اپنے تیئے بہتیرا کوشش کیا ۔کہ اس کو مطمئن کرسکوں۔ مگر کیسے کرتا جو وہ کسی اور کو نہ سنتا نہ مانتا۔ وہ اپنے دھن میں مست وہی کچھ بولتا جارہا تھا۔ جو اس کے ذہین میں آرہا تھا۔ میرے سینے پر پاکستان کا بیج دیکھ کے تو وہ اور سیخ پا ہوگیا۔ جلد ہی مجھے خفیہ والوں کا اہلکار سمجھ کر وہ گفت و شنید کیا۔ کہ اسے سنتے میں حیران بھی ہورہاتھا اور پریشان بھی۔اس کا نام نجیب اللہ ہے اور ملاکنڈ ایجنسی کا رہایشی،اسلام آباد کے معروف سرکاری جامعہ سے بایئوٹیکنالوجی میں ایم ایس سی کیا ہوا ہے اور آجکل اپنے علاقے کے ایک پرایئوٹ سکول میں چند ہزار کے عوض معلمی کے فرایض سرانجام دے رہا ہے۔ نجیب اللہ نے بغیر لیت ولعل دہشتگردی کے خلاف برسرپیکار فوج کو برابھلا کہنا شروع کیا۔ بھرپور نفرت اور غصے کے حالت میں کہا۔’ یہ پینجابی لوگ اور فوج صرف پختون کو ختم کرنے آیا ہے۔ ہمارے پختون کو سب سے زیادہ نقصان پنجاب اور فوج نے پہنچایا۔‘ اس کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کیلے عرض کیا کہ دیکھو بھائی پاکستان ہم سب کا ہے صرف پنجاب کا نہیں اگر کچھ اونچ نیچ ہے تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ خدانخواستہ پنجاب یا فوج پختون دشمن ہے۔ نجیب اللہ جو طالبان کا بھی شدید مخالف تھا۔ حالیہ آپریشن میں فوج کے ظلم پر مبنی واقعے پر واقعہ بیان کرتا رہا۔ اور کچھ لمحوں بعد مجھے محسوس ہوا۔ کہ شاید موصوف کیساتھ زہنی طور پر کچھ المیہ ضرور ہوا ہے۔ تفتیش کیلے پوچھا۔ تو ناموزوں قہقہہ لگاتے ہویے۔ کہا۔’ کیا آپ یہاں نہیں رہتے۔روز آتے جاتے آپ فوج کے ناکوں پر کھڑے بندوق برداروں کو نہیں دیکھتے جو ہمیں ایسے گھورتے ہیں جیسے ہم پاکستانی نہیں۔ کیا یہئ عذاب کم ہے کہ روزانہ آپکو یہ احساس دلایا جایے کہ یہ ملک صرف فوج کا ہے‘۔عرض کیا جناب یہ فوج تو ہمارے حفاظت کیلے ہے۔ اس دفعہ وہ سیدھے ہوکے مزید غصے میں بولے ۔’ اچھا اگر فوج کا کام حفاظت کرنا ہے تو فضل اللہ دوران کرفیو سوات سے افغانستان کیسے پہنچا،عافیہ کو امریکہ کیوں لے گئی اور ہمارے حجروں،بازاروں،مسجد
.jpg)
وں اور سکولوں میں دھماکوں کے باوجود یہ اسلام آباد میں جاری دھرنوں میں پٹٓاخہ پٹا۔ نہ پنجاب میں کچھ ہوا۔‘ اور بالاخر مغرب کی اذان شروع ہوگئی تو میں نجیب اللہ سے رخصت لیکر مسجد کے طرف جانکلا۔مگر اس سوچ کیساتھ کے ہمارے پڑھے لکھے نوجواں بھی اب اگر اس طرح مایوس ہوگئے تو اس نظام کا کیا ہوگا۔ ۔ ۔ ۔ اور اس تصور سے مجھے ڈرآنے لگا۔کہ ماہ تو دسمبر کا ہے۔
اس صاحب سے ملیئے یہ صوبہ بلوچستان کے اچکزئی قبیلے کا چشم وچراغ ہے۔ سرکاری نوکر ہے اور آجکل جامعہ پشاور میں پشتو ادب میں پی ایچ ڈی کا طالب علم ہے۔ جامعہ کے پشتو اکیڈمی کے قریب ہی ملا۔اور اس دن بھی میرے سینے ہر سبز ہلالی پرچم والا بیج لگا ہوا تھا۔ کیونکہ یہ میرا شوق بھی ہے اور جنون بھی۔کہ پاکستان سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔ بلوچستان کے اس نوجوان نے جس شد ومد سے پاکستان اور فوج کے خلاف اپنے خیالات کا اظہار کیا تو عرض کیا کہ جناب اگر پاکستان اتنا برا ملک ہے۔تو پھر اس ملک میں نوکری کرکے آپ جو رزق کما رہے ہیں وہ؟؟؟؟؟ تو بلا خوف وخطر کہنے لگا۔ کہ میں بھی منافقت کررہا ہوں۔ کہ رزق سے مجبوری ہے۔ مگر میں اسلیے بھی کررہا ہوں۔کہ پاکستان ہمارے زمین پر قابض ہےیہ پنجابیوں کا وطن ہے۔ یہ فوج پاکستان کا نہیں بلکہ پنجاب ہے اور اس کو ہمارے وطن سے نکلنا چایئے۔ اچکزئی قبیلے کے اس تعلیم یافتہ نوجوان کے باتیں سن کے میرا تو سرچکرا گیا۔
اور کیوں نہ ہوتا۔کہ اس قسم کے خیالات صرف نجیب اللہ اور اس اچکزئی نوجوان کے نہیں بلکہ جہاں جہاں فوج نے آپریشن کیا ہے وہاں وہ کو سیکنڑوں رونگٹے کھڑے کرنے والے داستانیں ملینگے۔اس سے برعکس کے ان میں صداقت کتنی ہے۔ مگر ان داستانوں کے نتیجے میں سوچ جنم لے چکا ہے۔ وہ اب بلوچستان سے خیبرپختونخوا تک جگہ جگہ پھیلتا ہوا نظر آرہاہے۔ ان کے دیگر وجوہات میں سول حکومت کی مسلسل عدم دلچسپی بھی کار فرماہے۔ کیونکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں فوجی آپریشن شروع ہے۔مگر نہ تو ابھی تک دہشتگردی ختم ہوسکی اور نہ وہاں کے لوگوں اپنے حقوق مل سکے۔ لہذا معمولی سے تحریک پر وہ لوگ اپنے حقوق بزور لینے کیلئے اسلحہ اٹھاتے ہیں۔ بعینہ وہ حکمت عملی ملاکنڈ ڈویژن میں بھی کارفرماہے۔ کیونکہ بقول حکومت اگر سوات میں امن آچکا ہے۔ تو فوجی جوانوں کو واپس بیرکوں میں ہونا چایئے۔ کیونکہ ناکوں پر موجودگی سمیت روز روز لمحہ بہ لمحہ تلاشی نے عوام کو ذہنی طور پر بد ظن کیا ہے جو ملک کے سلامتی کیلئے اچھا شگون نہیں۔
لہذا بنیادی حقوق کی دستیابی سمیت خاصکر نوجواں طبقے کیلئے باعزت روزگار کے مواقع پیدا کیاجائے۔ تاکہ پھر کوئی سر پھیرا بنگالیوں کہ طرح یہ نعرہ نہ لگایے۔کہ کراچی کے سڑوکوں سے پٹ سن کے خوشبو آرہی ہے۔ دسبر میں سقوط ڈھاکہ نے یادیں تازہ کی تو آج کے پاکستانی میں بڑھتی ہوئی نوجوان مایوسی جو مرکز گریز اور علاقائیت کی طرف بڑھتی جارہئ ہے کا سدباب انتہائی لازمی ہے۔

0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔