جماعت اسلامی کی
بدقسمتی دیکھیں کہ ایک طرف اس کی قیادت پاکستان سے وفاداری کے جرم میں کوئے یار سے
سوئے دار کی جانب بڑھ رہی ہے۔عبدالقادر مُلا کے بعد مطیع الرحمٰن نظامی کو سزائے
موت ہوچکی،پروفیسر غلام اعظم دوران اسیری انتقال کرگئے اور نہ جانے کتنے جرم وفا
کی سزا بھگتنے کو تیار بیٹھے ہیں مگر دوسری طرف اس سے وفاداری کے سرٹیفکیٹ مانگے
جارہے ہیں۔جب بھی کوئی "دانش گرد" اٹھتا ہے یہ کہہ کر جماعت اسلامی کو
کٹہرے میں کھڑا کر لیتا ہے کہ جماعت اسلامی نے قیام پاکستان کی مخالفت کیوں
کی۔مولانا مودودی نے قائد اعظم رح کو کافر اعظم کیوں کہا۔ہتھیلیوں پہ سرسوں
جمانے والے یہ "دانش گرد" جسٹس کیانی کی رپورٹ پڑھ لیں جو 1953 میں شائع
ہوئی،انھیں معلوم ہوجائے گا کہ قائداعظم کو کافر اعظم کی گالی کس بدبخت نے دی
تھی۔جھوٹے حوالہ جات کی بنیاد پر جماعت اسلامی کو قیام پاکستان کا مخالف قرار دینے
والوں کو علم نہیں کہ جب مسلم لیگ کے پاس مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے
کا کوئی جواز نہ تھا تو مولانا مودودی رح نے "مسئلہء قومیت" نامی کتاب
لکھ کر یہ جواز فراہم کیا۔اگر یہ پروپیگنڈہ درست ہوتا تو قائداعظم قیام پاکستان کے
فوراََ بعد مولانا مودودی سے یہ درخواست کیوں کرتے کہ آپ ریڈیو پاکستان پر قوم کو
اسلام کے بنیادی تصورات سے آگاہ کریں اور بتائیں کہ اسلامی نظام کے خدوخال کیا
ہیں۔ان کی نشری تقریروں کا ریکارڈ موجود ہے اور ملاحظہ کیاجاسکتا ہے۔
Ghori Bilal#
Ghori Bilal#










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔