Tuesday, October 14, 2014

ایک واقعہ سُنا بڑا عجیب سا محسوس ہوا۔

0 comments
ایک واقعہ سُنا بڑا عجیب سا محسوس ہوا۔
غالباً مولانا طارق جمیل صاحب نے سنایا تھا،
کہتے ہیں:
ہم ایک دفعہ ایک جماعت میں گئے،
ایک شخص سے ملے اُس سے بات چیت کی،
اس کو نماز کیلیئے مسجد بُلایا،
وہ راضی ہی نہیں ہورہا تھا،
اللہ اللہ کرکے مسجد نماز پڑھنے آیا،
اس شخص کو مسجد میں جماعت والوں نے بہت عزت دی،
اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
کہنے لگا: میں آخری دفعہ 25 سال پہلے مسجد آیا تھا۔
اور اس کے بعد کبھی مسجد نہیں آیا۔
پوچھا گیا کیوں؟
اس نے بتایا کہ اس وقت جب میں مسجد آیا تھا
وضو خانے میں وضو کر رہا تھا
ایک "ریگولر" نمازی نے مجھ پر یہ جملہ مارا تھا کہ:
"واہ بھئی آج چاند کہاں سے نکل آیا؟"
بس میرا وضو جہاں تک ہوا تھا، وہیں چھوڑ کر مسجد سے نکل گیا۔
اس کے بعد سے مسجد کا رخ نہیں کیا، آج پچیس سال بعد آپ لوگوں نے اتنی عزت دی تو شرمندگی ہورہی ہے اور تہیہ کرلیا ہے کہ اب نمازی بن جاؤنگا۔
٭سوچنے کی بات
اس بات سے قطع نظر کہ اس شخص نے صرف ایک آدمی کے کہنے پر سالوں کی نماز چھوڑ دی،
لیکن کیا یہ بات سوچنے کی نہیں کہ اس کی سالوں کی نماز چھوڑنے میں اس "ریگولر" نمازی کے اُس ایک جملے کا کتنا کردار تھا؟
ہم سب اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔