یہ ایک پرائیویٹ اسکول کا منظر ہے. طلبا پینٹ شرٹ
پہنے ٹائی لگائے سوٹڈ بوٹڈ قطاریں بنائے صبح کی مجلس کے لیے کھڑے ہیں. طلبا میں
درجہ پنجم سے لے کر درجہ دہم تک کے طلبا موجود ہیں. تلاوتِ قرآن مجید کے بعد طلبا
سے سوالات کا سلسلہ شروع ہوا. پہلا سوال تھا:
"مسلمانوں کے پہلے خلیفہ کا نام بتائیے."
بےشمار ہاتھ بلند ہوئے ایک طالبعلم کو بلایا گیا اس نے جواب دیا "حضرت آدم علیہ السلام" ماحول پر گہرا سکوت چھا گیا. جب غلط جواب کہا گیا تو باقی طلبا نے بھی ہاتھ گرالیے. اور صرف ایک طالبعلم کا ہاتھ بلند رہا اس نے صحیح جواب دیا "حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ". مجلس برخاست ہوئی.
اب ایک کرب انگیز اور تکلیف دہ سی خاموشی ہے جس نے رگ و پے میں حشر برپا کر رکھا ہے، کہ ہم اپنے تعلیمی دور میں دین کی ایسی بنیادی معلومات سے اتنے بےبہرہ نہیں تھے. ہمیں شوق تھا کہ پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مسکراہٹیں، واقعات پڑھیں، قصص الانبیاء کا مطالعہ کرتے، زیادہ نہ سہی چند باتوں کا علم تو تھا ہی نا..! لیکن آج جو ہوا وہ....؟؟؟ ہم سوچتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کو کیا دے رہے ہیں؟ ہندی و انگریزی ثقافت و تہذیب... علم و دین اور وطن کی محبت سے دوری...
ہم بچوں کا قصور نکالتے ہیں کہ ٹی وی پر فلمیں اور گانے دیکھنے کے سوا ان کا کوئی کام نہیں، ہم یہ نہیں سوچتے کہ ہمارے بچے وہی لیں گے جو ہم انہیں دیں گے. یہ کیونکر ممکن ہے کہ ہم ان کے سامنے بیٹھ کر ملکی و غیر ملکی اخلاقیات کا جنازہ نکالنے والے پروگرام دیکھیں اور پھر ان سے کہیں کہ بچوں ٹی وی مت دیکھو... یہ کیونکر ممکن ہے کہ جو کام ہم خود نہ چھوڑیں اپنے بچوں سے چھوڑنے کو کہیں... ہمارے بچوں کو یہ معلوم ہے کہ کون سا اداکار کتنا معاوضہ لیتا ہے یا کس برانڈ کے لباس یا پرفیوم استعمال کرتا ہے. لیکن یہ نہیں معلوم کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کیا پہننا یا کیا کھانا پسند فرماتے تھے... ہم بچوں کو کچھ نہیں سکھاتے اور توقع کرتے ہیں کہ ہمارے بچے بنا سیکھے ہی سب سیکھ کر ہمارا ویسا ادب کریں جیسا کہا گیا ہے. ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کیکر کے بیج بو کر انجام میں کانٹے ہی ہاتھ آتے ہیں پھول نہیں. ابھی بھی وقت ہے، یہی لمحہ فکریہ ہے ہم چاہیں تو انہی بچوں کے ذریعے اپنی دنیا و آخرت بگاڑ لیں یا سنوار لیں. یہی وقت ہے،
"مسلمانوں کے پہلے خلیفہ کا نام بتائیے."
بےشمار ہاتھ بلند ہوئے ایک طالبعلم کو بلایا گیا اس نے جواب دیا "حضرت آدم علیہ السلام" ماحول پر گہرا سکوت چھا گیا. جب غلط جواب کہا گیا تو باقی طلبا نے بھی ہاتھ گرالیے. اور صرف ایک طالبعلم کا ہاتھ بلند رہا اس نے صحیح جواب دیا "حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ". مجلس برخاست ہوئی.
اب ایک کرب انگیز اور تکلیف دہ سی خاموشی ہے جس نے رگ و پے میں حشر برپا کر رکھا ہے، کہ ہم اپنے تعلیمی دور میں دین کی ایسی بنیادی معلومات سے اتنے بےبہرہ نہیں تھے. ہمیں شوق تھا کہ پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مسکراہٹیں، واقعات پڑھیں، قصص الانبیاء کا مطالعہ کرتے، زیادہ نہ سہی چند باتوں کا علم تو تھا ہی نا..! لیکن آج جو ہوا وہ....؟؟؟ ہم سوچتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کو کیا دے رہے ہیں؟ ہندی و انگریزی ثقافت و تہذیب... علم و دین اور وطن کی محبت سے دوری...
ہم بچوں کا قصور نکالتے ہیں کہ ٹی وی پر فلمیں اور گانے دیکھنے کے سوا ان کا کوئی کام نہیں، ہم یہ نہیں سوچتے کہ ہمارے بچے وہی لیں گے جو ہم انہیں دیں گے. یہ کیونکر ممکن ہے کہ ہم ان کے سامنے بیٹھ کر ملکی و غیر ملکی اخلاقیات کا جنازہ نکالنے والے پروگرام دیکھیں اور پھر ان سے کہیں کہ بچوں ٹی وی مت دیکھو... یہ کیونکر ممکن ہے کہ جو کام ہم خود نہ چھوڑیں اپنے بچوں سے چھوڑنے کو کہیں... ہمارے بچوں کو یہ معلوم ہے کہ کون سا اداکار کتنا معاوضہ لیتا ہے یا کس برانڈ کے لباس یا پرفیوم استعمال کرتا ہے. لیکن یہ نہیں معلوم کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کیا پہننا یا کیا کھانا پسند فرماتے تھے... ہم بچوں کو کچھ نہیں سکھاتے اور توقع کرتے ہیں کہ ہمارے بچے بنا سیکھے ہی سب سیکھ کر ہمارا ویسا ادب کریں جیسا کہا گیا ہے. ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کیکر کے بیج بو کر انجام میں کانٹے ہی ہاتھ آتے ہیں پھول نہیں. ابھی بھی وقت ہے، یہی لمحہ فکریہ ہے ہم چاہیں تو انہی بچوں کے ذریعے اپنی دنیا و آخرت بگاڑ لیں یا سنوار لیں. یہی وقت ہے،










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔