بنگلہ دیش کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم ان کے لئے آواز بلند کریں یا نہ کریں لیکن تاریخ کو جس طرح مسخ کیا جارہا ہے پاکستانیوں کے ہاتھوں وہ قابل دید ہے۔ایک فضا بنائی جارہی ہے کہ کل کلاں اگر کوئی صوبہ یا علاقہ پاکستان سے جدا ہونے کی کوشش کریں تو کوئی راہ میں روڑے نہ اٹکائے اور اپنی وطن کی حفاظت نہ کریں بلکہ وطن دشمنوں کا ساتھ دیں۔ اخر جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا جرم کیا تھا؟؟ یہی کہ انھوں نے 1971 میں اپنے وطن پاکستان کی حمایت کی تھی تو کیا اپنی وطن کی حفاظت کرنا جرم ہے؟؟ اور یہاں پر لبرل جس طرح چسکے لگا کر خوشیوں منا رہے ہیں ان کی خدمت میں عرض ہے کہ بنگلہ دیش کے لوگ حقیقت کو جان گئے ہے کہ ان کے ساتھ کیا ہاتھ ہوگیا۔ غلام اعظم کی نماز جنازہ میں جس طرح خلق خدا آمڈ ائی اور شہر شہر قریہ قریہ غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی لاکھوں لوگوں نے اس نے ثابت کردیا کہ بنگلہ دیش کے عوام کے دل کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ کسی کو اس موضوع کی حقانیت کو جانچنا ہو تو براہ کرم بھارتی بنگال کے سب سے بڑے شہرکلکتہ سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر شرمیلا بوس ہندوستان کی تحریکِ آزادی کے راہنما سبھاش چندر بوس کی پوتی ہیں۔ شرمیلا بوس بھارتی صحافی اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے شعبہ سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کی سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ بھی ہیں۔ پچھلے دنوں ان کی کتاب Dead Recking the Morries of the 1971 Bangladesh War بنگلہ دیش سے شائع ہوئی جس نے بھارت اور بنگلہ دیش کے متعصب پاکستان دشمن اسکالرز کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیئے۔یہ ان لائن دستیاب ہے اس کے ساتھ بنگلہ دیش کی آزادی میں اہم کردار ادا کرنے والے مکتی باہنی کے پہلے کمانڈر کرنل شریف الحق دائم کی کتاب پاکستان سے بنگلہ دیش ۔ اَن کہی جدوجہد بھی پڑھنی چاہیئے۔جس میں اس نے عوامی لیگ کا پردہ چاک کیا ہے یہ بھی ان لائن دستیاب ہے۔اس کے ساتھ سابق وائس چانسلر ڈھاکہ یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر سجاد حسین کی کتاب شکست آرزو بھی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے اور اس موضوع کا حق ادا کردیا ہے۔ان میں سے ایک ہندو ہے اور دو مسلمان۔ مسلمان دونوں بنگالی ہے اور ان میں سے ایک نے بنگلہ دیش کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اور دوسرا یونیورسٹی کا وائس چانسلر۔۔۔ انھوں نے جس طرح لبرل کو بے نقاب کیا ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے اور پڑھنا کم از کم لبرل صاحبان کی بس کی بات نہیں۔پچھلے ہفتے شیخ مجیب کے دست راست مشتاق اخوندکر کی کتاب بھی ائی ہے جس نے مجیب کی دروغ گوئی کی واٹ لگا دی ہے ایک نظر وہ بھی دیکھ لیں تو افاقہ ہوگا










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔