خیبر پختون خوا کی حکومت میں شامل جماعت اسلامی اور تحریک انصاف
مبارک باد کے مستحق ہیں کہ ایک مخصوص سیکولر طبقہ کے تمام تر پریشر کے باوجود
انہوں نے صوبہ کے درسگاہوں میں پڑھائے جانے والے نصاب میں اسلامی مضامین کو دوبارہ
شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں تھا کہ راجہ رنجیت سنگھ، خوشحال خان
خٹک، خان عبدالغفار خان وغیرہ کو نصاب میں شامل کیوں کیا گیا بلکہ جھگڑا اس بات پر
تھا کہ اسکول کے نصاب سے حضرت محمدﷺ، خلفائے راشدینؓ، حضرت خدیجہؓ، حضرت فاطمہؓ، حضرت حسینؓ جیسی مقدس
شخصیات سے متعلق ابواب کو کیوں حذف کیا گیا۔ لڑائی اس پر نہیں تھی کہ نصاب میں
گوتم بدھ، نیلسن منڈیلا، مہاتماگاندھی، موزے تنگ، لینن، مارکس وغیرہ کا کیوں ذکر
کیا گیابلکہ انتہائی قابل اعتراض اور قابل مذمت بات یہ تھی کہ معاشرتی علوم میں
’’خاص افراد کا تاریخ پر اثر‘‘ کے ایک مضمون کے ایک ہی پیراگراف میں اوپر دیے گئے
تمام ناموں کے ساتھ حضرت محمدﷺ کا کیوں ذکر کیا گیا۔ نبیﷺ تو رحمتہ للعالمین ہیں، آپﷺ نے تو دنیا کی تاریخ کو بدل ڈالا، آپﷺ تو نبیوں کے بھی سردار ہیں۔ کسی گاندھی، کسی مینڈیلا، کسی موزے
تنگ، کسی لینن، کسی مارکس کی کیا حیثیت۔ کیا کوئی مسلمان یہ قبول کر سکتا ہے کہ
ایک مسلمان ملک میں بچوں کو ایک ہی مضمون کے ایک ہی پیرا گراف میںپہلے نبیﷺ کے بارے میں مختصراً بتایا جائے اور پھر دوسرے ہی جملہ میں لینن
مارکس گاندھی وغیرہ کا ذکر کردیا جائے کہ انہوں نے بھی تاریخ پر اثر چھوڑا۔ تعلیمی
نصاب میں یہ کچھ شامل کرنے والوں کے خلاف تو تادیبی کاروائی ہونی چاہیے تھی مگر
یہاں ایسے قابل اعتراض مواد کو نکالنے والوں کو ہی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔پاکستان
میں سیکولر تعلیم کے فروغ اور اسلامی تعلیم کا مخالف ایک گروہ جماعت اسلامی اور
تحریک انصاف پر بہت برہم ہے کہ انہوں نے متنازع نصاب کو کیوں تبدیل کیا۔ شرم کی
بات یہ ہے کہ وہ اُن تبدیلیوں کا ذکر نہیں کر رہے جس کا میں نے اوپر کالم میں
تزکرہ کیا۔ وہ تو یہ سچ بھی بتانے سے گریزاں ہیں کہ گزشتہ سال نصاب میں کی جانے والی
تبدیلیوں سے قبل جماعت پنجم کی معاشرتی علوم میں ’’مسلمانوں اور ہندووں کی تہذیب
میں فرق‘‘، ’’آزاد مملکت کی ضرورت‘‘، ’’مسلمانوں کے خلاف انگریزوں اور ہندوئوں کا
اتحاد‘‘، ’’پاکستان کا تصور اور علامہ اقبال‘‘،’’ قائد اعظم محمد علی جناح‘‘،
’’نظریہ پاکستان‘‘، ’’پاکستان کے خلاف بھارت کے بُرے ارادے‘‘ اور ’’1965 کی جنگ‘‘
کے مضامین کو پڑھایا جاتا تھا۔ان مضامیں کے نکالے جانے پر تو اس طبقہ کو کوئی
اعتراض نہیں کیوں وہ نظریہ پاکستان کو مانتے ہیں اور نہ ہی پاکستان کے اسلامی
آئین کو۔ یہ طبقہ تو اس پر بھی خاموش رہا کہ گزشتہ سال نصاب میں متنازع تبدیلیاں
کرتے وقت کشمیر کو کچھ کتابوں سے پاکستان کے نقشہ پر سے ہی غائب کر دیا
تھا۔پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ اسلام کی بات کرنے والے سائنس اور دوسرے مضامین کے
خلاف ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اسلام تو دین کے ساتھ دنیاکے علم کے حصول پر زور دیتا ہے۔
مگر ان پروپیگنڈہ کرنے والوں کو اس مطالبہ پر اعتراض کیوں کہ سائنس کے مضامین میں
مسلمان سائنسدانوں کے ساتھ ساتھ سائنس کے متعلق قرآنی تعلیمات کو دوبارہ شامل کیا
جائے۔ یہ طبقہ بھلے ڈارون کی تھیوری پر اعتبار کرے کہ انسان پہلے بندر تھا مگر ہم
اپنے بچوں کو سائنس میں یہ کیوں نہ پڑھائیں کہ اللہ نے انسان کو کیسے تخلیق کیا
اور یہ کہ ہم حضرت آدم ؑکی اولاد ہیں۔ Big Bang کی تھیوری پڑھانے پر تو اعتراض نہیں مگر سائنس میں قرآنی
حوالوں کو نصاب میں دوبارہ شامل کرنے پر اعتراض ہے جو ہمیں بتاتے ہیں کہ اللہ
تعالیٰ نے چھ دنوں میں دنیا کو پیدا کیا اور سورج، چاند، ستاروں اور آسمانوں کا
ایک نظام بنایا جس کے بارے میں انسانوں کو غور کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک سوچی
سمجھی سازش کے تحت دنیا بھر کے مسلمانوں کے طرح پاکستان میں بھی تعلیمی نصاب کو
تبدیل کرنے کوششیں مشرف دور سے جاری ہیں۔ کبھی جہاد سے متعلق آیات کو نصاب سے
نکال دیا جاتا ہے تو کبھی اسلام کی انتہائی محترم شخصیات اور مسلمانوں کے ہیروز
اور رول ماڈلز کے متعلق ابواب کو حذف کر دیا جاتا ہے۔ اسلامی نظریہ پاکستان بھی
سیکولر طاقتوں کے نشانہ پر ہے اور کوشش یہ ہے کہ پاکستان کو ایک سیکولر ملک اور
یہاں کے رہنے والوں کو ایک سیکولر قوم بنا دیا جائے جس کےلیےا سکولوں اور کالجوں
میں پڑھائے جانے والے نصاب میںسے اسلام کو نکالنا ضروری ہے۔ اس سازش کو خیبر پختون
خوا کی حد تک جماعت اسلامی،پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک اور دوسرے عوامی حلقوں کی
کوششوں سے تحریک انصاف کے تعاون سے ناکام بنا دیا گیا ہے اور صوبائی حکومت نے یہ
فیصلہ کر لیا ہے کہ گزشتہ سال حذف کیا گیا اسلامی ور نظریہ پاکستان سے متعلق
مضامین اور ابواب کو نصاب میں دوبارہ شامل کیا جائے گا۔ اس پر جماعت اسلامی اور
تحریک انصاف کی حکومت قابل شتائش ہے۔ اس فیصلہ کے بعد سیکولر طبقہ کی طرف سے تحریک
انصاف پر بہت دباو ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اس فیصلہ کو واپس لیں جس کے لیے پی ٹی
آئی کی اعلیٰ قیادت اور پختون خوا حکومت کوثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔
انصار عباسی










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔