Wednesday, December 3, 2014

ہمیں وعدہ کرتے ہوئے کبھی احساس نہیں ہوتا .............

0 comments
مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ 
انہیں داڑھی رکھنی ہو تو سیرت یاد آتی ہے‘ شلوار یا پاجامے کے پائنچے ٹخنوں سے اوپر کرنے ہوں تو سیرت یاد آتی ہے‘ ہاتھ سے کھانا کھانا ہو تو سیرت یاد آتی ہی
لیکن
انہیں جب کسی کو معاف کرنا ہو تو پھر یاد نہیں آتا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کتنے معاف کرنے والے تھے‘ انہیں پھر صرف یہ یاد آتا ہے کہ وہ کتنے طاقت ور اور دوسرا کتنا کمزور ہے۔ وہ کتنے غصہ ور اور دوسرا کتنا برفانی مزاج رکھتا ہے۔ وہ کتنے برتر اور دوسرا کتنا حقیر ہے
مسلمان جب تجارت کرتے ہیں تو انہیں یاد نہیں آتا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیسے تاجر تھے۔ انہیں اس وقت صرف یہ یاد رہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ مال کیسے کمایا جائے۔
مسلمان جب اپنی بیویوں سے معاملہ کرتے ہیں تو انہیں یاد نہیں رہتا کہ اس سلسلے میں سیرت کی مثالیں کیا بتاتی ہیں‘ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امہات المومنین سے کیسی محبت کرنے والے‘ ان کی دل جوئی کرنے والے اور ان کے گھریلو کاموں میں ان کا کیسا ہاتھ بٹانے والے تھے۔ مسلمانوں کو اپنی بیویوں کے حوالے سے کچھ یاد رہتا ہے تو بس یہ کہ عورتیں ان کی پاوں کی جوتی ہیں اور ان کا کام دن رات خدمت کرنے کے سوا کچھ نہیں
ہمیں کبھی یاد نہیں آتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے پڑوسی تھے۔
ہمیں وعدہ کرتے ہوئے کبھی احساس نہیں ہوتا کہ آپ کس حد تک ایفائے عہد کے پابند تھے۔
(انتخاب از شاہنواز فاروقی)

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔