Monday, November 10, 2014

قانون کی دھجیاں اڑانے پر ہمیں شاباش دو

0 comments
"آج معاشرے میں جس طرح کھلے عام قانون کی دھجیاں اُڑائی جا رہی ہیں اس پر ہمیں مورد الزام ٹھرانے اور تنقید کے بجائے ہماری تحسین کی جانی چاہیے، کیوں کہ بحرحال یہاں جو قانون کی ٹوٹی پھوٹی عملداری باقی ہے یہ ہماری ہی قربانیوں اور محنتوں کا ثمر ہے۔" 
اگر یہ موقف کسی پولیس والے کا ہو، صرف پولیس والا ہی کیوں؟ ایک استاد بھی اگر یہ کہے کے تعلیمی معیار کے تنزُل کا دوش ہمیں مت دو، یا ملک کا سربراہ ہی امور مملکت کی ناگفتہ بہ صوتحال کی یہ توجیح پیش کرے، غرض کسی بھی پیشے سے منسلک فرد کا ایساجواز ہرگز تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ ہر صورت اسے ایک بودی دلیل، ایک عذر لُنگ سے زیادہ کچھ نہیں سمجھا جاسکتا۔ 
نہایت افسوس کا مقام ہے کہ ہمارا مذہبی طبقہ معاشرے میں دینی اقدار اور شعار کے حوالے سے پائی جانے والی عمومی بے اعتنائی اور تنزُل سے خود کو بری الزمہ قرار دینے کے لئے یہی دلیل دیتا ہے۔ ظاہر ہے یہ صرٖف دل کو بہلانے کا ایک خوبصورت خیال تو ہو سکتا ہے لیکن معاشرے میں اس کی شنوائی اور قبولیت ناممکن ہے۔ 
کیا اس میں کسی کو شک ہے کہ ہمارا مذہبی طبقہ معاشرے سے مکمل طور پر کٹا ہوا اور تنہائی کا شکار ہے؟ جن کو معاشرے کے قائد کا کردار ادا کرنا تھا وہ آج نیرنگئی دوراں اور حالات کے ناموافق ہونے پر شکوہ کنعاں ہیں۔ اپنی اس حالت پر وہ خود معاشرے کو مورود الزام ٹھراتے ہیں۔
آج سے کچھ اس حقیقت کا جائزہ لینے کا ارادہ ہے کہ اس صورتحال کا کتنا ذمہ دار معاشرہ ہے؟ مذہبی طبقہ پر اس کی کتنی ذمہ داری عاید ہوتی ہے؟ اصل خرابی ہے کہاں؟ اصلاح احوال کی کیا تدبیرات ممکن ہو سکتی ہیں؟
مجھے معلوم ہے کہ یہ ایک بہت نازک اور حساس موضوع ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ انگریزوں کی برصغیر آمد کے بعد یہاں کے مسلمانوں میں ہونے والی مسٹر اور ملاّ کی تقسیم کو ختم کرنے کے لئے اس طرح کی بحث اب وقت کی ضرورت بن چکی ہے۔ میں "خوگر حمد کے گلے سے مشابہ" اپنے خیالات اور مشاہدات پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔ احباب سے گزارش ہو گی کہ اس میں میری رہنمائی فرمائیں اور غلطیوں کی کھل کر نشاندہی کریں۔
قانون کی دھجیاں اڑانے پر ہمیں شاباش دو

 بشکریہ مہتاب عزیز
 

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔