ہمارے معاشرے میں گھر کے اندر عورت روزانہ جتنا
کام کرتی ہے اس کی اصل قدروقیمت کا اندازہ الا ماشاء اللہ مردوں کو ہے ہی نہیں-
اگر عوتوں کے گھریلو کام کاج کی مالی قیمت کا اندازہ لگایا جا تو معلوم
ہوجائےگا کہ بسا اوقات وہ مرد کے مقابے میں کئی
گنا زیادہ کام کرتی ہے، مشقت کے لحاظ سے بھی اور مالی قیمت و افادیت کے اعتبار سے
بھی- ان خدمات کی قمیت اگر کبھی مرد دینا بھی چاہے تو شائد اکثریت ایسا نہ کرسکیں-
لیکن عورتوں کے اس تھینک لیس جاب کی قیمت اور اھمیت کو جب مرد فراخدلی تسلیم ہی نہیں کرتے تو اس کے لئے عورتوں سے اظہار تشکر کا تو سوال پیدا نہیں ہوتا- ہم میں سے اکثر لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ گویا گھر کا کھانا پکانا، برتن دھونا، گھر کی صفائی ستھرائی،کپڑے استری کرنا وغیرہ سب کے سب عورتوں کے اوپر شرعی طورپر لاگو فرائض ہیں حالانکہ شریعت کی طرف سے ایسی کوئی پابندی نہیں- یہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ ان کاموں کے لئے کسی نوکر/نوکرانی کا بندوبست کرے - اگر عورت عرف کے مطابق یہ سارے کام خود کرتی ہے تو مرد کو اس کے لئے عورتوں کا مشکور ہونا چاہیئے نہ کہ چھوٹی موٹی لغزشوں پر انہیں اس طرح ڈانٹا جائےکہ جیسے ان سے فرائض منصبی میں کوئی بڑی کوتاہی ہوئی ہو-
لیکن عورتوں کے اس تھینک لیس جاب کی قیمت اور اھمیت کو جب مرد فراخدلی تسلیم ہی نہیں کرتے تو اس کے لئے عورتوں سے اظہار تشکر کا تو سوال پیدا نہیں ہوتا- ہم میں سے اکثر لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ گویا گھر کا کھانا پکانا، برتن دھونا، گھر کی صفائی ستھرائی،کپڑے استری کرنا وغیرہ سب کے سب عورتوں کے اوپر شرعی طورپر لاگو فرائض ہیں حالانکہ شریعت کی طرف سے ایسی کوئی پابندی نہیں- یہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ ان کاموں کے لئے کسی نوکر/نوکرانی کا بندوبست کرے - اگر عورت عرف کے مطابق یہ سارے کام خود کرتی ہے تو مرد کو اس کے لئے عورتوں کا مشکور ہونا چاہیئے نہ کہ چھوٹی موٹی لغزشوں پر انہیں اس طرح ڈانٹا جائےکہ جیسے ان سے فرائض منصبی میں کوئی بڑی کوتاہی ہوئی ہو-










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔