Tuesday, November 11, 2014

کوئی ایسی پوسٹ شیر نہ کریں جس میں کسی تصویر کے ساتھ نبوت کا دعویٰ لکھا ہو

0 comments


ہماری عوام جہالت کے اس اعلی مقام پر فائز ہے جس کا کوئی ثانی نہیں ، پتا نہیں کس نے انکو مشورہ دیا کہ فیس بک استعمال کیا کرو ، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہمارے مسلمان بھائی بہت سے محاذوں پر کام کر رہے ہیں . سیکولر سے لے کر ملحدوں تک ہر محاذ پر ان اسلام کے دشمنوں کو شکست ہو رہی ھے، اب ان ملحدوں نے زنانہ فیس بک اکاؤنٹ بنا کر ہمارے کچھ بھائیوں کی تصویروں پر نبوت کے دعوے لکھ کر فیس بک پر اپلوڈ کر دیۓ ہیں ، ہماری ٹھرکی عوام اور اسلام کے نام نہاد ٹھیکیدار جو سارا سارا دن سنی لیون اور بالی ووڈ کے ہر پیج پر پائے جاتے ، اچانک ان ٹھرکیوں کی "اسلامی غیرت " جاگ جاتی ہے اسلام کے محافظ بن کر ایسی پوسٹ پر گالیاں دینے کے بعد اسی کو شئر بھی کرتے پھر رھے ھیں ، کسی کو اتنی شرم نہیں آئی کہ آیا تصدیق ہی کر لے آیا یہ بات سچ بھی ہے کے نہیں ،زنانیوں کا فیس بک اکاؤنٹ ہونا چاہیے بے شک پروین کے پیچھے پرویز ہی کیوں نہ ہو ان کو کوئی سروکار نہیں ، لڑکی کے اکاؤنٹ سے کچھ بھی اپلوڈ کر دو یہ عوام ھمددرد بن کر لائک اور شئر بھی کرے گی ،ایسے خبیث النفسوں کو فیس بک استعمال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں. ان کی اس طرح بنا تصدیق کئے پوسٹ شئر کرنے کی وجہ سے ملحد ان پر ہنس رہے اور مذاق اڑا رہے ھیں اور اسلام کے ان "ہمدردوں" کی وجہ سے اسلام کا بھی مذاق بن رہا ہے ،اور ساتھ ساتھ جس مسلمان کے بارے میں جھوٹی پوسٹ بنائی گئی اس مسلمان کی جان کو بھی خطرے میں ڈال دیا جاتا ھے
اگر کسی غیرت مند کو عبد السلام فیصل اور حافظ بابر کے نام سے کوئی ایسی پوسٹ نظر آئے اس کو فوراً فیس بک کو رپورٹ کرے اور اپنی اپنی وال سے ڈیلیٹ کرے ، جو شئر کر رہا ہے اس کو بھی سمجھائے کہ ایسا کچھ نہیں، کسی نے کوئی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا یہ ہمارے دو بھائی بڑے عرصے پاکستان کے دیسی ملحد، سیکولر، قادیانی وغیرہ کے دانت کھٹے کر رہے اور ان کے ہر وہ اعتراض جو اسلام پر اٹھائے ان کا دانت شکن جواب دے رہے ہیں ،، کوئی فاسق و فاجر جب تم لوگوں کے پاس ایسی خبریں لائے تو ان خبروں کی تصدیق کرتے ہوۓ موت پڑتی ہے کیا ؟
بقلم مولوی روکڑا

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔