Wednesday, December 3, 2014

توہین اور جنید جمشید

0 comments
ایک مرتبہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سر میں درد ہو رہا تھا ۔ آپ نے فرمایا:’’ اے عائشہ! تم میرے سامنے مرتیں تو مَیں تم کو اپنے ہاتھ سے غسل دیتا اور اپنے ہاتھ سے تمہاری تجہیز و تکفین کرتا اور تمہارے لیے دعائے خیر کرتا۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ سُن کر بڑے ناز و انداز سے عرض کیا کہ :’’ یارسول اللہ ! آپ میری موت مناتے ہیں اگر ایسا ہو جائے تو آپ اسی حجرے میں نئی بیوی لا کر رکھیں ۔
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا یہ جواب سنا تو خوب تبسم فرمایا۔ (بخاری و مسلم شریف)
اس واقعے کو پڑہیں اور پھر جنید جمشید کا ڈرامہ دیکھیں یہ میاں بیوی کا ایک آپس کا انداز گفتگو ہے جس کو ایسے تحقیرانہ انداز میں بیان کرنا ۔۔ ہم جب کلاس یا درس لینے بھی جاتے ہیں تو احادیث بیان کرتے ہوئے اتنی احتیاط کرتے ہیں کہ ساتھ حدیث کا مفہوم کہتے ہیں کہ کہیں کوئی بات اپنی طرف سے نہ شامل ہوجائے ۔۔ کجا یہ کہ اس کا ڈارمہ کیا جائے اپنی طرف سے اس میں ڈرامہ کر کے دکھایا جائے اور یہ کہ وہ اٹینشن چاہتی تھی اس لیے سر پر پٹہ باندھ کے لیٹ جاتی تھی ۔۔۔ گویا مکر کرتی تھیں !!!! 
اور یہ کہ وہ سن کر ایسے اٹھ کے بیٹھیں اور سر سے کپڑا اٹھا کہ پھینکا اور یہ کہا ۔۔۔۔۔ اور پھر یہ کہنا کہ اس سے یہ ثابت ہوا کہ عورت نبی
کی صحبت میں بھی نہیں سدھر سکتی یا بدل سکتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انا للہ ۔۔۔ یہ کون ہیں ایسے الفاظ کہنے والے وہ جن کی پاکی ثابت کرنے کے لیے کسی انسان کی گواہی نہیں بلکہ اللہ ربی نے خود اٹھارہ آیات نازل کیں ۔۔۔۔۔ اب یہ بتائینگے کہ وہ نبی کی صحبت میں بھی نہیں بدلی ۔۔۔!!!
صرف یہ سوچا جائے کہ کیا کوئی اس طرح مجمع لگا کر کر یہ ایسے ہی انداز میں اپنی ماں کے لیے یہ سب کہہ سکتا ہے اور ایسے ہی قہقہے لگوا سکتا ہے ؟؟؟؟؟؟ 
اگر نہیں تو وہ امت کی ماں ہیں جن کا نام جبریل امین بھی ادب سے لیا کرتے تھے ۔۔ صرف اونچا باجامہ اور داڑھی رکھ لینے سے کوئی اس قابل نہیں ہوجاتا کہ وہ اہل بیت کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرے ۔۔۔۔۔!!
اگر ہمیں اس میں اپنی ماں کے لیے تو ہتک نظر اآتی ہے مگر امت کی ماں کے لیے تو یہ ہمارے ایمان کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے ۔۔!!
اس کہ باوجود جو لوگ اس کو فتنہ انگیز بنا رہے ہیں وہ بھی شدید غلط کر رہے ہیں. مگرہم سمجھتے ہیں جنید جمشید کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اور ان کی توبہ کو سامنے رکھتے ہوئے سزا ضرور ملنی چاہیے. تاکہ جو لوگ اس کو آڑ لے کر توہین رسالت ص و صحابہ و اہل بیت رض کے قانون کو ختم کرنا چاہتے ہیں ان کی مکروہ خواھشات کا خاتمہ بھی ہو جاۓ.


0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔