Tuesday, November 4, 2014

اسلام, جمہوریت، قانون سازی اور تبدیلی کا راستہ

0 comments
ہمارے ایک محترم دوست نے معروف لکھاری اوریا مقبول جان کی اخباری مضمون کی روشنی میں اسلام اور جمہوریت کے حوالے سے ایک پوسٹ شئیر کیا ہے جس سے تین اھم سوال جنم لیتے ہیں-
(1)- مسلمانوں کی ریاست میں انسانوں کو آئین سازی اور قانون سازی کا کتنا اختیار ہے؟ (2)- ملکی نظام کو بدلنے کےلی
ۓ مسلمان کیا طریقہ اختیار کرینگے؟
(3)- کیا جمہوریت اور اسلام باہم متضاد اور متصادم نظام ہیں؟
اس حوالے سے میری طالب علمانہ گذارشات یہ ہیں-
(الف)- مسلمانوں کی ریاست میں قران و سنت کو اصل الاصول کی حیثیت حاصل ہے- جن امور میں قرآن و سنت کے احکام واضح اور محکم ہیں ان میں کسی انسان کو تحریف، تحلیل، اضافے اور کمی کا اختیار نہیں- اس کے علاوہ ایسے دیگر معاملات ہیں جن میں قرآن و سنت سے استنباط کی بنیاد پر قانون وضع کرنے کی ضرورت ہوتی ہے- یہ کام مقننہ اسلامی قانون کے ماہرین کی اکثریتی راۓ کی روشنی میں کرسکتی ہے- تیسرے درجے میں وہ بے شمار امور ہیں جن کو عرف اور عقل عام پر چھوڑا گیا ہے ان پر قانون سازی کا اختیارعوام الناس کو حاصل ہے جو اکثریت اور مشاورت کے اصول پراس اختیارکا استعمال کرسکتی ہے بشرطیکہ ایسی کوئی قانون سازی قرآن و سنت سے متصادم نہ ہو-رہا یہ سوال کہ کوئی قانون شریعت سے متصادم ہے یا نہیں ، اس کا فیصلہ شرعی قانون کے ماہرین کی مدد سےمجازریاستی ادارے( مثلا" ہمارے ملک میں سپریم کورٹ، اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت وغیرہ) کرنے کے مجاز ہونگے—ہمارے آئین میں اس بات کی گارنٹی موجود ہے کہ مقننہ ایسی کوئی قانون سازی کرہی نہیں سکتی جو شریعت کے احکام سے خلاف ہوں اوراگربالفرض محال کر بھی ڈالے تو سپریم کورٹ کو پورا اختیار ہے کہ اسے کالعدم قرار دے—دوسری بات یہ کہ پاکستان کی آبادی ٪ 90 سے زیادہ مسلمان ہے- یہاں مذہبی جماعتوں سمیت علماء ربانین، مصلحین ، مبلغین، داعیان، فقہاء سمیت ایک کثیر تعداد ایسےاہل حق لوگوں کی موجود ہے اور رہے گی انشاء اللہ جو اسلام مخالف قانون سازی کرنے دینگے ہی نہیں—اب تو میڈیا اور عدلیہ کے فعال کردارکے ہوتے ہوۓ غیر اسلامی قانون سازی کی جسارت بھی مشکل ہے
(ب)- اگلا سوال یہ ہے کہ اگرآئین اور قانون تو بظاہربڑی حد تک ٹھیک ہوں لیکن یا تو ان پر عملدرآمد ٹھیک طرح سے نہ ہورہا ہو یا حکومت فساق و فجار لوگوں کے ہاتھوں میں ہو تو پھرتبدیلی کہ طریقہ کیا ہوگا؟- غور کیجیۓ تو رسول اللہ نے کفار، مشرکین اور دیگر غیر مسلموں کے معاشرے میں بھی جو طریقہ اختیار کیا وہ دعوت اور اصلاح معاشرہ کا تھا- دعوت عام کے ذریعے آپ نے لوگوں کو اپنا ہمنوا بنایا- اسی طرح مدینہ جاکرآپ نے جبر یا عسکری مہم جوئی کے ذریعے نہیں بلکہ تمام فریقوں کی مرضی پر مبنی ایک معاہدہ عمرانی کے ذریعے ریاست کی بنیاد رکھی اور انقلابی تبدیلی لے آۓ– جب غیر مسلموں کے باب میں یہ معاملہ ہے تو مسلمانوں کی آبادی میں تو بدرجہ اولی اسی دعوت اور اصلاح احوال کا راستہ مستحسن ہے- کیونکہ اگر طاقت، چور دروازوں، عسکری مہم جوئی یا سازش کی نتیجے میں کوئی تبدیلی لائی بھی جاۓ تو وہ نہ قابل قبول ہوگی اور نہ دیر پا - اسلام جس طرح کی تبدیلی نظام کا تصور پیش کرتا ہے وہ نفاذ سےزیادہ نفوذ کا متقاضی ہوتا ہے- سیاسی تبدیلی سے پہلے معاشرتی تبدیلی لانی ہوتی ہےاور معاشرتی تبدیلی کے لیۓپہلے من کی دنیا بدلنی پڑتی ہے –حکمرانوں جب تک اسلام سے براءت کا اعلان نہیں کرتےیا کفر بواح کا ارتکاب نہیں کرتے، عوام کے پاس تبدیلی کا واحد راستہ پر امن جدوجہد ہے جس میں وعظ نصیحت سے لیکر حکومت کےغلط طرز عمل کے خلاف راۓ عامہ کی ہمواری، پر امن احتجاج اور بالآخر اقتدار سے علیحدگی کی کوشش بھی شامل ہے، جہاں اور جب بھی اسلامی قانون کی خلاف ورزی ہورہی ہوگی وہاں اور اسی وقت اس کے خلاف پرامن جدججہد کے ذریعے اصلاح اور تبدیلی کی کوشش کے لیۓ سب مکلف ہیں—کفر بواح اور ارتداد کی صورت میں بھی مسلمانوں کا رد عمل حکمت اور استطاعت پر مبنی ہوگی--- جب تک مسلمانوں کی غالب اکثریت آپ کے پاس نہ ہو اور آپ شارٹ کٹ اختیار کرینگے اس کا نتیجہ کیا ہوگا اس کے لیۓ ہمیں اسلامی تاریخ میں موجود بے شمار مثالوں کی طرف رجوع کرنا چاہیۓ-
(پ)- محدود معنوں میں جمہوریت حکومت چلانےکا ایک نظام ہے لیکن وسیع تر معنوں میں یہ ایک طرزفکر ہے جس میں برداشت پرمبنی اختلاف اور اتفاق راۓ، اکثریتی راۓ کا احترام، عدلیہ کی آزادی، ہر شخص کے لیۓ قانونی اور سماجی مساوات وغیرہ جیسے پہلو اہم ہیں- جمہوری اصول کے تحت حکومت عوام کی مرضی سے بنتی، چلتی ہے یا ختم ہوتی ہے، ہرقانونی طورپر اہل شخص کا ایک ووٹ ہوتا ہے جس کا وزن کسی بھی دوسرے اہل ووٹر کے برابر ہوتا ہے---ہمارے ہاں کچھ ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام میں توہرشخص کی راۓ ایک جیسی نہیں ہوتی-ایک عالم اور جاہل کا ووٹ کیسے کسی معاملے میں ایک ہی وزن رکھ سکتے ہیں؟ پھر یہ کہ جمہوریت میں تو اقتدار اعلی انسانوں کو حاصل ہے جبکہ اسلام اللہ کو حاکم اعلی قرار دیتا ہے، لہذا اسلام اور جمہوریت میں بعد المشرقین ہے- تیسری بات یہ کہ جمہوریت ایک مغربی تصور ہے جبکہ اسلام تو خلافت کا تصور پیش کرتا ہے، اس لیۓ ہمیں اس دھوکے اور غلامانہ نقالی سے جان چھڑاکر اسلامی خلافت قائم کرنا چاہیۓ-
-----جمہوریت کے بارے میں ہمارے یہ سوالات کچھ تونیک نیتی پر مبنی ہیں اورکچھ محض بغض معاویہ یا لاعلمی پر- ----اس میں شک نہیں کہ جمہوریت کی جڑیں یونان کی سٹی سٹیٹس سے نکلیں اور یورپ میں احیاء العلوم کے بعد کے صدیوں میں باقاعدہ طورپر جدید شکل اختیارکرکے آہستہ آہستہ نوآبادیاتی نظام کے ساتھ مفتوحہ علاقوں تک پھیلتی گئی- لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جمہویت کی اصل روح اور اھم عناصر یعنی مشاورت ، بحث وتمحیص کے بعد اکثیرتی راۓ پر مبنی فیصلہ سازی اور عدلیہ کی آزادی وغیرہ کو اسلام نے پوری یکسوئی اور تسلسل کے ساتھ اختیار کیے رکھا- رسول اللہ ص بیک وقت رسول بھی تھےاور حکمران بھی لہذا اگر مشاورت نہ کرتے توبھی صحابہ آپ کی بھرپور اطاعت کرتے لیکن مختلف موقعوں پرجہاں اللہ کا براہ راہ کوئی حکم ابھی نہیں آیا ہوتا تو آپ ص مشورہ فرماتے اور اکثریتی راۓ پر فیصلہ صادر فرماتے جیسے کہ بدری قیدیوں سے سلوک اور احد کے معاملے میں شہر کے باہر جاکر جنگ کرنے کا معاملہ تھا---صحابہ کرام نے بھی اس روایت کو جاری رکھا-جب کسی موقع پر اللہ کا حکم ہوتا تو پھر کسی فرد یااکثریت کی راۓ کی کوئی قیمت نہیں ہوتی تھی جیسے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر دیکھنے میں آیا
عرف اسلامی شریعت میں ایک اہم ماخذ کے طورپر مانا جاتا ہے- اسلام کو ان معروف چیزوں کو لینے پر کوئی اعتراض نہیں جن کا اسلامی تعلیمات سے تصادم نہیں اسی لی
ۓ ابتدا سے لیکر اب تک مسلمانوں نے ایسی معروف چیزوں کو اختیار کیا، خاص کر ایسی چیزیں جن سے روزمرہ زندگی کے معاملات کو چلانے میں سہولت پیدا ہوتی ہے، جہاں انہوں نے اس حوالے سے غیر ضروری جمود اورکوتاہ نظری کا مظاہرہ کیا اس کی انہیں قیمت چکانی پڑی—عثمانی ترکوں کا پرنٹنگ پریس اوریورپ میں صنعتی انقلاب سے بے اعتنائی بطور ثبوت کافی ہیں
یہ بات قابل توجہ ہے کہ شورئی اصول کے التزام کےبعد اسلام ہمیں کسی ایک خاص طرز حکومت کو اختیارکرنے کا پابند نہیں کرتا- یہ کام اسلام عرف پر چھوڑ دیتا ہے کہ آپ پالیمانی نظام بنائیں یا صدارتی، وفاقی طرز حکومت اختیار کرتے ہیں یا یونیٹری، آپ کا پارلیمان ایک ایوان پر مشتمل ہے یا دو پر، آپ صوبوں کو زیادہ خود مختار بناتے ہیں یا مرکزکو، آپ متناسب نمائندگی کا طریقہ اپناتے ہیں یا عام انتخاب کا، آپ سربراہ حکومت کے عہدے کو کیا نام دیتے ہیں (مثلا" وزیر، ناظم، سلطان، امیر، خلیفہ، صدر وغیرہ)، عمال کو تعینات اور برخاست کیسے کرتے ہیں، ان کے مشاہرے اور احتساب کا کیسا نطام ترتیب دیتے ہیں، آپ ٹریفک اور ٹاون پلیننگ کا سسٹم کیسے چلانا چاہتے ہیں ، آپ حج کے لی
ۓ گھوڑے پر سفر کرتے ہیں یا جہاز سے، آپ حرم کے مطاف کو کیسے لوگوں کے لیۓ پر سہولت بنانا چاتے ہیں، آپ مسجد میں ائیرکنڈیشنر لگائیں کہ صرف پنکھے، آپ شلوار قمیص پہنیں کہ پاجامہ، یہ اور اس طرح کےبے شمار موضوعات ایسے ہیں جن کے لیۓ اسلام نے کوئی لگی لپٹی تفصیلات نہیں دیں بلکہ انہیں عرف اور عقل عام پر چھوڑا ہے
اسلام میں خلافت کے تصور کوبھی سمجھنے کی ضرورت ہے- یہ کوئی خاص طرز حکومت نہیں جس کا قرآن و سنت ہمیں پابند کرتے ہیں- اسلامی تصور خلافت اپنے اصلی معنوں میں یہ ہے کہ انسان اللہ کا نائب اور خلیفہ ہے جس نے زمین پر اللہ کے تشریعی نظام کو قائم کرنے اور قائم رکھنے کی جہد مسلسل کرنا ہے- خلافت کا لفظ سیاسی اقتدار کے لی
ۓ بھی آیا ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اس سے مراد کوئی خاص قسم کا نظام حکومت ہے جسے "خلافت" سے موسوم کیا گیا ہے- بالکل اسی طرح کا ایک اور لفظ " سلطان " بھی قرآن استعمال کرتا ہے جس کا مطلب قوت اور اقتدار ہے لیکن اس سے یہ استنباط نہیں کیا جاسکتا کہ گویا اسلام" سلطنت" نامی کوئی نظام تجویز کرتا ہے-
پاکستان میں جو دستوری اور جمہوری نظام رائج ہے وہ بھی معروف ہی کے زمرے میں ہے لیکن اس میں اور خالصتا" مغربی جمہوریت میں بنیادی فرق ہے- مغربی جمہوریت کے برخلاف پاکستان کا آئین اقتداراعلی، اللہ کے لۓ خاص تسلیم کرتا ہے—یہ بھی گارنٹی دیتا ہے کہ کوئی انسانی قانون ایسا نہیں بنیایا جاۓ گا جو قرآن و سنت سے متصادم ہو—اس غرض کے لیۓ اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت اور بالخصوص سپریم کورٹ کواہم فرائض اور اختیارات بھی تفویض کیۓ گیۓ ہیں—اس کے بعد یہ کہنا کہ مغربی جمہوریت اور پاکستان میں رائیج جمہوری نظام میں کوئی فرق نہیں، سراسر غلط ہے—اس نظام میں یقینا" اصلاح اور بہتری کی ضرورت ہے جس طرح کسی بھی اور نظام میں ہوا کرتا ہے، انسانوں کی طرف سے چلایا جانے والا کوئی بھی نظام پرفیکٹ نہیں ہوسکتا، اس میں لا محالہ غلطیاں اور کمزوریاں ہونگی اور انہیں دور کرنے کی کوششیں بھی ضروری ہیں لیکن کسی نظام کے عملی نفاذ میں موجود چند خامیوں کی وجہ سےیکسر نظام کو ہی مسترد کرنا غلط ہے- اسی طرح کی عملی میدان میں غلطیاں مقتدر صحابہ کرام کے زمانے میں بھی ہوئیں اور بعض کے نتیجے میں تو خود مسلمان باہم لڑپڑے اور کٹ مرے جس کا نقصان صرف مسلمانوں کی یکجہتی اور وحدت کو ہوا–آپ بھلے کتنا بھی چاہیں، اسلامی نظام قائم کریں اس میں بھی کمزوریاں اور خرابیاں رہینگی – اس حوالے سے ہمیں خیالی دنیا کی بجا ئے حقیقت کی دینا میں رہنے کی عادت ڈالنی چاہیۓ- نظام کے عملی نفاذ میں موجود خرابیوں کا علاج پورے نظام کی بوریا بستر گول کرنے میں نہیں بلکہ نطام کے اندر رہتے ہوۓ اس کی اصلاح میں ہے
اب رہی بات ون مین ون ووٹ کی- اس سلسلے میں گزارش یہ ہے کہ مسلمانوں کے ملک (مثلآ پاکستان) میں یہ اصول ان امور کے لیۓنہیں ہے جن کا تعلق خالصتا" قرآن و سنت کی تفہیم و تشریح کے حوالے سے ہو- اس طرح کے اجتہادی کام کے لۓ صرف اور صرف اہل علم ہی اہل ہیں عام آدمی نہیں--- لیکن وہ امور جن کا دنیاوی معاملات سے تعلق ہے اور جن پر قانون سازی کے اثرات عام و خاص شہریوں پر ہونگے ان میں ہر شخص کو برابر حق حاصل ہے کہ وہ ووٹ دیں اور اس کا ووٹ وزن میں کسی عالم کے ووٹ سے کم نہ ہو- آج کل کی دنیا میں عمال کے انتخاب کے لۓ سب سے آسان اور قابل قبول طریقہ ووٹنگ ہے –ان اللہ یامرکم ان توادالامانت الا اھلہا میں قرآن نے عمال کے انتخاب کے سلسلے میں خطاب صرف اہل علم کونہیں بلکہ تمام اہل اسلام کو کیا ہے- لہذا کوئی وجہ نہیں کہ حمکرانوں کے انتخاب کے لۓ ون مین ون ووٹ کا اصول اختیارنہ کیا جاۓ- اگر ون مین ون ووٹ کی اھمیت نہیں تو خلفاء راشدین قطعا" مسجد نبوی میں عام بعیت کی ضرورت محسوس نہ کرتے- اس وقت ون مین ون ووٹ کے ذریعے سے اکثریتی راۓ کے حصول کا یہی طریقہ تھا- فی زمانہ ووٹنگ ہے اور اسی کواختیار کرنے میں کوئی شرعی ممانعت نہیں—(دکھ کی بات یہ ہے کہ مولوی صوفی محمد جیسے لوگ اور طالبان، داعش اور بوکو حرام بہر حال ووٹنگ اور جمہوریت کو حرام سمجھتے ہیں لیکن غیر مقاتل اہل اسلام کا خون بہانا حلال سمجھتے ہیں)--اگر کوئی اس کے برخلاف یہ سمجھتا ہے کہ اسلام کا تجویز کردہ کوئی مخصوص نظام حکومت ہے تو وہ وضاحت کردے کہ موجودہ زمانے میں اس کے مختلف پہلووں کی (مثلآ شوری ، طرز انتخاب، معیار عمال، انتظامی ڈھانچہ وغیرہ) عملی شکل کیا ہوگی؟ ہماری نظر میں تو پاکستان کا موجودہ نظام بڑی حد تک قانونی اور آئینی اعتبار سے اسلام سے ہم آہنگ ہے البتہ اس میں مزید بہتری کی گنجائش ہے اور اسے پرامن سیاسی اور جمہوری جدوجہد سے درست کرنے کی کوششیں جاری رہنی چاہیئے—اسی لیۓ مولانا مودودی رح نے اسی راستے کا انتخاب کیا تھا---اسی لیۓ شیخ حسن الہضیبی نے سید قطب کے سخت گیر موقف کے برعکس پرامن جدوجہد کو ترجیح دی تھی—اسی لۓ ترکی میں طیب اردگان کی جماعت نے نجم الدین اربکان سے راستہ الگ کرکے سیکولرسٹوں کو جمہوری میدان میں شکست فاش دی---اسی لۓ تیونس میں النہضہ نے جمہوریت کے ذریعے اقتدارحاصل کیا---اس کے برعکس جب بھی غیر جمہوری یا پرتشدد راستوں کا انتخاب کیا گیا، بدنامی اور ناکامی کے سوا کچھ نہیں ملا---اسلام پسندوں کا مستقبل اسی میں ہے کہ جلد بازی، رجعت پسندی اور تنگ نظری کی بجاۓ عقل و شعور ، صبر، حکمت و دانائی ، دعوت اور تبلیغ اور پرامن جمہوری جدودجہد کا راستہ اختیار کرے- یہی معروف طریقہ ہے، یہی اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہے ، یہی معروضی حالات کا تقاضا ہے، اور اسی میں کامیابی کے واضح امکانات ہیں-
(کرم الہی)
بشکریہ     

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔