جب سے ملالہ کو نوبل انعام ملا ہے، تب سے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ اس نے آخر کیا کیا ہے؟ دین دار طبقہ خصوصا جماعت اسلامی والے تو سڑ سڑ کے مرے جا رہے ہیں کہ ایسا آخر کیا کر دیا اس نے کہ خواتین کی تعلیم کی تمام کوششیں ایک طرف، تمام جدو جہد ایک طرف، اور انعام مل رہا ہے ملالہ کو، حقیقتا ضرورت ہے کہ اس بات کو سمجھا جائے، اس کے کارناموں کو سمجھا جائے جس کی بنیاد پہ اتنا بڑا انعام ملالہ کو مل گیا، مثلا ملالہ کہتی ہے کہ داڑھی والے دیکھ کر فرعون ، معا ذہن میں آجاتا ہے، اب آپ بتا ئیں آپ کو لاکھ داڑھی اچھی نہ لگے، مگر آپ کیا، آپکا باپ کبھی ایسا نہیں سوچ سکتا! نبی اکرم کی اس سنت کے بارے جہاں اسلامی دنیا میں اتنی محبت پائی جاتی ہے کہ کوئی اسکے بارے میں ۱۰۰۰ بار برا سوچنے کے باوجود بھی بولتے ہوئے احتیاط کرے گا، لیکن دیکھئے زرا، ملالہ نے کیا بیان دیا ہے، پھر اس نے اپنی کتاب میں، اسلام کے بنیادی تصورات سے صرف اختلاف ہی نہیں کیا بلکہ وہ نکتہ چینی کی ہے، جو اب تک سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین بھی نہیں کر سکے تھے، اسکے علاوہ اس نے اپنی کتاب ، میں ملالہ ہوں میں، پاکستان جو کہ دنیا بھر میں ایک نظریاتی مملکت تصور کی جاتی ہے، اسکے بارے میں ایسی ایسی باتیں لکھی ہیں، جس سے اسکا چہرہ دنیا کے سامنے ایک بدنما داغ بن کر نمایاں ہوا ہے، خواتین کے بارے میں ملالہ لکھتی ہے کہ انھیں پاکستان میں اس طرح لیا جاتا ہے، جس طرح جانور ! اب جانور کی تعلیم کے بارے میں تو کبھی تسور ہی نہیں کیا جا سکتا، اسلیئے خواتین کو پاکستان میں بنیادی حق تعلیم سے دور رکھا جاتا ہے، حالانکہ پاکستان کی تمام پبلک سیکٹر اور پرائویٹ سیکٹر جامعات میں اس وقت اوپن میرٹ داخلہ پالیسی کی وجہ سے خواتین مردوں کے مقابلے میں تعداد میں ۳ گنا ذیا دہ پڑھ رہی ہیں، حالانکہ اس سے پاکستان کو معاشی اعتبار سے نقصان ہے، کیونکہ بعد میں ان خواتین کی تعداد کی ستر فیصد شادیا ں کر کے گھر بیٹھ جاتی ہیں، اور کام نہ کرنے کی وجہ سے انکی پرہفیشنل ڈگری ضایع ہو جاتی ہے، تعداد پوری کارنے کےلیئے پاکستان کو باھر سے مطلوبہ ڈگری ہولڈرز بلوا کے کام چلانا پڑتا ہے، اس طرح ۵۰،۰۰۰ میں کام کرنے والا انجنئر نہ ہونے کے سبب، اسکا ۵ گنا ذیادہ میں باھر سے کام کرنے کیلئے پاکستان آتا ہے، اس ضمن میں ریاست جتنا کماتی نہیں، اس سے ذیادہ خرچ کر ڈالتی ہے!











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔