے مصائب سب سے بڑھ کر ہیں تو وجہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ ہم نے وہ مشن فراموش کردیا ہے، جس کے لیے یہ امت بنی تھی۔ ہم اللہ اور اس کے رسولﷺ سے بے وفائی کر رہے ہیں۔ ہم نے اس دنیا کو ہی اپنا محبوب ومطلوب بنا لیا اور خدا کے دین کے لیے اپنےوقت اور مال کا کوئی حصہ صرف کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مسلمان قرآن پڑھتے اور رسولﷺ کی محبت کا دم بھرتے ہیں، لیکن ان کے احکام کی خلاف ورزی کرنے سےبالکل نہیں جھجکتے۔ جماعت اسلامی ہر مسلمان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ خدا کوخدا اور رسول کو رسول مان کر تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم زندگی کے کسی حصے میں ان کے خلاف چلو بلکہ تمہارا فرض ہے کہ پوری زندگی میں اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے جان و مال سے جہاد کرو۔ اور یہ کام اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک تم جمع ہو کر ایک جماعت نہ بن جائو۔
اس کارِ رسالت کے فرض کو ادا کرنے کے لیے جماعت اسلامی بنی ہے۔ یہ محض ایک سیاسی جماعت نہیں جس کی سرگرمیاں انتخابات تک محدود ہوں، نہ ایک مذہبی جماعت ہے جس کی دلچسپیاں صرف اعتقادی و فقہی اور روحانی مسائل ہی کے لیے مخصوص ہوں۔ بلکہ ہماری ساری جدوجہد کا مقصد صرف ایک ہی ہے کہ ہم اللہ کےمطیع اور فرمانبردار بن جائیں اور اس کی رضا اور قربت حاصل کریں۔ یہ رضا اور قربت ایک ایسے انقلاب کے لیے جدوجہد سے ہی حاصل ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں دلوں پر بھی اللہ کی حکومت قائم ہوجائے اور پوری زندگی پر بھی۔ یہ اعلان کہ زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ کی ملکیت ہے”اس ہمہ گیرانقلاب“ کی دعوت ہے۔
ہمارا پروگرام
جماعت اسلامی کا پروگرام یہی ہے کہ اپنے پیغام سے غافل لوگوں کو جگائے۔ جو ساتھ دیں ان کی تربیت کر کے ان کو منظم قوت بنادے، معاشرے میں صحیح اسلامی فکر، اسلامی سیرت اور سچے مسلمان کی سی عملی زندگی پیداکرنے کی کوشش کرے اور عوام کی قوت سے زندگی کے ہر شعبہ میں بالخصوص حکومت میں، خدا اور رسول کے باغیوں کے ہاتھوں سے قیادت اور فرماں روائی چھین کر اس کے مطیع اور فرماں بردار بندوں کے حوالے کر دے۔ جماعت اسلامی اپنی ساری قوت پاکستان کوایسی ایک فلاحی واسلامی ریاست بنانے میں لگا رہی ہے جو :
٭ خلافت راشدہ کانمونہ ہو
٭ ہر شہری کو اس کی بنیادی ضروریات (روٹی، کپڑا، مکان، علاج، تعلیم، انصاف) کی ضمانت دے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کرے۔
٭ جہاں تمام بنیادی انسانی حقوق محفوظ ہوں۔
٭ جہاں عوام انتخابات کے ذریعے اپنی مرضی سے جسے اقتدار میں لانا چاہیں لا سکیں اور جسے ہٹانا چاہیں ہٹا سکیں۔
آپ کادل کیا کہتا ہے؟
اگر جماعت اسلامی کا پیغام اور پروگرام آپ کو برحق لگتا ہے تو ہم آپ کودعوت دیتے ہیں کہ آپ اس جدوجہد میں ہمارے ساتھی بنیں اور جماعت اسلامی میں باقاعدہ شامل ہوں۔ جماعت اسلامی چند مخصوص لوگوں کا گروہ نہیں بلکہ عوام الناس کی جماعت ہے۔ وہ عوام الناس جو ظلم اور ناانصافی پرکڑھتے ہیں اوراسے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ظلم کاشکنجہ گھر بیٹھ کر کڑھنے یازبانی جمع خرچ سے نہیں ٹوٹ سکتا۔ یہ شکنجہ تبھی ٹوٹے گا جب آپ خود جدوجہد میں شامل ہوں گے۔ لہٰذا آپ خود اٹھ کراپنے وقت اور مال کا ایک معقول حصہ اللہ کے کام میں لگا دیں۔ جب آپ کی طرح سب لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے تو وہ دن دور نہیں جب ظلم اور بے انصافی کے اندھیرے چھٹ جائیں گے، عدل کا سورج طلوع ہوگا اور ہم سب پر صرف اللہ کی حکومت ہوگی۔
آپ کا ضمیر ،آپ کا ملک، آپ کی ملت، دکھی انسانیت ، سب آپ کو پکار رہے ہیں ۔ دنیا میں عزت و سربلندی اور آخرت میں جنت آپ کی منتظر ہے.










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔