مجھے یاد نہیں آرہا کہ یہ کہانی میں نےکہاں پڑھی
ہے؟ یا ہو سکتا ہے کوئی فلم دیکھی ہو ، کہتے ہیں کہ انیسویں صدی کے اوائل میں
برطانیہ کے ایک امیر، دولت مند ماردیک فیملیی میں ایک بچہ پیدا ہوا ، یہ ماردیک
خاندان میں پہلی ولادت تھی . یہ بچہ بہت ہی خوبصورت تھا .ناک نقشہ ماں اور باپ
دونوں سے ملتا ہوا . مگر قدرت نے اس بچے کو دو چہرے عطا کئےتھے ، ایک چہرہ وہ تھا
جو سامنے سے بالکل عام بچوں جیسا ، نارمل تھا ، انتہائی خوبصورت ، دل موہ لینے
والا - مگر عین اس کے پیچھے کھوپڑی کی جانب ایک اور چہرہ بھی تھا - بہت بدنما اور
بھدا ا - عقبی چہرے سے وہ صرف دیکھ سکتا تھا ، اور تاثرات کا اظھار اپنے ہنسنے اور
رونے کی صورت میں کرسکتا تھا . حالانکہ اس چہرے پر منہ بھی موجود تھا ، مگراس منہ
سے غذا نہیں کھا پاتا ، سامنے والے چہرے سے وہ عام انسانوں کی طرح کھا بھی سکتا ،
بول سکتا اور ہر وہ عمل کرسکتا تھا ، جو ایک عام نارمل آدمی کرسکتا ہے . گھر والوں
نے اس بچے کو " ایڈورڈ ماردیک " کا نام دیا - ماردیک فیملی نام تھا جو
بطور کاسٹ استعمال ہوتا ہے - ایڈورڈ وقت کے ساتھ ساتھ بڑا ہوتا رہا ، اپنے دونوں
چہروں کے ساتھ ! مشکل یہ تھی کہ ایک چہرہ بات کرتا تھا تو دوسرا چہرہ مسکرا کر اس
کی بات پر خوشی کا اظہار بھی کرتا ، اگر غلط بات ہوتی تو غوں غان کی آواز کے ساتھ
ناراضگی کا اظہار بھی کرتا ، ایڈورڈ نے شروع شروع میں کوشش کی کہ اپنے پچھلے چہرے
پر کوئی نقاب رکھے ، مگر جب نقاب ہٹائی جاتی تو پچھلا چہرہ آنسوؤں سے تر نظر آتا ،
چناچہ پچھلے چہرے سے نقاب اتاردیا گیا - اب ایڈورڈ بچہ نہیں تھا ، وہ بڑا ہوچکا
تھا ،اسکول سے کالج تک کا سفر ایڈورڈ نے جس کرب کے ساتھ گزارا اس کا اندازہ کوئی
اور کر ہی نہیں سکتا تھا . جب لڑکیوں کے ساتھ پارٹیز اٹینڈ کرتا ، تو دوسرا چہرہ
لڑکیوں کو آنکھ مار مار کر اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش بھی کرتا --ایڈورڈ ماردیک
کے لیے یہ بات بہت تکلیف دہ تھی ، وہ دہری زندگی گزار رہا تھا - دولت کی ریل پیل
کے باوجود ایڈورڈ کو روحانی خوشی میسر نہ تھی - کلب لائف بھی اس کو سکون نہیں دے
پارہی تھی - اس رات ایڈورڈ کسی پارٹی سے واپس آیا تھا ، اس رنگا رنگ پارٹی میں وہ
اپنی نئی گرل فرینڈ سے ملا تھا ، دونوں بہت خوش تھے ، مگر دوسرا چہرہ بار بار ان
کو اپنی غوں غان سے ڈسٹرب کرتا رہا ، ایڈورڈ جب گھر پہنچا تو دونوں چہروں میں خوب
تکرار ہوئی . اور پھر دوسری صبح ایڈورڈ ماردیک اپنے بستر پر مردہ حالت میں پایا
گیا ، اپنے دونوں چہروں کے ساتھ --- گھر والوں کو ایڈورڈ کے بستر سے زہریلی گولیاں
( ادویات ) مل چکی تھیں ، ایڈورڈ ماردیک نے خودکشی کرلی اس وقت ایڈورڈ کی عمر محض
تیئس سال تھی . شاید وہ اس سے زیادہ عمر دو چہروں کے ساتھ گزار بھی نہیں سکتا تھا
- میڈیکل کی تاریخ میں یہ پہلا واقعیہ تھا ، جس نے دنیا بھر کے سرجنز کو اس جانب
متوجہ کیا --اب بھی ایسے عجیب الخلقت بچے پیدا ہوتے ہیں ، جن کی بروقت سرجری کی
جاتی ہے اور وہ اپنی طبعئی عمر گزا رنے کے قابل ہو جاتے ہیں- ان عجیب الخلقت،
مخلوقات سے متاثر ہوکر بہت سی دومالا ئی داستانیں اور قصے بھی مشہور ہوے ، جن میں
سے ایک مشہور زمانہ " ممتاز محل " بھی ھے ، یہ ممتاز محل کا قصّہ دنیا
کی تقریباً ہر زبان میں منتقل ہوا ،نام کی تبدیلی کے ساتھ ، پاکستان اور برصغیر
میں ممتاز محل ایک ایسی خاتون ہے جس کا سر اور منہ خاتون کا ہے اور نچلا دھڑ ایک
مچھلی کا ، داستان گو اس کو جل پری کا نام بھی دیتے ہیں ، زولوجیکل گارڈن ( سابقہ
گاندھی گارڈن ) کراچی میں بھی " ممتاز محل " نمائش کے لیے تیار کی جاتی
ہے ، ہمارے بچپن میں شاید دو روپیہ ٹکٹ تھا . جس کے بعد قانونی طور پر ممتاز محل
کو دیکھا جاسکتا تھا - اب ہوسکتا ہے اس کی شرح ٹکٹ بڑھا دی گیئ ھو . لیکن میرا
خیال ہے کہ اب " ممتاز محل " اجڑ چکا ہوگا - کیوں کہ روزانہ ہرہر چینل
پر، ہم کسی بھی وقت ان " ممتاز محلوں " کو دیکھ سکتے ہیں، سن سکتے ہیں ،
لائیو حالت میں - یہ ممتاز محل اپنا اوپر کا حصّہ بدل کر کبھی اس چینل پر چلتے ہیں
، کبھی دوسرے پر چلتے ہیں ، یہ اپنا نچلا دھڑ بھی بدل سکنے کی صلا حیت رکھتے ہیں -
کبھی ان کا نچلا حصّہ شیر کا ہوتا ہے ، تو کبھی کسی جل پری کا - اور تو اور یہ
" ممتاز محلے " کیمرے کے سامنے سامنے آن لائن " کینچلی" بدلنے
میں بھی مہارت رکھتے ہیں - یہ ممتاز محلے پلک جھپکتے ہی سانپ سے گیڈر بن جاتے ہیں
اور شیر سے عقاب ؟ ، اتنی تیزی کے ساتھ کہ ناظرین ان کو رنگے ہا تھوں پکڑ بھی نہیں
پاتے . صحافت تو صحافت ، سیاست کے میدان میں بھی ان عجیب الخلقت دوچہرے والے بچوں
نے خوب نام کمایا ہے . ایڈورڈ ماردیک کی طرح ان کے بھی دو چہرے ہیں. ایک دیسی
دوسرا ولایتی --- دیسی چہرہ صرف مسکراتا ہے ، تاثرات کا اظہار کرتا ہے ، رو کر ،
تو کبھی مسکرا کر -- ولایتی چہرے سے یہ ہر قسم کا کام لیتے ہیں . بولتے ہیں ، کھا
تے ہیں ، پیتے ہیں ، تجارت کرتے ہیں ، اور ہمیشہ ایسی جس میں صرف اپنا فائدہ ہو .
پاکستان سے باہر ہمارے" ایڈورڈ " دیسی ایڈورڈ والی چہرے پر نقاب ڈالے
رکھتے ہیں ، مبادہ کسی کو پتہ نہ چلے . اور جب یہ پاکستان میں ہوتے ہیں تو ولایتی
ایڈورڈ کا چہرہ چھپا لیتے ہیں ، یہاں وہی پچھلا چہرہ استعمال کرتے ہیں ، جو صرف
مسکرا سکتا ہے ، قہقہہ لگا سکتا ہے ، رو سکتا ہے ، ہاں مگر اس سائنسی ترقی کی
بدولت رومن انگلش میں لکھاہوا اردو میں "غوں غاں'' کی آوازیں نکال سکتا ہے -
ان دو چہرے والے کی خوبی یہ ہے کہ یہ اپنی طبعئی عمر سے زیادہ جیتے ہیں ، یہ
" کلوننگ مارکہ دیسی ایڈورڈ " خودکشی بھی نہیں کرتے!!!
Najeeb Ayubi
Najeeb Ayubi










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔