Wednesday, December 3, 2014

اندازبیاں اور

0 comments
مولانا طارق جمیل صاحب کے دعوت و تبلیغ میں ایک معروف نام ہے، ان کے بیان میں لوگوں کے لیۓ بے پناہ تاثرکا سامان ہوا کرتا ہے- لوگوں کو دین کی طرف بلانے کی ان کی کوششیں قابل ستائش ہیں- لیکن ان کے اندازمیں فرط و غلو کا عنصر غالب رہتا ہے- یہی رنگ ان سے متاثرجنید جمشید کے بیانات میں بھی نمایاں ہوتا ہے - 
ہمارے مبلغین اورواعظین بعض اوقات غلو اورفرط جذبات میں لغزش کرجاتے ہیں، یہ رویہ گناہ و گمراہی کا سبب بننے کے علاوہ تنازعات کو بھی جنم دیتا ہے- اس سلسلے میں گذارش یہی کی جاسکتی ہے کہ حساس موضوعات پر گفتگو میں علمی احتیاط ، انصاف اور توازن کا لحاظ رکھیں- مبالغہ آرائی کے اندازمیں یا بلا تحقیق بات کرنا علمی دیانت داری کے بھی خلاف ہے اور کئی حوالوں سے نقصان دہ فعل بھی ہے- اس سے حد درجہ اجتناب کی ضرورت ہے-
Karam Elahi 

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔