Wednesday, October 15, 2014

خون ذندہ ہے، انقلاب ذندہ ہے

0 comments
تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا !
آج وہ کوچا و بازار میں آ نکلا ہے۔۔۔۔۔۔
کہیں شعلہ، کہیں نعرہ، کہیں پتھر بن کے
خون چلتا ہے تو رکتا نہیں سنگینوں سے
سر اُٹھا تا ہے تو دبتا نہیں آئینوں سے
خون ذندہ ہے، انقلاب ذندہ ہے، اخوان ذندہ ہے، زیر نظر تصاویر اخوان المسلون کے ایک کارکن کی اشاعت کردہ ہیں، جو گزشتہ دنوں مصر کی ایک سرکاری جا معہ میں طلبہ کے کسی جامعہ کے انرونی مسئلے پہ احتجاج کے دوران لی گئیں، جسکا اخوان سے کوئی ذیادہ واسطہ نہیں، لیکن توجہ فرمائیں، میدان رابعہ العدویہ میں احتجاج کی علامت بن جانے والا رابعہ کا نشان اس قدر مقبول ہوا ہے، کہ لوگ اسے دوران احتجاج بنا کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کا با عث سمجھتے ہیں، اس کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ یہ نشان دنیا بھر میں اخوان المسلون کی حما یت کی علامت بھی ہے ! یہ تحریک اسلامی اخوان کی کامیابی ہے کہ اسکے لوگ، اسکے رائج کردہ افکار، اسکا فلسفہ ہر جگہ ہر وقت موجود ہے۔ پاکستان کے مجدد مولانا مودودی نے اسی بارے میں فرمایا تھا کہ اقامت دین کے کام میں ہم دیہاڑی کے مزدور ہیں، اخوانیوں نے اپنا کام کردیا، انکا کیا ہوا کام نظر آرہا ہے، باقی مزدور کو اس سے کیا غرض کے وہ کام کے بعد بھی وہاں موجود رہے یا نا رہے، اس نے اپنا کام کیا اور دیہاڑی کے لیے اپنے رب کے حضور پیش ہو گیا، اب یہ آپکا اور ہمارا کام ہے، کہ اقامت دین کی عمارت کب اور کیسے مکمل کرنے میں اپنا کتنا حصہ ملاتے ہیں !



0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔