کراچی شہر کی بلدیہ کے مئیر عبدالستار افغانی (
جماعت اسلامی ) نے جب وفاقی حکومت سے موٹر وہیکل ٹکس میں سے کراچی کا حصّہ طلب کیا
، وفاقی حکومت کے پیٹ میں شدید مروڑ اٹھا -- ان کی منتخب بلدیہ جو پورے پاکستان کی
سب سے بڑی بلدیہ تھی ، ایک آرڈ یننس کے ذریعے ختم کردی گیی .
پھر مارشل لا کی حکومت میں نواز شریف اور غوث علی شاہ کی مدد سے مہاجر کارڈ کے ذریعے اسلامی سوچ رکھنے والے شہر کو لبرل شناخت دینے کے لئے مہاجر قومی موومنٹ کے غبا رے میں ہوا بھری گیی .
آہستہ آہستہ کراچی ، حیدرآباد ، میر پور خاص اور سکھر میں خونریزی ، فساد اور غنڈہ گردی کا جن چھوڑا گیا - اس " جن " نے مہاجر علاقوں میں اپنی علیحدہ نجی حکومت قائم کرلی -
فاشسزم ، دہشت گردی کا عفریت پورے شہر پر راج کرنے لگا - تعلیم ، صحت ، بلدیہ ، ترقیاتی کام ، پلا ننگ اور ڈوولپمینٹ کے محکمے تباہ و برباد کردئیے گئے
تیس سالوں میں کوئی نیا کالج اس شہر میں نہیں کھولا گیا، سرکاری ا سکولوں میں کوئی ایک اسکول کا اضافہ نہیں ہوا - سرکاری امداد وزیر تعلیم کی دسترس میں رہی . شہر کی لائبریریز کو منی پلکس سینما گھروں میں تبدیل کردیا گیا - شا پنگ سنٹرز میں بدل دیا گیا -
اس درمیاں جماعت اسلامی نے نعمت الله خان کو کسی نہ کسی طرح دوبارہ منتخب کروایا -- ترقیاتی کاموں ، پل ، شاہراہوں ، پارکس ، خواتین پارکس ، اتوار بازار ( بچت بازار ) ، رعا ئیی نرخ پر اشیا سودا سلف ، اور امور پر فوری توجہ دی گیی ،
پھر پرویز مشرف کے دور میں جماعت اسلامی دوبارہ زیر عتاب آگیی ، جعلی بیلٹ باکس بھروائے گیے ، فوج اور انتظامیہ نے کھلی دھاندلی کا مظاہرہ کیا
لسانی بنیادوں پر شہر کو تقسیم کیا گیا ، پٹھان ، مہاجر ، سندھی ، یہاں تک کہ بلوچ لسانیت پر بھی علاقے تقسیم کردے گیے
اسلحے کر ٹرکوں اور سیکٹر آفسز میں کوئی دوری نہ رہی - پورٹ ٹرسٹ کی مرکزی بلڈنگ کو دو مرتبہ نذر آتش کیا گیا -- ظاہر ہے اس کی وجہہ صرف یہ تھی کہ بدعنوانی کا کوئی ثبوت موجود نہ رہے .
بولٹن مارکیٹ ، پلاسٹک مارکیٹ کی آتشزدگی ،سانحہ شیر شاہ ، سانحہ بلدیہ ٹاؤن ، اور اسی نوعیت کے بیشمار واقیعات نے شہر کو مفلوج کر کے رکھ دیا .
بھتہ گیری ، پلا ٹ مافیہ ، لینڈ گریبرز ، چائنا کٹنگ ، اور بہت کچھ اس شہر کی پہچان بن گیا -
چائلڈ آرمی - بچوں کی عسکری طرز کی چھوٹی چھوٹی ٹولیاں بنائی گئیں -- اس قسم کا کام افریقی ممالک میں تیس سالوں سے جاری ہے . یہی کام کراچی میں سیکٹر آ فسوں میں شروع کیا گیا --- جو اب ایک تناور درخت بن چکا ہے- مذھبی شخصیات ، علمائے کرام ، تاجر ، ڈاکٹر کوئی بھی ان کے حملوں سے محفوظ نہیں رہا --
دہشت گردوں کے کچھ گروپ پکڑے بھی گئے جن کا کہنا ہے کہ ان وارداتوں میں ہمارا ہاتھ ہے ، پے رول پر رھا ہوتے رہے ، پھر غیر ممالک فرار بھی کروادے گئے ...
میرا شہر جو کبھی محبتوں کا امین شہر تھا ، غریب پرور شہر تھا -- آج خود " غریب " اور مفلسی کی تصویر بن گیا ہے .
زبوں حال روشنیوں کے شہر کو کون سنبھالا دے گا ؟
کرچی کرچی ،کراچی کی ہر گلی میں جا بجا شہدا کے کتبے ، کھمبے ، مزار ، اور یادگاریں دکھائی دیتی ہیں
اسلم لمبو ، رفیق ٹی ٹی ، بابو ٹینشن ، مادھوری ، طارق استرا ، جیرا عرف بلیڈ .......... اور نہ جانے کتنے بیگناہ صرف رنگ برنگے جھنڈوں اور کھمبوں سے پہچانے جاتے ہیں
ان کا خون کس کی گردن پر ہے ؟
ہزاروں وہ جو اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے پر مار دیے گئے ؟؟ ان کی گنتی کون کرے گا ؟
لے دے کے جماعت اسلامی رہ گئی ہے ، وہ پہلے بھی موجود تھی ، اب بھی موجود ہے .
اس جماعت نے ہر وقت اپنا موقف دوٹوک رکھا ، شہا دتیں بھی دیں ، قربانیوں کی تاریخ بھی رقم کی . حقیقی نمائندہ ہونے کا ثبوت بارہا فراہم کیا -- آج بھی اگر منصفانہ اتتخاب ہوں اور" پولنگ کے بعد بیلٹ باکس " کا تحفظ یقینی بنایا جائے تو یہ شہر ایک بار پھر " عروس البلاد " ہوسکتا
ہے
( نجیب ایوبی )












0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔