کچھ دن قبل ہمارے ایک عزیز کہ رہے تہے کہ سراج
الحق کی تصویریں دیکہ کر پی ٹی آئی والوں کی ہوائیں اڑ جاتی ہیں درست کہا تھا جناب
نے۔سراج الحق کی مقبولیت دیکھ کر عمران خان بھی خائف تہے اور کیوں نہ ہوتے یہ
انسانی فطرت ہے۔لیکن خلافت راشدہ اور تبدیلی کا نعرہ لگانے والے لیڈر نما گیدڑ کو
یہ زیب نہ دیتا تہا موصوف خد کے علاوہ سب کو چور ڈاکو سمجہتے ہیں۔اور خد کو شرعی
عدالت کا جج جب دل چاہے جسے چاہا کنٹینر سے رگڑ دیا۔
ایک محاورہ جو اکثر سنے میں آتا ہے کہ کہ جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف بھاگتا ہے اور سیاست میں یہ محاورہ ہے کہ جب کسی سیاسی گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ جماعت سے پنگہ لے لیتا ہے۔یہ میں نہیں تاریخ کہ رہی ہے۔بھٹو سے مشرف تک تاریخ شاہد ہے۔لیکن یہ بات نیۓ نیۓ سیاسی بچے کیا جانیں۔ہاں جو جانتے تہے خان کے بیان کے بعد ان کی منصرہ دوڑییں لگ گئیں۔معافیوں کے نا ختم ہونے والے سلسلے شروع ہو گۓ۔تلافیوں کے فون رکنے سے نا رکتے اور اخلاقی پستگی اور سیاسی بلوغت کا تو عالم یہ تہا کہ گرو معافیاں مانگ رہا اہے اور چیلے اچہل رہے ہیں۔گرو پشیماں تو چیلے توہ گراں بن کر جماعت پر ٹوٹ پڑے۔
امیر جماعت کا حکم آیا کارکنان نے چپ سادھ لی۔امیر محترم نے کہا کے یہ محض ایک غلط فہم ی ہے میں نے یہ بیان ہر گز نا دیا اور وقت نے یہ ثابت کر دیا۔آج ڈان نیوز نے جماعت اسلامی سے معافی مان گلی اور تصدیق کر لی کے جس بیان پر وہ ہم نواہ ہم پیالہ ظالم اور بے درد سزا بن بیٹھے تہے وہ غلطی سے شائیع ہو گیا۔
لیکن سوال پیدا ہو تا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کے نیا پاکستان کیسے بنا یا جا رہا ہے بھلا بغیر کسی ثبوت کے الزام لگا کر کسی کو مؤرد الزام ٹھرا دیا گیا کیا ایک لیڈر کو یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ کسی پر بھی بغیر ثبوت الزام لگا تا پہرے موصؤف کا تو نام ہی الزام خان پڑ گیا ہے جناب نے کبھ نواز شریف تو کبھی جے یو آئی کبھی اے این پی تو کبھی چیف جسٹس کبھی الیکشن کمیشن کبھی پولیس کبھی آرمی تو کبھی عدلیہ غرض یہ کے کسی کو بھی سواۓ متحدہ کے نا بخشا۔لیکن جماعت اسلام کسی نہیں یہ تو آپ کے محسن تہے آپ کی عزت کے رکہوالے تہے آپ کی حکومت کا سہارا تہے آپ کے لیۓ ہر دم تیار تہے۔ایک انسان کی فکری اخلاقی اور نفسیاتی گراوٹ اس وقت پتہ دیستی ہے جب وہ اپنے محسن پر ہی چڑھ دوڑے۔جانب یہ نیا پاکستان ہے اس میں سب کو آزادی ہو گی مادر پدر آزاد ہوں گے عمران خان آزاد ہو گا کے جسے چاہے بغیر ثبوت مورد الزام ٹھرا دے جب چاہے جھاں چاہے ناچ گانے کر وادے
اس سب کے باوجود مجہے یقین ہے کہ یہ گیدڑ ہے معافی نہیں مانگے گا اور اگر لیڈر ہو گا تو زرور مانگے گا ڈان نیوز کی معافی کی لنک ۔عمران خان کے بیان کی لنک اور اور جماعت کے ردعمل کی لنک دۓ جا رہا ہوں اور توققع کروں گا کے وہ پی ٹی آئی کے ممی ڈڈو ڈڈو جو پچہلے کئی دن سے اس بیان پر اچہل رہے تہے ان کو زر ا قرا آجاۓ گا
ڈان نیوز کی تصدیق
http://www.thenewstribe.com/urdu/?p=432346
سراج الحق کا رد عمل
http://www.thenewstribe.com/urdu/?p=431700
عمران کا بیان
http://www.thenews.com.pk/Todays-News-13-33812-Stop-playing-on-both-sides-of-wicket-Imran-tells-Siraj
ایک محاورہ جو اکثر سنے میں آتا ہے کہ کہ جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف بھاگتا ہے اور سیاست میں یہ محاورہ ہے کہ جب کسی سیاسی گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ جماعت سے پنگہ لے لیتا ہے۔یہ میں نہیں تاریخ کہ رہی ہے۔بھٹو سے مشرف تک تاریخ شاہد ہے۔لیکن یہ بات نیۓ نیۓ سیاسی بچے کیا جانیں۔ہاں جو جانتے تہے خان کے بیان کے بعد ان کی منصرہ دوڑییں لگ گئیں۔معافیوں کے نا ختم ہونے والے سلسلے شروع ہو گۓ۔تلافیوں کے فون رکنے سے نا رکتے اور اخلاقی پستگی اور سیاسی بلوغت کا تو عالم یہ تہا کہ گرو معافیاں مانگ رہا اہے اور چیلے اچہل رہے ہیں۔گرو پشیماں تو چیلے توہ گراں بن کر جماعت پر ٹوٹ پڑے۔
امیر جماعت کا حکم آیا کارکنان نے چپ سادھ لی۔امیر محترم نے کہا کے یہ محض ایک غلط فہم ی ہے میں نے یہ بیان ہر گز نا دیا اور وقت نے یہ ثابت کر دیا۔آج ڈان نیوز نے جماعت اسلامی سے معافی مان گلی اور تصدیق کر لی کے جس بیان پر وہ ہم نواہ ہم پیالہ ظالم اور بے درد سزا بن بیٹھے تہے وہ غلطی سے شائیع ہو گیا۔
لیکن سوال پیدا ہو تا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کے نیا پاکستان کیسے بنا یا جا رہا ہے بھلا بغیر کسی ثبوت کے الزام لگا کر کسی کو مؤرد الزام ٹھرا دیا گیا کیا ایک لیڈر کو یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ کسی پر بھی بغیر ثبوت الزام لگا تا پہرے موصؤف کا تو نام ہی الزام خان پڑ گیا ہے جناب نے کبھ نواز شریف تو کبھی جے یو آئی کبھی اے این پی تو کبھی چیف جسٹس کبھی الیکشن کمیشن کبھی پولیس کبھی آرمی تو کبھی عدلیہ غرض یہ کے کسی کو بھی سواۓ متحدہ کے نا بخشا۔لیکن جماعت اسلام کسی نہیں یہ تو آپ کے محسن تہے آپ کی عزت کے رکہوالے تہے آپ کی حکومت کا سہارا تہے آپ کے لیۓ ہر دم تیار تہے۔ایک انسان کی فکری اخلاقی اور نفسیاتی گراوٹ اس وقت پتہ دیستی ہے جب وہ اپنے محسن پر ہی چڑھ دوڑے۔جانب یہ نیا پاکستان ہے اس میں سب کو آزادی ہو گی مادر پدر آزاد ہوں گے عمران خان آزاد ہو گا کے جسے چاہے بغیر ثبوت مورد الزام ٹھرا دے جب چاہے جھاں چاہے ناچ گانے کر وادے
اس سب کے باوجود مجہے یقین ہے کہ یہ گیدڑ ہے معافی نہیں مانگے گا اور اگر لیڈر ہو گا تو زرور مانگے گا ڈان نیوز کی معافی کی لنک ۔عمران خان کے بیان کی لنک اور اور جماعت کے ردعمل کی لنک دۓ جا رہا ہوں اور توققع کروں گا کے وہ پی ٹی آئی کے ممی ڈڈو ڈڈو جو پچہلے کئی دن سے اس بیان پر اچہل رہے تہے ان کو زر ا قرا آجاۓ گا
ڈان نیوز کی تصدیق
http://www.thenewstribe.com/urdu/?p=432346
سراج الحق کا رد عمل
http://www.thenewstribe.com/urdu/?p=431700
عمران کا بیان
http://www.thenews.com.pk/Todays-News-13-33812-Stop-playing-on-both-sides-of-wicket-Imran-tells-Siraj










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔