ڈاکٹر یوسف علی صاحب کی دوسالہ بچی تو اللہ کے
کرم سے واپس مل گئی لیکن چار پانچ دن بہت سوں کو جس کرب سے گذرنا پڑا اس میں
والدین کے لۓ سبق ہے- اس عمر کے بچوں کو مسلسل نظر میں رکھیں-
بعض اوقات معمولی بے احتیاطی بڑے حادثے کا باعث بنتی ہے- ایک والدہ کپڑے دھو رہی
تھی اور اس کے پیچھے بچہ پانی کی بالٹی میں الٹا گرگیا تھا جس کا ماں تو تب پتہ
چلا جب بہت دیر ہوچکی تھی—اکثر بچے بجلی کے سوئچ بورڈ کے ساتھ کھیلتے ہیں جس سے
بچےحادثات کا شکار ہوجاتے ہیں- میرے ایک کلرک کا بچہ عین عید کے دن سیڑیوں سے پھسل
کر سر کے بل گرگیااور وہیں فوت ہوگیا- اسی طرح ایک چھوٹا بچہ دوڑتے ہوۓ سڑک پار کررہا تھ کہ ایک تیز رفتار گاڑی کی زد میں آکر چل بسا- ایسے بہت سے
واقعات ہم سنتے اور دیکھتےہیں لیکن پھر بھی وہی عدم احتیاط—غم کوئی بھی ہو برا ہوتاہے
لیکن اولاد کا غم والدین کو جیتے جی مار دیتا ہے- اس لۓ والدین اپنے پھول جیسے بچوں کا خصوص خیال رکھیں-
بشکریہ کرم الٰہی










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔