وی آئی پی کلچر بہت خراب ہے، اسے بند ہونا چایئے اس کے خلاف کھڑا ہونا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔کیا واقعی؟ اس کلچر کا بانی نہ نواز ہے اور نہ زرداری ۔۔۔اس کلچر کو بنانے اور پھیلانے کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ کیا یہ وی آئی پی کلچر نہیں کہ آپ خود تو ڈائننگ ٹیبل پر کھائیں اور اپنے ملازم کو فرش پر بٹھا کر، اور تو اور جن پلیٹوں میں خود کھائیں وہ پلیٹیں نہ صرف ان سے الگ رکھیں، گلاس بھی پلاسٹک یا اسٹیل کا ان کے لئے الگ سے اٹھا کے رکھیں۔ وی آئی پی کلچر۔۔۔۔۔۔، اپنے ڈرائیور کے ساتھ آگلی سیٹ پر نہیں بیٹھنا کیا یہ وی آئی پی کلچر نہیں؟ گلی محلوں سے کوٹھیوں تک اور اسکولوں سے لے کر جامعات تک، ہر جگہ وی آئی پی کلچر دکھائی دے گا، کھانے کے ہوٹلوں سے لے کر کپڑوں کی خریداری تک۔۔سینما کی سیٹوں سے لے کر ٹرین کی بزنس کلاس تک، زیادہ پیسہ دو وی آئی پی بن جاؤ! ۔۔ ہر جگہ اس کلچر کی اجارہ داری ہے اور کلچر کو پھیلانے والے فروغ دینے والے ہم سب ہیں! یہ لیڈر ہم ہی میں سے نکل کر سامنے آئے، اور ہم میں سے بھی اگر کوئی کل کو لیڈر بنا تو شاید یہی سب کرے! اس کلچر کے سدباب کا آغاز خود سے کرنا پڑیگا!
#SayNoToVIPCulture
ابنِ سید
#SayNoToVIPCulture
ابنِ سید










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔