Friday, October 31, 2014

کاش کوئی مجھے یہ سمجھا سکے کہ جماعت اسلامی کے ساتھ مسئلہ کیا ہے۔

0 comments
جماعت اسلامی نے 1990ء میں نواز شریف کو اُس وقت آئی جے آئی لیڈر بنایا، جب وہ مسلم لیگ کی قیادت میں یہ سب سے کم تجربہ کار تھا، اور کوئی اسے گھاس نہیں ڈالنے کو تیار نہ تھا۔ امریکہ اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی خواہش تھی کہ پیپلز پارٹی اقتدار میں نہ آ سکے، کیوں کہ اُس وقت تک اسے بائیں بازو کی جماعت سمجھا جاتا تھا۔ اس لئے اسٹیبلشمنٹ نے آئی جے آئی کی تمام لیڈر شپ میں پیسے بانٹے، الیکشن فنڈ کے نام پر ملنے والی ان رقوم سے باقیوں نے اپنی جیبیں بھر لیں، جبکہ جماعت نے "پوری دیانتداری" پیسے الیکشن میں لگائے۔ نتیجہ یہ برامد ہوا کہ دیگر لوگ اُسی پیسے کے زور پر لیڈری کے دائمی حقدار بنے اور جماعت کے اجلے دامن پر ہمیشہ کے لئے ایک داغ آگیا۔
2002ء میں ایک بار پھر امریکہ اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو ضرورت پڑی کہ صوبہ سرحد میں اسلامی جماعتوں کی حکومت قائم کی جائے۔ تاکہ عوام کو یہ یقین دلایا جا سکے کہ سیاسی جدوجہد میں توانائیاں صرف کرنے سے ملک میں اسلامی نظام کا قیام ممکن ہے۔ شاھد اس طرح صوبے میں تیزی کے ساتھ فروغ پانے والی شدت پسندی کی لہر پر قابو پانا ممکن ہو سکے۔ یوں حکومت ایم ایم اے کو ملی تو جے یو آئی سے تعلق رکھنے والے علماء نے دنوں ہاتھوں سے جیبیں بھرنا شروع کر دیں۔ جماعت کی قیادت کے سامنے لوگ روتے رہے کہ دیکھیے صوبے میں کوئی جائز کام بھی اُس وقت تک نہیں ہوتا جب تک مدرسے میں جمع شدہ چندے کی رسید نہ دیکھا دی جائے۔ دستاویزی ثبوت پیش کیے گئے کہ حافظ حسین احمد اور لیاقت بلوچ کے ایل ایف او پر مذاکرات کے ساتھ ساتھ "مفتی ابرار صاحب" پرویز مشرف کے پرنسپل سکریڑی "طارق عزیز" سے مال پانی کی ڈیل فرما رہے ہیں۔ یہ ڈیل وردی والے ایشو پر بھی ہونے کی خبریں جماعت کی قیادت کو پہنچائی گئیں۔ لیکن جماعت کی قیادت بروقت فیصلہ کرنے میں ناکام رہی۔ اس پانچ سالہ دور میں علماء حضرات نے خوب سرکاری زمینیں الاٹ کروا لیں، بے شمار زمینوں پر غیر قانونی قبضے لیگل کروا لئے، اولادوں کے لئے عہدے اور نوکریں بھی حاصل کیں۔ لیکن جماعت کے حصے میں سوائے اس سوال کے کچھ نہ آیا، کہ جب ایک صوبے کی حکومت ملی تھی تو کیا کر کے دیکھایا؟؟
اب ایک بار پھر جماعت اسلامی تحریک انصاف کی حکومت میں شامل ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی نہایت ہی مایوس کُن ہے۔ ساتھ ہی پرویز خٹک کی اقربا پروری کی داستانیں ہر طرف سنائی دیتی ہیں۔ صؤبائی حکومت مغربی ایجنڈے کے مطابق نصاب میں وہ تبدیلیاں کر چکی ہے، جسکا اے این پی جیسے سیکولر تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ جماعت کی قیادت کے سامنے ایک بار پھر یہ کھلی حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ لندن پلان اصل میں کیا ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لئے یہاں کیا گیم کھیلی جا رہی ہے۔ تحریک انصاف پاکستان کے مذہبی تشخص کے خلاف کون سے گریٹر پلان کا ہر اوّل دستہ ہے۔ خود جماعت کی قیادت نے ڈراؤن حملوں کے خلاف مظاہروں سے لیکر نیٹو سپلائی والے دھرنے کے "انصافی" ڈراموں کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود جماعت اسلامی کی قیادت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔
اس پر طرفہ تماشہ کے عمران خان نے بھی جماعت کی قیادت کو نشانے پر لے رکھا ہے۔ لیکن جماعت کی مفاہمت کی پالیسی ہے کہ ختم ہونے میں نہیں آرہی۔
کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کی قیادت کا کرپشن سے پاک ہونا ہی کافی نہیں بلکہ اس کا وژنری ہونا اور حالات کے مطابق درست اور بروقت فیصلے کرنا بھی اُتنا ہی ضروری ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ جماعت اسلامی دو ٹوک فیصلہ کرے، آیا وہ ملک میں ناچ گانے اور کنجر خانے کے فروغ میں مشغول پارٹی کے ساتھ کہاں تک جا سکتی ہے؟؟
جماعت کے ہمدرد یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ جماعت اسلامی پاکستان کے مذہبی تشخص کو تبدیل کرنے کی عالمی سازش میں شریک پارٹی کے ساتھ شراکت اقتدار کو کیوں ختم کرنے سے گریزاں ہے؟؟
جماعت کا نصب العین رضا الہی کا حصول ہے یا اقتدار کا حصول؟؟؟؟


Mahtab Aziz

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔