Monday, November 3, 2014

شہید ہونے پر اتنا ماتم کیوں؟

0 comments
مجھے اپنی زندگی میں درجنوں شہداء کے گھروں میں جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ ان میں سے کسی کے جسم گولیوں سے چھلنی ہوئے تھے اور کئی بمبوں کا نشانہ بن کر ٹکڑوں میں بٹ گے تھے۔ کشمیر اور افغانستان میں غاصبوں کے خلاف اور اسلام کی سربلندی کی خاطر اپنی جانوں کا نذارانہ پیش کرنے والوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں تھا جس کی میّت اُس کے گھر آسکی ہو۔ ان کی عمریں جدا جدا تھیں رنگ ، نسل اور قبیلے مختلف تھے۔ اگر کوئی قدر مشترک تھی تو اُن کے والدین اور بہن بھائیوں کا عزم و حوصلہ تھا، ہر ایک کو اس پر فخر تھا کہ اُس کے لخت جگر، اُس کے بھائی نے ایک اعلیٰ و عرفہ مقصد کے لئے اپنے جان دی ہے۔
یہی نہیں بلکہ ٹی وی پر نظر آنے والے پاکستانی فوج کے ان سپائیوں اور افسران کے والدین اور عزیزو اقارب کا حوصلہ اور عزم دیکھنے کے قابل ہوتا ہے ہوں جو اپنی جانیں وطن پر قربان کر چکے ہوتے ہیں۔
لیکن جب محرم کی مجالس میں امام عالی مقام حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور اُن کے جلیل القدر جانثار ساتھیوں کی قربانی کی داستانوں کے ساتھ ہی اُن کے اقرباء اور خاندانِ رسالت کی بلند حوصلہ خواتین کے نوحوں اور ماتم کے تزکرے سننے کو ملتے ہیں تو سوچنے پر مجور ہو جاتا ہوں کہ کیا یہ سچ ہو سکتا ہے ؟ ایک عام مسلمان تو اس حوصلے اور عزم کامظاہرہ کرے بلکہ شہادت کے مرتبے پر خوشی کا اظہار کرے لیکن خاندان رسالت کے افراد نے رونا پیٹنا کیا ہو گا؟ کیا محرم کی مجالس میں اُن عالی نصب خواتین کی توہین نہیں کی جاتی؟

 مہتاب عزیز

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔