Tuesday, October 21, 2014

جمہوریت پر کفتر کے فتوی لگانے والو .................!

0 comments
یہ جمہوریت پر کفر کے فتوی لگانے والو کو پہلے تو یہ غور کرنا چاہئے کہ یہ جمہوریت کن کی میراث ہے اور نکلی کہاں سے ہے؟ 
اس کا کانسپٹ کہاں سے آیا ؟؟


جب یہ سب آپ کو معلوم ہو جائے تو پھر بے شک کفر کا فتوی لگائیے وہ جمہوریت جس میں خدا کو نظر انداز کر دیا جائے کفر ہی ہوگی ۔ 
اور ایسی جمہویت جہاں خدا کے بعد بندے اس کے 
نائب کے طور پر کام کریں قطعا کفر نہیں ہوسکتی۔ 
اس جمہوریت کی ایک خوبصورت مثال اسلام میں سفر کے دوران اپنا امیر منتخب کرنے کی ہے۔
جب آپ کہیں سفر کرتے ہیں تو اپنے میں سے کسی ایک کو اپنا امیر منتخب کرتے ہیں یہ عمل کیسے ہوتا ہے اور یہ کس نے سیکھا یا ؟؟
یہ طریقہ کار آپ کو اسلام نے ہی سیکھایا ہے کہ اپنے میں سے جس کے حق میں زیادہ لوگ ہوں اس کو آپ اپنا امیر سفر بنا لیتے ہیں ۔ یہ صرف سفر کے لئے ہی نہیں ہے کسی بھی جگہ جہاں چند لوگوں کا اکٹھ ہو وہاں اسلام آپکو امیر بنانے کی اجازت دیتا ہے نماز پڑھنے کے لئے اگر آپ کافی افراد ہیں تو جماعت کرانے کے لئے آپ ایک اپنا مختصر مدت کے لئے امیر منتخب کرتے ہیں جو آپکی جماعت کراتا ہے۔ اسی طرح ملک کا بھی سسٹم ہے جو پورے ملک میں سب سے بہترین اور متقی ہو اسلام کی رو سے مسلمان اسے اپنا سربراہ مملکت بنا لیتے ہیں۔ 
باقی رہی یہ بات کہ پاکستان کے لوگ بھی مسلمان ہیں اور حکمران بھی پھر بھی یہ لوگ اسلامی نظام کیوں نافذ نہیں کرتے تو اس میں جمہوریت کا قصور نہیں ہے اس میں قصور ان سب کا ہے جو ایسے افرا کو منتخب کرتے ہیں جو ہم پر کفر کا نظام مسلط کرتے ہیں یہ پوچھ صرف حکمرانوں سے نہیں ہوگی یہ پوچھ ان سے بھی ہوگی جنہوں نے ایسے حکمران منتخب کیے جن کی وجہ سے زنا عام ہوا سود عام ہوا جھوٹ فریب دھوکہ دہی بے حیائی فحاشی عام ہوئی یہ نیچئے سے لیکر اوپر تک سب کا قصور ہے ۔ 
اگر یہ لوگ نیک افراد کو ووٹ دیتے تو آج ہم پر اسلامی نظام حکومت ہوتا ناکہ کافروں کے۔ 
اگر کوئی کافروں کا نظام مسلط کرتا ہے تو پوری قوم گناہ گار ہوگی اس جرم کی
کیونکہ اسی قوم نے اپنے ایسے امیر منتخب کئے ہیں جنہوں نے کفار کا نظام مسلمانوں پر مسلط کیا۔ جمہوریت کا کونسپٹ سب سے پہلے اسلام نے ہی دیا ہے بشرطیکہ اس جمہوریت میں خدا کی ذات کو پرتر اعلی تسلیم کیا جائے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔