Thursday, October 23, 2014

نوبل ایوارڈ کے طلب گار

0 comments

قائداعظم محمدعلی جناح نے زندگی کے آخری ایام زیارت میں گزارے۔ ہم جیسے لوگ ان سے تعزیت بھی کرنے جاتے تو انہیں خوف آتا۔ تعزیت سے ہم واپس پلٹتے تووہ فاطمہ جناح سے کہتے کہ یہ میری طبعیت پوچھنے نہیں آئے بلکہ یہ جاننے آئے ہیں کہ میں کب مروں گا۔ علاج کی غرض سے قائد اعظم کراچی آتے ہیں تو ہم انہیں ایسی گاڑی میں بٹھادیتے ہیں جس کا انجربنجرہلا ہواہوتاہے۔وہ ایئرپورٹ سے نکل ہی پاتے ہیں کہ گاڑی خراب ہوجاتی ہے ۔قائد اعظم بروقت اسپتال نہیں پہنچ پاتے اور زندگی کی جنگ ایک سڑک پہ ہارجاتے ہیں۔ ہم وہ نمونے ہیں کہ جو اپنے گاڈ فادرکو تو اسپتال پہنچانہیں سکتے اور اٹھتے بیٹھتے اپنی حب الوطنی کے دوغلے اظہار کے لیئے قائد قائد کی رٹ لگانا شروع کردیتے ہیں۔ حلقہ ارباب ذوق کے وابستگان دنیاکو یہ بتاتے نہیں تھکتے کہ شکیب جلالی ایک عظیم شاعر تھا۔ ہم ایڑیوں کے بل کھڑے ہوکر اس کادیوان ’’روشنی اے روشنی‘‘لہرالہراکے کہتے ہیں کہ یہ دیکھو اس کے بغیر شاعری مکمل نہیں ہوسکتی۔ مگر جب زندگی میں اس نے اپنی صلاحیتوں کا صلہ مانگا تو ہم اسے رسوائیوں کے نکڑ پہ بٹھاکے اپنے اپنے کاموں کو چل دیئے۔ اس نے اپنی قیمت بتائی تو ہم نے اسے دھتکاردیا۔اور پھر وہ دن بھی آیا کہ اسی شکیب جلالی نے ریل کی پٹری پہ لیٹ کر زندگی کی اذیتوں سے خود کو آزاد کروالیا۔ ہمارے جبڑے نہیں دکھتے جب ہم دنیا کو بتاتے ہیں حبیب جالب ایک عظیم انقلابی شاعر تھا۔ زمانے کا درد اپنی آنکھوں میں سموکرہم نئی نسل کو آگاہی دے رہے ہوتے ہیں کہ جالب نے زندگی کے تیس برس سلاخوں کو دے دیئے تھے۔عوام کے لیئے جیئے اور عوام کے لیئے مرے تھے۔ ذولفقار علی بھٹو سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک کسی حاکم کا دربارنہیں گزراجس کے دربارمیں جالب کی پشت پہ کوڑے نہ برسائے گئے ہوں۔ سڑکوں پہ گھسیٹا گیا۔ گریبان ادھیڑاگیا۔ بال نوچے گئے۔ مگر ہم نے کیا دیا؟ جالب اور اس کے خاندان کوبے سروسامانی کے عالم میں موت کے پہلو میں بٹھاکے اپنی روایت نبھاڈالی۔ احمد فراز کو ہی دیکھ لیجیئے۔ رومانوی سلطنت کے وہ سفیررہے۔انہوںنے رومانوی طبع لوگوں کوبارش کی بوندوں سے لطف لینے کاڈھنگ دیا۔ کتابوں میں پھول رکھنے کا اسی نے دستور دیا۔ اردوزبان کو اپنے قلم کا مقروض کردیا۔ فیض احمد فیض اقبال اور جالب کی انقلابی ورثے کوتسلسل بخشا۔ جیلوں میں وہ گئے ۔ سات برس جلا وطنی کا درد جھیلتے رہے۔ لال مسجد کامعرکہ بپاہواتو دلی اور وائٹ ہاوس کوتڑیاں لگانے والوں نے زبان نکال کر آنکھوں پہ لپیٹ لی تھی جبکہ احمد فراز نے اپنے سارے تمغے اپنے سینے سے نوچ کر آمرکے منہ پہ دے مارے تھے۔ اسی لیئے ان کی زندگی آخری سانسیں بھی زیرعتاب ہی رہیں۔ ہم نے مگر کیا دیا۔؟ زمانے میں اس کا تماشا بنادیا۔ بیہودہ شاعریوں میں اس کا نام گھسیٹ ڈالا۔حالت یہ ہے اور شکوہ یہ کہ ایدھی صاحب کونوبل پرائز کیوں نہ ملا۔ 
اپنی کون کون سی عنایتوں کانوحہ پڑھاجائے۔ ذولفقار علی بھٹو کو ہم نے پھانسی کا پھندادیا۔ڈاکٹر عبدالقدیرخان کو ہم نے جیل کی سلاخیں اور بندشیں دیں۔ ڈاکٹر ثمرمبارک مندکو ہم نے گمنامیوں کا اسیربنانے کی کوشش کی۔صلاحیتوں کاہم قتل عام کرتے ہیں اور بیرونی ہاتھ ہماری صلاحیتوں کونکھارتاہے،تو ہم سازش ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ہم ڈاکٹر عطاوالرحمن کو صفرسے ضرب دے کردیوار سے لگادیتے ہیںاور چائناان کو سب سے بڑے قومی ایوارڈ سے نوازدیتاہے۔ جب ہم عدنان سمیع ، شان، فواد خان ،علی ظفر ، جواد بشیر، شکیل صدیقی ، روف لالہ، عرفان خان،نبیل شوکت علی اور امانت علی کوناکارہ پرزے قراردے چکتے ہیں تب ہندوستان انہیں کوڑے دان سے اٹھاکرہمیں بتاتاہے کہ ذرانم ہوتویہ مٹی بڑی زرخیزہے ساقی۔جو ہمارے ہاں لکس ایوارڈ نہیں جیتتے وہ پالش ہونے کے بعد آسکرایوارڈکے لیئے منتخب ہوجاتے ہیں۔وسیم اکرم،مشتاق احمد، ثقلین مشتاق، رمیز راجہ اور علیم ڈار جو دنیا میں اس وقت سینہ چوڑا کرکے گھومتے ہیں کیا انہیں یہ اعزاز یہ تمغے یہ پرائز ہم نے عطاکیئے ہیں؟ یہ ہوشیارہیں کہ خودکوپی سی بی کی چھینٹوں سے دور رکھاہواہے۔جب واپس اس طرف متوجہ ہوں گے تو ان کی عزت کا تماشا دیکھیئے گا۔ کوئی مجھے یہ نقطہ سمجھا دے کہ یہ جو اس ملک کے پچاس فیصد سے زیادہ شاعر ادیب کھلاڑی علما اسکالردانشوراساتذہ سائنسدان سیاست دان ڈاکٹر انجینئرفن کارصحافی اور تاجر خط غربت سے نیچے زندگی گزاررہے ہیں یہ کس کی کرم نوازیاں ہیں۔ ایم بی اے کیے ہوئے نوجوان جو ہوٹلوں میں ٹیبل صاف کررہے ہیں ان سے ان کا مستقبل کس نے چھینا ہے۔ ایک نوجوان بچی جو انگلینڈ سے بارایٹ لا کرکے آئی اسے اپنی زندگی کا پہلا کیس لڑنے سے پہلے کس نے قتل کیا ۔ اسکول سے گھرجانے والی بچیوں کو اغواکون کررہاہے ۔ کیا وہ درندہ صفت انسان قوام متحدہ کا ممبرتھاجس نے کراچی میںچوتھی کلاس کی ایک معصوم سی گڑیا کا ریپ کیاتھا۔ یہ جو تھرپاکرمیں بسنے والے بچے ایڑیاں رگڑرگڑکے مرگئے ان کاآب ودانہ کیایہودوہنودنے آکرچھیناتھا؟ پاکستان بھرکے تعلیمی اداروں کو گھوڑوں گدھوں اور بھینسوں کا اصطبل کس نے بنایا۔اسپتالوں کی یہ ابترحالتیں کن کی کرشمہ سازیوں کا نتیجہ ہیں۔ملک کو تباہی کے دہانے پہ لاکھڑاکرنے والے انہی ناہنجاروں کوہرالیکشن میں ووٹ کون دیتاہے۔ہم ہی دیتے ہیں یا پھرآسٹریلیاکی عوام آکرووسٹ کاسٹ کرکے چلے جاتے ہیں۔ غیرت کے نام پہ قتل کون کررہاہے۔ غریب پہ کتے کون چھوڑرہاہے۔ہاریوں اور کسانوں کامنہ کالا کرکے انہیں گلیوں میں رسوا کون کررہاہے۔ قتل کے پروانے کون بانٹ رہاہے۔کیا وہ ہم نہیں تھے جنہوں نے نشترپارک میں ایک جماعت کی پوری قیادت کو بم رکھ کراڑادیاتھا۔ وہ کون تھے جنہوں نے چہلم کے جلوس میں خون کی ہولی کھیلی تھی۔راجہ بازارپہ تیل چھڑکنے والے سرپھرے کیافرانس سے آئے تھے۔کیا اقوام متحدہ کے نمائندے یہاں آکررفاہی اداروں کے رضاکاروںکوخون میں تڑپاتے ہیں۔کیاوہ نوسربازعالمی اداروں کے افسران ہیں جو یہاں ایمبولینسوں سے مریضوں کو اتارکر کراس میں اسلحہ سپلائی کرتے ہیں۔ کیا وہ لوگ نیویارک سے تعلق رکھتے ہیں جو جناح اسپتال سول اسپتال اور مہران اسپتال میں گھس کرایمرجنسی وارڈمیں خون کی ہولی کھیلتے ہیں۔ کیا قائد اعظم کے مزارپہ شب درازیوں کے لیئے کمرے اور بینچ کرائے پہ مہیاکرنے والے ان لفنگوں کو اسرائیل نے مشن سونپ کربھیجا ہے؟۔ حالت یہ ہے اوررونارورہے ہیں نوبل پرائز کا؟ 
یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم کون ہیں۔ہم وہ ہیں جنہوں نے فروٹ کے ٹھیلے پہ کھڑے مولانا یوسف لدھیانوی جیسے عبقری عالم کو پیرانہ سالی میں گولیوں سے چھلنی کرڈالا۔ جنہوں نے حکیم محمدسعید جیسے نابغہ روزگارہستی پہ پورابرسٹ چلادیا۔جنہوں نے اپنے ہی استادمولانا حسن جان کے سینے میں خنجراتاردیا۔ جنہوں نے مولانا سرفرازنعیمی کے پیچھے جمعہ کی نماز پڑھ کرانہیںخود کش دھماکے میں اڑادیا۔ علامہ حسن ترابی جیسے مدبرسیاست دان اور راہنما سے جنہوں نے جینے کا حق ہی چھین لیا۔اب کیاان لوگوں کو تل ابیب میں تلاش کیا جائے جنہوں نے جاویداحمد غامدی جیسے اسکالرپہ عرصہ حیات تنگ کیاہواہے۔لاہورمیں المورد جیسے دانشکدے میں اگر آج سناٹابول رہاہے تو اس کا سبب ہم کس کو قراردیں۔ ہمارے ہاتھ اساتذہ کے خون میں رنگے ہوئے ہیں۔ ہم نے اپنے ہاتھوں سے معززججوں اور وکیلوں کے گلوں پہ چھریاں چلائی ہوئی ہیں۔ہم نے صحافیوں کوسڑکوں پہ گھسیٹاہے۔ ہم نے تاک تاک کرڈاکٹروں کونشانہ بنایاہے۔ ہم نے ادارے اور عبادت خانے ڈھائے ہیں۔ ہم نے احرام کی بیلٹوں میں منشیات اسمگل کی ہے۔ ہم نے صلاحیتوں کاقتل عام کیاہے۔ ہم نے تعلیم کا جنازہ نکالاہے اور پھر ہم کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ نے عبدالستارایدھی کو نوبل پرائز کیوں نہیں دیا۔؟
ایدھی صاحب نے ہمیں کیا دیا۔ اپنے والدین ،بچوں اور عزیزوں کی جن سڑی ہی لاشوں پہ ہم ابکائیاں لیتے ہیں انہی لاشوں کوایدھی صاحب نے ہاتھ لگایا۔ جن بچوں کو ہم ناجائزکہہ کر کوڑے کے ڈھیر میں پھینک آئےانہیں ایدھی صاحب نے زندگی کا امکان دے کر معاشرے کا کارآمدفردبنایا۔ ہماری ہی کوکھ سے جنم لینے والے جن بچوں کے بگڑے ہوئے ذہنی توازن کی ہم تاب نہ لاسکے انہیں ایدھی صاحب نے گلے لگاکران کے دکھ درداپنے سرلے لیئے۔ جن کی کوکھ سے ہم نے جنم لیا،جب ان کی کھانسیوں سے تنگ آکرہم نے انہیں گھروں سے دھکے دے کرباہرنکالا ، ان کی عزت نفس کو ایدھی صاحب نے اپنے ہاں امان دی۔ جن کا گھربارلٹ گیاانہیں ایدھی صاحب نے کندھادیا۔ ناکام حسرتوں کابوجھ اٹھائے اٹھائے پھرنے والوں کی آنکھوں سے دردچھلکا توایدھی صاحب نے ان کی اشکوئی کی۔ ایدھی صاحب نے خود اپنی ذات کو کیا دیا؟ وہی بڑی جیبوں والے دوسیاہ جوڑے ،ایک جناح کیپ اور گھسی ہوئی چپل؟ ۔بلاشبہ ایسے شخص کونوبل پرائزسے آگے کاکوئی ایوارڈملنا چاہیئے۔مگراس سے پہلے میراسوال ہے کہ ہم نے ایدھی صاحب کو کیا دیا؟ہم نے انہیںدو فتوے دیئے جن میں سے ایک میں قادیانیت کا تو دوسرے میں الحادکا پروانہ تھا۔ ہم نے ایدھی صاحب کوایک الزام دیا جس میں ہم نے انہیں مردہ فروش اور کفن چور ثابت کیا۔ہم نے ایدھی صاحب کو جلاوطنی دی ۔ہم نے ایدھی صاحب کوسزائیں دیں۔ہم نے انہیں دکھ دیئے اور درددیئے۔ عمرکے اس حصے میں ایدھی صاحب کوایک نیا اعزازہم نےدیا۔یعنی جس شخص نے ساری زندگی ہمارے درد کا درماں کیا،اسی کی دیوار پھلانگی اورخیرات لوٹ کرفرارہوگئے۔زندگی کے اس آخری اسٹیج پرشاید یہ آخری اعزازتھاجوہم ایدھی صاحب کو دے سکتے تھے،سو دے دیا۔ لیکن آیئے کہ ایک ماتم کریں اس نوبل پرائز کاجوانہیں نہیں ملا۔ افسوس اے ثناخوان تقدیس ملت! افسوس اے ثناخوانِ تقدیس ملت!
Farnood Alam

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔